Showing posts with label بدلے گا پاکستانpolitics. Show all posts
Showing posts with label بدلے گا پاکستانpolitics. Show all posts

Tuesday, October 10, 2017

پی ٹی آئی کا اگلے الیکشن کےلئے انتخابی بینر

عمران خان کے کارہائے نمایاں

میں نے سب سے پہلے آف شور کمپنی بنائی
آف شور اولاد کا امریکہ کی عدالت سے سرٹیفیکیٹ حاصل کیا جوئے سے قرض اتارنے کی سکیم کا عظیم خیال ایجاد کیا سیاست میں گالی کا کلچر کو رواج دیا سیاسی جلسوں میں ناچ گان اور ڈیٹنگ کا انتظام کیا دھرنوں کے ذریعے سے اقتدار میں آنے یا پھر کسی دوسرے کو لانے کی کوشش کی بغیرکوچوان کے احتساب کا ڈانگا کےپی کے میں چلادیا ایک انگلی کی خاطر کیا کیا نہ ناچ دیکھایا لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کے ہرروز نئے انداز سیکھائے ملین ٹری سونامی کا اعلان کیا۔۔۔۔ جس میں ملین ٹری بھی بہہ گئے اور عوام کے ملین روپے بھی تعلیم اور صحت کواہمیت دی اور انقلاب بپا کردیا۔ ڈینگی سے صوبے لوگ مررہے ہیں۔ پختون خواہ ویسے ہی خوامخاہ پریشان ہے ڈینگی تو سردی میں خودبخود ختم ہوجائے گا :) پاکستان میں پہلی بار ایک صوبائی حکومت کا وفاقی حکومت پرحملہ کی پارٹی کی خوبرو خواتین کو بلیک بیری سے فحش پیغامات بھیجے اس سب کے باوجود جماعتیوں کو بے شرم خاموشی پر مجبور رکھا یہ سب اور اس کے علاوہ اور بہت کچھ جو آہستہ آہستہ تمھارے سامنے آئے گا۔۔۔۔
میں نے آ کر اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا اسے کہتے ہیں تبدیلی اب اور بتائیں میں قوم کو راہ راست پر لانے کےلئے کیا کروں. مجھے وفاق میں آنے دیں میں آپ کے بچوں اور خاص طور پربچیوں کے لئے بہت کچھ کروں گا :) ایسی اور بھی تبدیلی چاہیے تو مجھے ووٹ دیں ؟

Friday, April 25, 2014

بدلے گا پاکستان : خواب یا حقیقت

2013
  کے انتخابات نے جہاں بہت سے سیاسی جوکروں کو بےنقاب کیا وہیں بڑے بڑے سیاسی بھیڑیوں اور لومڑوں سے بھی نجات دلائی. ان انتخابات کے نتائج سے پاکستانیوں کے شعور کا بھی اظہار ہوا اور سب سے بڑہ کر مایوسیوں کے ماحول میں امید کی نئی کرنیں ذھنوں میں روشن ہوئیں. 
ایک طرف تو طالبان کی دھشت گردیاں تو دوسری جانب کرپشن کی درندگیاں تھیں. مہنگائی کا ہنگامہ بھی تھا اور اندھیروں کا راج بھی. مایوسیوں کے اس دور میں عوام بھرپور انداز سے اپنے جمہوری حق کا استعمال کرنے نکلے اور انھوں نے کرپشن اور مصلحت کی سیاست کو مسترد کیا "این آر او" جیسے عظیم سرٹیفیکیس کو بھی عوام نے ردی کو ٹوکری میں ڈال دیا. ان انتخابات کا بغور جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ یہ عوامی فیصلہ کئی لحاظ سے تاریخی تھا. ان الیکشنز میں پہلی بار ہوا کہ عوام نے جزبات کے بجائے کارکردگی کو سراہا. اس کے ساتھ دوسرا پہلو بھی توجہ طلب ہے کہ عوام نے امید کے نئے چراغوں کو بھی بجھنے نہیں دیا. ایک طرف جہاں مسلم لیگ (ن)کو جمہوری اقدار کی پاسداری اور عوامی خدمت کے صلہ میں بھرپور حمایت ملی وہیں عوام نے تحریک انصاف کے انقلابی ایجنڈے کو بھی عملی جامہ پہنانے کا موقع دیا. میں خود بھی تبدیلی کے اس قبیلے کا ایک فرد ہوں جس نے ایک بار پھر اچھے مستقبل کی خاطر ان انتخابات میں اپنے حلقہ احباب میں متحرک ہو کر لوگوں کو ووٹ ڈالنے کیلئے تحریک چلاتا رہا. میں نے پنجاب میں خوابوں کو حقیقت میں تبدیل ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھاتھا اور مجھے امید تھی کہ اس بار اگر جمہوریت کو موقع ملا تو پاکستان ضرور بدلے گا

پاکستان مسلم لیگ کی حکومت کی تشکیل سے میری امیدیں روشن ہونے لگیں. ابتدائی دنوں میں حکومت کی تشکیل کے دوران میاں نواز شریف صاحب نے اپنے رویے سے بڑے لیڈر ہونے کا ثبوت دیا. انھوں نے حکومت سازی کے  نمبرشماری کے مروجہ طریقہ سے ہٹ کر فراغدلی کا ثبوت دیا. آپ نے جہاں کسی کو تھوڑی بہت بھی اکثریت حاصل تھی اس کا احترام کیا اور اس کو حکومت بنانے کا نہ صرف موقع دیا بلکہ کئی لوگوں کے اکسانے کے باوجود آپ نے صوبہ پختونخواہ اور بلوچستان میں دیگر جماعتوں کو حکومت بنانے میں مدد فراہم کی. 
میاں صاحب کے دانشمندانہ رویے کی وجہ سے جو مثبت ماحول بنا تھا وہ میرے جیسے محبان جمہوریت کے لئے اظمینان کا باعث تھا. حکومت کی تشکیل کے بعد یوں محسوس ہو رہاتھا کہ اب ہماری ترقی کا سفر شروع ہوچکا ہے. دہشتگردی , مہنگائی , لوڈشیڈنگ اور بےروزگاری جیسے عفریت اب جلد ہی واپس بوتل میں قید کردئیے جائیں گے. مسلم لیگ کی پہلے سال کی کارکردگی یقینا حوصلہ افزا رھی. اس دوران جن منصوبوں پر کام شروع ہوچکا ہے اور مذید جو منصوبے ابھی پائپ لائن میں ہیں ان کے ثمرات اگلے تین سے چار سالوں میں عوام تک منتقل ہونا شروع ہوجائیں گے. پہلی مرتبہ تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ وفاقی حکومت کے تعلقات نہایت خوشگوار ہیں. اور ترقی کے اس سفر میں سب جمہوری قوتیں متفق و متحد نظر آتی ہیں

سب کچھ صحیح چل رہا تھامگر اچانک معاملات نے پراسرار رخ اختیار کر لیا ہے. پہلے آرمی چیف کا آرمی کے وقار سے متعلق بیان چلا تو لگا جیسے کہیں کچھ ہوا ہے جو محترم آرمی چیف کو آرمی کے وقارسے متعلق بیان دینا پڑا.... پھر کچھ دنوں میں ہی وزراء کی نئی پرانی تقاریر کا ملغوبہ سوشل میڈیا پر داغ دیا گیا. اس کے بعد ان تقاریر کی وڈیوز کو ٹی وی پر لا کر عسکری اور جمہوری قوتوں میں فاصلے پیدا کرنے کی مزموم کوشش کی گئی. ابھی اس سب سے میاں نوازشریف بنرد آزما ہورہے تھے کہ اچانک حامد میر پر حملہ کا واقع سامنے آگیا. اور اس واقع کے اگلے ہی دن جیو سب کے نشانے پر آگیا. جیو ان چینلز میں صف اول میں ہے جو جمہوری اقدار کے لئے آواز بلند کرتے رہے ہیں اور اس پاداش میں کئے طرح کے نتائج بھی بھگت چکا ہے. ہوں لگتا ہے جیسے  اس کا جمہوری حکومت کے کئی اقدامات پر سراہنا اور حکومت کے نظریات سے متفق ہونا اس کے لئے مہنگا پڑنے جا رہا ہے. مجھے لگتا ہے کہ یہ سب واقعات کی کسی لمبی سیریل کا آغاز ہے. ملک اور جمہوریت دشمنوں نے ایک بار پھر سے اپنے پنجے گاڑھنا شروع کر دیئے ہیں. اور مجھے 1999 کا وہ دن یاد آ رھا ہے جب میں نے میاں نوازشریف کی حکومت کے خاتمہ کی خبرسنی . اس دن کا دکھ میرے دل و دماغ میں ابھی تک تازہ ہے. اس دن مجھے لگا جیسے میری اپنی حکومت کو قبضہ گروپ نے چھین لیا ہے. اس دن میں ایک ویران سڑک پر آنسو بہاتا ہوا دور تک نکل گیا تھا. میرے ذہن میں صرف ایک ہی سوال گونج رہا تھا کہ آخر میرے ووٹ کی باربار تحقیر کیوں کی جاتی ہے. میں جتنا اس بارے میں سوچتا تھا اتنا ہی زیادہ میری آنکھوں کے سامنے کا منظر دھندلا ہوتا جاتا تھا.

امیدوں کا جو ایک آشیانہ ہم نے ووٹوں کی بنیاد پر کھڑا کیا ہے مجھے آج پھر اس کی مخدوش حالت کا احساس ہونے لگا ہے. ایک بار پھر میرے ذہن میں سوالات پیدا ہونے لگے ہیں کہ کیا میرے ووٹ کی دوبارہ تذلیل کی جائے گی. کیا میری اور میرے بچوں کی قسمت میں خوابوں کو چکناچور ہوتے دیکھنا ہے. اپنے اپنے اداروں کی توقیر کی تو ہر کوئی بات کرتا ہے مگر کیوں کوئی میرے ووٹ کی حرمت کا خیال نہیں کرتا.  کیا مجھے ایک بار پھر ویران سڑک پر اپنا دکھ آنسوؤں کی نظر کرنا ہوگا.