Showing posts with label Poetry. Show all posts
Showing posts with label Poetry. Show all posts

Wednesday, September 18, 2019

ہم تمھارے ساتھ کھڑے ہیں


کشمیر کے مظلومو

ہم تمھارے ساتھ کھڑے ہیں
کشمیر کے مظلومو
 ہم تمھارے ساتھ کھڑے ہیں

 بیٹی تمھاری اغوا ہو جائے
 بعد اس کے جو ریپ ہو جائے
ہم تمھارے ساتھ کھڑے ہیں

 جوان تمھارے مارے جائیں 
گھر تمھارے گرائے جائیں

 رستے سارے بند ہو جائیں 
اور گولیاں پہرےدار بنیں 

ہم تمھارے ساتھ کھڑے ہیں

ہاتھوں میں سبز حلالی پرچم
 جسم تمھارے لال ہوجائیں
روحوں کو جو زخمی کردیں
باتیں ایسی  ہزار ہوجائیں
ہم تمھارے ساتھ کھڑے ہیں

کیا احتجاج ہمارے دیکھے ہیں
کشمیر کے پرچم  تھامے ہیں

فوٹو سیشن خوب کروائے
اسٹیٹس بھی ہم نے ڈالے ہیں

کردیا جو کچھ کرنا تھا
تمھاری خاطر ہفتہ وار سہی

جنگ سے تو ہم ڈرتے نہیں
اس بار نہیں اگلی بار سہی

ستم گر چالیں چلانے لگیں
ظلم اور تھوڑا بڑھانے لگیں
دل مایوسی میں گھبرانے لگیں

ایسے میں تم گھبرانا نہیں

گھبرانا نہیں
گھبرانا نہیں
ہم تمھارے ساتھ کھڑے ہیں

Sunday, August 16, 2015

ارشد کی یاد میں



ارشد محمود خان جدا سب سے ہوگیا
غم کی گھاٹیوں میں وہ ہم سے کھو گیا

ہر فرد کے دکھ درد میں غمگسار تھا
اوڑھ کے درد کی آج چادر وہ سو گیا

بہنوں کا راج دلارا اور بھائی کا مان تھا
بچوں کی عیش و آرام پر وہ قربان ہوگیا

رشتے اور رشتےداریاں کیسے نبھائیں ہم
اخلاص اور دوستی کے تقاضے سکھا گیا

چھلنی ہوا جگر، تیروں کی بچھاڑ سے سلیم
نہ کی شکایت کبھی، ستم سب کے سہہ گیا

سب روٹھ گئے کیوں جب سہارا ضرور تھا
واپس نہ کبھی آوں گا، مجھ سے یہ کہہ گیا

وہ پیکروفا وہ محبت کا دیوتا، جدا ہوگیا
غم کی گھاٹیوں میں کہیں ہم سے کھو گیا

ارشد محمود خان جدا سب سے ہوگیا






اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند فرمائے

Monday, July 7, 2014

ابلیسیت

کہا ابلیس نے اک دن اہل جہاں سے
میرا ذکرہرصحیفہ میں آیا
نظر میں کسی کو کبھی بھی نہ آیا 
میرا جسد و پیکر کہیں بھی نہیں ہے
پھر بھی یہیں ہوں...

میرا گھر ہیں بیمارومفلوج سوچیں 
شر اور برائی سے مغلوب سوچیں
وہیں کا مکیں ہوں...

تم سارے اپنے ہی دشمن بنے ہو
گندے نطفے سے تم سب جنے ہو

تمھاری کنکریوں سے میں نہ مروں گا
تم لڑتے ہو مجھ سے میں نہ لڑوں گا

یہاں وہاں نہیں میں... 
میں تو اندر کہیں ہوں

نہ باہر مجھے ڈھونڈو میں نہ ملوں گا
اگر چاہو ملنا , گریباں میں جھانکو
وہیں پر ملوں گا

یہ طاغوتی لشکر یہ جذبات سرکش
تمھارے ہی ہاتھوں کے ہیں پیدا کردہ
تمھارے یہ اعمال ہیں
میں نہیں ہوں

ظلم تم نے کئے الزام میں نے سہے
ظالم نہیں میں تو مظلوم ہوں

اپنوں کو اپنوں سے لڑایا تمھیں نے
طبقے بنائے, غربت پھیلائی
جو ہو سکا ظلم ڈھایا تمھیں نے
مگر نام تم نے میرا لگایا...

اپنے بد اعمال اور طورواطوار پر
جنت سے پہلے بھی نکالے گئے
 تم سے انعامات خالق نہ سنبھالے گئے
مگر الزام تم نے مجھ پر لگایا...

تم نے پیدا کیا جس کو اپنے ہی ہاتھوں
میں وہ تغریب ہوں
میں وہ عفریت ہوں

ناپاک سرکش اعمال تیرے 
جب تک ہیں زندہ میں بھی یہیں ہوں
تمھارے یہ اعمال ہیں میں نہیں ہوں
.....