Showing posts with label Imran Khan. Show all posts
Showing posts with label Imran Khan. Show all posts

Friday, September 27, 2019

یو این تقریر، دہشتگردی، اسلام اور ٹیکس


میں عمران کا شدید ناقد ہوں اور اس کے غلط کاموں پر تنقید کرتا رہونگا۔ جہاں تک آج کی یو این کی تقریر ہے میں اسے د سے سراہتا ہوں۔ آج اس نے وہ سب باتیں کیں جو قوم واقعی سننا چاہتی تھی۔ اس سپیچ کو یقینا ساری دنیا میں اور خاص طور پر مسلم امہ میں سراہا جائے گا۔

آج کا دن یقینا مودی اور ٹرمپ پر بہت بھاری اور مشکل رہا ہوگا۔ عمران کی سپیچ کے بعد ان کے پیٹ میں ضرور مروڑ اٹھ رہے ہونگے اور وہ چاہیں گے کہ کچھ نیا تماشہ کھڑا کر کے دنیا میں پا کستان کے معقف کو کمزور کیا جائے۔ مگر ان تمام بکواس کا وقت گرز گیا۔ عمران نے جس انداز سے ان کے بیانیے کا آپریشن کیا اس کے بعد اسلام کے بارے میں دنیا کو جس غلط فہمی سے جان بوجھ کر دوچار کیا جارہا تھا اس کا یقینا بہت اچھے سے تدارک ہوگیا ہے۔ اب اسلام دشمن قوتیں ایک نئے انداز سے حملہ آور ہونے کا پلان کریں گی کیونکہ ان کا پرانا منصوبہ تو عمران نے چوپٹ کردیا۔ کچھ لوگ کہیں گے کہ تقریروں سے کون سا مسئلہ حل ہوا تقریر اچھی ہے تو کیا ہوا مگر مسئلے تو وہیں کے وہیں کھڑے ہیں مگر میں ان دوستوں کو عرض کرتا چلوں کہ انسانوں کے درمیان تعلقات میں پرسیپشن یا کسی کے بارے میں تصور کا بہت اہم عمل دخل ہوتا ہے۔۔۔۔ اگر کوئی کسی کے بارے میں مسلسل پراپیگنڈا کرتا رہے کہ یہ شخص چور ہے۔۔۔۔ ہر بات پر اسے چور ثابت کرنے کی کوشش کی جائے تو آہستہ آہستہ لوگوں کے ذہن میں اس کا وہ تصور پختہ ہونے لگتا ہے اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ بغیر کسی ثبوت کے انھیں ایمان کی حد تک یقین ہوجاتا ہے کہ یہ چور ہی ہے اور ہمارے محلے میں جو بھی چوریاں ہو رہی ہیں وہ اسی کی وجہ سے ہیں۔۔۔۔ ایسا ہی پرسیپشن انڈیا اور امریکہ اسلام کے بارے میں پھیلا رہے تھے۔ ان کی ہر تقریر اور تقریب میں اسلام کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ دھشتگردی اور اسلام دونوں کو ایک ہی سکے کے دو رخ ثابت کئے جارہے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو دھشتگردی کا مرکز بھی کہا جا رہا تھا۔۔۔۔ اگر یہ پرسیپشن بنانے کے عمل کو طاقتور انداز سے رد نہ کیا جاتا تو کل کو اگر امریکہ اور انڈیا ملک کر پاکسان پر حملے کی سازش کرتے اور ریڈیکل اسلام اور دھشتگردی کا کوڈ ورڈ استعمال کر کے سب مہذب دنیا کو ہیپناٹائیز کر دیا جاتا۔۔۔۔ عمران کی یہ تقریر بہت بروقت اور موزوں ہے امید ہے کل کا دن دشمنوں پر بہت بھاری گزرا ہوگا۔

آگے جو بھی ہوگا دیکھا جائے گا مگر آج جو عمران نے ان کے ساتھ کردیا ہے اسکا جواب نہیں۔ بڑے کہتے پھر رہے تھے ریڈیکل اسلام شدت پسند مسلمان ۔۔۔۔ اور جانے کیا کیا۔۔۔۔۔ لگتا اب ان کو جہاں جہاں مرچیں لگی ہونگی اس پر تو وہ کسی کو مرہم لگانے کا بھی کہہ نہیں پائیں گے۔ ویل ڈن عمران۔۔۔۔۔ دشمن پر آج بغیر لڑے بم پھاڑنے کا اور ان کے جھوٹ سے ہوا نکالنے کا شکریہ۔ 

آپ نے بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پاکستان اور اسلام کا بہت اچھے سے مقدمہ پیش کیا آپ نے پاکستانیوں کے دل جیت لئے بس ایک گزارش ہے کہ اپنی قوم سے لڑنا چھوڑ دو ۔۔۔۔ منی لانڈرنگ کی بات کرتے ہوئے آپ نے ٹیکس کی اصل وجہ اور اس کا استعمال بھی سمجھایا۔ آپ نے کہا کہ امیروں پر ٹیکس لگانا چاہیے اور ان سے ٹیکس لے کر غریبوں پر استعمال کرنا چاہیے۔ آپ نے بلکل درست فرمایا۔ آج کی سوشل جمہوریتوں میں ایسا ہی رواج ہے وہاں امیروں پر ٹیکس لگایا جاتا ہے اور غریبوں پر استعمال کیا جاتا ہے انھیں بےروزگاری کی صورت میں گزارہ الاؤنس دیا جاتا ہے ان کے بچوں کی مفت تعلیم کا انتظام کیا جاتا ہے اور ان کو دنیا کی بہترین صحت کو سہولیات مفت مہیا کی جاتی ہیں۔ نارڈک ممالک اس ماڈل کی بہترین مثال ہیں۔ جہاں کے معاشی ماہرین نے ایسا ہی نظام ترتیب دیا ہے جو امیر سے لے کر غریب پر خرچ کرتا ہے۔ 

مگر جناب پراٰئم منسٹر صاحب آپ کے زیر انتظام ملک پاکستان میں الٹا پہیہ چلایا جا رہا ہے۔ یہاں آپ کی معاشی ٹیم کے ارسطو غریب پر ٹیکس پہ ٹیکس لگاتے جا رہے ہیں۔ انتے ٹیکس لگائے گئے ہیں کہ بے چاری مڈل کلاس جس نے آپ کو سب سے زیادہ ووٹ دیا وہی دو ہتھڑ مار کر رو رہی ہے۔ ان کی تنخواہیں تو وہیں کی وہیں ہیں مگر مہنگائی کئی سو گنا بڑھ گئی ہے۔ مڈل کلاس غربت کے دہانے پر آکھڑی ہوئی ہے اور غریب تو مرنے مارنے کی حد کو چھو رہا ہے۔ خدا کے لئے ادھر بھی توجہ کیجئے وہی اصول جو یو این میں آپ یورپ کو پڑھا کر آئے ہیں وہ یہاں اپنی معاشی ٹیم کر بھی سمجھائیں۔ وہ تو غریب سے پیسے اکٹھے کر کے امیروں پر خرچ کررہے ہیں۔ کہیں تو آرڈیننس لا کر بڑے بڑے مگرمچھوں کو عوام کا پیسہ معاف کرنے کی سکیم لائی جاتی ہے کہیں انھیں اربوں کی سبسڈی دے کر عوام کے خون پسینے کا پیسہ لٹایا جا رہا ہے جبکہ عوام کو ہر طرح کی سہولتیں اور عوامی سبسڈیاں ختم کردی گئی ہیں۔۔۔۔۔ 

براہ کرم رحم کیجئے اس قوم پر جو اسی خدا اور رسول کو ماننے والی ہے جس کے وکیل بن کر دنیا میں آپ نے دشمن کو للکارہ ہے یہ غریب آپ کی توجہ کے منتظر ہیں۔ اپنے ارب پتی دوستوں کے دائرے سے نکل کر کبھی غریب کے قریب ہونے کی کوشش کریں کبھی اس کے مسائل پر توجہ دیں اس کی زندگی میں جھانکیں اور دیکھیں کہ غریب کیسے بے سروسامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔۔۔

شرم کی بات

عمران کا کمال یہ ہے کہ اس نے ایک ایسی قوم پیدا کردی ہے جس کی لاجک ساری دنیا سے نرالی ہے۔ اس کی سمجھ عمران کے بیان سے شروع ہو کر اس کے یوٹرن آنے تک جاتی ہے اور پھر وہ بھی یوٹرن کا شکار ہو کر بے شرمی سے نئے معقف پر ڈٹ جاتی ہے۔۔۔۔ یہ قوم ہے یوتھیا قوم۔ اس بات پر میں پہلے بھی کافی قائل تھا کہ یوتھیا کم تجربہ اور کم عقلی کی شاندار مثال ہیں مگر آج کل سوشل میڈیا پر عمران کے ثثوؤں نے ایک نیا یوٹرن لے رکھا ہے۔۔۔۔ عمران باہر کشمیر کا سفیر بن کر گیا اور اس نے کشمیر پر وہاں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے مذہب کا نام استعمال کرنا شروع کردیا اور لوگوں کو اسلامیات کا درس دینے لگا۔ کشمیر پر پہلے دعوہ کیا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بھارت کے خلاف ایک قرار داد پیش کرنا تھی جس کے لئے انھیں صرف سولہ ممبران کی ہمایت درکار تھی۔ شاہ محمود نے دعوہ ٹھوک دیا کہ ہمیں پچاس ارکان کی ہمایت حاصل ہے۔ جس پر انڈیا نے اس دعوے کی تردید کردی تو اگلے دن عمران نے اس سے بھی بڑی بڑھک مار دی کہا کہ ہمیں اٹھاون ممبران کی ہمایت حاصل ہے اور مزے کی بات یہ کہ عمران نے ان خیالی ممالک کا شکریہ بھی ادا کردیا۔۔۔۔۔ 

مگر پھر کیا ہوا کہ اتنی بڑی تعداد میں ارکان کی ہمایت کے باوجود اس مجاہد اسلام کو بھارت کے خلاف قرار داد جمع کروانے کی جرات نہ ہوسکی۔۔۔۔ کس نے اسے دھمکایا ۔۔۔ کس نے اسے قرار داد جمع کروانے سے روکا یہ ایک راز ہے جو مجاہد اسلام عمران خان ہی بتا سکتا ہے۔ قراد داد سے فرار اس کا ایک اور انٹرنیشنل یوٹرن ہے جسے وہ قوم کو یوتھیا قوم کو پہلے ہی مفید ثابت کر چکا ہے۔ اس یوٹرن سے دنیا میں پاکستان کی قیادت اور اس کے کردار کے بارے میں کیا رائے قائم کی گئی ہوگی اس کا تصور آپ خود اپنی چشم تصور سے کرسکتے ہیں۔ جب اس ہینڈسم وزیراعظم میں ہمت نہ ہوسکی قرارداد جمع کروانے کو تو اس نے ہوائی فائرنگ کا فیصلہ کیا تاکہ قوم یوتھیا کو کچھ مورال سپورٹ ہوسکے اور وہ پاکستان میں مذہب کے نام پر دوسروں کو متاثر کرسکیں۔۔۔۔ مگر آج پاکستان میں شاید دس فیصد لوگ ہی بچے ہونگے جو عمران کی اسلامیات پر یقین رکھتے ہونگے۔۔۔۔۔ اس شخص نے اسلامی لبادہ اڈھا ہی دھرنا سازش کے بعد اس سے پہلے اس شخص نے ساری عمر بیرون ملک گزار دی ملک کبھی حج عمرہ وغیرہ کو توفیق نہ ہوسکی۔۔۔۔۔ اور پھر دوسروں کے پیسوں سے اب کئی بار عمرہ کرنے جا چکا ہے۔۔۔۔ آج اسلام کا علم بلند کرنے کا ڈرامہ بھی اس نے اپنی کشمیر پالیسی پر مسلسل ناکامیاں چھپانے کے لئے کیا۔۔۔۔ اگر یہ بھی نہ کرتا تو پھر واپس آ کر کیا ڈرامہ کرتا۔۔۔۔ اب سب کشمیر کو بھول کر اسلام کی بات کرنے لگے ہیں ۔۔۔۔ یوتھیا کہتے نظر آ رہے ہیں کہ عمران تو اسلام کا سفیر بن گیا ہے۔۔۔۔ کشمیر تو چھوٹی بات ہے اسلام کی بات بڑی بات ہے لہذا کشمیر ایشو کو فی الحال بھول جاؤ اسلام کو یاد رکھو۔۔۔۔۔۔۔

ان بے شرموں سے تو اردگان اچھا ہے اس نے ایک ہی وقت میں اسلام، فلسطین اور کشمیر سب کا کیس لڑا اور بڑے واضع الفاظ میں اسرائیل اور بھارت کی مذمت کی۔۔۔۔ اس نے مہذب دنیا کو بھی خوب کھری کھری سنائیں اور بتایا کہ یہ سب کی ذمہ داری ہے کہ ان مسائل کا پرامن حل تلاش کیا جائے۔۔۔۔۔۔ اردگان نے نہ ہمایت کا دعوہ کیا نہ بڑی بڑی بڑھکیں لگائیں مگر صاف حقائق بیان کردیے۔۔۔۔۔ ہمارا وزیر اعظم اٹھاون کی ہمایت کے باوجود انڈیا کے خلاف قرار داد جمع نہ کروا سکا۔۔۔۔ شرم کی بات ہے

Thursday, September 26, 2019

عورت کے مسائل پر سوال اور وزیراعظم کا جواب

کانفرنس فار فارن ریلیشنز نیو یارک میں عمران کی کہی باتوں پر بہت تبصرہ ہوا۔ تنقید بھی ہوئی تعریف بھی۔ بہت بڑی بڑی باتیں عمران نے بہت آسانی سے کہہ ڈالیں۔ آرمی کا القاعدہ سے لنک اور جانے کیا کچھ کہہ ڈالا۔۔۔۔ عمران کی اس طرح کی باتوں پر تو بہت لے دے ہوئی مگر مباحثے میں موجود لوگوں کے سوالات کے جوابات پر کم ہی بات ہوئی ہے۔ 

میرے وزیراعظم نے سوالات پر بہت اچھی انگلش میں بہت بےکار جواب دئیے۔ میں تمام جوابات کی تفصیل میں نہیں جاؤنگا صرف ایک سوال اور اس کے جواب پر بات کرنا چاہوں گا۔ ان سے جب سوال کیا گیا کہ پاکستان میں ١٥٠ ملین عورتوں کے حقوق پامال ہورہے ہیں جن میں زیادہ بری حالت تعلیم تک عورت کی رسائی، بچیوں کی کم عمری میں شادیاں اور عزت کے نام پر قتل کی ہے۔ عورتوں کو انصاف دلانے کےلئے آپ کے پاس کیا منصوبے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں مسڑ پرائم منسٹر نے جو انگلش بولی وہ تو بہت متاثر کردینے والی تھی مگر بدقسمتی سے جو جواب دیا وہ بلکل غیر تسلی بخش تھا۔ عمران خان کا جواب حاضر ہے۔۔۔۔

جو بھی آپ نے باتیں کیں وہ اس لئے ہیں کہ ہمارے ہاں قانون پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم نے اپنے تیرہ ماہ مٰن اقلیتوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کئے ہیں۔ ہم نے اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کےلئے اقدامات کئے ہیں۔ ہم نے کرتار پور کھول کر سکھوں کیلئے بے مثال کام کیا ہے۔ ہم ہندو اور بدھ کی عبادت گاہوں کو بھی کھول رہے ہیں۔ لہذا میں پاکستان کے بارے میں جو تصور رکھتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہماری اقلیتیں برابر کے شہری ہیں۔ ہم عورتوں، کمزور طبقوں اور غریبوں کےلئے تاریخ کا سب بڑا غربت مثاؤ پروگرام لے کر آئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں حیران ہوں کہ ہمارا وزیراعظم سوال نہیں سمجھا یا اس نے جان بوجھ کر سوال کا درست جواب دینا پسند نہیں کیا؟ کیا مجبوری تھی عمران کی جو وہ عورت کی پاکستان میں بری حالت اور اس پر کئے گئے اقدامات پر کوئی بات نہیں کرسکا؟ کیا اسے ظفراں بی بی یا مختاراں مائی کیس معلوم نہیں کیا اسے نہیں معلوم کہ کیسے عورت کا اس ملک میں قانونی طور پر استحسال جاری ہے؟ کیوں ہمارے حکمران حقائق سے نظریں چھپاتے ہیں؟ عورت کے سوال پر اقلیتوں پر کئے گئے اپنی مہربانیاں گنوانے کا کیا مطلب تھا؟ کیا حدود قوانین پر بات کرنے پر تکلیف محسوس ہوئی یا عورت کے مسائل سے آپ کو آگاہی نہیں ہےِ؟

آپ نے کیوں اپنے گزشتہ پانچ سالوں کی کے پی حکومت میں کئے گئے کمالات کا ذکر نہیں کیا؟ وہاں جو عورتوں کی تعلیم، کم عمری کی شادیوں اور عزت کے نام پر قتل پر جو اقدامات کئے تھے وہ کیوں وہاں نہیں بتائے؟

کیا بتاتے؟ کچھ کیا ہوتا تو بتاتے۔۔۔ جب کچھ کیا نہیں اور عورت کے بنیادی مسائل سے آگاہی نہیں تو پھر جس چیز کا تھوڑا بہت علم تھا اسی کو جواب میں ڈال دیا اور اقلیتوں کے حقوق پر لیکچر دے ڈالا۔۔۔۔۔۔

عورت کے ایشوز پر بات کرنے کی بجائے ایک خیالی غربت مثاو پروگرام کا ذکر کرڈالا۔۔۔۔۔ اسے تاریخی پروگرام بھی قرار دیا مگر یہاں پاکستان میں قوم اس پروگرام سے ناواقف ہے۔۔۔۔ کیا یہ غربت مثاؤ پروگرام آئی ایم ایف کے تحت مہنگائی بڑھا کر اور غریب کی زندگی تنگ کر کے تو نہیں چلایا جا رہا جس کا مقصد غربت نہیں غریب مثاؤ لگتا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا یہ پروگرام مرغی اور کٹا کی معیشت والا ہے؟۔۔۔۔۔ آپ کے جوابات آپ کے کسی یوتھیے کو سمجھ آگئے تو یقینا وہ اس پر ضرور روشنی ڈالیں گے۔۔۔۔۔ 

Wednesday, September 25, 2019

عمرانی ڈان لیکس

طالبان اور القاعدہ کو پاک فوج کی آئی ایس آئی نے تربیت دی<=جنرل مشرف پر پاک فوج کے آفیسرز نے حملہ کروایا تھا<=
ایبٹ آباد کے واقع میں اوپر کوئی ملوث نہیں البتہ نیچے کوئی آفیسر ملوث ہو سکتا ہے<=

یہ سب بکواس کوئی ملک کا غدار نہیں کررہا نہ کوئی مودی کا یار کہہ رہا ہے بلکہ یہ ہمارا ہینڈ سم وزیراعظم کہہ رہا ہے۔۔۔۔۔ یہ شخص خود ہی سلیکٹرز کو دنیا کے سامنے ننگا کرنے پر تلا ہوا ہے۔۔۔۔ اور سلیکٹرز اب بھیگی بلی کی طرح خاموش بیٹھے ہیں۔۔۔نہ کوئی ٹوئیٹ نہ کوئی پریس کانفرنس۔ کیا کریں۔۔۔ اتنی چولیں مار کر اسے لاٰئے ہیں کس منہ سے اسے نکالیں۔۔۔۔ پہلے عمران نے دوسروں پر تھوکا اور پھر ایک ہی سال میں اپنا تھوکا ہوا چاٹ لیا۔۔۔ اب دنیا تھوکے گی اور یہ سب مل کر چاٹیں گے۔۔۔۔

القاعدہ کو تربیت دینے والی بات انڈیا کا معقف ہے ان کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کی پاک فوج تربیت کرتی ہے۔ ہم نے کبھی اس بات کو تسلیم نہیں کیا بلکہ ایسا الزام تو کبھی دنیا کے کسی ملک نے بھی نہیں لگایا کہ القاعدہ کی تربیت پاکستان میں ہوئی۔ یہ تو ہم سب کے لئے اور دنیا کے لئے حیران کن انکشاف ہے امید ہے کہ یہ بات آرمی میں بھی حیرت کے ساتھ ہی دیکھی گئی ہوگی۔

جنرل مشرف پر حملہ آرمی آفیسرز نے کیا یہ بات اگر خدانخواستہ سچ بھی ہے تو اس کو انٹرنیشل پلیٹ فارم پر وہ بھی امریکہ کے اندر بیٹھ کر جہاں ٹرمپ اور مودی مل کر آپ پر گھیرا تنگ کرنے کی باتیں کر رہے ہیں وہاں یہ بات کر کے اپنی پاک آرمی کے اندر موجود غدار عناصر کا ذکر کرنے کا مطلب ہے آپ پاک فوج کی کمزوریوں کو بازار میں بیچنے نکلے ہو۔ اور ان کمزوریوں کا سب سے بڑا خریدار انڈیا ہوگا۔

ایبٹ آباد پر کمیشن بیٹھا اور پھر کیا ہوا یہ معلوم نہیں تو سراسر جھوٹ ہے کیونکہ آپ کے چہیتے جسٹس اقبال صاحب نے کمیشن کی رپورٹ وزیراعظم ہاؤس میں جمع کروا رکھی ہے اس کا کیا نتیجہ نکلا آپ کو معلوم ہونا چاہیے اگر نہیں معلوم تو آپ کی جہالت ہے۔ دوسری بات آپ نے فرمایا کہ اسامہ بن لادن کے واقع میں اوپر والے تو صاف ہیں مگر نیچے کا کوئی آفیسر اس میں شامل ہوسکتا ہے۔۔۔۔ کمال ہے بھئی۔۔۔ یعنی عوام کو چو۔۔۔ بناتے بناتے دنیا کو بھی ۔۔۔۔۔۔ بنانے چل نکلے۔۔۔۔آپ کے اس معقف پر کون اعتبار کرے گا۔۔۔۔۔

آپ نے یہ کیا کیا ۔۔۔۔ میری پیاری پاک آرمی پر اتنے بڑے بڑے الزامات لگا دیئےِ؟ میں انکار کرتا ہوں ان سب باتوں سے میں نہیں مانتا کہ اس سب گند میں پاک آرمی ملوث ہوسکتی ہے۔۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ میری پاک فوج ایک پروفیشنل فوج ہے یہ دنیا کی سب سے عظیم اور طاقتور فوج ہے اس کا دنیا میں کوئی توڑ نہیں اس میں اس طرح کے غدار نہیں ہوسکتے نہ اوپر نہ ہی نیچے درجے کے کسی آفیسرز میں۔۔۔۔ نہ ہی میری پاک فوج کے جوان غدار ہیں۔۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے آپ پرچی نہ پکڑنے کے چکر میں بکواس بول جاتے ہیں اور آپ کو پتہ بھی نہیں چلتا۔۔۔۔۔۔۔ خدا کے لئے پرچی پکڑ کر بول لیا کرو۔۔۔۔ کم از کم مدھوشی میں کوئی اول فول تو نہیں بکو گے نا۔

آج پھر مجھے نوازشریف کا ذکر کرنا پڑے گا۔۔۔۔ وہ پرچی دیکھ کر پڑھتا تھا۔۔۔ اس کا عمران نے بہت مزاق اڑایا تھا۔ آج پتہ چلا کہ میاں صاحب کیوں پرچی دیکھ کر پڑھتے تھے۔۔۔۔؟ اس شخص نے جب بھی انٹرنیشل پلیٹ فارم پر بات کی اسے ملکی سلامتی اور وقار کا احساس تھا اسی لئے کبھی شوخی دکھانے کے لئے سیاسی انداز کی تقریر نہیں کی۔ جو ملک کے مفاد میں باتیں پہلے سے طے ہوجاتی تھیں انھیں کا ذکر کرتے تھے۔ اس کے علاوہ بات سے اجتناب کیا کرتے تھے۔۔۔۔ اس لئے نہیں کہ انھیں بات کرنی نہیں آتی تھی بلکہ اس لئے کہ انٹرنیشنل پلیٹ فارمز پر بات کرنا بہت ذمہ داری کی بات ہوتی ہے اگر ذرہ سی زبان پھسلی تو بات کا بتنگڑ بن جاتا ہے۔۔۔۔

آج سب کو ننگا کرکے بھی ابھی تک سب خیر خیریت ہے۔۔۔۔ لگتا ہے گندی چڈیاں دھونے کا وقت آ گیا ہے۔۔۔۔

Monday, October 30, 2017

صد افسوس کہ انقلابی نہ بنا تو

عمران نے دعوے تو بہت کئے تھے مگر ان میں سب سے اہم اس کا یہ پروگرام تھا کہ میں امیر اور غریب کے لئے یکساں نظام تعلیم رائج کروں گا۔ اس کے خیال میں موٹرویز اور میٹرو بس بنانا ہماری ترجیعات میں نہیں۔ تعلیم اور صحت ہماری ترجیعات ہوگی۔ اسی لئے چار سال تک میٹرو بس کی مخالفت کرتا رہا۔ شہباز شریف کی طرح عمران نے بھی بہت سے دعوے کئے کہ میں نوے دنوں کے اندر اندر صوبے میں انقلاب لے آوں گا۔ حکومت بنانے کے بعد بہت سے دکھاوے کے اقدامات کئے گئے۔۔۔ فوری انصاف کی عدالتیں بنائی گئیں۔ اور پھر معاشی انصاف ، تعلیمی انصاف ، صحت کا انصاف اور جانے کیا کیا انقلابی ڈھونگ رچائے گئے۔۔۔۔ آج جب حکومتیں اختتام پزیر ہورہی ہیں تو ابھی تک کےپی کے کی حکومت صرف اعلانات پر ہی گزر اوقات کر رہی ہے۔ ایک منصوبہ تکمیل تک پہنچا ہے جسے وہ ملین ٹری منصوبہ کہتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ملین ٹری تو نیا کہیں کسی زمین پر اگتا نظر نہیں آیا البتہ کےپی کے کے غریب عوام کا ملین روپے ضرورکسی ذرخیز بینک اکاونٹ میں پڑا بچے دے رہا ہوگا۔
میں کوئی انویسٹیگییٹو صحافی تو نہیں ہوں جو میرے پاس بہت سے وسائل موجود ہوں۔۔۔ جن کے پاس وسائل موجود ہیں وہ ان جھوٹے انقلابیوں سے ویسے ہی خائف نظر آتے ہیں اور ان کے بارے میں لکھنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ ایمپائر کی نظر پڑگئی تو احمد نورانی جیسا حال ہوسکتاہے۔ بہرحال میں تو وہ بتانے جا رہا ہوں جو کےپی کے کی حکومت کے محکمہ تعلیم کی ویب سائیٹ پرملا ہے۔ امید ہے میرا جرم احمد نورانی سے کچھ کم ہی ہوگا 
:)

آج ساڑھے چار سالہ انقلاب کےبعد پورے صوبہ کےپی کے میں ایک بھی کارڈیالوجی ہسپتال نہیں

 جب پی ٹی آئی کی گورنمنٹ اقتدار میں آئی اس وقت کل ستائیس ہزار نو سو پچتہر سکول چل رہے تھے۔ جبکہ دوہزار پندرہ سولہ کی رپورٹ کے مطابق کل ستائیس ہزار دو سو اکسٹھ سکول چل رہے ہیں۔۔۔۔ یعنی پی ٹی آئی کی حکومت نے ساڑھے چار سال  میں سات سو چودہ سکول بند کردئیے۔۔۔۔

یہ کیسا انقلاب ہے جو غریب کے بچوں کا آخری سہارہ بھی چھین رہا ہے۔ سرکاری سکول ہی غریب آدمی کی امیدوں کا آخری سہارہ ہوتا ہے۔ غریب باپ روز بچے کو سکول اس مید پربھیجتا ہے۔ کہ شاید کبھی اس کا بچہ کچھ پڑھ لکھ کر اس قابل ہوجائے کہ اس مرگ مفاجات سے چھٹکارہ حاصل ہو مگر کےپی کے کی حکومت غریب کے اس امید کا چراغ بھی گل کرنا چاہتی ہے۔ سکولوں کی تعداد کو بڑھانے یا موجود کو بہتر کرنے کے بجائے پہلے سے موجود سکولوں کو بند کیا جارہاہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت سے تو بہت سی توقعات وابستہ تھیں۔ اس کو تو صوبے میں انقلاب لانا تھا۔۔۔۔۔ سکولوں کی تعداد کوبڑھانا تھا ان کے معیار کو بلند کرنا تھا ۔۔۔ وہ سب وعدے کہاں گئے جو انقلابی لیڈر عمران نے کئے تھے؟

مندرجہ ذیل اعدادوشمار کےپی کے کی سرکاری ویب سائٹ سے لئے گئے ہیں ان اعدادوشمارسے پی ٹی آئی کے جھوٹے انقلابیوں کی دروغ گوئی کی ایک جھلک نظر آتی ہے


کےپی کے میں سرکاری سکولوں کی حالت زارملاحظہ ہو    



عمران نیازی کا دعوہ تھا کہ وہ ایسا تعلیمی نظام لائے گا جس میں امیر اور غریب سب کےلئے ایک جیسے مواقع ہونگے۔ شاید سکولوں کی کمی کا فیصلہ اسی کاوش کا نتیجہ ہو۔۔۔ اگر ایسا ہے تو یہ کےپی کے عوام کے ساتھ بہت ہی بےہودہ مزاق ہے۔۔ کیا آپ سرکاری سکولوں کی تعداد کو کم کرکے سب کو پرائیویٹ سکولوں کے رحم وکرم پر چھوڑنا چاہتے ہیں؟


Tuesday, October 10, 2017

پی ٹی آئی کا اگلے الیکشن کےلئے انتخابی بینر

عمران خان کے کارہائے نمایاں

میں نے سب سے پہلے آف شور کمپنی بنائی
آف شور اولاد کا امریکہ کی عدالت سے سرٹیفیکیٹ حاصل کیا جوئے سے قرض اتارنے کی سکیم کا عظیم خیال ایجاد کیا سیاست میں گالی کا کلچر کو رواج دیا سیاسی جلسوں میں ناچ گان اور ڈیٹنگ کا انتظام کیا دھرنوں کے ذریعے سے اقتدار میں آنے یا پھر کسی دوسرے کو لانے کی کوشش کی بغیرکوچوان کے احتساب کا ڈانگا کےپی کے میں چلادیا ایک انگلی کی خاطر کیا کیا نہ ناچ دیکھایا لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کے ہرروز نئے انداز سیکھائے ملین ٹری سونامی کا اعلان کیا۔۔۔۔ جس میں ملین ٹری بھی بہہ گئے اور عوام کے ملین روپے بھی تعلیم اور صحت کواہمیت دی اور انقلاب بپا کردیا۔ ڈینگی سے صوبے لوگ مررہے ہیں۔ پختون خواہ ویسے ہی خوامخاہ پریشان ہے ڈینگی تو سردی میں خودبخود ختم ہوجائے گا :) پاکستان میں پہلی بار ایک صوبائی حکومت کا وفاقی حکومت پرحملہ کی پارٹی کی خوبرو خواتین کو بلیک بیری سے فحش پیغامات بھیجے اس سب کے باوجود جماعتیوں کو بے شرم خاموشی پر مجبور رکھا یہ سب اور اس کے علاوہ اور بہت کچھ جو آہستہ آہستہ تمھارے سامنے آئے گا۔۔۔۔
میں نے آ کر اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا اسے کہتے ہیں تبدیلی اب اور بتائیں میں قوم کو راہ راست پر لانے کےلئے کیا کروں. مجھے وفاق میں آنے دیں میں آپ کے بچوں اور خاص طور پربچیوں کے لئے بہت کچھ کروں گا :) ایسی اور بھی تبدیلی چاہیے تو مجھے ووٹ دیں ؟

Tuesday, October 28, 2014

Politics of Agitation

Qadri and Imran both have no stakes in Pakistan. Their families are living abroad. Imran is father of two sons and one allegedly daughter from Sitawhite. His family is living in UK. He was doing great social work and providing great help in health care for Pakistanis. He was really contributing to the nation who gave him love and honor and consider him as hero. Other people like Ibrar a singer also followed his path and established NGO and started working health care services. Then suddenly he decided to jump into politics. Now, see what he is doing, Agitation is the type of politics he adopted. Instead of concentrating on KPK and showing his abilities he came to Islamabad and declared war against Federal Govt. of PML-N. He started with shining demands of political reforms but when govt accepted his demands, he changed his stance and stuck with his demand for PM's resignation. Many innocent families lost their loved ones and millions of rupees are lost due to his stupid demand of resignation. All political parties requested him to postpone Dharna and come to parliament. Govt was willing to surrender for his genuine demands but he was looking for prime minister's seat only. Someone fooled him by saying that go to Dharna and you will become prime minister. After all, his Dharna speeches are about becoming prime minister.

They are not Inqalabis rather they are imposed on Pakistani Qaum as a punishment. Because we all voted for democracy. We love democracy but there are people who want us to be slaves of dictators. Dont you see lovers and supporters of dictators around these two inqalabi leaders. They are the real culprits behind all his chaos. Anyways, after all this stupid exercise, I hope we will come up again, rise and shine in our given resources. We will not burn our resources instead we will refine them and use them for our betterment. Political parties are our great resources. We earned these with more than 67 years of struggle. There is always room for correction. Our political parties showed maturity and proved their eligibility to become our representative. Our Inqalabis must realize that they can not create scene like tahrir square because they are on the wrong side of the road. They are not struggling for democracy, rather they are fighting against democracy. Their struggle once again divided the nation to think about dictatorship. I remember faces who were saying on TV screens that dictators are better than this democracy. Some Inqlabi writers like Hassan Nisar look very desperate while supporting Imran Qadri. Some times they showed that how pious and great man Mr. Qadri is and how dedicated his followers are. But some other times he never hesitated by saying that Imran is the right choice for real Prime Minister other wise dictatorship is much better than democracy. He was not actually supporting any one Imran or Qadri. He was just against Nawaz govt. and his lone purpose to support both was to derail the democracy in the country.

Corruption has been key word in these days. Everybody is talking about corruption and corrupt practices of our politicians. Its really bad to have corrupt people in any field. If leaders in any institute are indulge in corrupt practices then the whole depart can become dirty. Politics is one of other fields of life where corruption have been on the scene for many years. There is corruption in other fields but media don't pay attention to those areas. Politicians are soft target to everyone. Politicians themselves propagate against each other while the media play vital role to create hype on hypothetical blames. Every time when we start to have democratic system in place, there are rumors all around about the corrupt system and corruption of political class. Don't we have corrupt people in other walks of life?

There is a lot of corruption in education system? Is there any genius who demanded to destroy schools because education system is corrupt? Yes, I remember there is a segment of life who genuinely did so.... Taliban did so... they thought education system is corrupt so lets bomb all the schools. Imran's logic is not different to those people. His philosophy is that because political system in the country is corrupt so lets bomb this system. He and his "cousin" Qadri is trying to do so.... But I am sure these two and their masters will ultimately fail in their mission.

We will prosper in this existing system. We will gradually fix all the problems of our political and judicial system. Gradual evolution is the only solution to our problems. We don't need any revolutions. Revolutions bring chaos and spread anarchy. Where, there is no respect for law and order, only one law rules there which is Jungle's law. Innocent people get killed and poor become poorer and rich become richer. But if we keep on working for betterment of our existing system, as all developed nations did so and succeeded, we will also improve our system. Keep on believing in democratic system and working hard to improve the processes involve is the only way to prosper as a nation.

My humble request to Mr. Imran Khan is that Dear sir, please go home and prepare for next parliament session. Show your intelligence there and come up with new ideas. Pursue people to understand and share your vision. Inculcate your philosophy there because change will start from within. Concentrate on KPK. Prove your abilities in the province and bring change into this poor province. Establish power plants, new schools for every one. Ask your Ministers to admit their children in the Govt. school to prove that you have brought some change in education system. Polio virus is becoming another great embarrassment for Pakistan. World is holding Pakistan responsible for not eradicating this disease. KPK is once again on top in Polio cases.  Generate new sources of income for the people of KPK. Set target for your ministers to deliver in their respective ministries.....

These are few example for Imran Khan. He has very very important things to do and perform rather than just Agitate. But we all know to deliver all these things one must have dedication cause and commitment with his people. Imran khan as he is a short tempered person he can not wait for long time to work hard and perform. His advisers are the worst of political arena. Imran is surrounded by lovers of dictators. He feels while they are with me they are angels and those who are not with me they are devil. Imran is following delusional version of some political philosophy. He practices modern patterns of life as he showed in his Tharna processions but claims that he is close to Jamat-e-Islami in political idealogy. Its very confusing, Isn't it?

Someone in the election campaign said that "Political power is like a Batch box. If some gets this power but don't know how to use it, he can burn the jungle including his own tail.". Imran Khan has no working experience of  any public portfolio. He never been in power and if suddenly he gets power and God forbid he becomes a Prime minister of Pakistan, he will use power as match box to fire up every thing. What ever power he has now he is not using it for betterment of Pakistanis. Rather he is just crying for PM resignation.

"Bandaar kay hath main kisi nay machis di to uss nay jangle jalanay dala  ;)"

Wednesday, June 25, 2014

دہشتگردوں سے جنگ اورآئی ڈی پیز کا مسئلہ



طاہرالقادری کا ذہنی خلل: 
آج کل علامہ طاہرالقادری نے طوفان بپا کررکھا ہے. میں اسے طوفان بدتمیزی تو نہیں کہوں گا مگر یہ اس سے کم بھی نہیں ہے. پاکستان میں ہم نے بہت سے کرداردیکھے مگر یہ کردار ہمارے قومی سین پر کافی مختلف ہے. فرسٹریشن کے اس دور میں یہ تو کسی مسخرےسے ملتاجلتا لگتا ہے. سرکس میں اس طرح کے کردار یکسانیت اور بوریت کو ختم کرنے کے لئے متعارف کروائے جاتے ہیں. سرکس میں بونے قد کاٹھ کے مسخرے سین پر آتے ہیں اور خوب بھاگ دوڑ کرتے نظر آتے ہیں کبھی کبھار تو وہ اپنے سے بڑے ساتھی کو للکار بھی دیتے ہیں اور لگتا ہے جیسے وہ ابھی کچھ کرگزریں گے مگر جوں ہی قوی جسم ساتھی کچھ رسپونس کرنے لگتا ہے تو جناب دوڑ کر جان بچاتے نظر آتے ہیں. پھر گھوم کر دوبارہ وہی عمل دوہراتے ہیں. اس سارے سین کو دیکھ کر لوگ سرکس میں تو خوب محظوظ ہوتےہیں لیکن اگر اسی طرح کے کردار ملکی سین پر نمودار ہوجائیں تو کچھ لوگ تو اس سین سے محظوظ ہوتےہیں اور کچھ اس مسخرےپن کو سنجیدہ کوشش سمجھنے لگتے ہیں. اس دوسری نوع کے لوگوں میں سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کے پڑھے لکھے جاہل بھی شامل ہوجاتےہیں. اور اس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو سانحہ لاھور کی صورت میں ظاہر ہوا.

خان کی گیدڑ بھبھکیاں:
کچھ لکھاریوں کا خیال ہے کہ جناب عمران صاحب جلد طاہرالقادری کو جوائن کرنے والے ہیں. لیکن میرا خیال ہے کہ عمران اتنے بھی گئے گزرے نہیں ہیں کہ وہ اپنا سارا زور اٹھا کر طاہرالقادری کی جھولی میں ڈال دیں. دراصل دونوں اشخاص اپنی اپنی دنیا کے ظل الہی اور شہنشاہ ہیں. دونوں کی اناء عالمگیر ہے. دونوں ہی بارات کے دلہا بننے کے خواہشمند ہیں. اب آپ خود سوچیں کہ جب دلہن ایک تو دلہا دو کیسے ہوسکتے ہیں.... عمران خان حکمرانوں کو ڈرانے کے لئے ایسا کہہ رہے ہیں. وہ کبھی بھی طاہرالقادری سے الائینس وغیرہ بنا نہ پائیں گے. حکمرانوں پر پریشر ڈالنے کے لئے تو انھوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ اسمبلیوں سے استعفے دے دیں گے .... لیکن یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ان کے تو اپنی پارٹی کے لوگ اس بات پر ناراض ہو گئے ہیں...عمران صاحب تو اب صرف کے پی کے کی ذمہ داریوں سے جان چھڑانے کے لئے یہ سب کررہے ہیں. وہاں اب کافی کام ہے اور آپ کو اس طرح کے کام کی عادت نہیں اور دوسرا جناب کے پاس ٹیم بھی تو نوسیکھیوں کی ہے لہزا کےپی کے کی صورت حال سے آنکھیں بند کرکے وہ صرف الیکشن کی دھاندلی پر اپنی انرجی صرف کرنا چاہتے ہیں.... اب کیا کہیے عمران کو کہ ان کے ساتھ شاہ صاحب اور ہاشمی جیسے منجھے کھلاڑی ہیں شاید وہ کبھی ان کو سمجھا پائیں کہ عمران صاحب کام کریے اب آپ کے کام کرنے کا وقت ہے جلسے جلوسوں کا نہیں....


دہشتگردوں سے جنگ اورآئی ڈی پیز کا مسئلہ:
دہشتگردوں کے خلاف جنگ کے آغاز میں دہشتگردوں کی جانب سے ردعمل کے بہت خدشات تھے. ڈر تھا کہ ابھی وہ آئے کہ آئے مگر لگتا ہے ہمارے بہادر جوانوں نے انھیں مرنے یا بھاگتے رہنے پر مجبور کردیا ہے. وہ اب یا تو روزانہ کی بنیاد پر مارے جارہے ہیں اور یا پھر مارے مارے بھاگتے پھر رہے ہیں. اللہ کاشکر ہے کہ انھیں ہم پر حملہ کرنے کا موقع ہی نہیں مل رھا. اس کے لئے ہم سب اپنی پاک افواج کے بھی شکرگزار ہیں جن کی قربانیاں رنگ لارہی ہیں.... اس جنگ کی وجہ سے بےگھر ہونے والے ہمارے بھائی بہنیں شہروں کی جانب ہجرت کرکے آرہے ہیں. وفاقی حکومت اور افواج کی مشترکہ کوششوں سے قائم کیمپس کام کررہے ہیں مگر چونکہ لوگ شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں سے اور مختلف راستوں سے شہروں کی جانب آرہے ہیں ان کا کسی ایک جگہ قائم کیمپس میں پہنچ پانا مشکل کام ہے. اس کے علاوہ سرکاری اداروں کی مہیا کردہ سہولیات پر ہم اکثراعتماد بھی نہیں کرتے کیوں کہ ماضی میں اکثر ایسا ہوا کہ سرکاری اداروں کے قائم کردہ امدادی کیمپ صرف دیکھانے کے لئے ہوتے تھے... چار لاکھ سے زیادہ افراد بےگھر ہو کر آرہے ہیں.... ان لوگوں کی میزبانی ہم سب کی ذمہ داری ہے. جب جنگ شروع ہوئی تھی تو سب نے فوج کی حمایت کا اعلان کیا تھا بہت سوں نے تو فوج کی حمایت میں ریلیاں بھی نکالی تھیں. سیاسی جماعتوں اور میڈیا کے افراد نے سب نے یک زباں کہا تھا کہ قوم اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہوگی.... لیکن جنگ شروع ہوئےابھی چند دن ہی گزرے ہیں کہ وہ سب باتیں بھول کر ہمارے لیڈروں اور میڈیا کے زورآوروں کی ترجیحات ہی تبدیل ہوگئی ہیں. اچانک سیاسی ریلیاں شروع ہوگئیں...طاہرالقادری , عمران, پرویز الہی اور شیخ رشید کے علاوہ کسی قدر ایم قیو ایم اور پی پی پی بھی حکومت مخالف مہم کا حصہ بننے لگے. میڈیا بھی ہماری اس جنگ کو بھول کر طاہرالقادری کے سرکس کو کوریج دینے لگاہے. جتنی کوریج طاہرالقادری کے ڈرامہ کو دی گئی کاش اتنی کوریج ہمارے شمالی وزیرستان سے آنے والوں اور ان کی تکالیف کو دی جاتی تو یہ ملک و قوم کی خدمت بھی ہوتی اور شاید میڈیا کی ریٹنگ میں بھی زیادہ اضافہ ہوتا........ میری عرضی میرے تمام سیاستدانوں اور میڈیا کے سیانوں سے یہ ہے کہ خدا کے لئے ڈرامہ سے توجہ ہٹا کر قوم کے اصل مسائل کو طرف نشاندہی کیجئے. یقین کیجئے آپ کے ووٹوں اور ریٹنگ میں کمی نہیں ہوگی ......

Saturday, May 24, 2014

باری کا انتظار کرو


جب سے ہوش سنبھالا ہے ایک ہی بات کا چرچہ ہوتا دکھائی دیا ہے کہ سیاستدان سب سے برے لوگ ہوتے ہیں. ان لوگوں کی وجہ سے کرپشن ہے اور انھیں کی وجہ سے ملک کی تمام خرابیاں جڑی ہوئی ہیں. یہ بات عوام کےدماغ میں ایسے راسخ کی گئی ہے کہ اس پر سوال اٹھانا گویا کفر کا مرتکب ہونا ہے. جب سے پاکستان بنا ہے سیاسی لوگ بدنامی کے طوق پہنتے آئے ہیں. یقیننا دوسرے تمام پروفیشنز کی طرح اس میں بھی اچھے برے سب طرح کے لوگ مل سکتے ہیں مگر کیا مجال جو کبھی کسی کی اچھائی بیان کی گئی ہو. سیاستدانوں میں سب برا ہی برا دیکھایا جاتاہے. جبکہ ہمارے دوسرے بڑے اسٹیک ھولڈر فوج جن کا ماضی سیاست کے میدان کاردار میں اپنی پروفیشنل مہارتیں دیکھاتے گزرا ہے ان پر کوئی بری نظر نہیں ڈال سکتا. ان کی کرپشن کی کوئی کہانی ہے نہ ان کے غیرقانونی اقدامات پر بازپرش... جبکہ ان کا سیاسی میدان میں اور ملک کو بگاڑنے یا سنوارنے میں سیاستدانوں سے زیادہ ہاتھ رھاہے.

جب بھی سیاسی حکومتی برسراقتدار ہوتی ہیں. ملک میں سراسیمگی اور بےچینی کی لہریں دوڑنا شروع ہوجاتی ہیں. عجیب عجیب افواہیں پھیلائی جاتی ہیں اور ہر روز کرپشن کی مالا جپی جاتی ہے. خبروں کے نئے نئے مواقع پیدا ہوتے رہتے ہیں اگر نئی کوئی بات نہ مل سکے تو پرانی خبروں کو تازہ تڑکا لگا کر پیش کیا جاتا ہے پھر تبصرہ نگار اس میں شامل ہوکر معمولی خبر کو بھی غیرمعمولی واقع بنا دیتے ہیں. ابھی حالیہ دنوں میں کتنی ہی پرانی خبروں کو فساد برپا کرنے کے لئے استعمال کیا گیا اور چند ریٹارئرڈ اور چند برائے فروخت اصحاب نے خوب مرچ مصالحہ لگا کر بات کا بتنگڑ بنانے کی کوشش کی. ان کا بس نہیں چلتا ورنہ وہ تو حکومت کو گراکر ہی اٹھیں. ایک شیخ صاحب نے تو معاملات کو سنوارنے کا عجیب کلیہ بھی ایجاد کرلیا. شیخ موصوف نے فرمایا کہ یا تو دوبارہ الیکشن ہونگے ورنہ مارشل لاء لگے گا.... یہ صاحب اکثر صحافیوں کے سوالوں پر کہتے پائے گئے کہ "خواہشوں کو خبر نہ بنائیں" تو میری شیخ صاحب سے عرض ہے کہ کچھ نہ کریں بس اپنے گریبان میں جھانک لیں آپ کو نظر آجائے گا کہ آپ بھی آج کل اپنی خواہشوں کو خبر بنانے کے بزنس میں خوب سرگرم ہیں 

خان صاحب کا اثرار ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے باریاں لگا رکھی ہیں. ان دونوں پارٹیوں نے کئے باریاں لیں اب وہ چاہتے ہیں کہ اسے بھی ان باریوں میں حصہ دیا جائے. مگر عمران صاحب آپ کیوں یہ بھول رھے ہیں کہ باریاں دو پارٹیاں نہیں بلکہ تین پارٹیاں لیتی رہی ہیں. ایک پیپلز پارٹی دوسری مسلم لیگ اور تیسری فوج. سب سے زیادہ باری لینے والی پارٹی کو آپ کیسے بھول گئے... ماضی میں پہلی دونوں پارٹیاں تو کبھی بھی اپنی باری پوری ہی نہ کرسکیں. اب پہلی بار ہوا کہ پیپلز پارٹی نے اپنی باری پوری کی اور اب مسلم لیگ کی باری ہے. آپ نے گزشتہ انتخابات میں بہت بڑے بڑے خواب دیکھنا شروع کردئیے تھے. آپ نے ٹی وی چینلز پر جانے کس کی یقین دھانی پر اپنے آپ کو وزیراعظم کا امیدوار ثابت کرنے کی کوشش کی. اور کلین سویپ کے دعوے کرتے رہے. پھر بھی خدا کا شکر کریں کہ اس نے آپ کے دعوؤں کی عزت رکھ لی اور خیبرپختونخواہ میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئے. اس پر آپ کو نوازشریف کا شکریہ بھی کہنا بنتا ہے کیونکہ باوجود اکسانے کے انھوں نے آپ کو حکومت بنانے دی.  آپ سے میری گزارش ہے کہ جناب ان کو اپنی باری لینے دیں اور اپنی باری کا انتظار کریں. کیوں کہ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو قوم آپ سے پوچھنے میں حق بجانب ہو گی کہ ساری عمر کرکٹ کھیل کر بھی آپ میں سپورٹس مین سپرٹ پیدا کیوں نہیں ہوئی جو اپنی باری کا انتظار بھی نہیں کرپارہے. میرے پیارے لیڈر بھائی! صبر سے کام لو اور اپنی باری کا انتظار کرو.

Tuesday, May 13, 2014

عمران خان سرمایہ واپس لاؤ

2013
 کے انتخابات سے پہلے آپ کو میڈیا نے بہت اہمیت دی. ایسا لگا کہ اب ملک میں انقلاب آکے رہے گا اور ملک کی تقدیر بدل جائے گی. میڈیا نے آپ کے پروگرام کو بہت پروموٹ کیا اور اس میں سب سے آگے جیو کا چینل تھا جس سے آپ آج کل ناراض نظر آتے ہیں. آپ کے انقلابی پروگرام میں دو باتیں بہت اہمیت کی حامل تھیں. اور انھیں دو باتوں پر آپ نے بہت زور بھی دیا ہے. پہلے نمبر پر تو کرپشن اور کرپٹ لوگوں کو سیاست سے نکالنے کی بات تھی اور دوسرے نمبر پر بیرون ملک رکھے ہوئے سرمائے کی بات تھی.... اور انھیں باتوں کو آپ نے 11مئی 2014 کے جلسے میں بھی دوہرایا ہے.
حالیہ جلسہ میں آپ نے جلسہ میں موجود لوگوں سے پوچھا کہ کیا کرپٹ شخص اسمبلی میں جا کر ٹھیک ہوسکتاہے. بلکل ٹھیک سوال ہے اور اس کا جواب لوگوں نے دیا کہ نہیں.... میرے محترم عمران خان صاحب! اب میں آپ کو یاد دلاؤں کہ 2013 کے انتخابات میں آپ نے کچھ لوگ ایسے امیدوار کھڑے کیے جن پر کرپشن کے الزامات لگ چکے تھے. تو میڈیا کے پوچھنے پر آپ نے فرمایا تھا مجھے پتہ ہے مگر وہ لوگ تحریک انصاف کے پروگرام کو مان کر آئے ہیں لہزا .... وہ کوئی گند نہیں کر سکیں گے.......    تو جناب میرا آپ سے سوال ہے کہ " کیا کرپٹ شخص اسمبلی میں جاکر ٹھیک ہوسکتاہے.2013 سے اب تک آپ نے بیرون ملک موجود سرمایہ کو واپس لانے پر بہت زور دیا. اس پر آپ نے زرداری صاحب اور میاں صاحبان پر خوب تنقید کی. لوگوں کو برا بھلا کہنے میں آپ زرہ بھی احتیاط سے کام نہیں لیتے. گالم گلوچ اور توں تڑاں سے بھی گریز نہیں کرتے. اور اسی بدزبانی کو شائد آپ بہادری کا نشان سمجھتے ہیں. اب میں کچھ کہوں گا تو یقیننا آپ خفاء بھی ہوں گے اور..... مگر خیر کیا کروں جو بات مجھے کہنی ہے وہ تو کہنی ہی ہے. تو جناب عالی ! آپ کا مسلسل اسرار ہے کہ سب سیاست دان اپنا سرمایہ واپس ملک میں لے کر آئیں. مگر جب آپ سے پوچھا گیا کہ عمران صاحب آپ کو معلوم ہے بچوں سے زیادہ قیمتی سرمایہ کوئی نہیں ہوتا تو پھر آپ اپنے بچوں کو اپنے وطن واپس کیوں نہیں لاتے..... تو آپ نے بڑی معصومیت سے کہہ دیا کہ آپ کیا چاہتے ہیں کہ میں ایک ماں سے اپنے بچے چھین لوں....... میں ایسا نہیں کرسکتا..... وغیرہ.... تو گویا آپ کے پاس اپنے قیمتی ترین اثاثوں کو واپس نہ لانے کی توجیع موجود ہے اور اپنے آپ کو اس کارخیر سے مستثناء گردانتے ہیں مگر دوسروں کے لیے معافی نہیں..... 
ویسے جہاں تک آپ کی اس جزباتی دلیل کا تعلق ہے تو اس کا بھی سن لیں.... کیا آپ کو پتہ نہیں کہ آپ کے اس قیمتی سرمایہ کو کس طرح گھن لگنے کا خدشہ ہوا چاہتا ہے. یہ میں نہیں کہہ رھا نہ کوئی میڈیا کی اڑائی ہوئی بات بیان کر رہا ہوں یہ تو ان بچوں کی ماں کہہ رھی ہے جس کے حق میں آپ نے اپنا سب سے قیمتی سرمایہ چھوڑ رکھا ہے. اس نے جو اپنے بچوں کے بارے میں بتایا وہ کافی افسوسناک اور ایک باپ کے لئے دل دھلادینے والی بات ہے. وہ دیگر تمام کارھائے خیر سے زیادہ ضروری اور اہم بھی ہے.  آپ کی سابقہ بیگم صاحبہ نے قیولیم فاؤنڈیشن کی ایک تقریب میں فرمایا کہ

"
میرا بڑا بیٹا بعض اوقات کنفیوین کے اثرات ظاہر کرتاہے. اس کے کچھ کزن یہاں ہیں جو ڈسکوز میں جاتے ہیں اور کچھ کزن پاکستان میں ہیں جو تبلیغی جماعت اور جماعت اسلامی کے رکن ہیں. جب میرا بیٹا پاکستان سے آتا ہے تو میں دیکھتی ہوں کہ میرا بیٹا اپنی پہچان کی تلاش میں ایک حد تک پریشان نظرآتا ہے 

At times, my older son showed signs of confusion, he got a one set of cousins here who go to Discos and he got another sets of cousins in Pakistan who are members of organizations like Tablighi Jamaat and Jamat-e-Islami. He comes back confused and I can see there is a part of him looking for his own identity. 
"

آپ کے بچے عمر کے جس حصے میں ہیں وہاں آئی ڈینٹیٹی کرائیسس جیسی ذہنی مرض ہونے کا خدشہ ہوتا ہے. آپ جیسے میاں بیوی کے بچوں میں یہ مرض ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں کیوں کہ آپ دونوں دو مختلف انتہاؤں پر بس رہے ہیں اور آپ کے بچے دونوں میں بٹے ہوئے ہیں. ایرکسن کے سماجی نفسی نشوونما کے درجات کے مطابق آپ کے بچوں کی ذہنی تربیت کے اس دور میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ میں کون ہوں.... اور میں کیا بنوں گا....

 آپ قوم کو کنارے لگانے کا عزم لے کر نکلے ہیں مجھے یہ تو سمجھائیں کہ آپ کی اولاد کو ان کے ان سوالات کے جواب کون دے گا..... آپ اور دادکا قبیلہ تو یہ جوابات دینے سے قاصر ہوگا کیوں کہ آپ کے پاس وقت نہیں آپ تو ملک کا بیرونی سرمایہ جو دیگر لوٹ کرلے گئے ہیں وہ واپس لانے میں مصروف ہیں.... تو پھر یقیننا ان کو جوابات ان کی والدہ ہی دے گی یا پھر ان کا عیسائی یا یہودی نانکا قبیلہ دے گا.... اور ان کے کیا جوابات ہوں گے وہ ہم سب کو اندازہ ہونا چاہیے..... ان کے ہیروز اور ان کی روایات اور ان کے زندگی گزارنے کے اطوار بھی اور ہیں... تو آپ کے بچے کیسے سچے پاکستانی اور سچے مسلمان بن پائیں گے.........

آپ دوسروں کی کردار کشی چھوڑ کر اپنے خانگی معاملات کو درست کریں کیوں کہ آپ کے بچے جس ماں کے زیر سایہ پرورش پا رہے ہیں اس کے شب و روز سب پر عیاں ہیں. وہ محترمہ کبھی ایک انگلش سٹار کے ساتھ معاشقہ چلارہی ہوتی ہیں تو کبھی کسی دوسرے کے ساتھ..... ایسی ماں کے پاس اپنے قیمتی سرمایہ کو چھوڑ کر آپ کیسے مطمعین ہوسکتے ہیں....... میرا ان گزارشات کو آپ کے گوش گزار کرنے کا مقصد صرف اتنا سا ہے کہ ملک کو سنوارنے سے پہلے اپنے ذاتی معاملات کو درست فرمالیجئے. کیوں کہ آپ اگر ہمارے لیڈر بننا چاہتے ہیں تو پھر آپ کے تمام معاملات درست ہونا لازم ہیں.... اگر آپ ایسا نہیں کرپاتے تو پھر سچ ہی بول دیں کہ آپ کو طاقت کا نشہ ہوگیا ہے. کپتانی کی لت لگ گئی ہے... اب چاہے اولاد عیسائی اقدار کی پروردہ بنے یا وہ انگلستان کے فری ماحول میں آپ جیسی پلےبوائے بنے آپ کو تو وزیراعظم بنناہے اور بس

میں حیران ہوں کہ خود تو مغربی لائف سٹائل کی زندگی گزاری اور آتے ہی آپ پکے مسلمان کیسے بن گئے. آپ نے آتے ہی پہلے مشرف کے ہاتھ پر بیت کی مگر پھر کسی کے سمجھانے پر اسلامی جماعت کے نزدیک ہوگئے. اس کے بعد طالبان کیلئے پریشان رہنے لگے بلکل ایسا ہی پریشان جیسا کہ جماعت اسلامی رہتی ہے. اور کسی سے بھی اتحاد نہ کرنے کے باوجود جماعت اسلامی سے اتفاقی اتحاد چلتا رہا اور پھر مل کر حکومت بھی بنا لی.... آپ نے ظاہری طور پر اپنی دکانداری کو اسلامی بنالیا مگر اندرونی سوچ کو نہ بدل سکے ورنہ تو آپ اپنی اولاد کو ملک واپس لاکر اپنے کسی اتحادی کے مدرسہ میں داخل کرواتے اور ان کی سچا اسلامی طالب بنانے کی کاوش کرتے..... اسلام اخلاقیات کا مجموعہ ہے. ہم لوگوں نے ہمیشہ چھوٹے بڑوں کی عزت و احترام کرنا اور تمیز سے بات کرنا سیکھا ہے مگر آپ کی زبان سن کر توبہ استغفار کرنے لگتے ہیں.  یہ آپ کی ذاتی مزاج میں کوئی خرابی ہے یا سیاسی چال جو بھی ہے آپ کے لئے ہی برا ہے کیوں کہ میرے بچوں نے جب ایک دن آپ کی گالیاں سنیں تو وہ برجستہ بولے " جو کہتا ہے وہی ہوتا ہے"..... اب میں مزید کیا کہوں آپ خود بھی سمجھدار ہیں


اپنی خرابیوں کو پس پشت ڈال کر
ہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے