Wednesday, January 21, 2026

مسلمانوں نے عقل کا راستہ کیوں چھوڑا | REOPENING MUSLIM MINDS


 

مصطفیٰ اک یول کی یہ تحریر اسلامی فکر میں عقل، آزادی اور رواداری کے زوال اور ان کی بحالی کی ضرورت پر مبنی ایک فکری تجزیہ ہے۔ مصنف اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ قرونِ وسطیٰ میں معتزلہ اور ابنِ رشد جیسے مفکرین نے عقل اور وحی کے درمیان توازن قائم کیا تھا، لیکن بعد ازاں اشعریت اور قدامت پسندی کے غلبے نے مسلمانوں میں تنقیدی سوچ اور سائنسی ترقی کے دروازے بند کر دیے۔ کتاب کا ڈھانچہ تاریخی اسباب، مذہبی پولیسنگ کے نقصانات، اور خلافت کے سیاسی اثر و رسوخ کے گرد گھومتا ہے جس نے مذہب کو ریاستی جبر کا آلہ کار بنا دیا۔ اس تحریر کا بنیادی مقصد اسلامی الہیات میں انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور اخلاقی مقصدیت کو دوبارہ زندہ کرنا ہے تاکہ مسلم دنیا جدید دور کے چیلنجز کا سامنا کر سکے۔

 

 


No comments:

Post a Comment