Showing posts with label Politics. Show all posts
Showing posts with label Politics. Show all posts

Monday, March 18, 2024

ترقی کا سفر اور بونی قوم

 انسان کا ذہن بھی عجیب الخلقت شے ہے۔ آپ جس نظریہ کو اپناتے ہیں اس کیلئے دنیا جہاں کے دلائل اکٹھے کر لیتے ہیں۔ ذہن آپ کو ویسی ہی دنیا دکھاتا ہے جیسی آپ دیکھنا چاہتے ہیں۔ سوچ بدل جائے تو اردگرد کے حالات بھی بدلتے نظر آتے ہیں۔


پاکستان میں غلامانہ سوچ کی ترویج زیادہ کی جاتی ہے۔ ہمیں آج بھی یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ ہم آزاد قوم نہیں بلکہ غلام ابن غلام ہیں۔ ہم نے پاکستان بننے سے آج تک کچھ حاصل نہیں کیا۔ ہمارا نظام خراب ہے ہمارے سیاستدان کرپٹ ہیں۔ 


یہ سبق ایک خاص سوچ کا عکاس ہے جس میں سب برا ہی نظر آتا یے۔ ہر طرف اندھیرے اور ظلمت کا راج ہے۔ قوم کی کسمپرسی کا زمہ دار حکمرانوں کو قرار دیا جاتا ہے۔ مگر یہاں کوئی نہیں سوچتا کہ جو قومیں ترقی کر گئی ہیں ان کے پیچھے صدیوں کی لمبی تاریک راہیں ہیں جن سے گزر کر وہ قومیں آج درخشاں حال اور روشن مستقبل کی مالک بن گئی ہیں۔ ان کے اس سفر میں حکومتوں کی کتنا ہاتھ ہے اور عوام کی اجتماعی سوچ کا کتنا عمل دخل ہے یہ تحقیق طلب معاملہ ہے۔ مگر ایک بات پکی ہے کہ وہاں بھی ترقی کا سفر آسان مرحلہ نہیں تھا۔ حکومتیں وہاں ہماری آج کی حکومتوں سے بہتر تو بلکل بھی نہیں تھیں۔ وہاں بھی ایلیٹ کلاس ہی حکمران رہی اور وہ بھی اپنے مفادات میں فیصلے صادر فرماتے تھے۔ ان کی جنگیں عوام کے مفاد میں نہیں بلکہ اپنی حکمرانی قائم کرنے کیلئے ہوتی تھیں جن میں لاکھوں لوگ مروا دئیے جاتے تھے وہاں عورتوں کو چڑیل بنا کر جلا دیا جاتا تھا وہاں کالے رنگ والوں کو غلام بنا کر رکھا جاتا تھا۔۔۔ یہ سب حکومتوں کی سرپرستی میں ہوتا تھا۔


مگر وہاں ایک عوام میں علم کی شمع جلتی رہی وہاں تعلیم کو عوام میں پزیرائی حاصل رہی وہاں دانشور طبقہ بکاؤ مال نہیں بنا وہاں مرد پیدا ہوتے رہے جو حکومتوں سے بھیک مانگنے کی بجائے خود کچھ کر گزرنے کے خواب دیکھا کرتے تبھی تو وہاں سائنس پروان چڑھی۔ وہاں گلیلیو نے حکومت کا شکوہ نہیں کیا بلکہ حکومت کے غیض و غضب کا نشانہ بنے مگر علم کا رستہ نہیں چھوڑا ۔۔۔ وہاں فورڈ کو کسی حکمران کے سپانسر نہیں کیا بلکہ مسٹر فورڈ نے خود ایک خواب دیکھا ۔۔۔۔ اور لوگوں کی مخالفت کے باوجود سچ کردکھایا۔۔۔۔ 


ہمارے یہاں مرد پیدا نہیں ہوئے زیادہ تر ہیجڑے پیدا ہوئے جو کبھی نظام کا گلا کرتے ہیں کبھی سیاستدانوں کا ۔۔۔ وہ خود کچھ کرنے کے قابل نہیں تو کسی پر تو غصہ نکالنا ہے تو کیوں نہ سیاست دانوں پر گالی نکال کر کر لیں۔۔۔۔۔۔


اگر ٹھیک سے پیارے وطن کی تاریخ مرتب کی جائے اور اسے سمجھ کر پڑھا جائے تو نظر آئے گا کہ ہمارا آج وجود قائم رکھ پانا بھی ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔ ہم جس طرح کے حالات سے گزر کر آئے ہیں وہ غیر معمولی تھے ہمیں آج بھی دشمنوں نے گھیر رکھا ہے۔ ہمارے بارڈر پر طرف سے غیر محفوظ ہیں مگر آج بھی دنیا کی بہت سی قوموں سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔۔۔۔ 


ہم نے بہت سست روی سے ترقی کی ہے۔ ہم دنیا میں ایمرجنگ ایکانومی بن کر ابھر چکے ہیں۔ دنیا کی بیس بڑی معیشتوں میں ہمارا نام لکھا جانا مقدر بن چکا تھا مگر پھر ہم اپنے مخصوص حالات اور اندرونی کمزوریوں کی وجہ سے پیچھے کے سفر پر چل نکلے ۔۔۔۔ 


آج حالات خراب ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ ہم کل کی جنگ لڑنے کیلئے آج زندہ ہیں۔۔۔۔۔ 


ترقی اور خوشحالی کوئی کم قیمت شے نہیں جو معمولی لوگوں کو مل پائے یہ تو آگ میں کندن ہوجانے والی قوموں کا مقدر بنتی ہے۔  یہاں ترقی کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں جہدوجہد نہیں کرنا ہم نے نہیں بدلنا۔ ہم نے لائسنس نہیں بنوانے ہم نے ہلمٹ نہج۔ پہننا ہم نے دو نمبریاں نہیں چھوڑنا بلکہ یہ سب قائم رکھتے ہوئے حکومت قوم کو ترقی دلوائے۔۔۔


جس قوم میں بونے پیدا ہوتے ہیں وہاں بلندی کا معیار بھی نچلے درجے پر جا پہنچتا ہے۔۔۔۔

Friday, September 27, 2019

یو این تقریر، دہشتگردی، اسلام اور ٹیکس


میں عمران کا شدید ناقد ہوں اور اس کے غلط کاموں پر تنقید کرتا رہونگا۔ جہاں تک آج کی یو این کی تقریر ہے میں اسے د سے سراہتا ہوں۔ آج اس نے وہ سب باتیں کیں جو قوم واقعی سننا چاہتی تھی۔ اس سپیچ کو یقینا ساری دنیا میں اور خاص طور پر مسلم امہ میں سراہا جائے گا۔

آج کا دن یقینا مودی اور ٹرمپ پر بہت بھاری اور مشکل رہا ہوگا۔ عمران کی سپیچ کے بعد ان کے پیٹ میں ضرور مروڑ اٹھ رہے ہونگے اور وہ چاہیں گے کہ کچھ نیا تماشہ کھڑا کر کے دنیا میں پا کستان کے معقف کو کمزور کیا جائے۔ مگر ان تمام بکواس کا وقت گرز گیا۔ عمران نے جس انداز سے ان کے بیانیے کا آپریشن کیا اس کے بعد اسلام کے بارے میں دنیا کو جس غلط فہمی سے جان بوجھ کر دوچار کیا جارہا تھا اس کا یقینا بہت اچھے سے تدارک ہوگیا ہے۔ اب اسلام دشمن قوتیں ایک نئے انداز سے حملہ آور ہونے کا پلان کریں گی کیونکہ ان کا پرانا منصوبہ تو عمران نے چوپٹ کردیا۔ کچھ لوگ کہیں گے کہ تقریروں سے کون سا مسئلہ حل ہوا تقریر اچھی ہے تو کیا ہوا مگر مسئلے تو وہیں کے وہیں کھڑے ہیں مگر میں ان دوستوں کو عرض کرتا چلوں کہ انسانوں کے درمیان تعلقات میں پرسیپشن یا کسی کے بارے میں تصور کا بہت اہم عمل دخل ہوتا ہے۔۔۔۔ اگر کوئی کسی کے بارے میں مسلسل پراپیگنڈا کرتا رہے کہ یہ شخص چور ہے۔۔۔۔ ہر بات پر اسے چور ثابت کرنے کی کوشش کی جائے تو آہستہ آہستہ لوگوں کے ذہن میں اس کا وہ تصور پختہ ہونے لگتا ہے اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ بغیر کسی ثبوت کے انھیں ایمان کی حد تک یقین ہوجاتا ہے کہ یہ چور ہی ہے اور ہمارے محلے میں جو بھی چوریاں ہو رہی ہیں وہ اسی کی وجہ سے ہیں۔۔۔۔ ایسا ہی پرسیپشن انڈیا اور امریکہ اسلام کے بارے میں پھیلا رہے تھے۔ ان کی ہر تقریر اور تقریب میں اسلام کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ دھشتگردی اور اسلام دونوں کو ایک ہی سکے کے دو رخ ثابت کئے جارہے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو دھشتگردی کا مرکز بھی کہا جا رہا تھا۔۔۔۔ اگر یہ پرسیپشن بنانے کے عمل کو طاقتور انداز سے رد نہ کیا جاتا تو کل کو اگر امریکہ اور انڈیا ملک کر پاکسان پر حملے کی سازش کرتے اور ریڈیکل اسلام اور دھشتگردی کا کوڈ ورڈ استعمال کر کے سب مہذب دنیا کو ہیپناٹائیز کر دیا جاتا۔۔۔۔ عمران کی یہ تقریر بہت بروقت اور موزوں ہے امید ہے کل کا دن دشمنوں پر بہت بھاری گزرا ہوگا۔

آگے جو بھی ہوگا دیکھا جائے گا مگر آج جو عمران نے ان کے ساتھ کردیا ہے اسکا جواب نہیں۔ بڑے کہتے پھر رہے تھے ریڈیکل اسلام شدت پسند مسلمان ۔۔۔۔ اور جانے کیا کیا۔۔۔۔۔ لگتا اب ان کو جہاں جہاں مرچیں لگی ہونگی اس پر تو وہ کسی کو مرہم لگانے کا بھی کہہ نہیں پائیں گے۔ ویل ڈن عمران۔۔۔۔۔ دشمن پر آج بغیر لڑے بم پھاڑنے کا اور ان کے جھوٹ سے ہوا نکالنے کا شکریہ۔ 

آپ نے بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پاکستان اور اسلام کا بہت اچھے سے مقدمہ پیش کیا آپ نے پاکستانیوں کے دل جیت لئے بس ایک گزارش ہے کہ اپنی قوم سے لڑنا چھوڑ دو ۔۔۔۔ منی لانڈرنگ کی بات کرتے ہوئے آپ نے ٹیکس کی اصل وجہ اور اس کا استعمال بھی سمجھایا۔ آپ نے کہا کہ امیروں پر ٹیکس لگانا چاہیے اور ان سے ٹیکس لے کر غریبوں پر استعمال کرنا چاہیے۔ آپ نے بلکل درست فرمایا۔ آج کی سوشل جمہوریتوں میں ایسا ہی رواج ہے وہاں امیروں پر ٹیکس لگایا جاتا ہے اور غریبوں پر استعمال کیا جاتا ہے انھیں بےروزگاری کی صورت میں گزارہ الاؤنس دیا جاتا ہے ان کے بچوں کی مفت تعلیم کا انتظام کیا جاتا ہے اور ان کو دنیا کی بہترین صحت کو سہولیات مفت مہیا کی جاتی ہیں۔ نارڈک ممالک اس ماڈل کی بہترین مثال ہیں۔ جہاں کے معاشی ماہرین نے ایسا ہی نظام ترتیب دیا ہے جو امیر سے لے کر غریب پر خرچ کرتا ہے۔ 

مگر جناب پراٰئم منسٹر صاحب آپ کے زیر انتظام ملک پاکستان میں الٹا پہیہ چلایا جا رہا ہے۔ یہاں آپ کی معاشی ٹیم کے ارسطو غریب پر ٹیکس پہ ٹیکس لگاتے جا رہے ہیں۔ انتے ٹیکس لگائے گئے ہیں کہ بے چاری مڈل کلاس جس نے آپ کو سب سے زیادہ ووٹ دیا وہی دو ہتھڑ مار کر رو رہی ہے۔ ان کی تنخواہیں تو وہیں کی وہیں ہیں مگر مہنگائی کئی سو گنا بڑھ گئی ہے۔ مڈل کلاس غربت کے دہانے پر آکھڑی ہوئی ہے اور غریب تو مرنے مارنے کی حد کو چھو رہا ہے۔ خدا کے لئے ادھر بھی توجہ کیجئے وہی اصول جو یو این میں آپ یورپ کو پڑھا کر آئے ہیں وہ یہاں اپنی معاشی ٹیم کر بھی سمجھائیں۔ وہ تو غریب سے پیسے اکٹھے کر کے امیروں پر خرچ کررہے ہیں۔ کہیں تو آرڈیننس لا کر بڑے بڑے مگرمچھوں کو عوام کا پیسہ معاف کرنے کی سکیم لائی جاتی ہے کہیں انھیں اربوں کی سبسڈی دے کر عوام کے خون پسینے کا پیسہ لٹایا جا رہا ہے جبکہ عوام کو ہر طرح کی سہولتیں اور عوامی سبسڈیاں ختم کردی گئی ہیں۔۔۔۔۔ 

براہ کرم رحم کیجئے اس قوم پر جو اسی خدا اور رسول کو ماننے والی ہے جس کے وکیل بن کر دنیا میں آپ نے دشمن کو للکارہ ہے یہ غریب آپ کی توجہ کے منتظر ہیں۔ اپنے ارب پتی دوستوں کے دائرے سے نکل کر کبھی غریب کے قریب ہونے کی کوشش کریں کبھی اس کے مسائل پر توجہ دیں اس کی زندگی میں جھانکیں اور دیکھیں کہ غریب کیسے بے سروسامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔۔۔

شرم کی بات

عمران کا کمال یہ ہے کہ اس نے ایک ایسی قوم پیدا کردی ہے جس کی لاجک ساری دنیا سے نرالی ہے۔ اس کی سمجھ عمران کے بیان سے شروع ہو کر اس کے یوٹرن آنے تک جاتی ہے اور پھر وہ بھی یوٹرن کا شکار ہو کر بے شرمی سے نئے معقف پر ڈٹ جاتی ہے۔۔۔۔ یہ قوم ہے یوتھیا قوم۔ اس بات پر میں پہلے بھی کافی قائل تھا کہ یوتھیا کم تجربہ اور کم عقلی کی شاندار مثال ہیں مگر آج کل سوشل میڈیا پر عمران کے ثثوؤں نے ایک نیا یوٹرن لے رکھا ہے۔۔۔۔ عمران باہر کشمیر کا سفیر بن کر گیا اور اس نے کشمیر پر وہاں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے مذہب کا نام استعمال کرنا شروع کردیا اور لوگوں کو اسلامیات کا درس دینے لگا۔ کشمیر پر پہلے دعوہ کیا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بھارت کے خلاف ایک قرار داد پیش کرنا تھی جس کے لئے انھیں صرف سولہ ممبران کی ہمایت درکار تھی۔ شاہ محمود نے دعوہ ٹھوک دیا کہ ہمیں پچاس ارکان کی ہمایت حاصل ہے۔ جس پر انڈیا نے اس دعوے کی تردید کردی تو اگلے دن عمران نے اس سے بھی بڑی بڑھک مار دی کہا کہ ہمیں اٹھاون ممبران کی ہمایت حاصل ہے اور مزے کی بات یہ کہ عمران نے ان خیالی ممالک کا شکریہ بھی ادا کردیا۔۔۔۔۔ 

مگر پھر کیا ہوا کہ اتنی بڑی تعداد میں ارکان کی ہمایت کے باوجود اس مجاہد اسلام کو بھارت کے خلاف قرار داد جمع کروانے کی جرات نہ ہوسکی۔۔۔۔ کس نے اسے دھمکایا ۔۔۔ کس نے اسے قرار داد جمع کروانے سے روکا یہ ایک راز ہے جو مجاہد اسلام عمران خان ہی بتا سکتا ہے۔ قراد داد سے فرار اس کا ایک اور انٹرنیشنل یوٹرن ہے جسے وہ قوم کو یوتھیا قوم کو پہلے ہی مفید ثابت کر چکا ہے۔ اس یوٹرن سے دنیا میں پاکستان کی قیادت اور اس کے کردار کے بارے میں کیا رائے قائم کی گئی ہوگی اس کا تصور آپ خود اپنی چشم تصور سے کرسکتے ہیں۔ جب اس ہینڈسم وزیراعظم میں ہمت نہ ہوسکی قرارداد جمع کروانے کو تو اس نے ہوائی فائرنگ کا فیصلہ کیا تاکہ قوم یوتھیا کو کچھ مورال سپورٹ ہوسکے اور وہ پاکستان میں مذہب کے نام پر دوسروں کو متاثر کرسکیں۔۔۔۔ مگر آج پاکستان میں شاید دس فیصد لوگ ہی بچے ہونگے جو عمران کی اسلامیات پر یقین رکھتے ہونگے۔۔۔۔۔ اس شخص نے اسلامی لبادہ اڈھا ہی دھرنا سازش کے بعد اس سے پہلے اس شخص نے ساری عمر بیرون ملک گزار دی ملک کبھی حج عمرہ وغیرہ کو توفیق نہ ہوسکی۔۔۔۔۔ اور پھر دوسروں کے پیسوں سے اب کئی بار عمرہ کرنے جا چکا ہے۔۔۔۔ آج اسلام کا علم بلند کرنے کا ڈرامہ بھی اس نے اپنی کشمیر پالیسی پر مسلسل ناکامیاں چھپانے کے لئے کیا۔۔۔۔ اگر یہ بھی نہ کرتا تو پھر واپس آ کر کیا ڈرامہ کرتا۔۔۔۔ اب سب کشمیر کو بھول کر اسلام کی بات کرنے لگے ہیں ۔۔۔۔ یوتھیا کہتے نظر آ رہے ہیں کہ عمران تو اسلام کا سفیر بن گیا ہے۔۔۔۔ کشمیر تو چھوٹی بات ہے اسلام کی بات بڑی بات ہے لہذا کشمیر ایشو کو فی الحال بھول جاؤ اسلام کو یاد رکھو۔۔۔۔۔۔۔

ان بے شرموں سے تو اردگان اچھا ہے اس نے ایک ہی وقت میں اسلام، فلسطین اور کشمیر سب کا کیس لڑا اور بڑے واضع الفاظ میں اسرائیل اور بھارت کی مذمت کی۔۔۔۔ اس نے مہذب دنیا کو بھی خوب کھری کھری سنائیں اور بتایا کہ یہ سب کی ذمہ داری ہے کہ ان مسائل کا پرامن حل تلاش کیا جائے۔۔۔۔۔۔ اردگان نے نہ ہمایت کا دعوہ کیا نہ بڑی بڑی بڑھکیں لگائیں مگر صاف حقائق بیان کردیے۔۔۔۔۔ ہمارا وزیر اعظم اٹھاون کی ہمایت کے باوجود انڈیا کے خلاف قرار داد جمع نہ کروا سکا۔۔۔۔ شرم کی بات ہے

Wednesday, February 20, 2019

فاشزم کیا ہے؟

لینن کا خیال تھا کہ دنیا نیشنلزم کے بغیر جنت بن جائے گی۔ مگر درحقیقت نیشنلزم کے بغیر دنیا قبائلی بد انتظامی کا نقشہ پیش کرے گی۔ آج دنیا میں جو ملک سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور خوشحال ہیں ان میں قومی شناخت سب سے زیادہ مضبوط ہے جیسا کہ سویڈن، سویٹزر لینڈ اور جاپان وغیرہ جبکہ دوسری طرف ایسے ملک ہیں جہاں مضبوط قومی شناخت کی کمی ہے جیسا کہ کانگو، صومالیہ اور افغانستان وغیرہ تو یہ ملک غریب ہیں اور یہاں تشدد کا استعمال بھی باقی ملکوں سے زیادہ ہے۔ نیشنلزم مجھے بتاتی ہے کہ میں ایک خاص گروہ کا حصہ ہوں اور اس گروہ کی طرف میری کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ نیشنلزم کا مثبت استعمال تو ترقی اور فلاح کا باعث بنتا ہے مگراس کا غلط استعمال اور نیشنلزم میں غرور اور تشدد کا عنصر اسے فاشزم میں داخل کردیتا ہے۔ فاشزم مجھے یہ سمجھانے کی کوشش کرتی ہے کہ میں ایک سپریم قوم کا حصہ ہوں اور میری قوم کیلئے میرے اوپر بہت سی ذمہ داریاں ہیں اور مجھے کسی دوسرے کی بات سننے کی ضرورت نہیں۔ 

عام طور پر لوگوں کی مختلف گروہوں کے لئے اپنی شناخت اور وفاداریاں ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر میں اپنے ملک کا محب وطن شہری ہوں مگر ساتھ ہی میں اپنی فیملی سے بھی محبت کرتا ہوں اور اپنے ہمسائے میں رہنے والوں سے بھی پیار کرتا ہوں اور اجتماعی طور پر مجھے انسانیت سے بھی لگاو ہے۔ میں اپنی ان تمام محبتوں اور وفاداریوں میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہوں مگر کبھی کبھار یہ بہت پیچیدہ امر بن جاتا ہے۔ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے مگر پھر زندگی میں ایسی بہت سے لمحات آتے ہیں جہاں ہمیں ایسے مشکل فیصلے لینے ہوتے ہیں جینا اسی کا نام ہے۔ فاشزم اس قسم کے فیصلوں کو بہت آسان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ فاشزم تمام رشتوں کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ وہ صرف نیشنلزم کو مانتا ہے۔ فاشزم میں قومی مفاد ہی سب کا مفاد ہوتا ہے۔ اگر قومی مفاد میں فیملی کی قربانی دینا ضروری ہے تو میں اپنی فیملی قربان کردوں گا۔ اگرقوم کے مفاد میں ہے کہ میں لاکھوں لوگوں کو ماردوں تو میں لاکھوں لوگوں کو مار دوں گا۔ اگر جھوٹ کو سچ ثابت کرنا قومی مفاد میں ہے تو جھوٹ کو سچ مانوں گا۔ فاشزم میں خبر، موویز، شاعری، ادب، آرٹ اور خوبصورتی سب کچھ قومی مفاد کے تحت جانچا جاتا ہے۔ بچوں کو سکول میں تعلیم کس قسم کی مہیا کرنی ہےاس کا جواب بھی بہت سادہ ہے قومی مفاد۔ جی ہاں جو کچھ قومی مفاد میں ہوتا ہے وہی کچھ ہمیں قبول کرنا پڑتا ہے۔ یاد رہے کہ سچ کی قومی مفاد کے سامنے کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ قومی مفاد کی ایک ہولناک تصویر ہم دوسری عالمی جنگ میں جرمنی میں دیکھ چکے ہیں۔

جب ہم فاشزم کی برائیوں کی بات کررہے ہوتے ہیں تو عام طور پر ہم یہ بتانے سے قاصر رہتے ہیں کہ آخر فاشزم میں ایسا کیا ہے جو لوگوں کا دل موہ لیتا ہے۔ اکثر کہانیوں اور فلموں میں فاشسٹ لوگوں کے کردار میں بدصورت، کمینہ صفت اور ظالم شخصیات کو دیکھایا جاتا ہے جو اپنے حامیوں پر بھی ظلم کرتے نظر آتے ہیں مگر حقیقی زندگی میں ایسے لوگ بہت مختلف ہوسکتے ہیں۔ دراصل یہ لوگ بہت خوبصورت، بہادر اور اپنے لوگوں پر بہت مہربان نظر آتے ہیں۔ فاشزم تو بہت خوبصورت لبادے میں ملبوس ہوتی ہے۔ ہم نیشنلزم کو پروان چڑھا رہے ہوتے ہیں۔ فاشزم کو ہم برا سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ ہم تو بس محب وطن شہری بننے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں۔ اپنی قوم سے محبت کرتے ہیں۔ ہم جو محسوس کررہے ہوتے ہیں اور جو کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں وہی سچ ہوتا ہے۔ دوسروں کا سچ جھوٹ ہوتا ہے۔

یاد رکھیں آپ اپنے آپ کو اپنی قوم کو جب ضرورت سے زیادہ بہادر، سب سے زیادہ بہتر اور اعلی قوم تصور کرنے لگیں اور دوسرے آپ کے مخالف کھڑے ہوں تو آپ کو اپنے نظریات میں ترمیم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔


نوٹ ۔ مندرجہ بالا  گزارشات جدید دور کے مشہور تاریخ دان یوویل نوہا ہرارے کے ٹیڈ کے پلیٹ فارم پر دئیے گئے ایک لیکچر کا خلاصہ ہیں۔



Thursday, February 7, 2019

ایک نئے نظریے کی ضرورت

ٹراٹسکی کا ایک مقولہ ایک جگہ لکھا دیکھا جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ کتاب پرست سمجھتے ہیں کہ جدلیات کوئی ذہن کا فضول کھیل ہے لیکن درحقیقت یہ ارتقاء کے اس عمل کو ہی نقل کرتے ہیں جو تضادات کے ذریعے آگے بڑھتا ہے۔

جدلیاتی سائنس
کاش ایسا ہی ہوتا کہ یہ ارتقاء کے عمل کو ہی نقل کرتے مگر ایسا نہیں ہے۔ درحقیقت یہ مخصوص نظریات کی ترویج کیلئے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ جدلیات اگر سائنس ہے تو پھر اس کے مطابق تو دو مخالف نظریات کے تضادات سے ایک نیا نظریہ پیدا ہوتا ہے اور پھر اس کے مخالف ایک نظریہ پیدا ہوتا ہے اور پھر ان دونوں کے ملاپ سے ایک اور نظریہ جنم لیتا ہے۔ ارتقاء کے نظریہ کے مطابق یہ بات درست لگتی ہے۔ جدلیات کی رو سے سرمایہ داری کی مخالفت میں سوشلزم یا کیمونزم پیدا ہوا۔ پھر ان کے ملاپ سے اگر سوشل ڈیموکریسی پیدا ہوئی ہے اور وہ آج کے حالات کے مطابق سب سے کامیاب نظام ہے تو اس کو بھی قبول کرنا چاہیے نا؟ ارتقاء کے مراحل میں اگر کیمونزم کہیں موجود ہوا تو حاصل ہوجائے گا۔ وقت سے پہلے اس کو میوٹیشن کے ذریعے سے حاصل کرنے کی کوشش روس، چین اور دیگر ملکوں میں ناکام ہوچکی ہے۔ جدلیات کے نظریہ کی رو سے جدلیاتی کشمکش میں نئے نظریات جنم لیتے رہیں گے اور کوئی بھی ایک نظریہ مستقل شکل اختیار نہیں کرسکتا تو پھر مزدوروں کو حقیقت کی تعلیم دینے کی بجائے کامریڈ حضرات انقلاب کا خواب کیوں دیکھاتے رہتے ہیں؟ کیوں ایک مخصوص نظریہ کو ہی راہ نجات تصور کرتے ہیں؟

انقلابی تعویلات
آج تاریخ کے دھارے کو بلا کسی تعصب کے بخور مطالعہ کریں تو نظر آئے گا کہ سوشلزم اور سرمایہ داری دونوں نظریات کو عملی آزمائش میں ڈالا گیا۔ سرمایہ داری اپنے سائنس کے ساتھ الحاق کی وجہ سے ناکامی سے ہمیشہ بچ نکلتی ہے جبکہ سوشلزم ایک مفقود سوچ اور اندھی تقلید کی وجہ سے ناکام ہوگیا۔ اس کے ماننے والوں نے وقت کی ضروریات کے مطابق اپنے نظام میں تبدیلیوں کی بجائے اپنے مفتوحہ علاقے پر زور ذبردستی سے ایک نظام نافذ کرنے کی کوشش کی جس میں بے شمار تبدیلیوں اور بہتریوں کی اشد ضرورت تھی۔ اس شدت پسندی کا نتیجہ یہ ہوا کہ لاکھوں لوگوں کی جانیں بھی گئیں اور سترسال کی محنت بھی بےکار گئی۔ اب انقلابی لوگ اس ناکامی کی بے شمار تعویلات دیتے نظر آتے ہیں مگر جب تک روس کا معاشرہ بند تھا اور وہاں سے یکطرفہ اطلاعات آتی تھیں تب تک یہی روس جنت کا ٹکڑا تھا۔ آج لیفٹ کے دانشور ہمیں یہ سمجھانے میں لگے ہیں کہ انقلاب جو لاکھوں مزدوروں کی قربانیوں کے نتیجہ میں برپا ہوا تھا وہ ایک سٹالن اور چند ایک افسروں کی نالائقی کی وجہ سے ختم ہوگیا۔۔۔۔۔ اور مزدوروں کی حکومت کا خواب شرمندہ تعمیر نہیں ہوسکا۔ اس طرح کی مثالیں دے کر یہ حضرات دراصل مارکسز کی ایک ایسی خامی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ نظام عملی طور پر کبھی بھی کامیابی سے نافذ نہیں ہوسکتا۔ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ لینن تو مخلص انقلابی تھا مگر سٹالن غدار تھا اور وہ افسر شاہی سے مل کر انقلاب کو ناکام کرنے کا باعث تھا تو اس سارے عمل میں مزدور کہاں گئے؟ وہ مزدور جن کی حاکمیت کے لئے یہ سب خون آشام انقلاب آیا تھا وہ کسان جس کو قحط سے آزاد کرنے کا وعدہ تھا وہ سب عوام کہاں گئے جنھوں نے زار جیسے ظالم بادشاہ کو شکست دی تھی؟ لال خان کا کہنا ہے کہ وہ تھک چکے تھے اس لئے وہ دوبارہ متحرک نہیں ہوئے اور رد انقلاب کا نظریہ کامیاب ہوگیا۔۔۔۔ کیا ایسا ہوتا ہے انقلاب؟ کیا واقعی مزدور تھک گیا تھا یا ٹراٹسکی کی طرح جس نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اسے مارڈالا۔  کہیں ایسا تو نہیں کہ اس انقلاب نے ایک آمریت سے دوسری آمریت تک کے سفر میں لاکھوں غریبوں کو ظالمانہ طریقوں سے جان بحق کرکے غربت میں کمی کا وعدہ پورا کیا؟

مقلد سوچ
نظریات کے قیدی کبھی حقیقی تجزیہ نہیں کرپاتے۔ ان کا ہر تجزیہ چاہے وہ پہلا تجزیہ ہو یا آخری وہ ایک مخصوص نتیجہ
 نکالنے کی سعی ہوتا ہے وہ اس کو سچ ثابت کرنے کی کوشش میں بہت سے حقائق کو چھپانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اسی لئے جب روسی انقلاب کی ناکامی روز روشن کی طرح واضع ہوگئی تو انقلاب کے سرکردہ رہنماوں کو انقلاب کا دشمن بنا دیا گیا۔ سٹالن نے جو کچھ کیا وہ اس انقلاب کو بچانے کا وہی طریقہ تھا جس کو لینن نے اختیار کررکھا تھا مگر ہم سٹالن کو نشانے پر لا کر اپنے انقلاب کی اخلاقی اور قانونی حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ خونریزی کا جو طوفان سٹالن نے اٹھایا اس کا آغاز لینن کے دور سے شروع ہوا۔ دوسری طرف معیشت کی بحالی کا جو سہرا انقلابی لیتے ہیں وہ اس کا آغاز زار حکومت میں شروع ہوچکا تھا۔ انڈسٹری انقلابی بنیادوں پر استوار کرنے کی شروعات زار نے کردی تھی مگر شاید اس نے بہت دیر کردی اور مارکسی انقلابی آمریت نے اس کا تختہ الٹ دیا۔ مگر پھر روس کے لوگوں کے ساتھ اگلے چند سالوں تک جو ہوا اس کی داستانیں سن کر بھی انسان کی انسانیت سے ایمان اٹھ جاتا ہے۔ آج بھی ہماری یہاں متشدد مارکسی انقلابی اسی قسم کے انقلاب کی باتیں کرتے نہیں جھجھکتے۔ لال خان اپنی کتاب بین الاقوامی صورتحال اور اکیسویں صدی کا سوشلزم میں روس کے انقلاب کی خامیوں کا دفع کرنے کے بعد فرماتے ہیں

انتخابی جدوجہد، بے شک یہ بہت اہم ہے، لیکن اقتدار کے مرکزی سوال کو حل نہیں کرسکتی۔ یہ انقلاب کرنے کےلئے سازگار حالات تو پیدا کرسکتی ہے۔ لیکن آخری تجزیہ میں اقتدار کےلئے جدوجہد تقریروں اور پارلیمنٹ میں قراردادیں پیش کرنے سے انجام تک نہیں پہنچ سکتی۔ اشرافیہ ایک خوفناک لڑائی کے بغیر اپنی طاقت اور مراعات سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہوگی۔ اس حقیقت سے آنکھیں چرانے کا مطلب انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور انقلاب کے خلاف ایک بہت بڑا جرم ہوگا۔۔۔۔۔۔

اس قسم کے انقلابی کسی بھی قسم کے اصلاحی اقدامات کے سخت مخالف ہوتے ہیں۔ ان کی نظر میں تبدیلی صرف اور صرف خونی انقلاب سے ہی آتی ہے۔ ان کی نظر میں مارکسی نظریات کو نافذ کرنے کےلئے خوفناک جنگ لڑنا لازم ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو سراسر غیر سائنسی اور غیر عقلی ہے۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا میں ہر تبدیلی بتدریج ہوتی ہے۔ ارتقاء کے نظریہ میں انقلابی تبدیلیاں بھی بہت سے تدریجی مراحل سے گزرنے کے بعد وقوع پزیر ہوتی ہیں۔ ہمارے ترقی پسند اپنے آپ کو سائنسی سوچ کے حامل بھی مانتے ہیں اور سائنس کے بنیادی اصولوں کو بھی ماننے سے انکاری ہوجاتے ہیں۔ سوشلزم کی خوبیوں کو دیکھتے ہوئے جب سرمایہ دارانہ معاشروں نے اس کی خوبیوں کو سرمایہ داری کے ساتھ ملا کر معاشروں کو بہتری کی طرف چلایا تو انھیں بہت سے کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ میرے دوست ذرہ تکلیف کریں اور نورڈک ممالک میں نافذ سوشل ڈیموکریسی کی کامیابیوں کی تاریخ پڑھیں۔ یہ ممالک آج بھی دنیا کے ہر معیار کے مطابق سب سے خوشحال اور کامیاب ممالک ہیں۔ گورباچوف روس میں اسی نظام کو نافذ کرنے کا خواہش مند تھا مگر اسے موقع نہ ملا ۔۔۔۔ آج چین کسی حد تک اس کو اپنا کر دنیا کا سب سے تیزی سے غربت کو کم کرنے والا ملک بن گیا ہے

نئے نظریہ کی ضرورت
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سوشل ڈیموکریسی بھی سرمایہ داری کی ہی تبدیل شدہ شکل ہے مگر یہ تبدیلی وقت کی ضرورت کا نتیجہ ہے۔ معذرت کے ساتھ سرمایہ داری کے علاوہ جو سوشلزم آپ تجویز کر رہے ہیں اس کا تازہ تازہ تجربہ یہ دنیا کرچکی ہے اور اس کے نتائج بھی دیکھ چکی ہے اب یہ تاویلات کہ انقلاب سے غداری کی وجہ سے ناکامی ہوئی یا ٹراٹسکی یا مارکس نے تو پیشین گوئی کی تھی ان باتوں سے اب انقلاب آنے والا نہیں۔ دنیا کی معیشت اب کسی نئے نظام کی منتظر ہے۔ اب نہ سرمایہ داری نہ کیمنزم چل پائے گا۔ روس کا انقلاب اس وقت کی ضرورت تھا۔ انقلاب آچکا تھا بعد میں لینن نے اسے ٹیک اور کیا اور کیمونزم کا تجربہ کیا مگر یہ بری طرح ناکام ہوگیا۔ ۱۹۹۱ میں بلآخر واپس سرمایہ داری کا سہارا لینا پڑا۔ چین نے تو بہت پہلے اس بات کا اندازہ لگا لیا تھا کہ کیمونزم کا نظریہ صرف خیالی جنت بنانے کے کام تو آتا ہے مگر حقیقت میں اسے کامیاب کرنا ناممکن ہے اسی لئے انھوں نے ۸۰ کی دہائی میں ہی اپنی معیشت کو سرمایہ داری کےلئے کھول دیا اسی لئے آج وہ دنیا کی سپر پاور کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں آگیا ہے۔۔۔۔۔ نہ سرمایہ داری نہ کیمونزم انسانوں کی مشکلات کا حل دے سکا۔۔۔۔ اب ہمیں ایک نیا تجربہ کرنا ہے کچھ نیا سوچنا ہے ورنہ غریب کی حالت کبھی نہ بدلے گی

Sunday, December 16, 2018

عوامی سیاست اور عام آدمی پارٹی


پاکستانی سیاست
پاکستان میں سیاسی بحران کبھی ختم نہیں ہوا۔ قیام پاکستان سے اب تک ہم سیاسی بحرانوں سے نبرآزما ہوتے آئے ہیں۔ ایک اچھے سیاسی لیڈر کی کمی ہمیشہ ہی محسوس کی گئی ہے۔لیاقت علی خان کے بعد پہلا سیاسی لیڈر جس سے عوام نے امیدیں وابستہ کی تھیں وہ بھٹو صاحب تھے مگر وہ سوشلزم کا نام استعمال کر کے پیچھے ہٹ گئے اور پھر قومیائے گئے اداروں کا جو حشر ہوا اس کا خمیازہ عوام ابھی تک بھگت رہی ہے۔ اس کے بعد کسی حد تک بینظیر بھٹو اور نواز شریف سے بھی عوام نے اپنی امیدیں وابستہ کیں مگر وہاں سے بھی چند ایک تبدیلیوں کےعلاوہ عوام کی زندگیوں میں کچھ فرق نہ آیا۔ اس کے بعد مشرف صاحب نے جمہوریت کو اچک لیا اور پھر دس سال کے بعد جمہوریت کا سلسلہ شروع ہوا۔ اب کی بار بینظیر صاحبہ شہادت پاچکی تھیں تو ان کے شوہر نامدار زرداری اور نوازشریف کی حکومتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ عوام کے پاس ایک تیسرا متبادل عمران کی صورت میں ظاہر ہورہا تھا۔ عوام ان پرانی سیاسی جماعتوں سے بےزار ہوچکے تھے اور ۲۰۱۸ میں عمران ایک متبادل قیادت کے طور پر پاپولر چوائس بن گئے۔

عمران اور ارویندر
ایک طرف عمران کی لمبی سیاسی جدوجہد ہے جس میں عوامی ایشوز پر کبھی دھیان نہ دیا اور اپنے ذاتی فین کلب کو ووٹر میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ اس کی بائیس سالہ جدوجہد میں کامیابی کی امید کبھی نظر نہ آتی اگر عمران اپنی جدوجہد کو کرپشن سے منسلک نہ کرتا۔ اس ایک ایشو کو پکڑ کر اس نے انتا زیادہ شور مچایا کہ نوجوانوں کی اکثریت اس کی ہم آواز ہوگئی۔ سب سیاسی لیڈروں کو چور کہنا شروع ہوا اور اداروں نے اس کی اس تحریک میں مدد کی اور آج اس کی پارٹی  حکمران بن چکی ہے۔ دوسری طرف ہندوستان میں عام آدمی پارٹی کا سربراہ ارویندر کیجریوال ہے جس نے چند سال کی سماجی خدمت کے بعد سیاسی پارٹی بنائی اور ایک سال سے کم عرصہ میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھ دیئے۔ ارویندر کی جدوجہد کو بغور دیکھا جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ عمران نے بھی ارویندر کو فالو کیا ہے اور اس کی کامیابیوں سے سبق سیکھا اور کرپشن پر واویلا مچا کر اپنی کامیابی کےلئے راہ ہموار کی

آج جو پارٹیاں اور جو لیڈر اپنے آپ کو متبادل کے طور پر پیش کررہے ہیں ان کو سوچنا ہوگا کہ کیا عمران کی طرح بائیس سال کی لمبی ٹرین پکڑنی ہے یا پھر ارویندر کیجریوال کی طرح عوامی پکڈنڈی پر چل کر جلد ایک عوامی لیڈر بن کر عوامی حکومت قائم کرنی ہے؟ 

مجھے اس بات کا پختہ یقین ہے کہ اگر کوئی بھی شخص عوامی مسائل کو دل سے حل کرنا چاہتا ہے تو پھر اسے عوام کے لئے آواز اٹھانا پڑے گی اور عوام کے بیچ میں اترنا پڑے گا۔ اس کے بیچ میں رہنا پڑے گا اور اس کی روزمرہ زندگیوں میں سہولتیں مہیا کرنے کےلئے ان کی جنگ میں اپنا حصہ ڈالنا پڑے گا تبھی کوئی بھی لیڈر اس موجودہ گلےسڑے نظام کو بدلنے کےلئے طاقت حاصل کرپائے گا۔ ورنہ بائیس بائیس سال کے بعد بھی اگر کسی کی نظر کرم پڑگئی تبھی کوئی لیڈر پاور میں آنے کا سوچ سکتا ہے ورنہ روزمرہ کے امور نبٹانے کےلئے عوام کی نظر میں موجودہ لیڈر تو ہیں نا۔ اگر کوئی لیڈر آج چاہتا ہے کہ وہ صحیح معنوں میں عوامی لیڈر بنے تو پھر اسے عوام کے مسائل پر نظر رکھنی ہوگی اسے عوامی نبض کو سمجھنا ہوگا۔ اس کے قریب جانا ہوگا۔ اس کے لئے بہترین کیس سٹڈی اگر کوئی بن سکتا ہے تو وہ انڈین سیاسی پارٹی عام آدمی پارٹی اور اس کے لیڈر ارویندر کیجریوال ہیں۔ ذیل میں ان کے بارے میں چند ایک گزارشات درج کرنے جارہا ہوں امید ہے یہ معلومات آپ کےلئے ابتدائیہ ثابت ہوںگی اور آپ مذید اس پر تحقیق کرکے اس پارٹی کی تیز تر کامیابیوں اور عوامی پزیرائی کے واضع اصول مرتب کرپائیں گے۔ 

عام آدمی پارٹی ایک کیس سٹڈی
ارویندر دہلی میں ٹیکس کے محکمے سے منسلک تھا اور سن ۲۰۰۶ میں اس نے اپنی نوکری سے استعفی دیا۔ اس کی عوامی زندگی کا آغاز اس کے فلاحی کاموں سے ہوتا ہے۔ دسمبر ۱۹۹۹ میں اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک فلاحی تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا نام تھا پریوردن یعنی تبدیلی۔  اس کے ممبرز اسے عوامی تحریک قرار دیتے تھے۔ اس کے پلیٹ فارم سے اس نے کئ عوامی مسائل پر لوگوں کو مدد فراہم کی۔ ۲۰۰۵ میں ارویندر اور اس کے دوست نے ایک اور تنظیم کی بنیاد ڈالی جس کا نام تھا کبیر۔ فرق صرف یہ تھا کہ یہ تنظیم رجسٹرڈ بھی تھی اور دوسروں سے چندہ بھی لیتی تھی جبکہ پریوردن کا سارا خرچہ تنظیم کے سرکردہ ہی اٹھاتے تھے۔ ارویندر اور اس کے ساتھی بجلی دفتر کے باہر بیٹھ گئے اور صارفین سے کہا کہ وہ مسائل کے حل کےلئے رشوت نہ دیں۔ صارفین کو کام کروانے کےلئے مفت سروسز فراہم کیں۔

دہلی کی حکومت نے ۲۰۰۱ میں رائٹ آف انفارمیشن کا قانون پاس کیا۔ ارویندر اور اس کے ساتھیوں نے اس کا خوب استعمال کیا اور عوام کو رشوت سے منع کیا اور اس قانون کی مدد سے عوام کے کام مفت میں کرواتے رہے۔ ۲۰۰۲ میں اس گروپ نے علاقہ کے ۶۸ پراجیکٹس کی سرکاری رپورٹس حاصل کیں اور ایک عوامی آڈٹ کروایا جس کے نتیجہ میں سات ملین روپے کی بےضابطگیاں سامنے آئیں۔ ۱۴دسمبر کو انھوں نے ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا جس میں عام لوگوں نے شرکت کی اور سرکاری اہلکاروں اور قائدین کو کرپشن کا ذمہ دار قرار دیا۔ ۲۰۰۳ میں ارویندر اور اس کے ساتھیوں نے سستے راشن کی سکیم میں ہونے والی دھوکا دہی کو ایکسپوز کیا۔ انھوں نے رائٹ آف انفارمیشن کے قانون کو استعمال کرتے ہوئے ورلڈ بینک اور سرکاری ایجنسیوں کے درمیاں پانی کو نجی تحویل میں دینے والے ایک پراجیکٹ کا پتا چلایا۔ ان لوگوں نے اس پراجیکٹ پر اٹھنے والے بےتحاشہ اخراجات پر سوالات کھڑے کیے اور کہا کہ اس سے پانی کے بلوں میں بہت اضافہ ہوجائے گا اور غریب آدمی پانی سے محروم ہوکررہ جائے گا۔ ان کی اس سرگرمی کی وجہ سے اس پراجیکٹ کو روک دیا گیا۔ ایک اور مہم انھوں نے کی جس کے نتیجہ میں کورٹ سے آرڈر ہوئے کہ جن لوگوں نے سرکاری زمیں سستے داموں حاصل کی ہے وہ کم از کم سات سو غریب بچے مفت تعلیم کےلئے سکول میں داخل کریں۔ ۲۰۰۵ میں رائٹ آف انفارمیشن ایکٹ پورے ملک میں نافذ ہوا جس میں اننا ہزارے اور دوسروں نے بہت کام کیا۔ اسی سرگرمی میں سب سے اہم کردار ادا کرنے پر ارویندر کو ایشیا کا نوبل پرائز رامن مگسیسے ایوارڈ دیا گیا۔ ان کو ایوارڈ دے کر ان کی رائٹ آف انفارمیشن قانون اور دہلی کے غریب عوام کو کرپشن کے خلاف لڑنے کے لئے بااختیار بنانے کےلئے دیا گیا۔

اسی طرح ۲۰۱۱ میں ارویندر اور دوسرے سماجی کارکن جن میں اننا ہزارے بھی شامل تھے نے مل کر ایک تحریک چلائی جس کا مقصد کرپشن کے خلاف بل پاس کروانا تھا۔ اننا ہزارے نے بل پاس ہونے تک بھوک ہڑتال کردی۔ اس تحریک کے نتیجہ میں حکومت نے وعدہ کیا کہ وہ جلد کرپشن کے خلاف بل پاس کروالے گی۔ جنوری ۲۰۱۲ کو حکومت نے بل کو پاس کرنے منع کردیا۔ حکومت اپنے وعدے سے مکر گئی تو ارویندر اور اس کے ساتھیوں نے تحریک کا دوسرا دور شروع کیا۔ اس بار ۲۰۱۱ کی نسبت زیادہ عوامی حمایت حاصل ہوئی۔ اب کی بار عوام احتیجاج میں شریک ہوئی اور ارویندر نے اننا ہزارے جگہ لے لی اور احتجاج کو لیڈ کیا۔ 

نومبر ۲۰۱۲ کو ارویندر نے سیاسی پارٹی بنائی۔ اس پارٹی کا نام عام آدمی پارٹی رکھا گیا۔ اور اس کا انتخابی نشان بہت سوچ بچار کا نتیجہ ہے۔ ارویندر نے انتخابی نشان جھاڑو رکھا۔ اس پارٹی کے بنانے پر انناہزارے اور ارویندر کے راستے الگ ہوگئے۔ پارٹی نے ۲۰۱۳ کے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور ارویندر نے موجود چیف منسٹر کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان انتخابات میں پارٹی نے ۷۰ میں سے ۲۸ سیٹیں جیت لیں۔ ارویندر نے چیف منسٹر شیلا ڈکشٹ جوکہ کانگریس کی امیدوار تھیں کو ۲۵ہزار سے زائد ووٹوں سے ہرایا۔ ۲۰۱۵ میں عام آدمی پارٹی نے ۷۰ میں سے ۶۷ سیٹیں جیت لیں۔ اس وقت دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے۔

سیاسی کامیابی کا راز
جنوبی ایشیا خاص طور پر برصغیر کی نئے سیاسی پارٹیوں کے لئے ارویندر کی جدوجہد آج ایک زندہ حقیقت ہے۔ اسے کیس سٹڈی کے طور پر تفصیل سے پڑھنا اور سمجھنا ہوگا۔ سیاسی پارٹیوں کی سب سے بڑی کمزوری پیسہ ہوتا ہے۔ پیسے کے بغیر سیاسی پارٹی چل نہیں پاتی اور پیسہ جب آتا ہے تو کرپشن کے دروازے بھی کھلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ارویندر کی جدوجہد میں پیسے کا استعمال بھی نظر آتا ہے مگر اس سے زیادہ اس کی عوامی مسائل پر سرگرمیاں اہمیت کی حامل ہیں۔ اس کی سرگرمیاں عوامی دلچسپی کا باعث بنیں۔ اس کی انھیں سرگرمیوں کی وجہ سے اس کی سماجی تنظیم کو چندہ بھی ملتا رہا۔ اس کے بعد جب اس نے سیاسی تنظیم کی بنیاد ڈالی تو اس کو بیرون ملک سے چندہ دینے والوں کی کمی نہ تھی۔ اس چندہ کی بدولت پارٹی الیکشن میں بلا کسی رکاوٹ کے کامیاب ہوتی چلی گئی۔ ارویندر کی جدوجہد کا مطالعہ کرتے ہوئے کہیں کہیں مجھے لگا جیسے عمران خان نے ارویندر کی جدوجہد کو کافی نزدیک سے دیکھا اور اس کے طریقوں کو بہت جگہ پر دہراتا بھی رہا۔ میں اپنے ملک کے نئے سیاسی لیڈروں اور سیاسی پارٹیوں سے درخواست گزار ہوں کہ ٹھنڈے کمروں اور ٹھنڈی گاڑیوں سے نکل کر غریب کے قریب ہوجائیں۔ یہ ٹھنڈے ماحول کے ٹھنڈے خیالات تمھیں کبھی عوام کے قریب لے کر نہیں جاسکتے۔ دوسروں کے سجائے میلے پر مجمع بازی کرنا آسان ہوتا ہے مگر اس کے لئے آپ دوسروں کے محتاج رہتے ہیں کب کوئی میلا لگائے اور ہم اس میں اپنی رام کتھا سنانے پہنچ جائیں۔  کبھی کبھی چوراہوں میں کھڑے ہوکے عوام کو آوازیں لگا کر بھی ان کے دل نہیں جیت پائیں گے۔ آپ کو عوام کے مسائل اور ان کے حل تک عوام کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اپنے آپ کو لیڈر منوانا ہوگا۔ کسی جگہ گروہ کو دیکھ کر اس کو لیڈ نہیں کرنا بلکہ اکیلے چل کر مجمع بنانا ہوگا۔ ان کے مسائل پرکھڑے ہونے کی ہمت کریں۔ ناکامی سے نہ ڈریں۔۔۔۔ کسی ایک ایشو پر کامیابی آپ کو عوامی لیڈر بنادے گی۔ یاد رکھیں سیاسی کامیابی کا راز عوامی سیاست میں ہے۔ جس کا مطلب ہے عوام کے مسائل کے لئے رہنمائی کرنا۔ ان کے مسائل کے حل تجویز کرنا اور ان کےلئے اس تجویز کردہ حل کو حاصل کرنے کی جدوجہد کرنا۔ اگر کوئی ایسا حوصلہ رکھتا ہے تو پھر وہ اگلے الیکشن میں اپنے آپ کو ایک نیا متبادل منوا سکتا ہے ورنہ بیسیوں سال لگے رہیں کہ

ہزاروں سال نرگس اپنی بےنوری پہ روتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا



Friday, June 22, 2018

نان سینس

Photo DawnNews


گزشتہ روز زعیم قادری کی پریس کانفرنس دیکھی۔ اس کے جارحانہ انداز سے اندازہ ہوا کہ پارٹی نے محترم زعیم قادری کی فرمائش پوری نہیں کی۔ ایم این اے کی سیٹ نہ ملنے پر اپنی ہی پارٹی پر چڑھ دوڑے۔ مسلم لیگ میں یہ پہلا واقعہ نہیں۔ مگرزعیم قادری نے اپنے آپ کو ایکسپوز کردیا۔ اس کے پاس تو کوئی اخلاقی یا سیاسی وجہ نہ تھی نہ اس کے ساتھ مقامی مسلم لیگ کی تنظیمیں تھیں مگر پھر بھی انھوں نے میڈیا کو پروگرامز کے لئے اچھا مصالحہ مہیا کردیا۔ میڈیا پر تبصرہ نگاروں کی چاندی ہوگئی اورمسلم لیگ اور اس کی قیادت کوپرالزامات کی بوچھاڑ کردی۔ زعیم کو مظلوم ہیرو بنانے لگے۔

اب سنیں اس حلقے کی آواز جہاں سے قادری صاحب مسلم لیگ کو چیلنج کررہے ہیں۔


میں مسلم لیگ کا سپورٹر اور ووٹر ہوں اور حلقہ این اے ۱۳۳ میں گرین ٹاون کا رہائشی ہوں۔ ہمارے حلقے میں مسلم لیگ نے مختلف امیدوار کھڑے کیے اور وہ ہمیشہ نوازشریف کے نام پر جیتے۔ زعیم قادری بھی ان میں سے ایک تھے۔ دو بار ایم پی اے ہوئے۔ ۲۰۰۸ میں جیتنے کے بعد علاقہ میں پارٹی نے ترقیاتی کام شروع کئے۔ ہمارے محلے میں نیا سیوریج ڈلنے کا کام شروع ہوا تو علاقہ مکینوں کو شکایت ہوئی کہ ٹھیکیدار غیرمیعاری کام کروا رھا ہے۔ ہم نے احتجاج کیا مگر ٹھیکیدار پر کچھ اثر نہ ہوا۔ ہم لوگ ٹی ایم او سے ملنے گئے۔ کچھ نہ بنا۔ اب ہم نے زعیم قادری سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ صاحب کے پاس ٹھیکیدار کی شکایت لے کر گئے مگر وہاں ٹھیکیدار صاحب پہلے سے موجود تھے۔ زعیم قادری نے ہماری شکایت سننے کے بجائے ہمیں سمجھایا کہ اگر یہ کام بھی نہ ہورہا ہوتا تب بھی تو آپ لوگ گزارہ کررہے تھے نا۔ اب اگر ہو رہا ہے تو اس پر آپ لوگ اعتراز نہ کریں اور کام کو چلنے دیں۔۔۔۔۔۔ زعیم سے مایوس ہونے کے بعد میں نے انٹرنیٹ کے ذریعے سے صوبائی محتصب کو درخواست بھجوا دی اور پھر صوبائی محتصب نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا اور پھر ہم نے ویسے ہی کام کروایا جیسے ورک آورڈر پر تحریر تھا بلکہ تب ٹھیکیدار نے تعاون کرتے ہوئے کچھ زیادہ ہی تعاون کیا اور محلے میں کئی نئے گٹرتعمیر کرواکر دیے۔۔۔۔ یہ کام زعیم کو کرنا چاہیے تھا جو ہمیں محتصب کی عدالت کے ذریعے کرواناپڑی۔۔۔۔ 

۲۰۱۳گزشتہ
 کے الیکشن کی تیاریاں تھیں زعیم صاحب ہمارے علاقہ میں کیمپئن چلا رہے تھے۔ اسی دوران ایک دن کارنرمیٹنگ میں انھوں نے ایک شخص آصف رضا بیگ کا تعارف کروایا۔ پتا چلا کہ موصوف پی ٹی آئی کی ٹکٹ کے امیدوار تھے ٹکٹ نہ ملنے پر مسلم لیگ میں شامل ہوگئے ہیں۔ کچھ ہی دنوں کے بعد  قادری صاحب اسے اپنا بھائی قرار دے رھے تھے میں حیران تھا کہ پارٹی کی قیادت اور رفاقت میں انھوں نے کسی کو بھائی نہیں کہا اس شخص میں ایسی کیا خوبی ہوگی جو یہ چند دنوں میں ہی بھائی بن گیا۔ پارٹی کے رینکس میں سے پتہ چلا کہ آصف نے اپنی دولت کی چمک دیکھائی ہے۔ وہ قادری صاحب کو دوبئی کا ٹور کروا چکا ہے اور دونوں میں کسی کاروبار کی شراکت بھی ہونے جارہی ہے۔۔علاقہ کے بہت سے لوگ قاردی سے نالاں تھے مگرپارٹی نے انہیں ہی چنا ۔۔ بہرحال الیکشن ہوئے ۔۔۔ مسلم لیگ جیت گئی اور ایک بار پھر زعیم قادری صاحب ہمارے نمائندہ قرار پائے۔۔۔۔  وقت گزرتا گیا اور مقامی حکومتوں کے نمائیدے چننے کا وقت آگیا۔ ان الیکشنز میں ہم پر کھلا کہ زعیم قادری اور وحیدعالم میں سردجنگ جاری ہے اور دونوں الگ الگ امیدواروں کو علاقہ کا چیرمین منتخب کروانا چاہتے ہیں۔۔۔۔ اس بار زعیم قاردی نے اپنے نئے بنائے بھائی کی حمایت کا اعلان کردیا۔ علاقہ کے سب سے مقبول اور پرانے رہنما تنویرنثار کی حمایت کے بجائے آصف رضا بیگ کو چیرمین کی ٹکٹ کےلئے زور دیا۔۔۔۔ حمزہ شہاز جانتے تھے تنویر بہترین امیدوار ہے مگر قادری کے اسرار پر اس سیٹ کو اوپن کردیا گیا اور ٹکٹ کسی کو نہ دیا گیا۔ اس الیکشن مین زعیم قادری کا منہ بولا بھائی چیرمین کا الیکشن ھار گیا جسے اب وہ ایم پی اے کا امیدوار بنا کر لایا ہے۔ کل کانفرنس میں ان کا یہی بھائی ان کے بائیں طرف بیٹھا نظر آیا۔۔۔۔۔۔ مگر اس کی کانفرنس میں مسلم لیگ کی مقامی قیادت کہاں تھی؟

اب میں بات کرنا چاہتا ہوں میڈیا کے بہت پڑھے لکھے نظر آنے والے تجزیہ نگاروں کے تبصروں کا۔ میں ہمیشہ سے ان تجزیہ نگاروں کے تبصروں سے بہت کچھ سیکھتا آیاہوں۔ میرا خیال تھا یہ لوگ جس معاملہ پر بات کرتے ہیں یقینا ان کے پاس تصدیق یافتہ معلومات ہوتی ہوں گی اور اسی کی بنیاد پر یہ اپنے خیالات مرتب کرتے ہوں گے۔۔۔۔۔ کل جب جیو پر معزز تجزیہ نگاروں کو سنا اور زعیم صاحب کے حق میں دلائل دیتے سنا تو محسوس ہوا کہ یہ لوگ علم کی بنیاد پر نہیں بلکہ کامن سینس کی بنیاد پر تجزیے کرتے ہیں۔۔۔۔۔ میری تجویز ہے ان تمام تجزیہ نگاروں کو کہ سر آپ کو بہت سے لوگ سن رہے ہوتے ہیں اور آپ کی معلومات پر بھروسہ کررہے ہوتے ہیں خدارا تجزیہ کرتے وقت سوچا کریں کہ کیا میں اس بات پر حقیقی تجزیہ کرسکتا ہوں؟ اگر پوری معلومات نہ ہوں تو تجزیہ سے گریز کریں کیوں کہ مجھے لگتا ہے کہ معلومات کے بنا کامن سینس بھی نان سینس ہوتا ہے۔۔۔ 




Tuesday, October 10, 2017

پی ٹی آئی کا اگلے الیکشن کےلئے انتخابی بینر

عمران خان کے کارہائے نمایاں

میں نے سب سے پہلے آف شور کمپنی بنائی
آف شور اولاد کا امریکہ کی عدالت سے سرٹیفیکیٹ حاصل کیا جوئے سے قرض اتارنے کی سکیم کا عظیم خیال ایجاد کیا سیاست میں گالی کا کلچر کو رواج دیا سیاسی جلسوں میں ناچ گان اور ڈیٹنگ کا انتظام کیا دھرنوں کے ذریعے سے اقتدار میں آنے یا پھر کسی دوسرے کو لانے کی کوشش کی بغیرکوچوان کے احتساب کا ڈانگا کےپی کے میں چلادیا ایک انگلی کی خاطر کیا کیا نہ ناچ دیکھایا لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کے ہرروز نئے انداز سیکھائے ملین ٹری سونامی کا اعلان کیا۔۔۔۔ جس میں ملین ٹری بھی بہہ گئے اور عوام کے ملین روپے بھی تعلیم اور صحت کواہمیت دی اور انقلاب بپا کردیا۔ ڈینگی سے صوبے لوگ مررہے ہیں۔ پختون خواہ ویسے ہی خوامخاہ پریشان ہے ڈینگی تو سردی میں خودبخود ختم ہوجائے گا :) پاکستان میں پہلی بار ایک صوبائی حکومت کا وفاقی حکومت پرحملہ کی پارٹی کی خوبرو خواتین کو بلیک بیری سے فحش پیغامات بھیجے اس سب کے باوجود جماعتیوں کو بے شرم خاموشی پر مجبور رکھا یہ سب اور اس کے علاوہ اور بہت کچھ جو آہستہ آہستہ تمھارے سامنے آئے گا۔۔۔۔
میں نے آ کر اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا اسے کہتے ہیں تبدیلی اب اور بتائیں میں قوم کو راہ راست پر لانے کےلئے کیا کروں. مجھے وفاق میں آنے دیں میں آپ کے بچوں اور خاص طور پربچیوں کے لئے بہت کچھ کروں گا :) ایسی اور بھی تبدیلی چاہیے تو مجھے ووٹ دیں ؟

Wednesday, July 29, 2015

دھرنا : دل کے ارماں آنسووں میں بہہ گئے

۔۱۴ آگست کا دن قیام پاکستان کی یادگار کے طور پر منایا جاتا تھا۔ مگر ۲۰۱۴ کا ۱۴اگست دھرنا سیاست کے طور پر یاد کیا جائے گا۔  پاکستان مخالف قوتیں شروع دن سے ملکی سلامتی اور استحکام کے خلاف سازشیں کرتی رہی ہیں۔ ملک میں کبھی جمہوری حکومتیں مستحکم نہ ہوسکیں۔ پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ ایک جمہوری حکومت نے اپنا دورحکومت مکمل کیا اور دوسری حکومت نے چارج سنبھالا۔ ووٹوں کی طاقت سے بننے والی یہ دوسری خودمختار حکومت ملک اورجمہوریت دشمنوں کو ایک آنکھ نہ بھائی۔  اسی لئے ایک بڑے پلان کے مطابق دو حکومت مخالف قوتوں کو یکجا کیا گیا اورانھیں ایک ہی ٹاسک دیا گیا کہ آپنے زیادہ سے زیادہ لوگ اسلام آباد میں جمع کریں۔ قادری اور عمران دونوں انقلابی لیڈروں نے عوام کی پریشان خیالی کا خوب فائدہ اٹھایا۔ اور انقلاب بیل اسلام آباد چڑھانے چل پڑے۔ عمران کا مطالبہ تھا کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے جو انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرے۔ سونامی مارچ سے دو دن پہلے وزیراعظم نے اعلان کر کے انقلاب کے منتظمین کو فتح کا ایک موقع دیا مگر عمران کی سیاست سے جہالت کی حد تک ناواقفیت نے اسے وہ موقع اپنے لئے استعمال نہ کرنے دیا۔ عمران نے کہہ دیا کہ وہ تو نواز شریف کا استعفعی لئے بغیرنہیں ٹلے گا۔  سب سیاسی قوتوں نے عمران کو اپنے اپنے انداز سے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ وزیراعظم کے اعلان کے جواب میں عمران نے حکومت کو فارغ کرنے عندیہ دیا۔ کسی ایمپائیر کا بھی ذکر کیا اور پھر۔۔۔۔ اس کے بعد جو ہوا اس کی تاریخ وار مختصر تفصیل درج ذیل ہے:

۔۱۷ آگست : دھرنے کے دو دن بعد جب کچھ  نتیجہ برآمد نہ ہو تو حضرت عمران نے سول نافرمانی کا اعلان کردیا۔ عوام سے بجلی پانی اور گیس کے بل اور ٹیکس نہ سینے کی اپیل کر دی۔ جب یہ تیر نہ چلا تو کےپی کے کے علاوہ تمام اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ اور پھردھمکی بھی دے ڈالی کہ نواز شریف استعفعی دے ورنہ پھر نہ کہنا میری وجہ سے فوج آئی۔

۔۱۹آگست تک جب کوئی حربہ کامیاب نہ ہوا تو دھمکی دے ڈالی کہ نواز شریف کا استعفی نہ آیا تو ہم لوگ وزیراعظم ہاوس میں گھس جائیں گے۔ ان کی دھمکی کے ساتھ ہی سابقہ فوجیوں کی تنظیم نے بھی مطالبہ کر ڈالا کہ اسمبلیاں تحلیل کی جائیں۔ پرویزالہی کا کہنا ہے کہ انقلاب اور آزادی مارچ کا مل جانا اللہ کی رحمت ہے۔

۔۲۰آگست: سپریم کورٹ نے واضع اعلان کیا کہ حکومت کو آئین سے ہٹ کر ختم کرنیکا طریقہ لاقانونیت اورانتشار ہے۔ عمران اور قاردی کو نوٹس جاری کردئے گئے۔ حکومت اور تحریک انصآب کے درمیان مزاکرات کا آغاز۔ عمران نے ایک بار پھر کہا ہے کہ جان دے دونگا مگر مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹونگا۔

۔۲۱ اگست: وکلاء کنوینشن کی متفقہ قرارداد جاری ہوئی کہ کوئی غیرآئینی اقدام قبول نہیں کیا جائیگا۔
وزیراعظم استعفی دینگے نہ پارلیمنٹ تحلیل ہوگی۔ قومی اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور۔

۔۲۲ اگست : عمران نے ایک اور اعلان کردیا کہ رات کو امپائر کی انگلی اٹھ جائیگی۔ امریکہ کسی کی حمایت نہ کرے۔
عمران نے کہا کہ پاکستان کو شریف بادشاہت سے آزاد نہ کرسکا تو موت کو ترجیح دونگا۔ 

۔۲۳اگست: چوہدری سرور بطور گورنر پنجاب نے کہا کہ وزیراعظم سے استعفی بغیر ثبوت کے سزا دینے کے مترادف ہوگا۔ ایک کے سوا تمام مطالبات پر اتفاق ہوگیا۔ اور وہ ایک کیا تھا؟ کہ وزیراعظم استعفی دیں۔

۔۲۴ اگست : وزیراعظم نے استعفی نہ دیا تو ملک کا پہیہ جام کردینگے۔ عوام سرکاری بینکوں سے پیسے نکال لیں۔ عمران کا ایک اور حملہ

۔۲۵اگست: قادری نے ایک بار پھر حکومت کو ۴۸ گھنٹوں کا الٹیمٹم دے دیا۔ قادری کا کہنا ہے کہ اب وہ کفن پہنے گا یا نواز حکومت۔۔۔۔ ؟
عمران :  ہم استعفے تک اسلام آباد سے نہیں اٹھیں گے۔

۔۲۷اگست: نواز شریف کے وزیراعظم رہنے تک دھرنے نے نہیں اٹھیں گے۔ عمران 
لعنت ایسی جمہوریت پر۔ اب بات شریف برادران کی پھانسی پر ختم ہوگی۔ قادری
اگر پولیس نے حملہ کیا تو میں اور طاہرالقادری ملکر مقابلہ کرینگے۔ عمران

۔۲۸ اگست: بات چیت کا پانچواں دور بھی بے نتیجہ رھا۔ عمران کا وزیراعظم کےاستعفے تک مزاکرات ختم کرنیکا اعلان۔

۔۲۹ اگست: عمران اور قادری نے فوج کی ثالثی قبول کرلی۔ جنرل راحیل سے الگ الگ ملاقات
عمران کا میڈیا اور وکلاء پر حکومت سے ۲۵۰ کروڑ لینے کا الزام۔ 

۔۳۰اگست: دھرنے کے شرکاء کا وزیراعظم ہاوس پر حملہ۔ صورتحال خراب ہوتے ہی عمران اور قادری ساتھیوں سمیت کنٹینر اور بلٹ پروف گاڑی میں چلے گئے
مظاہرین گیٹ توڑ کر پارلیمنٹ ہاوس کے احاطے میں گھس گئے۔ پولیس شیلینگ۔ تصادم میں ۳ افراد جاں بحق ہوگئے۔ ۵۰۰ سے زائد زخمی

۔۰۱ستمبر: کورکمانڈرز کا اجلاس میں سیاسی بحران کی وجہ سے انسانی جانوں کے زیاں پر افسوس کا اظہار۔
تحریک انصاف میں ٹوٹ پھوٹ، جاوید ہاشمی اور ۳ ارکان اسمبلی کو پارٹی سے نکال دیا۔

۔۲ستمبر: دھرنا پارٹی سرکاری ٹی وی کی عمارت پر قبضہ۔ سرکاری املاک کو نقصان 
جاوید ہاشمی نے عمران کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔ عمران نے کہا ”بیج والے قادری کیساتھ چلنے کا کہتے ہیں”

۔۳ستمبر : پارلیمنٹ نے وزیراعظم کے حق میں فیصلہ سنادیا۔ نواز شریف مستعفی نہ ہوں۔
عمران نے لندن میں قاردی سے اتحاد پر اتفاق کیا تھا۔
دھرنا کے ڈنڈا بردار شرکاء نے پولیس اور ملازمیں کی چیکنگ شروع کردی۔

۔۵ستمبر: طوفانی بارشوں سے ۵۷ افراد جاںبحق۔ 
چین کے صدر کا پاکستان کا دورہ دھرنوں کی وجہ سے منسوخ
ہمارا قصور نہیں، پارلیمنٹ میں ڈاکو شور مچارہے ہیں۔ عمران

۔۶ستمبر: سابق آرمی چیف دھاندلی میں ملوث تھے۔ بہتر ہے فوج خود آجائے۔ شجاعت

۔۷ستمبر: عمران اپنے ارکان اسمبلی سے ناراض۔ دھرنے میں شرکت کا حکم

۔۸ستمبر: معین قریشی وزیراعظم بن سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں؛ عمران کا سوال۔ فتح قریب ہے۔ دشمن کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔ 

۔۱۲ستمبر: ایک جیسی تکرار پر چینلز نے عمران کی کوریج محدود کردی۔

۔۱۴ستمبر: غیرقانونی گرفتاریوں پر آئی جی کو جیل میں ڈالوں گا۔ عمران

۔۱۵ستمبر: عمران اور کور کمیٹی نے خود کہا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں جائے گا اور ۳ماہ میں نئے الیکشن کا فیصلہ آجائے گا۔ جاوید ہاشمی
قادری نے اقرار کر لیا کہ عمران سے لندن میں ملاقات ہوئی تھی۔

۔۲۳ستمبر: قادری کا اعلان: دھرنے کے شرکاء تحریک انصاف کی طرح گھروں کو جا کر واپس آسکتے ہیں۔

۔۲۷ستمبر: ہماری تحریک کا مقصد ”گونوازگو” نہیں بلکہ ”گونظام گو” ہے۔ عمران 

۔۲۹ستمبر:اب عمران کی فریسٹریشن سب پر واضع ہورہی تھی۔ اس نے کہا: نوازشریف استعفی دینے میں جلدی نہ کریں پہلے میں قوم کو جگا لوں۔ عمران

۔۳۰ستمبر: حکومت اور تحریک انصاف میں معاہدہ ہوگیا۔ صدارتی حکم کے تحت جوڈیشل کمیشن بنےگا۔

۔۰۱اکتوبر: شاہ محمود نے لاہور رہائش کے بجلی کے بل ادا کردیئے۔

۔۵اکتوبر: جاویدنسیم بھی تحریک انصاف سے باغی ہو گئے۔
الیکشن اگلی عید سے پہلے ہونگے۔ تحریک انصاف کی حکومت بنے گی۔ عمران کی پیشینگوئی

۔۱۲اکتوبر: ملتان میں عمران کے جلسہ میں بھگدڈ مچنے سے سات افراد ھلاک۔

۔۱۴اکتوبر: بلوں کی عدم ادائیگی پر عمران خان کے گھر کے بجلی کاٹ دی گئی۔

۔۱۸اکتوبر: اگلا سال الیکشن کا ہے۔ دو ماہ بعد آخری گیند پھینکوں گا۔

۔۲۲اکتوبر: قادری کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان۔ مرد و خواتین روتے رہے۔

۔۲۳اکتوبر: جب تک زندہ ہوں دھرنا ختم نہیں کروں گا۔ عمران کا اعلان

۔۲۵اکتوبر: قوم دھرنے کی کامیابی لیلئے چندہ دے۔  پیسے ختم ہوگئے تو اکیلا ٹینٹ میں بیٹھوں گا۔ عمران

۔۲۸اکتوبر: اگلی عید تک نیا پاکستان بن جائیگا۔ تبدیلی کیلئے تھوڑا پاگلپن ضروری ہے۔ عمران

۔۳۰اکتوبر: الیکشن ۲۰۱۳ء کو کالعدم قرار دینے کی تمام درخواستیں خارج۔ ثبوت کے بغیرصرف الزامات کو ریکارڈ نہیں سمجھ سکتے۔ سپریم کورٹ

۔۰۶نومبر: نظریاتی طور پر جماعت اسلامی کے قریب ہیں۔ دھاندلی کی تحقیقات سپریم کورٹ کرے تو دھرنا ختم ہوسکتاہے۔ عمران 

۔۰۷نومبر: تحریک انصاف کے قیصر جمال،سراج محمد اور سلیم الرحمان کا استعفے سے انکار۔

۔۱۰نومبر: جوڈیشل کمیشن میں ایم آئی اور آئی ایس آئی سامل ہو، تحقیقات مکمل ہونے تک دھرنا جاری اور نوازشریف مستعفی نہ ہوں۔ عمران

۔۱۱نومبر: قوم جاگ گئی، نیا پاکستان نظر آرہاہے۔ عمران

۔۱۳نومبر: ۳۰نومبر تک انصاف نہ ملا تو حالات کے ذمہ دار نواز شریف ہونگے۔ عمران
عوام ماریں ، مر جائیں، جلادیں، گھراو کریں۔ شیخ رشید

۔۱۵نومبر: بات چیت کےذریعے معاملات آگے بڑھانے کیلئے تیار ہیں۔ عمران

۔۱۶نومبر: نواز شریف سے ملاقات نہیں کروں گا۔ ہمیں کوئی انصاف نہیں دے رہا۔ عمران ساہیوال جلسہ سے خطاب

۔۱۷نومبر: دھرنا ناکام بنانے کیلئے آئی بی کو ۲۷۰ کروڑ دیئے گئے۔ عمران

۔۱۸نومبر: نواز شریف کو وزیراعظم بنانے والوں کا احتساب کیا جائے تو لچک دکھا سکتا ہوں۔ عمران

۔۲۰نومبر: ۳۰نومبر کو روکا گیا تو مقابلہ کرینگے۔ عوام نہ نکلے تو دھاندلی سے قائم کی گئی حکومت پانچ سال کھینچ جائے گی۔ عمران

۔۲۱نومبر: آرمی چیف نے کہا تھا دھاندلی کی تحقیقات میں آئی ایس آئی اور ایم آئی شامل ہونگی۔ عمران کا انکشاف

۔۲۲نومبر: ۳۰نومبر کو حکومت سے مظالم کا حساب لیں گے۔ عمران

۔۲۴نومبر: دھاندلی کے ثبوت اسی ہفتے پیش کرونگا۔ عمران
ثبوت پیش کرنے کے بعد فیصلہ کرینگے کہ الیکشن کمیشن جاناہے یا سپریم کورٹ۔ عمران

۔۲۷نومبر: ۳۰ نومبر کو آئندہ کا لائحہ عمل دونگا جو بہت خوفناک ہوگا۔ کارکن تیار ہوجائیں۔ عمران
عام انتخابات میں تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ہوا۔ کل ثبوتوں کیساتھ بتاونگا کہ کیسے دھاندلی ہوئی۔ میڈیا سے بات چیت میں عمران کا دعوہ

۔۲۹نومبر: ن لیگ کو جتوانے کیلئے ۵۵ لاکھ اضافی بیلٹ پیپرز چھاپے گئے۔ عمران

۔۳۰نومبر: نوازشریف کو آج پلان سی دینگے، حکومت کرنا مشکل ہوجائیگا۔ ویسے یہ ناکام ہوا تو پلان ڈی لائیں گے۔ عمران

۔۱۶دسمبر کو پورا پاکستان بن کرینگے۔ عمران

۔۰۲دسمبر: تحریک انصاف کا پلان تبدیل۔ شٹرڈاون نہیں احتجاج ہوگا۔ ۱۶کونہیں ۱۸دسمبر کو بند ہوگا۔

۔۱۲دسمبر: اقتدار میں ہوتا تو قبائلی علاقوں میں کبھی فوج نہ بھجواتا۔ آئندہ میاں صاحب کو چور صاحب اور ڈاکو صاحب کہہ کر پکاروں گا۔ عمران 

۔۰۶دسمبر: جوڈیشل کمیشن کے قیام تک تحریک جاری رہے گی۔ تحقیقات ہوئیں تو پول کھل جائے گا۔ دھاندلی کی رپورٹ پر نوازشریف کو مستعفی ہوناپڑےگا۔ دھاندلی میں ملوث افراد کو آرٹیکل چھ کے تحت جیلوں میں ڈالیں گے۔

۔۰۷دسمبر: عمران خان الیکشن ٹربیونل میں اپنے الزامات کے ثبوت فراہم نہ کرسکے۔
دھاندلی کے ثبوت پولنگ بیگز میں ہیں۔ وزیراعظم کے استعفی سے دستبردار ہوچکا۔ حکومت مزاکرات میں سنجیدگی دکھائے۔ عمران

۔۰۸دسمبر: دھاندلی ثابت نہ ہو تو بھی اسمبلی نہیں جائینگے۔ عمران

۔۰۹دسمبر: فیصل آباد مین ن لیگ اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں تصادم۔ ایک نوجوان جاں بحق

۔۱۱دسمبر: جوڈیشل کمیشن کے معاملات طے پا گئے تو پلان سی واپس لے لیں گے۔ عمران

۔۱۲دسمبر: حکومت جوڈیشل کمیشن بنادے احتجاج ختم کردیں گے۔ عمران

۔۱۵دسمبر: حکومت جوڈیشل کمیشن بنانے کی تاریخ ہی دیدے تو احتجاج واپس لے لوں گا۔ عمران

۔۱۶دسمبر: آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشتگردوں کا حملہ۔ 

۔۱۷دسمبر: عمران خان کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان۔۔۔۔۔۔
Image from: Newvisionpk

Friday, July 3, 2015

کوئی شرم بھی ہوتی ہے کوئی حیاء بھی ہوتی ہے

 وطن عزیز کی پیدائش کے بعد ہمارے ملک کے باسیوں کے رویے بلکل نارمل قوموں کی طرح تھے۔ ہم لوگ جمہوریت سے بےپناہ محبت کرتے تھے۔ جمہوری رویے پنپ رہے تھے مگر پھرچند ”مخصوص” وجوہات کی بنا پر ہمارے ملک میں آمرانہ رویوں نے جگہ پانا شروع کردی۔ آمروں نے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے سیاست اور سیاستدانوں کو ملعون قرار دیا اور باقائدہ منصوبہ بندی اور پلاننگ کے تحت اس سوچ کو قوم کی رگ و پے میں اتار دیا۔  آمرانہ سوچ نے ہمیشہ سیاست کو ”گندی چیز” کے طور پرہی پیش کیا اسی لئے کچھ لوگ جب بھی سیاست کی بات کرتے ہیں تو سیاست دانوں کوگالی دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ان کے ہربیان میں سیاست اور سیاستدانوں سے نفرت اور حقارت نظر آتی ہے۔ برسوں کے اس پراپیگینڈہ نے بلآخر اثر دیکھایا اور ملک میں سیاست سے نفرت بڑھنے لگی۔ سیاستدان جو فوجی آمروں ہم پیالہ ہم نوالہ ہوگئے انھوں نے اپنے سیاسی بھائیوں کی پگڑیاں اچھالنا اپنا فرض جانا اور پھر فضاء ایسی پراگندہ ہوئی کہ ہم پاکستان کا ایک حصہ گنوانے کے بعد بھی سنبھل نہ سکے۔  نوے کی دہائی میں اگرچہ جمہوری حکومتیں تشکیل پاتی رہیں مگر آمرانہ سوچ کے ”مخصوص” طاقتوروں کی سازشوں نے سیاستدانوں کو ایک دوسرے سے الجھائے رکھا۔ سازشوں نے کوئی جمہوری حکومت چلنے نہیں دی۔ مگر سیاسی میدان لگنے سے ایک بات اچھی ہوئی کہ کچھ سیاسی لیڈرلوگوں کی چاہتوں کا مرکز بننے لگے۔  بےنظیر بھٹو اور میاں نواز شریف عوام میں مقبول ہوگئے اورملک میں دو جماعتی سیاسی نظام تشکیل پانے لگا۔ مگر پھر وہی پہیہ گھمایا گیا اور پرویز مشرف کی صورت میں ایک آمر نے ملک کی باگ دوڑ سنبھال لی۔ اس نے بھی اپنے سے پہلے گزرے آمروں کی طرح عوام کو سیاستدانوں کی کرپشن کا رونا رویا اور ملک کو ان کی کرپٹ پریکٹس سے نجات دلانے کا وعدہ کیا۔ مگر کیا ہوا کہ کچھ ہی عرصہ کے بعد اس نے خود ہی کرپشن کا بازار گرم کیا اور مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کا محاصبہ کیا کیا کہ دس سال سے زیادہ عرصہ تک ملعون قرار دیے گئے وہی لیڈر جب دوبارہ وطن واپس آئے تو جمہوریت کی دلدادہ عوام اپنے محبوب لیڈروں کو اپنے درمیان پا کر جیسے دوبارہ زندہ ہوگئی۔ جمہوری سرگرمیاں شروع ہوئیں تو آمروں کے زرخرید چیلے آہستہ آہستہ میدان سے باہر ہوتے گئے اور پھر دوبارہ دو جماعتی نظام قائم ہونے لگا۔ اسی دوران محترمہ بےنظیر کے قتل کا سانحہ ہوا اور پیپلز پارٹی برسرے اقتدار آگئی۔ اس حادثے نے جہاں ملک کی واحد خاتون وزیراعظم کی جان لی وہاں جمہوریت اور بالخصوص پیپلز پارٹی کا بہت بڑا نقصان ہوا۔  محترمہ کے قتل سے ان کے والد کی پارٹی پر قبضہ گروپ نے قبضہ جما لیا اور حکومت ملنے پر جو گند کیا اس کا نتیجہ اہل وطن نے تو برداشت کیا مگر پیپلز پارٹی لوگوں کے دلوں سے اتر گئی۔ جو کام آمر نہ کرسکا وہ کام پارٹی کے قبضہ گروپ نے خود ہی کردیا۔
پہلی مرتبہ صبر سے کام لیا گیا اور عوام کو جہموری حکومتوں کا احتساب کرنے کا موقع دیا گیا۔ اور پھر سب نے دیکھا کہ عوام نے جوکام کیا وہ ملک کے خودساختہ جینئیس آمر نہ کرسکے۔
عوامی احتساب نے ۲۰۱۳ کے انتخابات میں ملک کی تمام سیاسی قوتوں کے لئے بہت سے پیغامات دیے۔ سب کو نظر آگیا کہ جھوٹ کی سیاست زیادہ دیر کارآمد نہیں ہوتی اور  اس ملک کی عوام کو بے وقوف بنانا مشکل ہی نہیں بلکہ واقعتا نہ ممکن بھی ہے۔ جس قوم کی گھٹی میں جمہوریت ڈالی گئی ہو، جس ملک کو حاصل ہی جمہوری جدوجہد سے کیا گیا ہو اس ملک کی عوام کو اگرچہ آمروں نے جمہوری راستہ پر چلنے نہ دیا مگر جب جب ہمیں موقع ملا ہم نے ثابت کیا کہ ہم من حیث القوم جمہوریت پسند ہیں اور ہم کسی  بھی غیرفطری طریقہ حکمرانی کو قبول نہیں کریں گے۔  یہ پیغام تو بہت واضع تھا مگر آمروں کی جینئیس کلاس کو یہ سوٹ نہیں کرتا تھا اس لئے ایک مرتبہ پھراپنے مہروں کے بساط بچھائی گئی۔ احتجاجی سیاست کو دوبارہ ستر کی دہائی پر لانے کی کوشش کی گئی۔  اس مقصد کے لئے اس مرتبہ قرعہ جناب عمران خان اور علامہ قادری کے نام کا نکلا۔ سیکرٹ میٹنگز کے بعد اکٹھے ہو کر اسلام آباد پر حملہ آور ہونے کا سکرپٹ تیار ہوا اور پھر اس میں عوامی مصالحہ ڈالنے کے لئے منظم دھاندلی کا ڈول ڈالا گیا۔ کئی کہانیاں گھڑی گئیں۔ ملک کی کئی معتبر شخصیات کو ذلیل و رسوا کرنے سمیت ملک کی موجودہ تمام سیاسی قیادت کو اپنی ”مبارک زبان” سے القابات عطا کئے گئے۔ ایک سوبیس سے بھی زیادہ دنوں تک ملک میں بےچینی اور بے یقینی کی فضاء قائم رکھنے کے بعد کیا ہوا؟  دھاندلی کی پڑتال کے لئے جوڈیشل کمیشن کے بنائے جانے کے وعدہ پر دھرنا ختم ہوگیا۔ سب کو امید تھی کہ عمران اور اس کی پارٹی کمیشن میں وہ تمام ثبوت لے کر آئے گی جو وہ کنٹینرپر لہرایا کرتی تھی۔ کمیشن کی کاروائی کے دوران ثبوت منظر پر آئے مگردھاندلی کے خلاف نہیں بلکہ دھانلی کا شورمچانے والوں کے خلاف۔  ان کہانیوں میں سے ایک کا انجام ساری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ سازشی عناصر نے بہت کچھ پلان کیا مگر وہ یہ بات بھول گئے کہ پروفیشل کام کے لئے اناڑیوں کو ہائیر کرنے سے معاملات چوپٹ ہوجاتے ہیں۔ جب تک تجربہ کار پروفیشنلز سے کام لیا گیا تب تک حالات ایسے نہ بگڑے کہ ہنڈیا بیچ چوراہے کہ پھوٹ جاتی۔ اس مرتبہ تو سازشی کردار خود بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں۔ اپنے ہی منہ سے اپنے کرتوتوں کا اقرار کرنے لگے ہیں۔ پینتیس پنکچرز کا معاملہ بالآخر سامنے آہی گیا۔ عمران خان نے اپنے منہ سے اقرار کر لیا کہ ” وہ تو ایک سیاسی بات تھی”۔۔۔۔۔ واہ خان صاحب ملک کو ایک سو بیس دنوں تک عذاب میں آپ نے ڈالے رکھا کئی لوگ جان سے گئے ملک کا معاشی نقصان کیا مگر وہ  سب تماشہ آپ کے لئے ایک سیاسی بات تھی۔ آپ اب ان نوجوانوں کے والدین کو کیا کہیں گے جو آپ کی خاطر وہاں جان کی بازی ہار گئے۔۔۔۔؟ آپ شاید یہ کہیں کہ میں نے توایک سیاسی بات کہی تھی ہر والدین کو اپنے بچوں کو خود سمجھانا چائے تھا۔ میرے بھروسے انھیں کیوں مرنے کے لئے میرے پیچھے آنے دیا۔۔۔۔ ان بہنوں اور بیٹیوں کو کیا جواب دو گے جو تمھاری خاطر معصوم بچوں کو لے کر ڈی چوک پر دھرنا دیتی رہیں اوروہاں اوباشوں کی حوس بھی نظروں کے تیر برداشت کرتی رہیں ۔۔۔۔۔ کیا ان کے لئے بھی بس یہی جواب کہ ”یہ تو بس ایک سیاسی بات تھی۔ ؟؟ ڈرو اس وقت سے جب تمھارے سب جھوٹ سامنے آنے لگیں گے اور تمھارے جوان ”فین کلب” کے خواب ٹوٹ جائیں گے۔  تب یہ نوجوان جس شدت سے تم سے محبت کرتے ہیں اتنی ہی شدت سے تم سے نفرت بھی کرنے لگیں گے۔ پھر جیسے تم آج لوگوں کی پگڑیاں اچھالتے ہو اسی طرح تمھاری عزت کو بھی چار چاند چوکوں اور بازاروں میں لگنا شروع ہوجائیں گے۔۔۔۔۔ اور وہ وقت دور نہیں ۔۔۔۔ وہ وقت دور نہیں کہ جیسی کرنے ویسی بھرنی۔

عمران خود ویسٹرن سٹائل کی ساری لائف گزارنے کے بعد جب سیاست میں آیا تو اس نے اپنا تشخص ایک اسلامی لیڈر کے طور پر بنانے کا ڈھونگ رچایا۔  اسے معلوم تھا کہ پٹھانوں میں اسے سب سے زیادہ ووٹ ملنے والے ہیں اسی لئے اس نے اپنا رخ جماعت اسلامی کی طرف رکھا اور کسی لبرل یا سینٹر کی جماعت سے رابطے بڑھانے کی بجائے ان سب کی چور ثابت کرنے کی کوششس کی۔ کے پی میں ووٹ حاصل کرنے کے لئے اسے طالبان سے محبت بھی بڑھانا تھی تاکہ اس کا بھی حال اے این پی جیسا نہ ہوجائے لہذا اس نے طالبان کی حمایت میں بھی دھرنے دیے۔ اس نے تو جماعت اسلامی اور کسی دوسری مذہبی جماعت سے بھی زیادہ طالبان کے درد میں رونے کا مظاہرہ کیا۔ عمران نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ طالبان کو ملک میں دفاتر کھونے کی اجازت دی جائے۔۔۔۔ ان ساری کوششوں کا اسے ثمر بھی ملا اور اسے کےپی میں کافی مقدار میں ووٹ مل گیا۔ اور جناب نے اپنا وزیراعلی بھی منتخب کروالیا۔ مگر اب اس سوچ کا کیا کیجئے کہ عمران کو تو خود وزیراعظم بننا تھا۔  ووٹ نہ سہی اس کے پاس کافی بھاری جلسوں کا مینڈیٹ تو تھا جسے بقول عمران کسی نے سازش کےتحت چورا لیا تھا۔ عمران کو لگتا ہوگا کہ اس کے ساتھ تو ہاتھ ہو گیا۔۔۔ بڑے بڑے جلسے میں نے کیے اور وزیر کوئی اور بن بیٹھے۔ اگرچہ وزیراعلی اسی کی پارٹی کا ہے مگر جلسوں کے بھاری مینڈیٹ کا فائدہ تو دوسرے ہی لے رہے ہیں۔۔۔۔ ان کی اس بےچینی کو جمہوریت مخالف قوتوں نے خوب ایکسپلائٹ کیا۔ اس کو جھوٹی امید دلائی کہ مجمع لے کراسلام آباد پہنچو باقی ہمارا کام ہے۔ عمران کا اناڑی پن کام آیا اور صاحب ٹرک کی بتی پیچھے چل پڑے۔ پھر جو جو جھوٹ بولے گئے وہ سب اب تاریخ کا حصہ ہیں۔ مگر ۳۵ پنکچر والی سٹوری کا اصل سامنے آنے پر یہ ثابت ہو گیا کہ عمران جھوٹ کی سیاست کو اپنا استحقاق سمجھتا ہے عمران نے خود کہہ دیا کہ ”پینتیس پنکچر والی بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے کیوں کہ وہ تو ایک سیاسی بات تھی۔ تو عمران خان نیازی صاحب یہ تھا آپ کا نیا پاکستان؟ خدا، خدا کرکے ہمارے سیاسی لیڈر سمجھدار ہوئے تھے سیاست میں اخلاقیات نے جگہ بنانا شروع کی تھی مگر آپ منظرپر نمودار ہوئے اور سب اخلاقیات کا بیڑا پار کردیا۔ شکر ہے خدا کا جس نے آپ کے نئے پاکستان سے پوری قوم کو بچا لیا۔۔۔۔

آخر میں ایک اور بات کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ عمران نے کہا کہ پینکچر والی بات کسی نے کسی سے کہی اور پھر کسی دوسرے نے تیسرے سے کہی اور ٹوئیٹ ہو گئی۔ اس طرح ہم نے وہ بات اٹھا لی اور پھر متعلقہ اشخاص کی عزت پر خوب ہاتھ صاف کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ عمران اور اس کی پارٹی یاد رکھنا چاہئے کہ ہم سب کے پیارے نبی اکرم نے فرمایا تھا کہ کسی کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ جھوٹی باتوں کو آگے بڑھائے۔ آپ کے انقلابی کزن جناب علامہ طاہرالقادری کے الفاظ میں :

سنی سنائی بات پر یقین کرنا اور اُسے آگے پھیلانا ہماری قومی عادت ہے، حالانکہ ہم جس نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلمہ گو ہیں، اُن کا فرمان ہے کہ ’’کسی کے جھوٹا ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات بلاتحقیق آگے بیان کرنے لگے۔‘‘

 عمران صاحب آپ کو اندازہ ہی نہیں ہوا کہ یہ پاکستان کتنا بدل چکا ہے۔ اب یہ وہ پاکستان نہیں جہاں سازشیں بنائی جاتی تھیں اور بہت آرام سے اس پر عمل بھی ہوجاتا تھا۔ آج فوج کا چیف ایک سچا اور محب وطن سپاہی ہے جس کی نظر میں اس کا اولین فرض  ملک کی سلامتی کے لئے جہاد کرنا ہے۔ آج سیاسی لوگ پہلے کی نسبت زیادہ باشعور ہیں تبھی تو کسی نے آپ کی کال پر لبیک نہیں کہا۔ اور تو اور آپ کی اتحادی جماعت نے بھی آپ سے اس معاملہ پر فاصلہ ہی رکھا۔
میں ایک ادنا ووٹر کی حیثیت سے آپ سے اتنا عرض کروں گا کہ ابھی بھی وقت ہے سدھر جاو ورنہ۔۔۔۔ بہت جلد آپ کو ساری قوم خواجہ آصف کے الفاظ میں کہتی ملے گی: ” عمران خان کوئی شرم بھی ہوتی ہے کوئی حیاء بھی ہوتی ہے کوئی اخلاقیات بھی ہوتی ہیں”

Monday, June 22, 2015

زرداریاں

آپ جب سے پردہ سکرین پر نمودار ہوئے ہیں کرپشن کی کہانیاں آپ کے امیج کے ساتھ ساتھ ابھرتی رہی ہیں۔ محترمہ نے پہلے تو آپ کو زرہ فاصلے پر رکھا مگر مجازی خدا کو کب تک من و سلوی سے روکا جاسکتا ہے۔ طاقت کے ایوانوں میں گردش کرتی ابتدائی دنوں کی کرپشن کی داستانوں سے لے کر حالیہ خبروں تک آپ نے کبھی اپنے امیج کو بگڑنے نہیں دیا جیسا پہلے دنوں میں لوگوں کے ذہنوں میں تصور بنا بلکل اسی سمت میں آپ کے ہر اسکینڈل نے ترقی کا سفر جاری رکھا اور پھر آج کا دن ہے کہ آپ کرپشن کے بے تاج بادشاہ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ پیپلزپارٹی ، ایم کیو ایم اوراے این پی سب نے ملکر مفاہمت کے نام پر کراچی کے ساتھ جو کیا اس کی نظیر نہیں ملتی۔ محترمہ تو رخصت ہوگئیں مگر ان کے بے نظیر شوہر نےاقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کرعوامی خدمت کے ایسے دور کا آغاز کیا جس کا نہ ذوالفقار علی بھٹو نے خواب دیکھا ہوگا نہ ان کی بیٹی نے۔ آپ کی قیادت نے ملکی سیاست کو ایک نیا سبق سیکھایا کہ جب تک مفادات متفرق ہوں تب تک تو مفاہمت کی سیاست کو روا رکھا جائے۔ مگر جب کوئی طاقت آپ کی اس سیاسی مفاہمتوں سے بھرپور کرپشن کی ریاست کو للکارے تواستحقاق کا راگ الاپنا شروع کردیں۔

جو غلطی کچھ دن پہلے عمران نے کی ویسی ہی غلطی اب زرداری صاحب کرنے جارہے ہیں۔ اگرچہ ان دونوں کی سمتیں مختلف تھیں مگر غلطی ایک سی ہے۔ دنوں لیڈر بدلے ہوئے پاکستان کے مزاج کو صحیح طور پر سمجھ نہیں سکے۔ عمران نے سمجھا کہ شور شرابہ کرنے سے جیسے پہلے جمہوری حکومتیں گرادی جاتی تھیں ویسے ہی کچھ سازشی عناصر کو ساتھ ملا کر نواز حکومت کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ بہت زور لگانے کے باوجود جب کچھ نہ بن پایا تو لوٹ کے بدھو گھر کو آئے۔ اب کچھ ایسا ہی کمال زرداری صاحب دیکھانے چلے تھے۔ محترم اسلام آباد پہنچے اورپاک فوج کو للکار دیا۔ ملک بند کرنے کی بھی دھمکی دے ڈالی۔ ارے یارو۔۔۔ کچھ تو خیال کیا کرو۔۔۔۔ اب عوام اتنے بھی بےوقوف نہیں کہ آپ کی ہربات کو اپنے لئے فرمان سمجھ کر جان قربان کرنے نکل کھڑے ہوں۔ اپنا گریبان جھانکیں محترم آپ نے تو پیپلز پارٹی کو زندہ درگور کردیا ہے۔ اس نیشنل لیول کی پارٹی کو ریجنل پارٹی بنا دیا ہے۔ آپ کے صدارتی دور میں آپ کو سیاست کے میدان کا سب سے بڑا کھلاڑی کہنے والے اور آپ کو سیاست میں پی ایچ ڈی کی جعلی ڈگری ایشو کرنے والے تبصرہ نگار یقینا اپنی ہی نظروں میں گر چکے ہوں گے۔ آپ کی حالیہ گیڈر بھبھکیاں کس کو متاثر کرتی ہیں یہ معلوم کرنا ابھی باقی ہے مگر ایک چیز اور آپ کی اور عمران کی ملتی جلتی ہے کہ اس نے خالی پنڈال کو پورا پاکستان بولا اور آپ نے اتخابات میں عوام کی طرف سے مسلسل عوامی نفرت کا اظہار ہونے کے باوجود کہہ دیا کہ اگر آپ کو تنگ کیا گیا تو آپ پورا پاکستان بند کردیں گے۔ زرداری صاحب آپ کی حس لطافت بھی زردریوں میں کہیں دور نکل گئی ہے۔
شاہ صاحب نے بھی اپنے صاحب کو ثابت کیا کہ ہم عوامی چیخوپکار پر تو ہر وقت سوتے رہتے ہیں۔ ہم شاہ ہیں توکیا ہوا پانی کی کراچی میں کمی سے ہمارے اندر کربلا کا احساس نہیں جاگا مگر ہمارے ٹولے پر کوئی ضرب عضب لگانے لگے گا تو ہم بھی کسی خودکش طالب سے کم نہیں۔ اسی وقت شاہ صاحب کی حس قیام جاگی اور رینجرز کے خلاف حدود کا پرچہ کاٹ ڈالا۔ پارٹی کے دوسرے لیڈران نے بھی حسب توفیق اپنے لیڈراعظم زرداری کو خراج تحسین نظر کیا اور باقی میڈیا والوں پر چھوڑدیا۔

Tuesday, June 16, 2015

موذی لیڈروں کی دھاندلیاں

کئی دنوں سے لکھنے کا سوچ رھا تھا مگرروزگار کے مسائل نے چاروں طرف سے گھیرا ہو تو لکھنے لکھانے کا یا کوئی بھی تعمیری کام کہاں ہوپاتا ہے۔ اب کچھ معاملات معمول پر آئے ہیں تو بہت سے موضوعات پر قلم کاری کرنے کو جی مچل رھا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں کئی واقعات ایسے ہو گزرے ہیں جن پر تبصرہ کرنا چاہتا ہوں۔ جی کوڑا کریں اورمیری گزارشات کو پڑھ ہی ڈالیں۔

برمی مسلمان:
سب سے پہلے تو میں برما میں ہونے والے ھولناک واقعات کی مذمت کرتا ہوں۔ میں حیران ہوں کہ بدھ مت لوگوں کی غصہ اور نفرت نے کیسے مت ماردی کہ وہ اپنے تمام اخلاقیات ہی بھول گئے۔ ان کے مذہب میں تو کسی کیڑے مکوڑے کو مارنا بھی قابل مذمت اور قابل ندامت ہے پھر وہ انسانوں سے درندگی کا مظاہرہ کیسے کررہے ہیں؟ مگر پھر سوچتا ہوں کہ ہم اپنے گریبان میں دیکھیں تو شاید ایسی درندگی یا اس سے بھی زیادہ درندگی کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ طالبان جو مسلمان ہونے کا دعوی کرتے تھے انھوں نے مخالفوں کی گردنیں جسموں سے الگ کر کے ان سے فٹبال کھیلے ہیں۔ اور اس پر کبھی ہمارا ضمیر نہ جاگا۔ مسلمانوں کو ایک قوم یا امت کہنےوالے تو بہت ہیں مگر مشکل وقت میں وہ صرف اپنی املاک کی توڑپھوڑ کرنا اور جلاو گھراو کرنا ہی جانتے ہیں۔ ان کی دھینگا مشتیاں کوئی مثبت پیغام دینے کی بجائے دنیا کو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ہم نے ابھی تک وقت سے کچھ نہیں سیکھا۔ دوسری طرف ہمارے حکمران ہیں جویا تو عیسائی دنیا کے مقروض ہیں یا پھراپنی کمزوریوں اور عیاشیوں کے ہاتھوں مجبور اس لئے مذمتوں سے زیادہ وہ بےچارے کچھ نہیں کرسکتے۔
کاش ہماری آواز ایسی ہوتی کہ وہ دلوں پر اثر کرپاتی۔ مسلمان چیختے رہتے ہیں مگر مہذب دنیا پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ مجھے یہ جان کر تسلی ہوئی کہ ملالہ یوسفزئی نے بہت پر اثر انداز سے دنیا کے لیڈروں سے روہینگیا کے مسلمانوں سے غیرانسانی سلوک کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کی ہے۔ ہماری یہ واحد آواز ہے جس کو دنیا نہ صرف سنتی بلکہ ذہنوں کو بدلنے کی تاثیر بھی رکھتی ہے۔ ایک اور امن کے لئے انعام یافتہ محترمہ ہیں۔ برما کی محترمہ آنگ سن سو جنھوں نے امن کا نوبل انعام حاصل کررکھا ہے۔ اب جب انھیں کے ملک کے مسلمانوں پر افتاد پڑی ہے تومحترمہ پراسرار طور پر خاموش ہیں۔ نوبل انعام دینے والوں سے عرض ہے کہ جیسے آپ کسی شخص کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس کو نوبل انعام سے نوازتے ہیں اسی طرح کوئی طریقہ وضع کریں کہ اگر وہ شخص اپنی خدمات کو معمولی مفادات پر قربان کرنے لگے تو اس سے وہ اعزاز واپس لے لیا جائے۔

انتخابات:
دھاندلی کا رٹ لگانے والوں کو ان ہی کے اعمال و اقوال بھوت بن کر ڈرانے آپہنچے ہیں۔ کنٹینرز کو ٹاپ گئر پر رکھ کے اسلام آباد آئے اورپھرامپائرکو ڈھونڈتے رہ گئے۔ انتخابات کیا ہوتے ہیں اور ان کا انعقاد کتنا ذمہ داری کا کام ہوتا ہے اس کا اندازہ عمران ٹلی کو اب خوب ہوچکا ہوگا۔ عمران ٹلی دھرنے کے دنوں میں مجھ سے بہت بحث کرتا تھا اس کا خیال تھا کہ خاں صاحب نے جو کہہ دیا کہ دھاندلی ہوئی ہے تو بس ہوئی ہے۔ حکومت کو جانا چائیے۔ مگر اب میرا یار عمران ٹلی کے پی کے انتخابات پر کچھ مایوس اور خاموش سا ہو گیا ہے۔ اب اسے میں کیسے سمجھاوں کہ بڑے بڑے دعوے کرنا اور دوسروں پر تنقید کرنا دنیا کا سب سے آسان کا ہے مگر گراونڈ پر کچھ کرکے دیکھانا بہت زور مانگتا ہے۔ خان صاحب نے کرکٹ کے بعد آسان راستہ اپنانے کی کوشش کی اوراسے لگا کہ سیاست شاید آسان کام ہے۔ کرنا بس یہ ہے کہ اپنے پارٹی جلسوں میں دوسروں کی پگڑیاں اچھالو اور ڈھیر سارے ووٹوں کے ساتھ اسمبلی پہنچ کر حکومت بنالو۔۔۔۔۔۔۔ ظاہری طور پرتو ایک ریٹائرڈ کرکٹر کے لئے میچوں کی کمنٹری سے بھی زیادہ آسان کام تھا مگر جناب انھیں کیا معلوم تھا کہ: یہ تو قتل گاہ الفت میں قدم رکھنے کے مصداق ہے۔ خیر عمران ٹلی سے میری گزارش ہے کہ جناب! اپنے قاید کو سمجھاو کہ محترم اب سنجیدہ ہوجاو اوراپنی سیاست میں کچھ پختگی اور ذہانت کا مظاہرہ کرو تاکہ اگلے دنگل میں کچھ کارنامہ دکھانے کے لائق بن سکو ورنہ ایسا ہی رویہ رہا تو پھر ریورس گئیر ہی نہ لگ جائے۔

ضرب عضب کی سالگرہ:
ہمارے ملک میں جو سب سے کمال کا کام ہورہا ہے وہ ہے ضرب عضب۔ اس مشن کا سال مکمل ہو چکا ہے اور میری بہادر افواج نے بےشمار کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ ہزاروں ملک دشمن دہشتگردوں کو جہنم رسید کیا ہے اور اس جنگ میں میرے بہت شیردل شہید ہوئے ہیں۔ ان کی شہادت کا صدقہ ہے کہ آج دہشت گردی کے واقعات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ ہمارے چیف آف آرمی سٹاف محترم راحیل شریف نے واضع طور پر بتا دیا ہے کہ آخری دھشتگرد کی موجودگی تک یہ جنگ جاری رہے گی۔ اندرونی گندگی کو مٹاتے دیکھ کر بھارت کے لیڈروں کا رونا شروع ہوگیاہے۔ ان کا مختلف ہیلےبہانوں سے پاکستان مخالف بیانات دراصل ان کے اندر کی پریشانی کی نشانی ہے۔ انھیں صاف نظر آرھا ہے کہ پاکستان واپس ترقی کے راستے پر گامزن ہونے جارہا ہے۔ ایک طرف تو پاکستانی افواج نے دھشتگردوں کا صفایا شروع کردیا دوسری طرف نوازشریف کی سیاسی تدبروتحمل کی وجہ سے چاروں صوبوں میں ایک یگانگت اور ورکنگ ریلیشن شپ موجود ہے۔ ملکی معیشت کو دوبارہ پٹڑی پر چڑھایا جا رہا ہے۔ چین سے ساتھ ملکر میگاپروجیکٹس پر کام شروع ہونے والا ہے جو کہ اس ریجن میں گیم چینجرہوگا۔ اس ساری مثبت خبروں نے بھارتی لیڈروں کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ اس نیند حرامی کا مجھے افسوس ہے۔ پڑوسی کو چین آئے ہماری تو دعا ہے مگر جناب موزی صاحب اب آپ کے اور پاکستان کے ہر دشمن کے نصیب میں بےچینی لکھی ہے تو بتائیں ہم کیا کرسکتے ہیں۔ اب آپ کے چین کے لئے ہم اپنے آئرن فرینڈ چین کو تو چھوڑ نہیں سکتے نہ۔۔۔۔۔

موذی لیڈر:
بھارتی وزیراعظم مودی نے بنگلہ دیش میں فرمایا کہ بھارتی افواج مکتی باہنی کے روپ میں لڑی اور پاکستان کو شکست دی۔ مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننا ایک حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں۔ یہ یقینی طور پر ایک افسوس ناک اور دردناک واقع تھا مگر اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ پاکستان ایک الگ ریاست بنا تھا ایک نظریے کے تحت اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بنگلہ دیش بننے سے وہ نظریہ فیل ہوگیا۔ ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ اس تقسیم نے تاریخ سے صفحوں پر سنہرے حروف سے لکھ دیا کہ پارٹیشن کا مطالبہ بلکل درست تھا۔ ایک تو ہندو اور مسلمان دو مختلف المزاج اقوام ہیں اوردوسرے ہندووں کی صدیوں کی غلامی انھیں کبھی مسلمانوں سے امن کے ساتھ رہنے نہیں دے گی۔ ایک مسلمان ملک مزید جتنے بھی نئے ملکوں میں تقسیم در تقسیم ہوجائے مگر وہ کبھی دوبارہ بھارت نہیں بن سکتا۔ بھارتی سازش کرنے والوں نے اور اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے والوں نے اپنے ہی پاوں پر کلھاڑی چلادی۔ ہم نے تو بھارت کے دو ٹکڑے کیے تھے بھارتی لیڈروں نے اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے بھارت کے دو ٹکڑوں پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ اپنی بصارت سے اس کے تین ٹکڑے کردیے ہیں۔ اور اب ان کے اکھنڈ بھارت کا سپنا اور بھی زیادہ باریک کرچیوں میں ریزہ ریزہ ہوچکا ہے۔ یہ بات جس دن بھارتی سیانوں کو سمجھ آئے گی اس دن وہ اپنے موذی لیڈروں سے ان بےوقوفیوں اور ان کی ان موذی دھاندلیوں کا حساب بھی ضرور مانگیں گے۔ مگرجنونی ہندووں کو عقل کے ناخن لینے کی منزل ۔۔۔۔ ہنوز دور است۔

Wednesday, May 6, 2015

سیاسی غداریاں اور عامی


ہمیں اب یہ دن بھی دیکھنے تھے کہ ہمارے ملک کے سیاسی لیڈر ”را” سے مدد کی درخواست کرتے نظر آئیں۔ خدا کی پناہ کسی ملک میں ایسا بھی ہوا ہے کہ دشمن ملک کی بدترین ایجنسی سے اسلحہ مہیا کرنے کی اپیل ملک کی سیاسی جماعت کے لیڈر کی جانب سے کی جائے۔ جماعت بھی وہ جو اس بات کا کریڈٹ لیتے نہیں تھکتی کہ ملک ہم لوگوں نے بنایا اور ملک کی خاطر محاجر بنے ہیں۔ اس مطالبہ کے پیچھے کیا اعوامل چھپے ہیں اس کا ادراک تو شائد نہ ہوسکے مگر اتنی جرات اور بہادری کا مظاہرہ تو کوئی بھائی ہی دیکھاسکتا ہے یا وہ شخص جس نے آمروں کو بہت اندر سے جھانکا ہو ورنہ ملک سے غداری جیسا اقدام کوئی معمولی شخص سوچ بھی نہیں سکتا۔ بھائی لوگوں کی جماعت کراچی کو تو بوری بند کرتی رہی ہے مگراس بارتو ان کے لیڈر نے پورے پاکستان کو بوری بند کرنے کی دھمکی دے ڈالی ہے۔ اور پھر جلتی پر تیل بھی ڈالا۔۔۔۔ اکہتر کی بات کرکے جونقصان بھائی صاحب نے کیا ہے وہ تو کوئی بڑے بڑا دشمن بھی نہ کرپاتا۔ اپنوں کی کوتاہیوں کو یوں برسرے بازار نیلام کرنا تو کوئی ان سے سیکھے۔


اس تماشے کے بعد میں اس بات پر حیران تھا کہ کسی صاحب دانش کو کیوں کوئی توفیق نہیں ہو رہی کہ اس پراحتجاج کرے۔ سیاسی لوگ تو جیسے سکتے میں آگئےتھے۔ وہ تو خیر ہوئی کہ فوجی قیادت نے نوٹس لے لیا ورنہ سیاسی قیادت تو سوئی رہ جاتی۔ یہ واقع بھی کچھ کچھ پشاور کے اس واقع سے ملتا جلتا ہے جس میں بے گناہ بچے شہید ہوگئے تھے۔ عسکری قیادت کے ری ایکشن کے بعد تو جیسے سب کی سوچ ہی بدلتی نظر آئی سب طالبان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس بار الطاف بھائی کے بیان کے بعد جیسے سب کے پاوں تلے سے زمیں ہی نکل گئی تھی۔ سب ھکا بکا تھے کہ فوجی قیادت نے ایک بار پھر لیڈ کیا اور سخت ری ایکشن دے کر سب کو راستہ دیکھایا ۔۔۔ اس کے بعد تو جیسے سب ہی ایک صف پر آتے گئے سب اطراف سے تنقید شروع ہوگئی اور پھر ڈراپ سین ہوگیا۔۔۔۔۔ بھائی صاحب نے معافی مانگ لی۔۔۔۔ یہ اچھا ہے کہ سب طرف آگ لگاو جب اثاثے جلنے لگیں تو معافی مانگ لو اور معاملہ رفع دفعہ ہو جائے گا۔


خوب ہے میرے وطن کی گلیوں کی فضاء ۔۔۔۔ یہاں جس کے پاس مین پاور ہے اس کو سب ہی حقوق حاصل ہیں چاہے وہ دھرنے والے ہوں یا یہ بھائی صاحبان سب اپنے حقوق کے لئے ریاست کے گلے پر انگوٹھا رکھ کر اپنے مطالبات منواتے ہیں۔ ریاست اور ریاستی اداروں کو گالیاں دیتے ہیں اور پھر معزرت کرکے صاف نکل جاتے ہیں۔ عمران نے بھی ایسا ہی کیا اور اب الطاف بھی ویسے ہی معافی شافی بول کے صاف ہوگئے۔ ایسا ہی کچھ اگر میں یا میرے جیسا کوئی عامی کر بیٹھے تو سینکڑوں دفعات فوری طور پر لاگو ھوجائیں گی۔ ایک ایس ایس پی تو بہت بلا ہوتا ہے تھانے کا کوئی عام سپاہی میرے جیسوں کو سبق سیکھانے کے لئے کافی ہوگا۔


میرے عظیم ملک سے دانشورو! مصلحت کوش حکمرانو! اور میرے نگہبانوں ! اگر دشمن ملک کی فوجوں کو اسلحہ فراہم کرنے کی درخواست سے بڑا کوئی غداری کا عمل ہے تو آپ لوگ میرے علم میں ضرور اضافہ فرمائے گا۔

Tuesday, October 28, 2014

Politics of Agitation

Qadri and Imran both have no stakes in Pakistan. Their families are living abroad. Imran is father of two sons and one allegedly daughter from Sitawhite. His family is living in UK. He was doing great social work and providing great help in health care for Pakistanis. He was really contributing to the nation who gave him love and honor and consider him as hero. Other people like Ibrar a singer also followed his path and established NGO and started working health care services. Then suddenly he decided to jump into politics. Now, see what he is doing, Agitation is the type of politics he adopted. Instead of concentrating on KPK and showing his abilities he came to Islamabad and declared war against Federal Govt. of PML-N. He started with shining demands of political reforms but when govt accepted his demands, he changed his stance and stuck with his demand for PM's resignation. Many innocent families lost their loved ones and millions of rupees are lost due to his stupid demand of resignation. All political parties requested him to postpone Dharna and come to parliament. Govt was willing to surrender for his genuine demands but he was looking for prime minister's seat only. Someone fooled him by saying that go to Dharna and you will become prime minister. After all, his Dharna speeches are about becoming prime minister.

They are not Inqalabis rather they are imposed on Pakistani Qaum as a punishment. Because we all voted for democracy. We love democracy but there are people who want us to be slaves of dictators. Dont you see lovers and supporters of dictators around these two inqalabi leaders. They are the real culprits behind all his chaos. Anyways, after all this stupid exercise, I hope we will come up again, rise and shine in our given resources. We will not burn our resources instead we will refine them and use them for our betterment. Political parties are our great resources. We earned these with more than 67 years of struggle. There is always room for correction. Our political parties showed maturity and proved their eligibility to become our representative. Our Inqalabis must realize that they can not create scene like tahrir square because they are on the wrong side of the road. They are not struggling for democracy, rather they are fighting against democracy. Their struggle once again divided the nation to think about dictatorship. I remember faces who were saying on TV screens that dictators are better than this democracy. Some Inqlabi writers like Hassan Nisar look very desperate while supporting Imran Qadri. Some times they showed that how pious and great man Mr. Qadri is and how dedicated his followers are. But some other times he never hesitated by saying that Imran is the right choice for real Prime Minister other wise dictatorship is much better than democracy. He was not actually supporting any one Imran or Qadri. He was just against Nawaz govt. and his lone purpose to support both was to derail the democracy in the country.

Corruption has been key word in these days. Everybody is talking about corruption and corrupt practices of our politicians. Its really bad to have corrupt people in any field. If leaders in any institute are indulge in corrupt practices then the whole depart can become dirty. Politics is one of other fields of life where corruption have been on the scene for many years. There is corruption in other fields but media don't pay attention to those areas. Politicians are soft target to everyone. Politicians themselves propagate against each other while the media play vital role to create hype on hypothetical blames. Every time when we start to have democratic system in place, there are rumors all around about the corrupt system and corruption of political class. Don't we have corrupt people in other walks of life?

There is a lot of corruption in education system? Is there any genius who demanded to destroy schools because education system is corrupt? Yes, I remember there is a segment of life who genuinely did so.... Taliban did so... they thought education system is corrupt so lets bomb all the schools. Imran's logic is not different to those people. His philosophy is that because political system in the country is corrupt so lets bomb this system. He and his "cousin" Qadri is trying to do so.... But I am sure these two and their masters will ultimately fail in their mission.

We will prosper in this existing system. We will gradually fix all the problems of our political and judicial system. Gradual evolution is the only solution to our problems. We don't need any revolutions. Revolutions bring chaos and spread anarchy. Where, there is no respect for law and order, only one law rules there which is Jungle's law. Innocent people get killed and poor become poorer and rich become richer. But if we keep on working for betterment of our existing system, as all developed nations did so and succeeded, we will also improve our system. Keep on believing in democratic system and working hard to improve the processes involve is the only way to prosper as a nation.

My humble request to Mr. Imran Khan is that Dear sir, please go home and prepare for next parliament session. Show your intelligence there and come up with new ideas. Pursue people to understand and share your vision. Inculcate your philosophy there because change will start from within. Concentrate on KPK. Prove your abilities in the province and bring change into this poor province. Establish power plants, new schools for every one. Ask your Ministers to admit their children in the Govt. school to prove that you have brought some change in education system. Polio virus is becoming another great embarrassment for Pakistan. World is holding Pakistan responsible for not eradicating this disease. KPK is once again on top in Polio cases.  Generate new sources of income for the people of KPK. Set target for your ministers to deliver in their respective ministries.....

These are few example for Imran Khan. He has very very important things to do and perform rather than just Agitate. But we all know to deliver all these things one must have dedication cause and commitment with his people. Imran khan as he is a short tempered person he can not wait for long time to work hard and perform. His advisers are the worst of political arena. Imran is surrounded by lovers of dictators. He feels while they are with me they are angels and those who are not with me they are devil. Imran is following delusional version of some political philosophy. He practices modern patterns of life as he showed in his Tharna processions but claims that he is close to Jamat-e-Islami in political idealogy. Its very confusing, Isn't it?

Someone in the election campaign said that "Political power is like a Batch box. If some gets this power but don't know how to use it, he can burn the jungle including his own tail.". Imran Khan has no working experience of  any public portfolio. He never been in power and if suddenly he gets power and God forbid he becomes a Prime minister of Pakistan, he will use power as match box to fire up every thing. What ever power he has now he is not using it for betterment of Pakistanis. Rather he is just crying for PM resignation.

"Bandaar kay hath main kisi nay machis di to uss nay jangle jalanay dala  ;)"

Sunday, July 13, 2014

unless he is a journalist


آمریت نے جہاں ملک کے سیاسی کردار کو رگڑا دیا ہے وہیں معاشرے کے دیگر کردار بھی مسخ ہوئے بغیر نہیں رہے. اکثر محسوس ہوتا تھا کہ ہمارے معاشرتی بگاڑ میں ہمارے دانشوروں کا بھی اتنا ہی ہاتھ ہے جتنا آمروں کا. حقائق کو چھپانا یا ان کو موڑ توڑ کر کسی اور شکل میں پیش کرنا کرپٹ دانشوروں کا سرمایہ تو ہوسکتا ہے مگر جب جلیل القدر اصحاب بھی اسی گنگا میں نہاتے ملیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے. جناب ایاز امیر ملک کے مشہور لکھاری ہیں میں ان کا ایک ریگولر قاری ہوں. ان کی رائے سے اپنی رائے بناتا رہا ہوں ان کی فراہم معلومات کو مصدقہ جانتا ہوں اور ان کے خیالات سے اپنی کائنات کے روز و شب روشن کرتا ہوں. آپ کا کالم " افسوس کہ ہوگا کچھ بھی نہیں" (12جولائی .2014) نظر سے گزرا تو چند تحفظات نے میرے ذہن میں جنم لیا. آپ کے خیالات میں سخت قسم کا تضاد ہے. آپ نے سال پہلے مجھے کچھ اور باتیں سمجھائیں مگر اب آپ کچھ اور ہی فرمارہے ہیں. اسی حوالے سے چند گزارشات جناب کی خدمت میں حاضر ہیں

محترم ایازامیر صاحب آپ کے کالم کا پہلا فقرہ ہی اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ آپ موجودہ حکومت سے کس قدر مخاصمت رکھتے ہیں. آپ نے فرمایا کہ "جمہوری حکومت اور فوجی حکومت دونوں ایک سکے کے دو رخ ہیں. اور دونوں ہی ہمارے مسائل کے ذمہ دار ہیں." میں آپ کی بات سے کسی قدر متفق ہوں مگر آپ کو چائیے کہ فوجی اور جمہوری حکومتوں کے ادورا کے حساب سے ان کے حصے میں جس قدر ذلت آنی چائیے اس کا ذکر بھی کردیتے. بتاتے کہ ہمارے ملک میں جمہوری رویے پیدا ہی نہیں ہونے دئیے گئے. آپ کیوں نہیں بتاتے کہ آج اگر کچھ ملک میں قابل فخر موجود ہے تو وہ سب جمہوری لوگوں کا ہی پیدا کردہ ہے ورنہ باقی سب تو گند ہی کرگئے ہیں. آپ کو آزادی اپنے لئے تو اچھی لگتی ہے کیوں کہ اس سے آپ روزی کمالیتے ہیں مگر آپ پوچھتے ہیں کہ اس سے کسی مزدور اور کسان کو کیا فائدہ تو جناب اسی آزادی رائے کی وجہ سے تو بھٹو مزدوروں اور کسانوں کے دلوں میں بس گیاتھا کیا بھٹوصاحب نے مزدوروں اور کسانوں کے لئے روٹی کپڑا اور مکان کا وعدہ کبھی پورا کیاتھا... نہیں مگر آج بھی اس کے نام پر مزدور مرمٹنے کو تیار ہیں. اس شخص نے مزدوروں کو آواز دی تھی آزادی دی تھی روٹی نہیں.... رشوت ستانی یا معاشرتی برائیوں کو مٹانے کا کوئی آپ کے پاس اس کے علاوہ تیزتر کلیہ ہے تو بتادیں ورنہ... رشوت سے ستائے لوگوں کی آواز بلند ہونے سے ہی اس برائی سے نجات کا کوئی راستہ نکل سکتا ہے. جتنی زیادہ آواز بلند ہوگی اتنا اس کے سدباب پر اھل حل و عقد مجبور ہوں گے. آمریت کی سب سے بڑی طاقت ہی یہی ہوتی ہے کہ وہ آتے ہی سب کو خاموش کرواتے ہیں. اور اس کے بعد مسلسل آوازوں کو دبا کے رکھتے ہیں.... اور جب آواز کا والیوم کھل جاتا ہے جیسا کہ پرویز مشرف سے ہوگیا تو پھر اس کا حشر بھی سب نے دیکھ لیا. اسے مجبورا اپنی کھال بھی اتارناپڑی اور صدر کی کرسی بھی گئی. اس کے ساتھ ساتھ میڈیا نے عوام کو باشعور بنانے میں کچھ کردار تو ضرور ادا کیا ہے. تبھی تو اس دفعہ کارکردگی اور نئی امید کو ووٹ پڑے. اب اگر نئی امید کو یہ امید تھی کہ وہ سارا میدان ہی لوٹ لے گی تو اب عوام اتنے بھی بھولے نہیں رہے.... ہماری حس جمالیات میں بھی اضافہ ہوگا.... ذرہ رکیں سر.... ابھی بہت سفر باقی ہے ابھی تو ہم نے پہلا قدم اٹھایا ہے جمہوری دور ایک سنگ میل طے کرپایا ہے ایک جمہوری حکومت سے دوسری حکومت کا آغاز ہونا پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا.... کیا یہ سفرآپ کو بہتری کا اور قائداعظم کے ملک پاکستان کا سفر نہیں لگتا.


ضیاء کے دور کے بعد کے جمہوری دور کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ پہلے آمریت کا جبر تھا اب جمہوریت کی بدعنوانی کا دور دورا ہے... آپ بطور دانشور مجھے سمجھائیں کہ جبر کا دور بہتر ہوتا ہے کہ بدعنوانی کا... میرے خیال میں جبر سے بری اور کیا چیز ہوگی جس میں آپ کے جسموں کے ساتھ ساتھ سوچوں کو بھی غلام بنادیا جاتا ہے. جبر میں پیدا ہونے والے دانشور کبھی جمہوریت کی سختیوں کو برداشت کرنے حوصلہ کھوج نہیں پاتے. انھیں جبر کی فضاء ہی رآس آتی ہیں اور وہ اسی کے گن گاتے نظر آتے ہیں. جمہوریت کوئی جادو کی چھڑی نہیں کہ ادھر گھمایا اور ادھر نتیجہ سامنے... اس کے ثمرات حاصل کرنے کے لئے نسلوں تک ایک ہی ڈگر پر سفر کرنا پڑتا ہے. ہمارا قبیلہ تو کبھی بھی جمہوری راستہ پر ایک دہائی تک بھی سفر نہ کرسک پھر ہم کیوں ان ملکوں کی مثالیں دیتے ہیں جنھوں نے صدیوں تک بےروک و ٹوک اس منزل کی جانب سفر کیا.


14 جولائی 2012 کے جنگ میں آپ کا کالم چھپا ہے: جمہوریت میں بدعنوانی کے بارے میں آپ کی اپنی رائے کچھ یوں ہے کہ" بدعنوانی کا آسیب صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں ہے, ہر سیاسی نظام میں اس کا عکس دیکھا جاسکتاہے." اور پھر آپ نے اپنے اس کالم میں دیگر ملکوں کے بدعنوان حکمرانوں کے علاوہ زرداری صاحب کا ذکر کیا اور فرمایا کہ"ہوسکتا ہے کہ بدعنوانی کی انتہا کردی گئی ہومگرخدا کےلئے یہ تو بتائیں کہ کیا یہ پاکستان کا سب سے بڑا اور واحد مسئلہ ہے"


جمہوریت یا آمریت کے ثمرات بتاتے ہوئے آپ نے روس اور کیوبا اور پھر مغربی جمہوریت ( مغربی عیسائی جمہوریت کہا جس سے لگتا ہے آپ نےبھی اپنے افکارتازہ کو کسی مولانا سے مشرف بہ اسلام کرواکے لکھنا شروع کردیاہے. ) کا ذکر کیا ہے مگر یہ بتانا بھول گئے کہ ان ملکوں میں وہ نظام جو آپ کے مطابق نتائج فراہم کررہے ہیں وہ کتنے عرصہ سے مسلسل نافذالعمل ہیں. ان کو ہمارے ملک کے ساتھ ملانا ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے.یہاں آپ ہی کے مطابق دو نظام اپنی بدترین شکل میں عوام کے سینے پر مونگ دل رہے ہیں. ایک نظام تو جبر کا ہے اس پر تو دنیا کا کوئی ذیشعور انسان آمادہ نہ ہوگا دوسرا جمہوریت ہے اس کو ثمرآور ہونے میں اتنا ہی وقت لگتا ہے جتنا کسی بھی فصل کو اگنے اور پھر پک کر تیار ہونے میں لگ سکتا ہے. جمہوریت تو ایک نظام ہے جیسا جمہور ہوگا ویسا اس کا نتیجہ بھی ہوگا. یہ نہ تو عیسائی ہوتا ہے نہ مسلمان. مذہب تو انسانوں کا ہوتاہے نظاموں کا نہیں لیکن نہ جانے کیوں ہمارے دانشور اس سب کو دانستہ طور پر مکس کردیتے ہیں اور پھر اسلامی نظام کا الگ سے راگ الاپنے لگتے ہیں. اگرملک میں جمہوریت ہواور اکثریت مسلمانوں کی ہو تو اس جمہوریت میں جو بھی سسٹم ہوگا لازمی طور پر اسلامی سسٹم ہی ہوگا.ورنہ الگ سے کیا کوئی آمریا طاقتور گروہ اپنی طاقت سے اس کو نافذ کرے گا.


آپ نے "عناصر" کا ذکر کیا ہے کہ وہ اپنے خواص نہیں بدلتے اس سے مراد آپ کی افراد ہیں تو جناب انسان تو ہر لمحہ کچھ نہ کچھ نیا سیکھتا ہے اور اپنے خیالات و افکار میں تبدیلی کرتا رہتا ہے مگر "عناصر" سے مراد اگر آپ کی مخصوص طبقات ہیں تو آپ کا نے بجا فرمایا مگر زرداری اور شریف برادران کو سنگل آوٹ کر کے آپ کچھ ذاتیات کی طرف نکل گئے. عسکری فرقہ کی سوچ ہمیشہ ایک جیسی ہی ہوتی ہے چاہے وہ نیا کے کسی ملک کا عسکری فرقہ یا قبیلہ کیوں نہ ہو ان کی نظر میں مسائل کا حل قوت کے استعمال میں ہی رکھا ہوتا ہے. اسی طرح سیاسی قبیلہ کے لوگ ایک ہی عنصر سے بنے ہوتے ہیں. ان کی سیاسی مجبوریاں دنیا کی سب سے بڑی حقیقتیں ہوتی ہیں. دنیا کا کوئی سیاست دان ہو اس کو سیاسی مجبوریوں کے تحت وہ کچھ کرنا پڑجاتا ہے جو اس کے عام طور پر موجود نظریات سے متصادم ہی کیوں نہ ہو. اس حقیقت سے کوئی بچ نہیں سکا نہ زرداری نہ شریف برادران نہ عمران نہ کوئی اور.....

کالم کے آخر میں آپ نے بڑی صفائی کے ساتھ ملک کی مرکزی سیاسی جماعتوں کی یہ کہہ کردھلائی کردی کہ وہ کسی نہ کسی شخصیت کے زیراثر ہیں. اور وہ شخصیات آپ کی نظر میں بہت کوتاہ نظر اور جاہل واقع ہوئے ہیں کیوں کہ وہ ان انقلابی اصلاحات کو سمجھ ہی نہیں سکتے جو ملک کو آگے بڑھانے اور نظام میں بہتری لانے کے لئے درکار ہیں. اس کے بعد آپ نے تین سیاسی جماعتوں کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے ان کے کارکنوں کی یہ خصوصیت گنوائی کہ ان کے کارکن بہت تربیت یافتہ ہیں مگر پھر آپ نے خود فرمایا کہ جماعت اسلامی تو اپنے نظریات کی قیدی ہے اور الطاف حسین کی تعریف کے بعد ان کو محاجروں کا لیڈر قرار دے دیا اور پھر طاہرالقادری کو آپ نے مبلخ کہہ دیا کہ وہ انقلابی تحریک کے امام کیسے ہوسکتے ہیں. آپ کے اس کالم میں انقلاب کی شدید خواہش کا اظہار ہوتا دیکھتا ہوں مگر پھر آپ ہی کے الفاظ یہ صورت بھی ظاہر کرتے ہیں کہ نہیں ابھی انقلاب کا صرف شور شرابہ کرنے والے ڈگڈگی بجاتے پھر رہےہیں اس سارے عمل میں عوام کہاں ہیں اس پر آپ نے بلکل صحیح فرمایا کہ "عوام کے ذہنوں پر روایتی سوچ کے پہرے ہیں" گویا عوام اس سارے عمل سے باہر ہی ہیں.


آپ نے دو مرکزی سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو تو فارغ کردیا کہ وہ تو انقلابی ہونہیں سکتے پھر آپ نے باقی باندہ چھوٹی سیاسی جماعتوں کا ذکر بھی کردیا اور ان کی مجبوریاں بھی بتا دی کہ وہ کیوں اس کاروان کے امیر نہیں ہوسکتے...تو جناب آپ یہ راض کھول کیوں نہیں دیتے کہ آخر وہ کون سا تیس مارخان ہے جو ان باریکیوں کو جانتا ہے... اور انقلاب کی امامت سنبھالے گا ...

آخر میں انقلاب کے لئے مایوسی کا اظہار کرنے کے بعد آپ نے فرمایا کہ" کوشش کرنے میں کیا حرج ہے"

میرے خیالات سے آپ اختلاف کرسکتے ہیں مگر کیا کیجئیے کہ آپ کے اپنے خیالات آپس میں میل نہیں کھاتے ان پر آپ کیا فرمائیں گے. ایک سال پہلے آپ نے انقلابیوں کو کچھ اور مشورے دئیے جبکہ اب آپ جلتی پر آگ ڈالنے پر زور دے رہے ہیں. آپ نے ایک سال پہلے جو لکھا تھا وہ آپ کے موجودہ خیالات سے بلکل مختلف تھا. یہ ذکر ہے آپ کے 14جولائی 2012 کے ایک کالم کا جو روزنامہ جنگ میں چھپا تھا. اس میں آپ نے ایسے ہی کچھ انقلابیوں کو نصیحت فرماتے ہوئے کہا تھا کہ " درحقیقت یہ نظام حکومت ایک عمدہ طریقے سے تبدیلی اور اس کے نتیجے میں بہتری کے اصول پر عمل کرتا ہے. اگراس مرتبہ آپ کو ووٹ مل گئے ہیں تو کام کیجیے اور لوگوں کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کریں, اگر نہیں تو اگلے انتخابات تک صبر کرنے ہوئے اپنی باری کا انتظار کریں."

پھر آپ نے فرمایا کہ " جمہوری حکومت چاہےزرداری صاحب کی قیادت میں ہی کیوں نہ قائم ہو, ایک غیرجمہوری .حکومت سے بہرحال بہتر ہے...کیا یہ بہتر نہیں کہ ایک جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرلے اور پھر پاکستانی ووٹرز کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیاجائے. معاملات سدھارنے کی یہی درست طریقہ ہے. اس کے علاوہ کوئی شارٹ کٹ کام نہیں دیگا. ایک اور بات, بدعنوانی کا آسیب صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں ہے, ہر سیاسی نظام میں اس کا عکس دیکھا جاسکتا ہے. صدارت کا عہدہ چھوڑنے کے بعد فلپائن کی گلوریا ارویو بدعنوانی کے الزامات کی زد میں آئیں. فرانس کے نکولس سرکوزی صدارت چھوڑنے کے بعد اب جوڈیشل انکوائری کا سامنا کررہے ہیں. زرداری صاحب نے سوئس اکاؤنٹس کے حوالے سے ہوسکتا ہے بدعنوانی کی انتہا کردی گئی ہو مگر خداکےلئے یہ تو بتائیں کہ کیا یہ پاکستان کا سب سے بڑا اور واحد مسئلہ ہے...." اور اس کالم کے آخر میں آپ نے تمام سیاسی لوگوں کو مشورہ دیاتھا کہ"... سیاسی طبقے کو کیا ہوگیا ہے ... اگر نظام پٹڑی سے اترا تو نقصان سب سے زیادہ کس کاہوگا" اور پھر مسلم لیگ کو مشورہ دیتے ہوئے فرمایا کہ "...کسی بھی مہم جوئی سے بچنا ہوگا. چاہے کوئی بھی جواز پیش کیا جائے, کوئی بھی ایسا اقدام ملک کو بیس سال پیچھے دھکیل دے گا. چنانچہ ہمیں اپنے نیک ارادوں کے اسپ تازی کو لگام دینی چاہیے. یہ کام پاکستان کے عوام پر چھوڑ دینا چاہئے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں..."

 آپ کے بہت سے عقیدت مند ہوں گے جو آپ کی رائے سے اپنی سوچیں مرتب کرتے ہوں گے. آپ کا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ اپنے پڑھنے والوں کو حقائق سے آگاہ کریں ان کی رائے کو ملک اور قوم کی بہتری کے لئے ھموار کریں اور سچ ہی لکھیں. جب آپ سچ لکھیں گے تو آپ کی باتوں میں اور آپ کے کالموں میں تضادات نہیں ہوں گے. اب وہ دور نہیں کہ سال پہلے کسی نظریے کی حمایت کی تو سال بعد کسی اور نظریے کی وکالت شروع کردی. آج انفورمیشن ٹیکنالوجی نے آپ کی باتوں کو ریکارڈ کرکے لوگوں کے حضور پیش کرنا شروع کردیا ہے. اب لوٹاکریسی جلد ایکسپوز ہوجاتی ہے. سیاسی لوگوں نے یہ بات جان لی اسی لئے ان میں لوٹوں کی تعداد میں خاطرخواہ کمی آئی ہے مگر شائد چند صحافی بھائیوں نے یہ سبق نہیں پڑھا. آپ نے ایک کالم میں گور ویدال کا ذکر کیا تھا اور اس کے خیالات کی بہت تعریف فرمائی تھی اسی کا ایک قول نقل کر کے ختم کرتا ہوں

A writer must always tell the truth, unless he is a journalist

Wednesday, June 25, 2014

دہشتگردوں سے جنگ اورآئی ڈی پیز کا مسئلہ



طاہرالقادری کا ذہنی خلل: 
آج کل علامہ طاہرالقادری نے طوفان بپا کررکھا ہے. میں اسے طوفان بدتمیزی تو نہیں کہوں گا مگر یہ اس سے کم بھی نہیں ہے. پاکستان میں ہم نے بہت سے کرداردیکھے مگر یہ کردار ہمارے قومی سین پر کافی مختلف ہے. فرسٹریشن کے اس دور میں یہ تو کسی مسخرےسے ملتاجلتا لگتا ہے. سرکس میں اس طرح کے کردار یکسانیت اور بوریت کو ختم کرنے کے لئے متعارف کروائے جاتے ہیں. سرکس میں بونے قد کاٹھ کے مسخرے سین پر آتے ہیں اور خوب بھاگ دوڑ کرتے نظر آتے ہیں کبھی کبھار تو وہ اپنے سے بڑے ساتھی کو للکار بھی دیتے ہیں اور لگتا ہے جیسے وہ ابھی کچھ کرگزریں گے مگر جوں ہی قوی جسم ساتھی کچھ رسپونس کرنے لگتا ہے تو جناب دوڑ کر جان بچاتے نظر آتے ہیں. پھر گھوم کر دوبارہ وہی عمل دوہراتے ہیں. اس سارے سین کو دیکھ کر لوگ سرکس میں تو خوب محظوظ ہوتےہیں لیکن اگر اسی طرح کے کردار ملکی سین پر نمودار ہوجائیں تو کچھ لوگ تو اس سین سے محظوظ ہوتےہیں اور کچھ اس مسخرےپن کو سنجیدہ کوشش سمجھنے لگتے ہیں. اس دوسری نوع کے لوگوں میں سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کے پڑھے لکھے جاہل بھی شامل ہوجاتےہیں. اور اس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو سانحہ لاھور کی صورت میں ظاہر ہوا.

خان کی گیدڑ بھبھکیاں:
کچھ لکھاریوں کا خیال ہے کہ جناب عمران صاحب جلد طاہرالقادری کو جوائن کرنے والے ہیں. لیکن میرا خیال ہے کہ عمران اتنے بھی گئے گزرے نہیں ہیں کہ وہ اپنا سارا زور اٹھا کر طاہرالقادری کی جھولی میں ڈال دیں. دراصل دونوں اشخاص اپنی اپنی دنیا کے ظل الہی اور شہنشاہ ہیں. دونوں کی اناء عالمگیر ہے. دونوں ہی بارات کے دلہا بننے کے خواہشمند ہیں. اب آپ خود سوچیں کہ جب دلہن ایک تو دلہا دو کیسے ہوسکتے ہیں.... عمران خان حکمرانوں کو ڈرانے کے لئے ایسا کہہ رہے ہیں. وہ کبھی بھی طاہرالقادری سے الائینس وغیرہ بنا نہ پائیں گے. حکمرانوں پر پریشر ڈالنے کے لئے تو انھوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ اسمبلیوں سے استعفے دے دیں گے .... لیکن یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ان کے تو اپنی پارٹی کے لوگ اس بات پر ناراض ہو گئے ہیں...عمران صاحب تو اب صرف کے پی کے کی ذمہ داریوں سے جان چھڑانے کے لئے یہ سب کررہے ہیں. وہاں اب کافی کام ہے اور آپ کو اس طرح کے کام کی عادت نہیں اور دوسرا جناب کے پاس ٹیم بھی تو نوسیکھیوں کی ہے لہزا کےپی کے کی صورت حال سے آنکھیں بند کرکے وہ صرف الیکشن کی دھاندلی پر اپنی انرجی صرف کرنا چاہتے ہیں.... اب کیا کہیے عمران کو کہ ان کے ساتھ شاہ صاحب اور ہاشمی جیسے منجھے کھلاڑی ہیں شاید وہ کبھی ان کو سمجھا پائیں کہ عمران صاحب کام کریے اب آپ کے کام کرنے کا وقت ہے جلسے جلوسوں کا نہیں....


دہشتگردوں سے جنگ اورآئی ڈی پیز کا مسئلہ:
دہشتگردوں کے خلاف جنگ کے آغاز میں دہشتگردوں کی جانب سے ردعمل کے بہت خدشات تھے. ڈر تھا کہ ابھی وہ آئے کہ آئے مگر لگتا ہے ہمارے بہادر جوانوں نے انھیں مرنے یا بھاگتے رہنے پر مجبور کردیا ہے. وہ اب یا تو روزانہ کی بنیاد پر مارے جارہے ہیں اور یا پھر مارے مارے بھاگتے پھر رہے ہیں. اللہ کاشکر ہے کہ انھیں ہم پر حملہ کرنے کا موقع ہی نہیں مل رھا. اس کے لئے ہم سب اپنی پاک افواج کے بھی شکرگزار ہیں جن کی قربانیاں رنگ لارہی ہیں.... اس جنگ کی وجہ سے بےگھر ہونے والے ہمارے بھائی بہنیں شہروں کی جانب ہجرت کرکے آرہے ہیں. وفاقی حکومت اور افواج کی مشترکہ کوششوں سے قائم کیمپس کام کررہے ہیں مگر چونکہ لوگ شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں سے اور مختلف راستوں سے شہروں کی جانب آرہے ہیں ان کا کسی ایک جگہ قائم کیمپس میں پہنچ پانا مشکل کام ہے. اس کے علاوہ سرکاری اداروں کی مہیا کردہ سہولیات پر ہم اکثراعتماد بھی نہیں کرتے کیوں کہ ماضی میں اکثر ایسا ہوا کہ سرکاری اداروں کے قائم کردہ امدادی کیمپ صرف دیکھانے کے لئے ہوتے تھے... چار لاکھ سے زیادہ افراد بےگھر ہو کر آرہے ہیں.... ان لوگوں کی میزبانی ہم سب کی ذمہ داری ہے. جب جنگ شروع ہوئی تھی تو سب نے فوج کی حمایت کا اعلان کیا تھا بہت سوں نے تو فوج کی حمایت میں ریلیاں بھی نکالی تھیں. سیاسی جماعتوں اور میڈیا کے افراد نے سب نے یک زباں کہا تھا کہ قوم اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہوگی.... لیکن جنگ شروع ہوئےابھی چند دن ہی گزرے ہیں کہ وہ سب باتیں بھول کر ہمارے لیڈروں اور میڈیا کے زورآوروں کی ترجیحات ہی تبدیل ہوگئی ہیں. اچانک سیاسی ریلیاں شروع ہوگئیں...طاہرالقادری , عمران, پرویز الہی اور شیخ رشید کے علاوہ کسی قدر ایم قیو ایم اور پی پی پی بھی حکومت مخالف مہم کا حصہ بننے لگے. میڈیا بھی ہماری اس جنگ کو بھول کر طاہرالقادری کے سرکس کو کوریج دینے لگاہے. جتنی کوریج طاہرالقادری کے ڈرامہ کو دی گئی کاش اتنی کوریج ہمارے شمالی وزیرستان سے آنے والوں اور ان کی تکالیف کو دی جاتی تو یہ ملک و قوم کی خدمت بھی ہوتی اور شاید میڈیا کی ریٹنگ میں بھی زیادہ اضافہ ہوتا........ میری عرضی میرے تمام سیاستدانوں اور میڈیا کے سیانوں سے یہ ہے کہ خدا کے لئے ڈرامہ سے توجہ ہٹا کر قوم کے اصل مسائل کو طرف نشاندہی کیجئے. یقین کیجئے آپ کے ووٹوں اور ریٹنگ میں کمی نہیں ہوگی ......