Showing posts with label Religion. Show all posts
Showing posts with label Religion. Show all posts

Monday, July 7, 2014

ابلیسیت

کہا ابلیس نے اک دن اہل جہاں سے
میرا ذکرہرصحیفہ میں آیا
نظر میں کسی کو کبھی بھی نہ آیا 
میرا جسد و پیکر کہیں بھی نہیں ہے
پھر بھی یہیں ہوں...

میرا گھر ہیں بیمارومفلوج سوچیں 
شر اور برائی سے مغلوب سوچیں
وہیں کا مکیں ہوں...

تم سارے اپنے ہی دشمن بنے ہو
گندے نطفے سے تم سب جنے ہو

تمھاری کنکریوں سے میں نہ مروں گا
تم لڑتے ہو مجھ سے میں نہ لڑوں گا

یہاں وہاں نہیں میں... 
میں تو اندر کہیں ہوں

نہ باہر مجھے ڈھونڈو میں نہ ملوں گا
اگر چاہو ملنا , گریباں میں جھانکو
وہیں پر ملوں گا

یہ طاغوتی لشکر یہ جذبات سرکش
تمھارے ہی ہاتھوں کے ہیں پیدا کردہ
تمھارے یہ اعمال ہیں
میں نہیں ہوں

ظلم تم نے کئے الزام میں نے سہے
ظالم نہیں میں تو مظلوم ہوں

اپنوں کو اپنوں سے لڑایا تمھیں نے
طبقے بنائے, غربت پھیلائی
جو ہو سکا ظلم ڈھایا تمھیں نے
مگر نام تم نے میرا لگایا...

اپنے بد اعمال اور طورواطوار پر
جنت سے پہلے بھی نکالے گئے
 تم سے انعامات خالق نہ سنبھالے گئے
مگر الزام تم نے مجھ پر لگایا...

تم نے پیدا کیا جس کو اپنے ہی ہاتھوں
میں وہ تغریب ہوں
میں وہ عفریت ہوں

ناپاک سرکش اعمال تیرے 
جب تک ہیں زندہ میں بھی یہیں ہوں
تمھارے یہ اعمال ہیں میں نہیں ہوں
.....

Thursday, July 3, 2014

سوچ کی غلامی


پیدا ہوتے ہی کانوں میں آذان دی جاتی ہے. اس کے بعد زندگی بھر اسلامی تعلیمات کا درس جاری رہتا ہے. پہلے قائدہ اور پھر قرآن پڑھایا جاتا ہے. سکولوں میں اکثر مضامین میں اسلامی اقدار کی تبلیغ کی جاتی ہے.  جمعہ کے اجتماعات میں درس و تدریس کا اہتمام ہوتا ہے. رمضان کا مہینہ ایک طرح سے ریفریشر کورس ہوتا ہے جس میں اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی کو مزین کرنے کی کوشش کی جاتی ہے. اس ساری جدوجہد اور تبلیغی سسٹم  ہونے کے باوجود ہم کردار اور علم میں سب سے پیچھے کیوں ہیں. ہمارے یہاں کرپشن, جھوٹ اور بد دیانتی کو لائف سٹائل کا حصہ مان لیا گیا ہے. مان لیا سے میری مراد یہ نہیں کہ زبان سے اقرار کرتے ہیں نہیں بلکہ عملی طور پر ہم اکثر ایسی صورتحال میں سرنگوں نظر آتے ہیں جہاں کرپشن کا راج ہو. کیا وجہ ہے کہ ہماری زندگیوں سے وہ کردار نہیں جھلکتے جن کی امید پر ہمیں مذہبی تعلیم سے آراستہ کیا جاتا ہے. 

میں نےاکثر ان افراد کو گالیاں پڑتے سنا ہے جو رولز کی بات کریں اور شارٹ کٹ کے راستے مصدود کردیں. ہم لوگ اپنے لئے مقامی لیڈر بھی وہ ہی چنتے ہیں جو کردار کا غازی ہوناہو طاقتورہو اور پولیس میں اثرورسوخ رکھتا ہو اور وہاں سے کام نکلواسکتاہو. ناجائز تجاوزات پر ایکشن کرنے والے سرکاری افراد کو اکثر پرتشدد ردعمل کا سامنا کرناپڑتا ہے. حال ہی میں گورنمنٹ نے بجلی کے بلوں کے ساتھ بلب جمع کروانے پر انرجی سیور دینے کا اعلان کیا. گورنمنٹ کا مقصد  توشاید یہ تھا کہ بجلی کے بحران میں بجلی بچایا جائے اور بلب چونکہ انرجی سیور سے کہیں زیادہ بجلی خرچ کرتے ہیں اس لئے جو لوگ ابھی تک بلب استعمال کررہے ہیں اور وہ انرجی سیور خریدنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو وہ گورنمنٹ کو بلب دے کر انرجی سیور لے لیں مگر ہم مال مفت کو کہاں چھوڑنے والے ہیں.... دوکانوں پر بلبوں کی سیل پر اچانک اضافہ دیکھا گیا. لوگ ہر بل پر موجود فری انرجی سیور کی سہولت کو کیش کرواتے نظر آرہے ہیں. دنیا بھر میں جہاں کہیں خاص دن یا تہوار ہوتے ہیں تو لوگوں کی سہولت کے لئے اشیاء کی قیمتوں میں خاطرخواہ کمی کی جاتی ہےمگر ہمارے یہاں الٹی گنگا بہتی ہے ہم لوگ رمضان آتے ہی اشیاء صرف ,پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ دیکھتے ہیں. سگنل توڑنا ہمارے لئے معمولی بات اور روز کا معمول ہے. گویا کہ جب اور جس جگہ ہمیں میسر آئے ہم لاقانونیت اور بدکرداری کا مظاہرہ کرنے سے چوکتے نہیں.

تماشہ گیر ہمیں سب سے زیادہ بھاتے ہیں کہیں کوئی بہروپیہ لیڈر کے روپ میں ڈرامہ کرتا نظر آئے قوم اس کی مقلد ہوجاتی ہے. فورا اس کی پیروی کرنے اور اس کے نظریات پر مرمٹنے والے پیدا ہوجاتےہیں. اپنی سوچ اور عقل کی تربیت کا احتمام نہ ہم نے پہلے کیا نہ اب اکیسویں صدی میں اس تکلف میں پڑنے کا ارادہ ہے. ہم تو وہ لوگ ہیں جنھیں یوٹیوب سے ڈھونڈ کر کوئی شخص گستاخانہ فلم دیکھا دے تو اس غصہ میں اپنے دامن چاک کرنا شروع کردیتے ہیں. فلم بنانے والے اور دیکھانے والے اپنا بزنس دوبالا کرجاتےہیں اور ہم اپنوں کو نقصان پہنچا کر سمجھتے ہیں دین کا حق ادا کردیا. ہمارے صاحبان فیصلہ ساز بھی کمال کے ہیں ان کے فیصلوں میں ابھی بھی ڈکٹیٹروں جیسا مزاج جھلکتا ہے. بین کردو... اس میڈیم کو جس پر کسی کمبخت نے یہ فلم رکھدی ہے. اور وہ تلاش کرنے پر مل جاتی ہے... بین کردو ... ان سب چیزوں کو جو ہماری سوچ کے خلاف جائیں. اس سے ہمارے بچے گمراہ ہوسکتے ہیں. اگرچہ انٹرنیٹ پر اربوں کی تعداد میں ایسی سائٹس ہیں جہاں گستاخانہ مواد موجود ہے لیکن کسی نے ابھی تک ان کی نشاندہی نہیں کی اس لئے انٹرنیٹ بین ہونے سے بچا ہوا ہے اب اگر کسی نے سوچا کہ اس قوم کو انٹرنیٹ سے محروم کیا جائے تو وہ کوئی ایسا اقدام کرسکتا ہے کہ جس سے ہمارے فیصلہ ساز حکم فرمادیں کہ آج سے انٹرنیٹ بھی بین....

 مجال ہے کہ ہم کبھی واقعات کو ان کے اصل سیاق و سباق کے مطابق سمجھ سکیں ہمیں تو جو جیسا دیکھانا چاہتا ہے ویسا ہی ہم دیکھ اور سمجھ لیتے ہیں اور اس پر اپنی ذہانت پر خود ہی داد بھی دے لیتے ہیں. سوچ کی اسیری کا سلسلہ کبھی رکےگا بھی یا ہم غلاموں کی زندگی ہمیشہ اندھی تقلید کی نظر ہوتی رہے گی. یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانک کرلینا ہوگا. ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم اپنی پود کو وہی تعلیم مہیا کررہے ہیں جو مفاد پرس حکمرانوں نے ہمارے لئے منتخب کیا یا ہم دورحاضر کی جدید تعلیم سے اپنے بچوں کو لیس کررہے ہیں.

ہم لوگ تقلیدی اندھیروں کے ایسے اسیر ہوئے ہیں کہ اکثر جزبات میں بہہ کر اپنے ہی گھروں کو آگ کے سپرد کردیتے ہیں اور اس پر ندامت تو درکنار ہمیں نقصان کا احساس تک نہیں ہوتا. فرقہ پرستی ہمارے خون میں رچ بس چکی ہے. اختلافات جیسے بھی رہے ہوں ان میں خون کا رنگ شروع دن سے شامل ہوگیاتھا. اسلامی سکالرز کے مطابق اصل اسلامی ریاست دیکھنا ہو تو خلفاءراشدین کا زمانہ دیکھو. اس دور میں اصل اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا. اس کے بعد تو خلافت کی جگہ ملوکیت نے لینا شروع کردی. مگر افسوس کہ خلفاء راشدہ کا زمانہ بھی باہم دست و گریناں ہونے کی داستانیں چھوڑ گیا ہے. اسی دور سے دوبارہ قبائلی اختلافات نے جنم لیا اور بےشمار مسلمان مسلمانوں سے لڑتے ہوئے مارے گئے. چار میں سے تین خلفاءراشدین کا قتل مسلمانوں ہی کے ہاتھوں ہوا. حضرت عمر رضی اللہ تعالی کا یہ قول بہت مشہور ہے کہ دجلہ کنارے اگر کتا بھی بھوکہ مرجائے گا تو عمر اس کا جوابدہ ہوگا تو پھرحضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی لڑائی میں جو مسلمان قتل ہوگئے ان کے خون کا حساب کون دے گا.
 جب ہم اتحاد بین المسلمین کی بات کرتے ہیں تو لوگوں کو سمجھاتے ہیں کہ "سب علماء اکرام قابل احترام ہیں اور سب نے اپنے اپنے طور پر جس طرح اسلام کو سمجھا اس کے مطابق اپنی شریعت ترتیب دے لی لہزا اختلاف کے باوجود ہم سب ایک قوم ہیں اور کوئی کافر نہیں سب مسلمان ہیں بس عمل کا طریقہ مختلف ہے." یہ بات بہت اچھی لگتی ہے اگر ایسا ہے تو کیا ہم اپنا ایک دن سنی شریعت کے تحت اور دوسرا دن شیعہ شریعت کے تحت گزارسکتے ہیں.

اگر ہم واقعی ترقی کرنا چاہتے ہیں اور دنیا میں عزت کا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بوڑھی سوچ کو ترک کرکے  ہمیں نئی سوچ کی بتی جلانا ہوگی. تنقیدی سوچ کو پیدا کرکے ہم اپنے اندر موجود "اغلاط العوام" کی نشاندہ کرپائیں گے. واقعات کو صیحیح سیاق و سباق میں سمجھ پائیں گے اور پھر آزاد سوچوں کے ساتھ ہم درست فیصلوں کے قابل ہو پائیں گے. قرآن جس کو ہم سینوں سے تو لگا رکھتے ہیں اس میں خدا کتنی بار تفکر اور عقل کے استعمال کی دعوت دے رھا ہے اس کا ہمیں ذرہ برابر بھی احساس نہیں

Wednesday, March 12, 2014

نصاب تعلیم : راہ نجات


کسی بھی ماشرے کی ترقی و تنزلی میں سب سے اھم کردار تعلیم کا ہوتا ہے. اچھی تعلیم زندگی کےبارے میں مثبت سوچ پیدا کرتی ہے. اور معاشرتی و معاشی ماحول کو سازگار بنانے کیلئے لوگوں میں ایسی مہارتیں پیدا کرتی ہے جس کی مدد سے لوگ معاشرے کی ترقی میں مل جل کرسرگرم عمل رہتے ہیں. 

ترقی یافتہ اور مہزب معاشروں میں تعلیم کو بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے. بدلتے ہوئے حالات میں تعلیم کے نصاب پر گہری نظر رکھی جاتی ہے. جہاں تبدیلی اور اضافے کی ضرورت ہوتی ہے وہاں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلئے مسلسل تبدیلی کا عمل جاری رکھا جاتا ہے. نصاب تعلیم میں تبدیلیاں کرتے ہوئے جن پہلووں پر غور کیا جاتا ہے ان میں سائنس اور ٹیکنالوجی, معاشرتی شعور, علاقائی اور بین الاقوامی تعلقات شامل ہیں. اس کے علاوہ  نصاب میں فرد کی انفرادی اور خودی کی ترقی کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے. نصاب میں نئی معلومات اور مہارتیں شامل کرنے کے بعد ان کے نتائج پر گہری نظر رکھی جاتی ہے.  اس طرح ایک مسلسل عمل کے ذریعے وقت کے ساتھ تعلیم کا نظام بہتر سے بہتر ہوتا جاتا ہے اور اس طرح قومی ترقی کو یقینی بنایا جاتا ہے.

پاکستان میں ہم نے اپنا سفر تعلیم پر پہلی کانفرنس سے کیا. یہ کانفرنس 1947 میں منعقد کی گئ. اس کانفرنس میں قائد اعظم کا مندرجہ ذیل پیغام ہماری راہنمائی کرتا نظر آتا ہے:
"...اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاست کے مستقبل کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کس طرح کی تعلیم مہیا کرتے ہیں...." اور پھر آپ نے فرمایا کہ:
"ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمیں دنیا سے مقابلہ کر کے جیتنا ہے جواس جانب بہت تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے."
اس کے بعد سات تعلیمی پالیسیاں بنیں. آٹھ پانچ سالہ منصوبے تیار ہوئے اور کوئی آدھا درجن کے قریب دیگر سکیمیں بھی متعارف کروائی گئیں. اور اس کے علاوہ دیگر کانفرنسوں, ورکشاپس,سیمیناروں اور مباحث کا تو شمار ہی کیا. مگر بدقسمتی سے کچھ بھی کارگر ثابت نہ ہوا. ھر نئی پالیسی یا منصوبہ دیتے ہوئے ہمارے صاحبان اقتدار نے چاہے وہ ملیٹری سے تھے یا سول سے انھوں نے گزشتہ پالیسی کے ناکام ہونے کا اعتراف ضرور کیا. نئے پی سی ون بنتے رہے اور ہر نئی ڈاکومنٹ میں کاپی پیسٹ کا کام جاری رہا. ہمارے ملک کی افسرشاھی نے مقتدر حلقوں کی نالائقیوں کو سمجھ کے ان سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا اور ملک جہالت کی تاریکی میں دھنستا رہا.
ہم نے تعلیمی نظام کو بدلے ہوئے حالات کیلئے نئی مہارتوں کی تربیت کو نصاب میں شامل کرنے کے بجائے قوم کو اپنے شاندار ماضی مے گرداب میں الجھا دیا. قیام پاکستان کے فورا بعد سے تعلیم کو اسلامی سوچ کے تہت تبدیل کرنے کا سلسہ شروع ہوا. اسلامی تشریح کے مطابق علم کا مطلب صرف قرآن اور حدیث کا جاننا قرار پایا. زیادہ سے زیادہ مذھبی معلومات , مناجات اور عبادات کے اسباق شامل کئے گئے. اس تشریح کے بعد سائنس اور ٹیکنالوجی اور اس کے زبان انگریزی کی اہمیت کو کم کیا جانے لگا. انگریزی زبان اور انگریزی تعلیم کو ملعون قرار دیا جانے لگا. اردو اور عربی زبان پر زور دیا جاتا رہا مگر یہ سب کچھ تھا عوام کی رہنمائی کیلئے مگر خواص نے اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے وہی ملعون زبان و تعلیم کا انتخاب کیا کیونکہ جدید دور کے تمام علوم تو اسی انگریزی زبان سے حاصل ہونا تھے.
پھر ستم ظریفی یہ کہ اقلیتی عوام کی تسلی کے لئے پہلے تو اسلامیات کے بجائے اخلاقیات کا نصاب دیا گیا مگر آہستہ آہستہ اسلامیات کو دیگر لازمی مضامین میں بھی شامل کر دیا گیا. اب ہمیں اسلامی تعلیمات اسلامیات کے علاوہ اردو اور انگلش زبان میں اور معاشرتی علوم میں بھی وافر مقدار میں نظر آتی ہے. گویا کہ اب اقلیتی افراد چاہیں یا نہ چاہیں ان کے بچوں کو بہرحال اسلامیات پڑھنا ہی ھوتی ہے.

نظام تعلیم میں مذھبی رنگ شامل کرنے میں پہل ذوالفقار علی بھٹو نے کی اس کے بعد جنرل ضیاالحق نے تو جیسے تعلیم کا قبلہ ہی تبدیل کردیا. اسلامائیزیشن کی اس کوشش میں اصل تاریخ کو مسخ بھی کیا گیا اور تاریخی واقعات میں جھوٹ شامل کرنے سے بھی گریز نہ کیا گیا. نصاب میں مختلف اقوام کو دشمن کے طور پر پیش کیا گیا اور ان کے بارے میں صرف نفرت انگیز مواد کو ہی شامل کیا گیا.  اس نصاب تعلیم کے زیراثر طلباء کیلئے انگریز اور ہندو اقوام دشمن اقوام قرار پائیں. جس کا لازمی نتیجہ یہ بھی نکلا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی انگریزی تعلیم کے طور پر ذھنوں پر راسخ ہوگئی. عوام کو تو اردو میڈیم میں اسلامی تعلیمات سے مشرف بہ اسلام کیا جاتا رہا مگر خود خواص کے بچے انگریزی تعلیم سے فیضیاب ہوتے رہے. 
جنرل ضیاءالحق کے تعلیمی تجربات میں ایک اصطلاح کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل رہی. جس کی مدد سے مستقبل کے جنگجو تیار کرنا مقصد تھا. وہ اصطلاح تھی "جہاد". اس لفظ کو بار بار نصاب میں ڈال کر انگریزوں اور ہندوں کے خلاف نفرت کو ابھارا گیا. اسی دور میں مذھبی تنظیموں کے عسکری ونگز فروغ پانے لگے اور کئی نئی عسکری تنظیمیں وجود میں آگئیں. حکمرانوں نے پہلے تو ان تنظیموں کو کشمیر کی جنگ میں اور پھر افغان وار میں استعمال کیا. اور پھر اس کے بعد کیا ہوا وہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ وہ سب ابھی تک ہم سب بھگت رہے ہیں.
ایک طرف تو ترقی یافتہ ملکوں کے تصاب تعلیم ہے جہاں زندگی سے اور انسانیت سے محبت کرنا سکھایا جاتا ہے اور معاشرے میں زندہ رہنے اور معاشرے کی ترقی کیلئے ضروری مہارتیں سکھائی جاتی ہیں اور دوسری طرف ہمارا نصاب تعلیم ہے جس میں اقوام عالم سے نفرتوں کے اسباق شامل ہیں. سائنس اور ٹیکنالوجی کی جگہ مذھبی تعلیم کو ترجیح نے ہمیں نہ دنیا کے قابل بنایا نہ ہی ہم کسی اعتبار سے مذھبی و اخلاقی معیار پر ہی کامیاب قرار پا سکے ہیں.