Showing posts with label Islam. Show all posts
Showing posts with label Islam. Show all posts

Friday, July 4, 2014

Two sides of same coin : 5th July for Jihad, 12 October for Terrorism

I was as free as butterfly. Flying around the garden of life. I was creative and open to new things. My creative features like poetry, story writing, Dramas, Movies, Singing and other creative arts were on the rise. I was learning from my mistakes and rising as new energetic and innovative star. But unfortunately, this period of growth and happiness did not last very long. My security forces conquered me on 5th July,1977.

General Zia ul Haq led the forces to cast shadows of Ziaism upon us. All liberal forces were muted. New path for our nation was outlined. Instead of creativity and enlightenment, we were bound to follow the limited edition of Zia-ul-Haq's version of Islam. General Zia took charge by saying that he will hold elections and go back to his professional duties. But this was just the opening point for his 11 years of Islamic rule. In alliance with Mullah, Zia's Islamic state started to emerge. Dopatta was imposed on TV for lady news casters. Namaz was ordered in Govt. offices. Educational institutes started student's attendance for namaz in mosques. Under the Zina ordinance, Zia-ul-Haq put more than 15,000 rape victims in jail because they could not comply with the Islamic condition requiring them to have numerous male witnesses of their victimization. They were charged with fornication and their rapists were let go free. A ban was imposed on Strikes and union activities. Labor Strikers and trade union activists were punished with many years of imprison and whipping.

General Zia's "advice" to the deprived was that "It is not for the employers to provide roti (bread), kapda (clothes) aur (and)makaan (homes) (referring to a well-known PPP slogan used by Bhutto). It was for God Almighty who is the provider of livelihood to his people. Trust in God and He will bestow upon you an abundance of good things in life." wikipedia

President Ronald Reagan and Bill Clark meeting with President Zia-ul-Haq, 1982. Source: wikipedia
He cleverly put forth American agenda and provided Islamic cover to it. Pakistani nation followed the agenda and gradually turned into conservative Jihadi society. Jihadi organizations were allowed to propagate their views and recruit new members. Mullah who were earlier weakest members of the society now they were moving around with gun men on their sides. They had big vehicles like Pajeros to ride on. All this inspired the youngsters to join these organizations. Zia ul Haq used these nurseries in Afghan war. Jihadis were supported and trained by Zia and his fellows. They were trained to kill Russians forces and their aim was to push back Russians to their country. Jihadis did the same but then suddenly they were left alone in the baron lands of Afghanistan. Inflow of American dollars was stopped. After 9/11 scene changed. New script for our nation was provided to our power hungry people.
  
On 12 October, Army officers and soldiers were sent to arrest Prime Minister of Pakistan who was elected by the votes of Pakistani Awam. Pervez Musharraf was leading the commando action. This time, Army Leader had different agenda for this directionless nation. Now we were ordered to march towards the liberalization. Last time we were Islamic nation and wanted to impose Islamic sharia in our country but this time we were fighting against those who were trying to install the same system. Last time they were Jihadis and we loved them but this time that same group was terrorist and we hate them. We loved them when they were jihadis and were killing others but now they are terrorists because they are killing us.....

Thursday, July 3, 2014

سوچ کی غلامی


پیدا ہوتے ہی کانوں میں آذان دی جاتی ہے. اس کے بعد زندگی بھر اسلامی تعلیمات کا درس جاری رہتا ہے. پہلے قائدہ اور پھر قرآن پڑھایا جاتا ہے. سکولوں میں اکثر مضامین میں اسلامی اقدار کی تبلیغ کی جاتی ہے.  جمعہ کے اجتماعات میں درس و تدریس کا اہتمام ہوتا ہے. رمضان کا مہینہ ایک طرح سے ریفریشر کورس ہوتا ہے جس میں اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی کو مزین کرنے کی کوشش کی جاتی ہے. اس ساری جدوجہد اور تبلیغی سسٹم  ہونے کے باوجود ہم کردار اور علم میں سب سے پیچھے کیوں ہیں. ہمارے یہاں کرپشن, جھوٹ اور بد دیانتی کو لائف سٹائل کا حصہ مان لیا گیا ہے. مان لیا سے میری مراد یہ نہیں کہ زبان سے اقرار کرتے ہیں نہیں بلکہ عملی طور پر ہم اکثر ایسی صورتحال میں سرنگوں نظر آتے ہیں جہاں کرپشن کا راج ہو. کیا وجہ ہے کہ ہماری زندگیوں سے وہ کردار نہیں جھلکتے جن کی امید پر ہمیں مذہبی تعلیم سے آراستہ کیا جاتا ہے. 

میں نےاکثر ان افراد کو گالیاں پڑتے سنا ہے جو رولز کی بات کریں اور شارٹ کٹ کے راستے مصدود کردیں. ہم لوگ اپنے لئے مقامی لیڈر بھی وہ ہی چنتے ہیں جو کردار کا غازی ہوناہو طاقتورہو اور پولیس میں اثرورسوخ رکھتا ہو اور وہاں سے کام نکلواسکتاہو. ناجائز تجاوزات پر ایکشن کرنے والے سرکاری افراد کو اکثر پرتشدد ردعمل کا سامنا کرناپڑتا ہے. حال ہی میں گورنمنٹ نے بجلی کے بلوں کے ساتھ بلب جمع کروانے پر انرجی سیور دینے کا اعلان کیا. گورنمنٹ کا مقصد  توشاید یہ تھا کہ بجلی کے بحران میں بجلی بچایا جائے اور بلب چونکہ انرجی سیور سے کہیں زیادہ بجلی خرچ کرتے ہیں اس لئے جو لوگ ابھی تک بلب استعمال کررہے ہیں اور وہ انرجی سیور خریدنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو وہ گورنمنٹ کو بلب دے کر انرجی سیور لے لیں مگر ہم مال مفت کو کہاں چھوڑنے والے ہیں.... دوکانوں پر بلبوں کی سیل پر اچانک اضافہ دیکھا گیا. لوگ ہر بل پر موجود فری انرجی سیور کی سہولت کو کیش کرواتے نظر آرہے ہیں. دنیا بھر میں جہاں کہیں خاص دن یا تہوار ہوتے ہیں تو لوگوں کی سہولت کے لئے اشیاء کی قیمتوں میں خاطرخواہ کمی کی جاتی ہےمگر ہمارے یہاں الٹی گنگا بہتی ہے ہم لوگ رمضان آتے ہی اشیاء صرف ,پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ دیکھتے ہیں. سگنل توڑنا ہمارے لئے معمولی بات اور روز کا معمول ہے. گویا کہ جب اور جس جگہ ہمیں میسر آئے ہم لاقانونیت اور بدکرداری کا مظاہرہ کرنے سے چوکتے نہیں.

تماشہ گیر ہمیں سب سے زیادہ بھاتے ہیں کہیں کوئی بہروپیہ لیڈر کے روپ میں ڈرامہ کرتا نظر آئے قوم اس کی مقلد ہوجاتی ہے. فورا اس کی پیروی کرنے اور اس کے نظریات پر مرمٹنے والے پیدا ہوجاتےہیں. اپنی سوچ اور عقل کی تربیت کا احتمام نہ ہم نے پہلے کیا نہ اب اکیسویں صدی میں اس تکلف میں پڑنے کا ارادہ ہے. ہم تو وہ لوگ ہیں جنھیں یوٹیوب سے ڈھونڈ کر کوئی شخص گستاخانہ فلم دیکھا دے تو اس غصہ میں اپنے دامن چاک کرنا شروع کردیتے ہیں. فلم بنانے والے اور دیکھانے والے اپنا بزنس دوبالا کرجاتےہیں اور ہم اپنوں کو نقصان پہنچا کر سمجھتے ہیں دین کا حق ادا کردیا. ہمارے صاحبان فیصلہ ساز بھی کمال کے ہیں ان کے فیصلوں میں ابھی بھی ڈکٹیٹروں جیسا مزاج جھلکتا ہے. بین کردو... اس میڈیم کو جس پر کسی کمبخت نے یہ فلم رکھدی ہے. اور وہ تلاش کرنے پر مل جاتی ہے... بین کردو ... ان سب چیزوں کو جو ہماری سوچ کے خلاف جائیں. اس سے ہمارے بچے گمراہ ہوسکتے ہیں. اگرچہ انٹرنیٹ پر اربوں کی تعداد میں ایسی سائٹس ہیں جہاں گستاخانہ مواد موجود ہے لیکن کسی نے ابھی تک ان کی نشاندہی نہیں کی اس لئے انٹرنیٹ بین ہونے سے بچا ہوا ہے اب اگر کسی نے سوچا کہ اس قوم کو انٹرنیٹ سے محروم کیا جائے تو وہ کوئی ایسا اقدام کرسکتا ہے کہ جس سے ہمارے فیصلہ ساز حکم فرمادیں کہ آج سے انٹرنیٹ بھی بین....

 مجال ہے کہ ہم کبھی واقعات کو ان کے اصل سیاق و سباق کے مطابق سمجھ سکیں ہمیں تو جو جیسا دیکھانا چاہتا ہے ویسا ہی ہم دیکھ اور سمجھ لیتے ہیں اور اس پر اپنی ذہانت پر خود ہی داد بھی دے لیتے ہیں. سوچ کی اسیری کا سلسلہ کبھی رکےگا بھی یا ہم غلاموں کی زندگی ہمیشہ اندھی تقلید کی نظر ہوتی رہے گی. یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانک کرلینا ہوگا. ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم اپنی پود کو وہی تعلیم مہیا کررہے ہیں جو مفاد پرس حکمرانوں نے ہمارے لئے منتخب کیا یا ہم دورحاضر کی جدید تعلیم سے اپنے بچوں کو لیس کررہے ہیں.

ہم لوگ تقلیدی اندھیروں کے ایسے اسیر ہوئے ہیں کہ اکثر جزبات میں بہہ کر اپنے ہی گھروں کو آگ کے سپرد کردیتے ہیں اور اس پر ندامت تو درکنار ہمیں نقصان کا احساس تک نہیں ہوتا. فرقہ پرستی ہمارے خون میں رچ بس چکی ہے. اختلافات جیسے بھی رہے ہوں ان میں خون کا رنگ شروع دن سے شامل ہوگیاتھا. اسلامی سکالرز کے مطابق اصل اسلامی ریاست دیکھنا ہو تو خلفاءراشدین کا زمانہ دیکھو. اس دور میں اصل اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا. اس کے بعد تو خلافت کی جگہ ملوکیت نے لینا شروع کردی. مگر افسوس کہ خلفاء راشدہ کا زمانہ بھی باہم دست و گریناں ہونے کی داستانیں چھوڑ گیا ہے. اسی دور سے دوبارہ قبائلی اختلافات نے جنم لیا اور بےشمار مسلمان مسلمانوں سے لڑتے ہوئے مارے گئے. چار میں سے تین خلفاءراشدین کا قتل مسلمانوں ہی کے ہاتھوں ہوا. حضرت عمر رضی اللہ تعالی کا یہ قول بہت مشہور ہے کہ دجلہ کنارے اگر کتا بھی بھوکہ مرجائے گا تو عمر اس کا جوابدہ ہوگا تو پھرحضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی لڑائی میں جو مسلمان قتل ہوگئے ان کے خون کا حساب کون دے گا.
 جب ہم اتحاد بین المسلمین کی بات کرتے ہیں تو لوگوں کو سمجھاتے ہیں کہ "سب علماء اکرام قابل احترام ہیں اور سب نے اپنے اپنے طور پر جس طرح اسلام کو سمجھا اس کے مطابق اپنی شریعت ترتیب دے لی لہزا اختلاف کے باوجود ہم سب ایک قوم ہیں اور کوئی کافر نہیں سب مسلمان ہیں بس عمل کا طریقہ مختلف ہے." یہ بات بہت اچھی لگتی ہے اگر ایسا ہے تو کیا ہم اپنا ایک دن سنی شریعت کے تحت اور دوسرا دن شیعہ شریعت کے تحت گزارسکتے ہیں.

اگر ہم واقعی ترقی کرنا چاہتے ہیں اور دنیا میں عزت کا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بوڑھی سوچ کو ترک کرکے  ہمیں نئی سوچ کی بتی جلانا ہوگی. تنقیدی سوچ کو پیدا کرکے ہم اپنے اندر موجود "اغلاط العوام" کی نشاندہ کرپائیں گے. واقعات کو صیحیح سیاق و سباق میں سمجھ پائیں گے اور پھر آزاد سوچوں کے ساتھ ہم درست فیصلوں کے قابل ہو پائیں گے. قرآن جس کو ہم سینوں سے تو لگا رکھتے ہیں اس میں خدا کتنی بار تفکر اور عقل کے استعمال کی دعوت دے رھا ہے اس کا ہمیں ذرہ برابر بھی احساس نہیں