Showing posts with label Pakistan. Show all posts
Showing posts with label Pakistan. Show all posts

Monday, March 18, 2024

ترقی کا سفر اور بونی قوم

 انسان کا ذہن بھی عجیب الخلقت شے ہے۔ آپ جس نظریہ کو اپناتے ہیں اس کیلئے دنیا جہاں کے دلائل اکٹھے کر لیتے ہیں۔ ذہن آپ کو ویسی ہی دنیا دکھاتا ہے جیسی آپ دیکھنا چاہتے ہیں۔ سوچ بدل جائے تو اردگرد کے حالات بھی بدلتے نظر آتے ہیں۔


پاکستان میں غلامانہ سوچ کی ترویج زیادہ کی جاتی ہے۔ ہمیں آج بھی یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ ہم آزاد قوم نہیں بلکہ غلام ابن غلام ہیں۔ ہم نے پاکستان بننے سے آج تک کچھ حاصل نہیں کیا۔ ہمارا نظام خراب ہے ہمارے سیاستدان کرپٹ ہیں۔ 


یہ سبق ایک خاص سوچ کا عکاس ہے جس میں سب برا ہی نظر آتا یے۔ ہر طرف اندھیرے اور ظلمت کا راج ہے۔ قوم کی کسمپرسی کا زمہ دار حکمرانوں کو قرار دیا جاتا ہے۔ مگر یہاں کوئی نہیں سوچتا کہ جو قومیں ترقی کر گئی ہیں ان کے پیچھے صدیوں کی لمبی تاریک راہیں ہیں جن سے گزر کر وہ قومیں آج درخشاں حال اور روشن مستقبل کی مالک بن گئی ہیں۔ ان کے اس سفر میں حکومتوں کی کتنا ہاتھ ہے اور عوام کی اجتماعی سوچ کا کتنا عمل دخل ہے یہ تحقیق طلب معاملہ ہے۔ مگر ایک بات پکی ہے کہ وہاں بھی ترقی کا سفر آسان مرحلہ نہیں تھا۔ حکومتیں وہاں ہماری آج کی حکومتوں سے بہتر تو بلکل بھی نہیں تھیں۔ وہاں بھی ایلیٹ کلاس ہی حکمران رہی اور وہ بھی اپنے مفادات میں فیصلے صادر فرماتے تھے۔ ان کی جنگیں عوام کے مفاد میں نہیں بلکہ اپنی حکمرانی قائم کرنے کیلئے ہوتی تھیں جن میں لاکھوں لوگ مروا دئیے جاتے تھے وہاں عورتوں کو چڑیل بنا کر جلا دیا جاتا تھا وہاں کالے رنگ والوں کو غلام بنا کر رکھا جاتا تھا۔۔۔ یہ سب حکومتوں کی سرپرستی میں ہوتا تھا۔


مگر وہاں ایک عوام میں علم کی شمع جلتی رہی وہاں تعلیم کو عوام میں پزیرائی حاصل رہی وہاں دانشور طبقہ بکاؤ مال نہیں بنا وہاں مرد پیدا ہوتے رہے جو حکومتوں سے بھیک مانگنے کی بجائے خود کچھ کر گزرنے کے خواب دیکھا کرتے تبھی تو وہاں سائنس پروان چڑھی۔ وہاں گلیلیو نے حکومت کا شکوہ نہیں کیا بلکہ حکومت کے غیض و غضب کا نشانہ بنے مگر علم کا رستہ نہیں چھوڑا ۔۔۔ وہاں فورڈ کو کسی حکمران کے سپانسر نہیں کیا بلکہ مسٹر فورڈ نے خود ایک خواب دیکھا ۔۔۔۔ اور لوگوں کی مخالفت کے باوجود سچ کردکھایا۔۔۔۔ 


ہمارے یہاں مرد پیدا نہیں ہوئے زیادہ تر ہیجڑے پیدا ہوئے جو کبھی نظام کا گلا کرتے ہیں کبھی سیاستدانوں کا ۔۔۔ وہ خود کچھ کرنے کے قابل نہیں تو کسی پر تو غصہ نکالنا ہے تو کیوں نہ سیاست دانوں پر گالی نکال کر کر لیں۔۔۔۔۔۔


اگر ٹھیک سے پیارے وطن کی تاریخ مرتب کی جائے اور اسے سمجھ کر پڑھا جائے تو نظر آئے گا کہ ہمارا آج وجود قائم رکھ پانا بھی ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔ ہم جس طرح کے حالات سے گزر کر آئے ہیں وہ غیر معمولی تھے ہمیں آج بھی دشمنوں نے گھیر رکھا ہے۔ ہمارے بارڈر پر طرف سے غیر محفوظ ہیں مگر آج بھی دنیا کی بہت سی قوموں سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔۔۔۔ 


ہم نے بہت سست روی سے ترقی کی ہے۔ ہم دنیا میں ایمرجنگ ایکانومی بن کر ابھر چکے ہیں۔ دنیا کی بیس بڑی معیشتوں میں ہمارا نام لکھا جانا مقدر بن چکا تھا مگر پھر ہم اپنے مخصوص حالات اور اندرونی کمزوریوں کی وجہ سے پیچھے کے سفر پر چل نکلے ۔۔۔۔ 


آج حالات خراب ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ ہم کل کی جنگ لڑنے کیلئے آج زندہ ہیں۔۔۔۔۔ 


ترقی اور خوشحالی کوئی کم قیمت شے نہیں جو معمولی لوگوں کو مل پائے یہ تو آگ میں کندن ہوجانے والی قوموں کا مقدر بنتی ہے۔  یہاں ترقی کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں جہدوجہد نہیں کرنا ہم نے نہیں بدلنا۔ ہم نے لائسنس نہیں بنوانے ہم نے ہلمٹ نہج۔ پہننا ہم نے دو نمبریاں نہیں چھوڑنا بلکہ یہ سب قائم رکھتے ہوئے حکومت قوم کو ترقی دلوائے۔۔۔


جس قوم میں بونے پیدا ہوتے ہیں وہاں بلندی کا معیار بھی نچلے درجے پر جا پہنچتا ہے۔۔۔۔

Tuesday, November 29, 2022

حقیقی آزادی

(تحریر سلیم اعوان)
پاکستان نے کاغذی آزادی تو سینتالیس میں حاصل کر کی مگر ہم ہر مسلط غیر سیاسی نظام کبھی ختم نہ ہو پایا۔ پاکستان کی تاریخ میں جھانکیں تو پہلے پچاس سالوں میں چار جرنیلوں نے ملک پر قبضہ کیا اور ملکی جمہوریت اور جمہوری روایات کو تباہی و برباد کیا۔ اسی دوران کچھ عرصہ کیلئے جمہوری ادوار بھی آتے رہے مگر وہ کبھی اپنا عہد مکمل نہ کرپائے۔۔۔۔ اسی وجہ سے ملک بحرانوں کا شکار رہا۔ وردی والوں نے کبھی جمہوری لوگوں کو آزادی سے حکومت کرنے نہیں دی ۔۔۔۔۔ بار بار ملکی سلامتی اور کرپشن کے نام پر حکومتوں کو تبدیل کیا گیا اور ہر بار جرنیلوں نے کرپشن کے شور میں اپنا چوری کیا ہوا پیسہ دوسروں سے چھپایا اور دوسرے ملکوں میں جا کر یا جزیرے خرید لیے یا پھر پاپا جونز پیزہ جیسی سیکڑوں کمپنیاں بنا لیں اور ہمیشہ کرپشن کے نام پر پکڑے کون گئے سیاستدان۔۔۔۔ مگر سن دو ہزار چودہ کے بعد کچھ بہت بڑا پلان کیا گیا۔ جرنیلوں نے پیچھے سے سب کنٹرول کرنے اور اپنے ٹٹوؤں کے ذریعے نظام چلانے کا منصوبہ بنایا اور کیلئے عمران کو تیار کیا گیا ۔۔۔ اسے یقین دلایا کہ تمھیں ہم دس سے زیادہ عرصہ تک وزیراعظم بنائیں گے اور اس عرصے کے بعد تم صدر بن جانا اس طرح ہمیشہ کیلئے تم حکمران رہو گے۔۔۔۔ یہ حسین خواب دکھا کے اسے پاکستان کی سب سیاسی قوتوں کے خلاف کیا گیا۔ ان سب پر اسے کتے کی طرح چھوڑ دیا گیا۔ عدالتوں اور ایجنسیوں کی مدد سے سب مخالف جماعتوں پر کیس بنائے گئے سیاسی لوگوں کو کرپشن کے نام پر جیلوں میں ڈالا گیا۔ نوازشریف پر جے آئی ٹی بنی دس والیوم کے ثبوت کا درانی رچایا گیا اور پلان کے مطابق اسے وزیراعظم بنا دیا گیا اب کی بار ملک سے کچھ بڑا کھلواڑ ہونے والا تھا شاید ہمیشہ کیلئے سیاسی نظام کو لپیٹنے کا پروگرام تھا لیکن وہ سب پلان صرف تین سالوں میں ہی ناکام ہوگیا۔ ملکی معیشت کی حالت یہ ہو گئی کہ ایسا سب مزید چلتا رہتا تو سرکاری اداروں میں تنخواہیں دینے کو کیسے نہ رہتے۔ ملک بہت جلد دیوالیہ ہو جاتا مگر اللہ کا کرم ہوا اور سیاسی لوگوں کی دانش کام آگئی ان کی مسلسل جدو جہد اور ثابت قدمی نے ملک دشمنوں کے منصوبے خاک میں ملا دئیے۔۔۔۔ فوج کو احساس ہو گیا کہ ہماری قیادت نے عمران رجیم پر انویسٹمنٹ کا فیصلہ غلط تھا دس سالہ منصوبے کی غلط بنیاد نے ملک کی جڑے کھوکھلی کر دی ہیں لہذا فوج نے ہمیشہ کیلئے ملکی سیاست سے دوری کا فیصلہ کیا اور اقتدار کے گھوڑے کی رسیاں سیاستدانوں کے حوالے کردیں۔۔۔ اس کے بعد جو ہوا وہ سب کے سامنے یے۔ عمران خان جو کچھ عرصہ پہلے تک خدائی غرور لئے پھرتا تھا سڑکوں پر آگیا۔۔۔ جرنیلوں کی منت سماجت کرنے لگا جب بات نہ بنی تو اپنے انھیں محسنوں پر چڑ دوڑا۔۔۔ انھیں غدار بنا ڈالا انھیں جانور کہنے لگا جب اس کر بھی بات نہ بنی تو اپنی ناکامی کا الزام بھی اپنے محسن جرنیلوں ڈالنے لگا۔۔۔۔ لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے امریکی سازش کا جھوٹا بیانیہ بنایا۔۔۔۔ اس ہر بھی بات نہ بنی تو سب جمہوری تکلفات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کہنے لگا کہ مجھے بچاؤ مجھے بچانا سب کا فرض ہے میرا ساتھ دو ورنہ میں بہت کچھ بول دوں گا راز افشاں کروں گا۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی اس کے اپنے راز افشاں ہونے لگے۔۔۔۔ قصہ مختصر جرنیلوں نے اب کی بار ملک کے ساتھ بہت بڑا کھیل کھیلا جو اللہ کے کرم سے ناکام ہوگیا۔ اب جبکہ ایک بار پھر فوج نے ادارے کے طور پر سیاست سے کنارہ کشی کی ہے تو کیا اپنی غلطیوں کے ازالے کیلئے بھی کوئی اقدامات اٹھائے جائیں گے؟ کیا کوئی خود احتسابی کا عمل بھی ہوگا؟ کیا غیر آئینی منصوبے بنانے والوں سے کوئی سوال ہوگا؟ کیا ملکی دولت لوٹنے والوں پر مقدمات چلائے جائیں گے؟ اگر احتساب کا عمل غیر سیاسی لوگوں پر نہ چلایا گیا تو ہمیں امید رکھنی چاہئے کہ پھر کبھی نہ کبھی کسی دوسرے جرنیل کو موقع ملا تو وہ ضرور سیاسی نظام پر ڈاکہ ڈالنے کا سوچا سکتا ہے۔۔۔۔ کیا ہمیں کبھی حقیقی آزادی حاصل ہو پائے گی؟

Tuesday, October 28, 2014

Politics of Agitation

Qadri and Imran both have no stakes in Pakistan. Their families are living abroad. Imran is father of two sons and one allegedly daughter from Sitawhite. His family is living in UK. He was doing great social work and providing great help in health care for Pakistanis. He was really contributing to the nation who gave him love and honor and consider him as hero. Other people like Ibrar a singer also followed his path and established NGO and started working health care services. Then suddenly he decided to jump into politics. Now, see what he is doing, Agitation is the type of politics he adopted. Instead of concentrating on KPK and showing his abilities he came to Islamabad and declared war against Federal Govt. of PML-N. He started with shining demands of political reforms but when govt accepted his demands, he changed his stance and stuck with his demand for PM's resignation. Many innocent families lost their loved ones and millions of rupees are lost due to his stupid demand of resignation. All political parties requested him to postpone Dharna and come to parliament. Govt was willing to surrender for his genuine demands but he was looking for prime minister's seat only. Someone fooled him by saying that go to Dharna and you will become prime minister. After all, his Dharna speeches are about becoming prime minister.

They are not Inqalabis rather they are imposed on Pakistani Qaum as a punishment. Because we all voted for democracy. We love democracy but there are people who want us to be slaves of dictators. Dont you see lovers and supporters of dictators around these two inqalabi leaders. They are the real culprits behind all his chaos. Anyways, after all this stupid exercise, I hope we will come up again, rise and shine in our given resources. We will not burn our resources instead we will refine them and use them for our betterment. Political parties are our great resources. We earned these with more than 67 years of struggle. There is always room for correction. Our political parties showed maturity and proved their eligibility to become our representative. Our Inqalabis must realize that they can not create scene like tahrir square because they are on the wrong side of the road. They are not struggling for democracy, rather they are fighting against democracy. Their struggle once again divided the nation to think about dictatorship. I remember faces who were saying on TV screens that dictators are better than this democracy. Some Inqlabi writers like Hassan Nisar look very desperate while supporting Imran Qadri. Some times they showed that how pious and great man Mr. Qadri is and how dedicated his followers are. But some other times he never hesitated by saying that Imran is the right choice for real Prime Minister other wise dictatorship is much better than democracy. He was not actually supporting any one Imran or Qadri. He was just against Nawaz govt. and his lone purpose to support both was to derail the democracy in the country.

Corruption has been key word in these days. Everybody is talking about corruption and corrupt practices of our politicians. Its really bad to have corrupt people in any field. If leaders in any institute are indulge in corrupt practices then the whole depart can become dirty. Politics is one of other fields of life where corruption have been on the scene for many years. There is corruption in other fields but media don't pay attention to those areas. Politicians are soft target to everyone. Politicians themselves propagate against each other while the media play vital role to create hype on hypothetical blames. Every time when we start to have democratic system in place, there are rumors all around about the corrupt system and corruption of political class. Don't we have corrupt people in other walks of life?

There is a lot of corruption in education system? Is there any genius who demanded to destroy schools because education system is corrupt? Yes, I remember there is a segment of life who genuinely did so.... Taliban did so... they thought education system is corrupt so lets bomb all the schools. Imran's logic is not different to those people. His philosophy is that because political system in the country is corrupt so lets bomb this system. He and his "cousin" Qadri is trying to do so.... But I am sure these two and their masters will ultimately fail in their mission.

We will prosper in this existing system. We will gradually fix all the problems of our political and judicial system. Gradual evolution is the only solution to our problems. We don't need any revolutions. Revolutions bring chaos and spread anarchy. Where, there is no respect for law and order, only one law rules there which is Jungle's law. Innocent people get killed and poor become poorer and rich become richer. But if we keep on working for betterment of our existing system, as all developed nations did so and succeeded, we will also improve our system. Keep on believing in democratic system and working hard to improve the processes involve is the only way to prosper as a nation.

My humble request to Mr. Imran Khan is that Dear sir, please go home and prepare for next parliament session. Show your intelligence there and come up with new ideas. Pursue people to understand and share your vision. Inculcate your philosophy there because change will start from within. Concentrate on KPK. Prove your abilities in the province and bring change into this poor province. Establish power plants, new schools for every one. Ask your Ministers to admit their children in the Govt. school to prove that you have brought some change in education system. Polio virus is becoming another great embarrassment for Pakistan. World is holding Pakistan responsible for not eradicating this disease. KPK is once again on top in Polio cases.  Generate new sources of income for the people of KPK. Set target for your ministers to deliver in their respective ministries.....

These are few example for Imran Khan. He has very very important things to do and perform rather than just Agitate. But we all know to deliver all these things one must have dedication cause and commitment with his people. Imran khan as he is a short tempered person he can not wait for long time to work hard and perform. His advisers are the worst of political arena. Imran is surrounded by lovers of dictators. He feels while they are with me they are angels and those who are not with me they are devil. Imran is following delusional version of some political philosophy. He practices modern patterns of life as he showed in his Tharna processions but claims that he is close to Jamat-e-Islami in political idealogy. Its very confusing, Isn't it?

Someone in the election campaign said that "Political power is like a Batch box. If some gets this power but don't know how to use it, he can burn the jungle including his own tail.". Imran Khan has no working experience of  any public portfolio. He never been in power and if suddenly he gets power and God forbid he becomes a Prime minister of Pakistan, he will use power as match box to fire up every thing. What ever power he has now he is not using it for betterment of Pakistanis. Rather he is just crying for PM resignation.

"Bandaar kay hath main kisi nay machis di to uss nay jangle jalanay dala  ;)"

Tuesday, June 17, 2014

Zarb-e-Azb ! ضرب عضب


طالبان کو اپنے بھائی کہنے والے اور ان کے درد میں آنسو بہانےوالے آخرکار ناکام ہوگئے اور مزاکرات کا کھیل ختم ہوا. طالبان اور مزاکرات کے دردمندوں نے کبھی میرے خون کو قیمتی نہیں جانا ورنہ ایک سال میں جتنا ناحق میرا خون بہا اس کی جگہ ان درندوں کا بہا ہوتا اور اب تک امن قائم ہوچکا ہوتا. مگر خیر وہ کہتے ہیں نا کہ دیر آید درست آید.....
خدا خدا کرکے حکومت اس نتیجہ پر پہنچ ہی گئی کہ اب آپریشن ہی مسئلہ کا حل ہے. اگرچہ عوام تو کب سے اسی بات کا شور کررہے ہیں لیکن کیا ہے کہ عوام اور خواص کی سوچ میں بعد ہونا تو قدرتی سی بات ہے. کیونکہ یہ دونوں الگ دنیاؤں کے باسی ہیں. دیکھنے میں ایک ملک کے رہنے والے ہیں مگر درحقیقت یہ دو الگ سیاروں کی مخلوقات ہیں. ایک کمزور اور غلامی پر مجبور ہے دوسری طاقتور اور حکمرانی پر معمور ہے. ایک بےزبان تو دوسرا اس کی زبان ہے. ہمارے رہنماؤں میں سب کا دعوہ ہوتا ہے کہ وہ جو بھی کہتے ہیں وہ عوام کی آواز ہے. وہ ہماری آواز بن کر ہمارے ہی سامنے ہمیں دھوکا دے رہے ہوتے ہیں اور ہم بےزبان... ٹک ٹک دیکھتے رہتے ہیں. طالبان کی حمایت میں ریلیاں نکالنے والے اور دھرنے دینے والے بھی ہمارے آواز بن کر سڑکوں پر شور کرتے رہے. اور طالبان پر ڈرون حملوں اور ان کے خلاف جنگ کی راہ میں دیوار بنے رہے ... اور ادھر دوسری طرف ہم عوام بم دھماکوں میں ٹکڑے ٹکڑے ہوتے رہے. ہم ہربار چیختے رہے کہ بس کردو مزاکرات کا کھیل اب بس کردو مگر ہماری آواز بننے والے بلندیوں پر ہماری آواز کو کسی اور طرح پیش کرتے رہے.... 

میرے درد کو جو زباں ملے
مجھے اپنا نام و نشاں ملے

جب ہم گلیوں اور بازاروں میں مررہے تھے عین اسی وقت ہمارے ھیرو سٹائل کے رہنماء فرماتے رہے کہ یہ ہماری جنگ نہیں یہ تو امریکہ کی جنگ ہے. کبھی فرماتے کہ دہشتگردی تو صرف ڈرون کا نتیجہ ہے ان کو بند کرو تو دھشتگردی خودبخود ختم ہوجائے گی. کبھی کچھ تو کبھی کچھ... ٹھیک بھی ہے کہ جب کوئی نیا نیا کسی کلاس میں آتا ہے تو اسے سیکھنے میں وقت تو لگتا ہے... یہ الگ بات کہ ہمارے وطن کے ان سجیلے سیاستدانوں نے ہماری جان و مال کی قیمت پر یہ تجربات کئے. اب مجھے امید ہے کہ چند نوسکھئیے مذید کوئی نیا بہانہ نہیں بنائیں گے اور ہماری اس جنگ میں ہمارا ساتھ دیں گے. 

مجھے اپنی پاک فوج کی عسکری صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ ہے. مجھے یقین ہے کہ اب جب کہ میرے شیرجوان میدان میں اترپڑے ہیں تو جنگلی بھیڑیوں اور انسان نما حیوانوں کا حشر دنیا دیکھے گی. اور جو درندے بھاگنے میں کامیاب ہوجائیں گے وہ دوسروں کو بتاتے پھریں گے کہ کسی سے بھی لے لینا مگر پاک فوج سے پنگا نہ لینا.

انشاء اللہ اب وہ وقت دور نہیں جب میرے ملک میں بھی لوگ امن اور سکون کے ساتھ رہیں گے. یہاں بھی گلستان پھولوں سے مہکیں گے. آنکھیں مسکرائیں گی, کاروبارزندگی بلندیوں کی طرف گامزن ہوگا. میرے وادیاں سیاحوں سے آباد ہوں گی. میرے میدانوں میں عالمی کھیلوں کے میلے سجیں گے. میرے تھیٹر قہقہے بکھیریں گے. ہر طرف خوشیاں ہوں گی. میرے بچے پہلے جب پوچھتے کہ یہ سب کب ہوگا تو میرے پاس کوئی جواب نہ ہوتا مگراب جب میری بہادر فوج میدان میں اتری ہے تو اب میں اپنے بچوں سے یقین محکم کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میرے بچو! میری قوم کے بچو! اب ہوگا... بہت جلد ہوگا... میرا پاکستان پھر سے بہاروں کا ہمنوا ہوگا. اب خدا نے چاہا تو اس ملک میں ایسی فصل گل اترے گی جسے اندیشہ زوال نہ ہوگا. یہاں جو پھول کھلیں گے وہ کھلے رہیں گے صدیوں تک... انشاء اللہ.... 
پاک فوج زندہ باد... پاکستان پائندہ باد

Wednesday, May 21, 2014

دشمنی کا قرض اور تحفظ

Cartoon adopted from : SFU

مودی کو اس کی مذہبی اشتعال انگیزی نے وزیراعظم بنا ہی دیا. ہمارے ہاں بھی عرصہ دراز سے مزہب کو سیاست میں استعمال کیا جارہا ہے مگر ہمارے مزہبی رہنما سیاست میں اس قدر کامیاب نہیں ہوسکے. اس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ ہمارے مزہبی سیاسی رہنما خودمختاری اور آزادی سے اپنے کردار اورکاکردگی سے ووٹر کا دل جیتنے سے قاصر رہے. ہمارے ہاں عسکری سہارے سے تومزہب متعارف کروایا گیا مگر جمہوری انداز سے اس پر زرہ برابر بھی کامیابی نہ ہو سکی. مذہب کو کامیابی سے سیاست میں استعمال جس انداز سے مودی نے کیا ہے حالیہ ادوار میں کوئی اور نہیں کر سکا. ہمیں اپنے مذہبی و سیاسی لیڈران سے گلا رہتا تھا کہ وہ سیاست میں مذہب کا استعمال غلط انداز سے کررہے ہیں. مگر مودی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ہمارے مذہبی سیاستدان بہت میانہ رو اور اخلاقیات کے پاسدار ہیں. انھوں نے بہت غلط کام کیے ہوں گے مگر کبھی مذہبی دہشتگردی کے ذریعے حکومت میں آنے کی کوشش نہیں کی. اقلیتوں پر کبھی حملے نہیں کروائے. اگر چند لوگ فرقہ پرستی میں ملوث ہیں تو وہ غیرمقبول خفیہ تنظیمیں ہیں. ان کا ہماری قومی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے.

ہندوؤں سے پرانا دشمنی کا رشتہ اور اوپر سے ہندوستان کا پاکستان سے ہمیشہ یہ گلا رھا کہ ہم کشمیر میں مداخلت کرتے ہیں. اس بنیاد پرانڈیا سے جنگوں کا سلسلہ بھی رہا. انڈیا ہر لحاظ سے  ہم سےسائز میں بڑا ہے لہذا شروع دن سے اس سے تحفظ کا خوف قدرتی تھا. ہم اس خوف میں مبتلاء ہوگئے کہ وہ ہمیں تسلیم نہیں کرتا تو ممکن ہےوہ ہم پرقبضہ کرنے کی کوشش کرے گا. ہمارے اس خوف کے پیچھے صدیوں پرانی تاریخ ہے جس میں ہم مسلمانوں نے ہندوؤں کے ملک پر قبضہ کیا اور صدیوں تک ان پرحکمران رہے پھر انگریز آگئے اور ہم بھی ہندوؤں کے ساتھ محکوم ہو گئے. جب انگریز جانے لگے تو ہمارے جاگیرداروں اور وڈیروں کو لگا کہ انگریزوں کے جانے کے بعد ہماری خیر نہیں. ہندو ہم سے صدیوں پرانی محکومی اور غلامی کا بدلہ لےگا. لہزا مسلمانوں کو الگ ملک کا مطالبہ کرنا چائیے. 

پاکستان بننے کے بعد عسکری اور سیاسی قیادتوں نے ہمیں یقین دلایا کہ ہم اگر جنگ کے لئے تیار نہ ہوسکے اور مضبوط فوج نہ بناسکے تو ہندوستان پاکستان پر چڑھ دوڑے گا. قیام پاکستان کے فورا بعد کشمیر اور دیگر محاظ کھولے گئے اور پھر عوام میں عسکری اور جہادی سوچ بھرنا شروع ہوئی. اسی سوچ کے زیر اثر ہم نے طے کیا کہ ملکی سلامتی کی خاطر ہم گھاس بھی کھالیں گے لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے. اور جب ہم آیٹم بم بنا لیں گے تو پھر دشمن ہمارے ملک کو میلی آنکھ سے دیکھ نہ سکے گا. ہم نے اپنے وسائل کا بہت بڑا حصہ یہ تحفظ حاصل کرنے میں لگا دیا. اب جب ہم اپنے خوابوں کے شہزادے کو حاصل کرچکے ہیں تو ہماری حالت پہلے سے بھی ابتر ہو چکی ہے... کیوں

تحفظ نام کی کوئی چیز ہم عوام کو تو حاصل نہیں ہے. البتہ سول اور ملٹری بیوروکریسی کو بہت سی مراعات و تحفظات حاصل ہوچکے ہیں. ان مراعات و تحفظات کو عوام کی حفاظت کے نام پر لیا جاتا ہے. عوام میں سے کوئی اگر غلطی سے بھی ان کی طرف انگلی اٹھائے گا تو اس کی انگلی بدن سمیت لقمہ تقدیر بن جائے گی.  ہم عوام کی تو قسمت میں ہی مرنا لکھا ہے تو کوئی کیا کرے. تمام سول اور ملٹری اشرافیہ کہنے کو تو عوام کی خدمت گار ہیں مگر درحقیقت یہ چند لوگ عوام کا خون چوس کر اپنے اور اپنی اولادوں کے لئے مراعات حاصل کرتے آئے ہیں. ان لوگوں کے تحفظ کے لئے سخت سیکیورٹی کے انتظامات ہوتے ہیں. لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے اپنی سیکیورٹی پر لگاتے ہیں مگرعام آدمی کیلئے کیا ہے عام آدمی کے لئے سڑکوں پر احتجاجی تحریکوں کے لئے خوار ہونا اور پھر کسی نئی امید کے پیچھے بھاگنا ہی رہ گیا ہے. 

ہم ہندوستان کی دشمنی کا قرض اتارتے اتارتے خود اپنے وجود کے دشمن بن چکے ہیں. جہالت کا عالم یہ ہے کہ کوئی بھی کسی قسم کی جھوٹی بات تقسیم کررہا ہو اسے ہم اپنا مسیحا سمجھنے لگتے ہیں. تحفظ کی لمبی جنگ نے شائد ہمیں  ذہنی مریض بنادیا ہے. اب ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں کیوں کہ اس میں ہم خود کفیل ہوچکے ہیں. تحفظ کی تلاش میں سرگرداں پچھلے 60 سال سے زیادہ عرصہ میں سیکیورٹی نہ حاصل کرپانا اور ملک کے اندر انتشار کی سی حالت نے مرض کو اور بھی بڑھا دیا ہے. اب تو ہمیں لگنے لگا ہے کہ ساری دنیا ہمارے خلاف اکٹھی ہوچکی ہے. وہ دن رات ہمارے خلاف سازشیں بناتے رہتے ہیں اور ان کی زندگیوں کا مقصد ہمیں ناکام بنانا ہے. مگر پھربھی ہمیں کیا فرق پڑتا ہے ہم تو سپرمین ٹائپ قوم ہیں. سب ملکر ہمارا کچھ نہیں بگاڑسکتے. ایک طرف ہمارا خود ساختہ دعوے ہیں اور دوسری طرف جب وار آن ٹیرر کے دوران دشمنوں نےہمارے جہاد کے بوجھ کو ہمارے اوپر ہی لاد دیا. مڈل ایسٹ ہو, افغانستان ہو یا پاکستان. وہ لوگ ڈیوائڈ اینڈ رول کے اصول پر کامیابیوں کا سفر جارے رکھے ہوئے ہیں. پاکستان کا تازہ منظر نامہ بھی دشمن کی نئی سازش ہی لگتا ہے. ایک بار پھر وہ ہمیں لڑانے اور گتھم گتھا کرنے کی تیاری کرتا نظر آتا ہے اور ہم سب اور ہمارے لیڈر ان کے اس ایجنڈا کو اپنا مقصد حیات بنا کر پیش کرنے میں پیش پیش ہیں. کبھی کبھی مجھے لگتا ہے جیسے ہم بندروں کے اس گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں جو ایک دوسروں کو اس لئے پیٹتے تھے کیوں کہ ان سے پہلے والے بھی ایسا ہی کررھےتھے. نہ پٹنے والے کو پتہ تھا کہ کیوں پٹ رھاہے اور نہ پیٹنے والے کو پتہ تھا کہ کیوں پیٹ
رہا ہے.

اب جبکہ سرحدوں کی ایک جانب مودی اور دوسری طرف عبداللہ عبداللہ برسراقتدار آنے کو ہیں تو ہمیں اپنے اندرونی تضادات کی جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے. اگر ہم ان پر قابو نہ پاسکے تو ہمارے ترقی کے سارے خواب ٹوٹنے کے خدشات نظر آتے ہیں. سرحدوں پر پریشر اور اندرونی خلفشار ہمیں بہت بہت کمزور کرسکتے ہیں.

Saturday, March 1, 2014

جمشید دستی کے معزز ممبران پر الزامات اور ان کی حقیقت

مارچ ۲۷
  کا دن  بہت سے پارلیمنٹیرین کے لئے کافی بھاری رہا ہوگا. ان کی تکلیف کا اندازہ ان کے ری ایکشن سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے. پوائنٹ آف آرڈر پر میکروفون پر بولنے سے پہلے جمشید دستی نے کئی بار سوچا ہو گا. اس نے وڈیروں اور طاقتوروں کے بھاری بھرکم جواب کا بھی تصور کیا ہو گا. اس کو اندازہ ہو گا کہ میڈیا جو چٹ پٹی خبروں کی تلاش میں دن رات بھاگتا ہے اور پاور کوریڈورز کا ایک ستون گردانا جانے کے باوجود کبھی اس طرح کا انکشاف کرنے کی جرات  نہ کرسکا شاید اس لئے کہ یہ معاملہ بہت گہری جڑیں رکھتا ہے. ایلیٹ کلاس میں اس بات کو کوئی برائی سمجھ ھی نہیں جاتا ہو گا.... اس طرح کی بہت سی اور باتوں کے باوجود جمشید دستی نے مائیک پکڑا اور ایک بہت بڑا دعوہ کردیا.... اس نے کہا کہ پارلیمنٹیرین کی رہائشگاہ برائی اور بےحیائی کا اڈا بن چکا ہے. اس نے دعوہ کیا کہ یہاں چالیس سے پچاس ملین روپے کی سالانہ شراب پی جاتی ہے. اور یہ کہ یہاں کی گزرگاہیں افیون کی بدبو سے اٹی رہتی ہیں.... اس نے مزید یہ دعوہ کیا کہ یہاں بدکردار عورتیں بدکاری کے لئے لائی جاتی ہیں... مجرہ پارٹیز کا اہتمام باقائدگی سے کیا جاتا ہے..... 

یہ سب بہت سے پارلیمنٹیرین کے لئے یقینا شاک سے کم نہیں رہا ہوگا... مگر بہت سے پارلیمنٹیرین نے اسے دل سے ولکم بھی کیا ہو گا... وہ ممبران جو ان تمام گھٹیا حرکات کا حصہ نہیں اور اس کے مخالف تھے مگر کبھی بولنے کی جرات نہ کر سکے. جمشید کی یہ آواز ان کو اپنی آواز محسوس ہوئی ھوگی.... لیکن بدقسمتی سے ان کی یا تو تعداد کم ھے یا پھر وہ آواز بلند کرنے سے اجتناب کر رہے ہیں. معزز ممبران کے علاوہ میڈیا پر بھی جس طرح جمشید دستی کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے اس سے لگتا ہے کہ جیسے میڈیا کے ایک حصے کو یہ بات اچھی نہیں لگی. ٹی وی پروگرامز کے اینکرپرسنز جمشید دستی کو ہی مورد الزام ٹہرانے کی کوشش میں نظر آتے ہیں. سب سے حیران کن اقدام تو وزیرداخلہ کا ہے موصوف نے الزام آنے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر پارلیمنٹیرین کو شرافت سرٹیفیکیٹ جاری کردیا.... ارے بھائی پہلے انکوائری تو کروالیں... جمشید بھی ایک معزز رکن ہے اس کاموقف بھی تو سنو اس کے پاس جو ثبوت ہیں جس کا اس نے اپنی تقریر میں دعوہ کیا ہے وہ ثبوت تو اس سے مانگو. اس کے بعد اگر کچھ حاصل نہیں ہوتا تو پھر جمشید دستی سے بازپرس کرلو..... 

مجھے اس بات پر کافی حیرانی ہے کہ زیادہ تر لوگ جس میں معزز پارلیمنٹیرین اور میڈیا کے افراد شامل ہیں وہ سب جمشید دستی کے چند لوگوں پر الزامات کو تمام پارلیمنٹیرین پر الزام کیوں ثابت کرنے پر لگے ہوئے ہیں.... اس کوشش کا مقصد شاید تمام معاملے کو متنازعہ بنانا ہے.... ایسا صرف وہ لوگ کرسکتے ہیں جو ان بدکاریوں میں خود ملوث ہیں جن کا ذکر جمشید دستی نے کیا  یا شاید اس کے پیچھے وہ کسی ایجنسی کی کارفرمائی دیکھ رہے ہیں... اگر ایسا ہے... اور وہ اس لیے مخالفت کرتے نظر آتے ہیں کہ کہیں مارشل لاء لگانے کی راہ ہمور کرنے کی کوشش ہو رہی ہے... تو میں بس اتنا کہ سکتا ہوں کہ : خدا کے بندو اب تو اپنےآپ پراعتماد کرنا سیکھ لواپنے معاملات کودرست کرو اور برائیوں کو چھپانے کے بجائے اور ان سے نظریں چرانے کے بجائے ان کا سامنا کرو... گندے لوگوں کو اپنے پیچھے چھپنے نہ دو بلکہ اس موقع کو غنیمت جانو اور ان کو اپنے اندر سے باہر نکا پھینکو... چاہے وہ کسی دستی کی صورت میں ہے یا کسی شرابی اور بدکردا کی صورت میں......ہمت کرو ... عوام تمھارے ساتھ ہیں