Showing posts with label democracy. Show all posts
Showing posts with label democracy. Show all posts
Tuesday, November 29, 2022
حقیقی آزادی
(تحریر سلیم اعوان)
پاکستان نے کاغذی آزادی تو سینتالیس میں حاصل کر کی مگر ہم ہر مسلط غیر سیاسی نظام کبھی ختم نہ ہو پایا۔ پاکستان کی تاریخ میں جھانکیں تو پہلے پچاس سالوں میں چار جرنیلوں نے ملک پر قبضہ کیا اور ملکی جمہوریت اور جمہوری روایات کو تباہی و برباد کیا۔ اسی دوران کچھ عرصہ کیلئے جمہوری ادوار بھی آتے رہے مگر وہ کبھی اپنا عہد مکمل نہ کرپائے۔۔۔۔ اسی وجہ سے ملک بحرانوں کا شکار رہا۔ وردی والوں نے کبھی جمہوری لوگوں کو آزادی سے حکومت کرنے نہیں دی ۔۔۔۔۔ بار بار ملکی سلامتی اور کرپشن کے نام پر حکومتوں کو تبدیل کیا گیا اور ہر بار جرنیلوں نے کرپشن کے شور میں اپنا چوری کیا ہوا پیسہ دوسروں سے چھپایا اور دوسرے ملکوں میں جا کر یا جزیرے خرید لیے یا پھر پاپا جونز پیزہ جیسی سیکڑوں کمپنیاں بنا لیں اور ہمیشہ کرپشن کے نام پر پکڑے کون گئے سیاستدان۔۔۔۔
مگر سن دو ہزار چودہ کے بعد کچھ بہت بڑا پلان کیا گیا۔ جرنیلوں نے پیچھے سے سب کنٹرول کرنے اور اپنے ٹٹوؤں کے ذریعے نظام چلانے کا منصوبہ بنایا اور کیلئے عمران کو تیار کیا گیا ۔۔۔ اسے یقین دلایا کہ تمھیں ہم دس سے زیادہ عرصہ تک وزیراعظم بنائیں گے اور اس عرصے کے بعد تم صدر بن جانا اس طرح ہمیشہ کیلئے تم حکمران رہو گے۔۔۔۔ یہ حسین خواب دکھا کے اسے پاکستان کی سب سیاسی قوتوں کے خلاف کیا گیا۔ ان سب پر اسے کتے کی طرح چھوڑ دیا گیا۔ عدالتوں اور ایجنسیوں کی مدد سے سب مخالف جماعتوں پر کیس بنائے گئے سیاسی لوگوں کو کرپشن کے نام پر جیلوں میں ڈالا گیا۔ نوازشریف پر جے آئی ٹی بنی دس والیوم کے ثبوت کا درانی رچایا گیا اور پلان کے مطابق اسے وزیراعظم بنا دیا گیا
اب کی بار ملک سے کچھ بڑا کھلواڑ ہونے والا تھا شاید ہمیشہ کیلئے سیاسی نظام کو لپیٹنے کا پروگرام تھا لیکن وہ سب پلان صرف تین سالوں میں ہی ناکام ہوگیا۔ ملکی معیشت کی حالت یہ ہو گئی کہ ایسا سب مزید چلتا رہتا تو سرکاری اداروں میں تنخواہیں دینے کو کیسے نہ رہتے۔ ملک بہت جلد دیوالیہ ہو جاتا مگر اللہ کا کرم ہوا اور سیاسی لوگوں کی دانش کام آگئی ان کی مسلسل جدو جہد اور ثابت قدمی نے ملک دشمنوں کے منصوبے خاک میں ملا دئیے۔۔۔۔ فوج کو احساس ہو گیا کہ ہماری قیادت نے عمران رجیم پر انویسٹمنٹ کا فیصلہ غلط تھا دس سالہ منصوبے کی غلط بنیاد نے ملک کی جڑے کھوکھلی کر دی ہیں لہذا فوج نے ہمیشہ کیلئے ملکی سیاست سے دوری کا فیصلہ کیا اور اقتدار کے گھوڑے کی رسیاں سیاستدانوں کے حوالے کردیں۔۔۔ اس کے بعد جو ہوا وہ سب کے سامنے یے۔ عمران خان جو کچھ عرصہ پہلے تک خدائی غرور لئے پھرتا تھا سڑکوں پر آگیا۔۔۔ جرنیلوں کی منت سماجت کرنے لگا جب بات نہ بنی تو اپنے انھیں محسنوں پر چڑ دوڑا۔۔۔ انھیں غدار بنا ڈالا انھیں جانور کہنے لگا جب اس کر بھی بات نہ بنی تو اپنی ناکامی کا الزام بھی اپنے محسن جرنیلوں ڈالنے لگا۔۔۔۔ لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے امریکی سازش کا جھوٹا بیانیہ بنایا۔۔۔۔ اس ہر بھی بات نہ بنی تو سب جمہوری تکلفات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کہنے لگا کہ مجھے بچاؤ مجھے بچانا سب کا فرض ہے میرا ساتھ دو ورنہ میں بہت کچھ بول دوں گا راز افشاں کروں گا۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی اس کے اپنے راز افشاں ہونے لگے۔۔۔۔
قصہ مختصر جرنیلوں نے اب کی بار ملک کے ساتھ بہت بڑا کھیل کھیلا جو اللہ کے کرم سے ناکام ہوگیا۔ اب جبکہ ایک بار پھر فوج نے ادارے کے طور پر سیاست سے کنارہ کشی کی ہے تو کیا اپنی غلطیوں کے ازالے کیلئے بھی کوئی اقدامات اٹھائے جائیں گے؟ کیا کوئی خود احتسابی کا عمل بھی ہوگا؟ کیا غیر آئینی منصوبے بنانے والوں سے کوئی سوال ہوگا؟ کیا ملکی دولت لوٹنے والوں پر مقدمات چلائے جائیں گے؟ اگر احتساب کا عمل غیر سیاسی لوگوں پر نہ چلایا گیا تو ہمیں امید رکھنی چاہئے کہ پھر کبھی نہ کبھی کسی دوسرے جرنیل کو موقع ملا تو وہ ضرور سیاسی نظام پر ڈاکہ ڈالنے کا سوچا سکتا ہے۔۔۔۔ کیا ہمیں کبھی حقیقی آزادی حاصل ہو پائے گی؟
Tuesday, October 20, 2015
صدارتی نظام کی بحث
آج کل پاکستانی میڈیا کے ایک حصے میں ایک بحث بہت دنوں سے اور بہت زوروں سے چھڑی ہوئی ہے کہ پاکستان کی پارلیمانی نظام حکومت لوگوں کو ڈلیور کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ جمہوریت نے غریب کی حالت نہیں بدلی۔ غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا جارہاھے لہذا جمہوریت میں ایک نیا تجربہ لازم ہوگیاہے اور مبصرین کی رائے میں صدارتی نطام ایک بہترین متبادل ہے۔ ہمارے علماء سیاست کے خیال میں صدارتی نظام کے نفاذ پر تمام نظام بدل جائے گا اور سب لوگ خودبخود پرفارم کرنا شروع کردیں گے یا پھرصدارتی نظام ان پر کو ایسی قدغن لگا دیگا جس کی وجہ سے ان میں کرپشن کی صلاحیت ختم ہوجائے گی۔۔۔۔۔ ایسی یوٹوپیائی سوچ سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ ہم ایک گڑھے سے نکل کر دوسرے گڑھے میں گرجاتے ہیں۔ ہمیں پہلے تو سائنسی بنیادوں پر تجزیہ کرنا چائیے کہ ہم جس نظام کی وکالت کررہے اس کے فوائد ونقصانات کیا ہیں۔ اس طرزحکومت کا کتنےممالک میں تجربہ کیا گیا ہے اور جہاں اس طرزحکومت کو اپنایاگیا کیا اس نے پارلیمانی طرزحکومت سے بہتر پرفارم کیا ہے؟ دنیا کی ہر چیز کی طرح صدارتی طرز حکومت میں بھی چند خوبیاں اور چند خامیاں ہیں۔ ان پرمختصربحث درج ذیل ہے۔
صدارتی نظام کیا ہے؟
صدارتی نظام حکومت ایک ایسا نظام ہے جس میں حکومت کا سربراہ ہی ریاست کا سربراہ ہوتا ہے۔ اور یہ انتظامی برانچ کا بھی سربراہ ہوتا ہے جو قانون ساز اسمبلی سے الگ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں صدارتی نظام حکومت ہے۔ منتخب صدرقانون ساز اسمبلی کو جوابدہ نہیں ہوتا۔ صدارتی نظام کئی طرح کے ہیں مگر ان سب میں عام طور پرمندرجہ ذیل اصول متفقہ طور پر لاگو ہوتے ہیں۔
۔۔ انتظامیہ قانون ساز اسمبلی کے کسی عمل یا آرڈر کو ویٹو کرسکتاہے۔
۔۔ صدرکے دور حکومت کا وقت مقرر ہے۔ الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہی منعقد ہوسکتے ہیں۔ اور ووٹ آف نو کانفیڈنس یا کیسی طرح کے پارلیمانی طریقہ کو استعمال کرکے وقت سے پہلےالیکشن منعقد نہیں کروایے جاسکتے۔
۔۔ انتظامیہ فرد واحد کو جوابدہ ہوتی ہے۔ کابینہ کے ممبرصدر کی خوشی کے لئے کام کررہے ہوتے ہیں۔ کابینہ کے وزیر یا مختلف اداورں کے سربراہ قانون ساز اسمبلی کے رکن نہیں ہوتے۔
صدر کا عہدہ صدارتی نظام حکومت کے لئے ہی مخصوص نہیں ہے جیساکہ ایک آمرجو عام طور پر قانونی طور پر منتخب نہیں ہوتا وہ بھی صدر کہلاتا ہے۔ پاکستان سمیت بہت سے پارلیمانی نظام حکومت والے ممالک میں بھی صدر کا عہدہ ہوتا ہے۔ جو عام طور پر رسمی ہوتا ہے۔ ہمارے علاوہ جرمنی، انڈیا، آئرلینڈ، اسرائیل اور اٹلی وغیرہ قابل بیان مثالیں ہیں۔
چند ممالک میں طاقتور صدور ہوتے ہیں جو کہ قانون ساز ادارے سے منتخب ہوکرآتاہے۔ ان کا لقب تو صدر ہوتا ہے مگر وہ وزیراعظم کے برابراختیارات رکھتا ہے۔ ساوتھ افریکہ، بوٹسوانہ، نیرو اس طرز حکومت کی مثال ہیں۔
کچھ ممالک میں جزوی صدارتی نظام رائج ہے۔ اس میں وزیراعظم کا عہدہ تو ہوتا ہے مگروہ اسمبلی کے بجائے صدر کو جوابدہ ہوتا ہے۔ آزربائیجان اور مذمبیک ایسے ہی نظام سے منسلک ہیں۔
صدارتی نظام کے فوائد
اس نظام کے حامی عام طورپر چار بنیادی فوائد کا دعوہ کرتے ہیں۔
۔۱۔ براہ راست انتخاب
صدارتی نظام میں عام طور پر صدر براہ راست لوگ منتخب کرتے ہیں۔ اس سے صدر زیادہ طاقتوراور اس کی طاقت زیادہ قانونی ہوتی ہے ، اس لیڈر کی نسبت جس کو کہ بلاواستہ منتخب کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ اس نظام کا لازمی خصوصیت نہیں ہے کیونکہ چند صدارتی ریاستوں میں غیرمنتخب یا بلاواستہ منتخب شدہ سربراہ ہوتے ہیں۔
۔۲۔ طاقت کے دو الگ مراکز
صدارتی نظام دو الگ طاقت کے مراکزقائم کرتاہے۔ اس طرز حکومت سے ایک دوسرے کو چیک کرنے اور نگرانی کرنے کا نظام وجود میں آتا ہے۔ جس سے طاقت کا غلط استعمال ہونے کا اہتمال کم ہوجاتا ہے۔
۔۳۔ رفتار اور فوری فیصلہ
طاقتور صدر تبدیلیوں کے وقوع پزیر ہونے پر فوری ردعمل دے سکتاہے۔ تاہم طاقت کے الگ مراکز کی وجہ سے نظام سست رفتار بھی ہوسکتاہے۔
۔۴۔ استحکام
وزیراعظم کی نسبت صدرکی مقرر وقتی اقتدار زیادہ استحکام مہیا کرتا ہے۔ جبکہ وزیراعظم کسی بھی وقت برطرف کیا جاسکتا ہے۔
صدارتی نظام پر تنقید اور اس کے نقصانات
نقاد عام طور پر تین بنیادی نقصانات کا دعوہ کرتے ہیں۔
۔۱۔ استبدادی رجحانات
بعض سیاسی سائنسدان کہتے ہیں کہ صدارتی نظام ریاست میں مذید بگاڑ کا ذریعہ بنتا ہے اور استبدادیت کی طرف گامزن کرسکتاہے۔
۔۲۔ سیاسی تعطل
صدارتی نظام دو مختلف اور متوازی ساختیں پیدا کرتاہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ یہ چیز سیاسی تعطل پیدا کرسکتا ہے۔ خاص طورپر جب صدر اور اسمبلی میں اکثریت دو مختلف جماعتوں سے ہوتے ہیں اور عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے۔
ایسا اس لئے ہوتا ہے کیونکہ ووٹرنئی پالیسیوں سے بہت جلد نتائج کی توقع کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے احتساب کرنا مشکل ہوجاتا ہے اس لئے کہ صدر اور اسمبلی ذمہ داری کو ایک دوسرے پر شف کردیتے ہیں۔
۔۳۔ رہنما کی تبدیلی میں رکاوٹیں
صدارتی نظام میں اکثر اوقات صدر کو عہدے سے ہٹانا کافی مشکل ہوتاہے۔ خاص طور پر جب وہ بہت غیرپسندیدہ کام کرنے لگ جائے۔اس پر رکاوٹ لگانا بہت دشوار ہوتا ہے۔
متوازی عناصر
عملی طور پر دونوں نظام ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ صدارتی نظام میں صدر اپنی حکومت منتخب کرتا ہے جو قانون ساز اسمبلی کو جوابدہ نہیں ہوتی۔ مگر اسمبلی کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ وہ صدر کی تقریریوں کی جانچ پڑتال کرسکیں اور بعض اوقات کچھ حقوق کے ساتھ اسمبلی ان تقریریوں کو روک سکتی ہے۔ اس کے برعکس کابینہ جو کہ اسمبلی کو جوابدہ ہوتی ہے وہ اسمبلی میں موجود اکثریت کو پارلیمانی گرفت کے ذریعے سے کنٹرول کرسکتے ہیں۔ اس کے لئے پارٹی ممبرز کی پارٹی سے وفاداری کو لازمی قرار دے کر پارلیمنٹ کی گرفت کو کمزور کیا جاتاہے۔
Wednesday, August 13, 2014
انقلابی لوٹ سیل ... ایک کے ساتھ ایک فری
کیسے کیسے تیسمارخان, اپنا نقاب اتار کر ننگے ہوتے جا رہے ہیں. ہمارے زوال کے سرخیل دانشور حضرات ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں. انھیں پہچاننا اور ان کی زلفوں کےاژدھوں سے بچ پانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے. یہ وہ چڑیلیں ہیں جو ایک خوبصورت حسینہ کے بھیس میں سامنے آتی ہیں. ان کی باتوں میں محبت کی چاشنی نظر آتی ہے مگر دراصل کسی دیو کا ترنوالہ بنانے کی تیاری ہوتی ہے. یہ لوگ ہمیں انقلابی درندوں کے دسترخوان کا نوالہ بنانے کے لئے موجودہ کمزور مگر پرامن نظام سے نفرت دلاتے نظر آتے ہیں. یہ لوگ خود یا ان کی اولادیں تو کبھی عوام کے بیچ نظر نہیں آئیں گے لیکن ان کے لفظی منتروں میں یہ جادو ضرور ہوگا کہ ہم عوام خود بخود اس جال میں پھنس جائیں اور اپنی اولادوں کو بھی اس ست رنگی پکوان کی خاطر قربانی کے لئے حاضر کردیں.
حسن نثار ان لوگوں میں سے ہے جو عرصہ دراز سے بہت کھلے لفظوں میں ملک میں انقلابی درندگی کو آواز دیتا آیا ہے. یہ شخص ہر وقت زہر اگلتا نظر آتا ہے. اس کماش کے لوگ کبھی کسی چیز میں مثبت پہلو نہیں دیکھ سکتے. کیوں کہ ان کی تربیت صرف اور صرف گندگی دیکھنے اور دیکھانے کے لئے ہوئی ہے. گالیاں دینے اور دوسروں کی تزلیل کرکے اپنے آپ کو عظیم ثابت کرنے میں لگے ہوتے ہیں. الفاظ کا کاروبار کرنے والے ایسے لوگ کھلم کھلا گالیاں نہ دے سکنے پر دوسروں کو جانوروں سے تشبہ دے کر اپنی انا کی تسکین کرتے ہیں. اس شخص کا کوئی کالم اٹھالیں اس نے قومی لیڈروں کو اکثر جانوروں سے تشبیھ دی. میرا ملک اور اس کا ظرف کتنا عظیم ہے جو اس طرح کے لوگوں کو عوام اور اس کے محبوب لیڈروں کے بارے میں گندی زبان استعمال کرنے پر بھی کوئی قدغن نہیں لگاتا. لگائے بھی کیسے کہ یہ ان کا جمہوری حق ہے..... کسی کوگالیاں دینا ہو یا انقلاب کے نام پر غریبوں کی اولاد کو قربان کرنا ہو, عوام کی املاق کا نقصان ہو یا معیشت کا بیڑا غرق کرنے کا منصوبہ..... سب ان انقلابی درندوں کا جمہوری حق...... اگر حکومت عوام کی جان ومال کی حفاظت کے لئے کوئی اقدام کرے تو حسن نثار جیسے انقلابی دانشوروں کو شاہی خاندان کے تحفظ کے لئے کی جانے والی کوشش نظر آتی ہے.
وطن عزیز میں یہ تماشہ پہلی مرتبہ نہیں ہورہا. جب بھی ملک میں جمہوریت قائم ہوتی ہے اس طرح کی مخلوق کسی نہ کسی روپ میں ظاہر ہوجاتی ہے. کبھی یہ ضیاء الحق کے اسلامی انقلاب کا نقاب پہن کرآتی ہے اور کبھی مشرف کی روشن خیالی کا دھوکا لے کر آتی ہے. ایسی صورتحال میں غریب کا روزگار بھی جاتا رہتا ہےاور کبھی کبھی اس کی جان بھی جاتی ہے مگر الفاظ کا کاروبار کرنے والوں کا خوب فائدہ ہوتا ہے. بہتی گنگا میں یہ نہانے کے لئے یہ بھی ننگے ہوکر سامنے آجاتے ہیں. انقلاب عوام کی زندگی میں بےچینی, بےروزگاری, مالی نقصان اور بہتوں کےلئے جانی نقصان لاتا ہے. یہ سب قربانیاں دے کربھی اگر عوام کی زندگی بدل جاتی ہو تو پھرآنے والی نسلوں کے لئے کی جانےوالی ان قربانیوں پر کوئی کیوں اعتراز کرے گا مگر بدقسمتی سے ہوتا کیا ہے. عوام کی قربانی بھی ہوجاتی ہے اور سٹیٹس کو پھر بھی برقرار رہتا ہے صرف اتنا ہوتا ہے کہ ملک اور اس میں رہنے والے عوام مزید کمزور ہوجاتے ہیں. اصل انقلاب تو آتا ہے ان انقلابی لیڈروں اورانقلابی لکھاریوں کی زندگیوں میں. ان کے کاروبار اور ان کے فنڈز میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے. انقلابی لیڈروں کو بارگین کا مارجن مل جاتا ہے اور حکمرانوں سے اپنے لئے مزید بہتر سہولیات لے جاتے ہیں. قادری کے گزشتہ انقلاب میں کیا تھا. اس کی انقلابی گندگی کو اسلام آباد انتظامیہ کتنے دنوں تک صاف کرتی رہی تھی. ابھی کل کی تو بات ہے. اور اب انقلاب کی دوسری کوشش.... اور ایک بار پھر اسلام آباد ہی انقلاب کا مرکز..... اب کی بار انقلاب پلان کرنے والوں نے ڈبل امپیکٹ کے لئے قادری کے ساتھ عمران کو بھی چلادیا ہے. عوام کے لئے انقلابی لوٹ سیل ... ایک کے ساتھ ایک فری ہے
رات وزیراعظم کی تقریر کے بعد اور جوڈیشل کمیشن کے اعلان کے بعد انتخابی دھاندلی کے نام پر مارچوں اور دھرنوں کی کوئی گنجائش تو باقی نہیں بچی لیکن اگر کوئی یہ سمجھ بیٹھے کہ عمران یا قادری اب اپنے ارادوں سے بعض آجائیں گے تو اس سے زیادہ ناسمجھی کی اور کیا بات ہوگی. ایک سال پہلے حامد میر نے جس طرف اشارہ کیا تھا وہ سامنے دیوار پر لکھا نظر آرھا ہے. عوام ششدراور گنگ ہوچکی ہے کہ مشرف کے پٹھو کیسے کیسے بھیسوں میں ظاہر ہورہے ہیں. ایک طرف تو ہم لوگ پاکستان کے سب سے بڑے مسئلوں سے نبردآزما ہیں اور دوسری طرف سانپ گزر جانے کے ایک سال بعد رسی کو پیٹا جا رہا ہے... نہیں رسی کو نہیں بلکہ یہاں تو غریب عوام کو پیٹا جارھا ہے جس نے مشرف کے لاڈلوں کو جیتنے نہیں دیا. بےشرمی اور بےغیرتی کی انتہا ہے کہ ہماری بہادر فوج ہمارے وقت کے سب سے بڑے دشمن سے حالت جنگ میں ہے. لاکھوں کے تعداد میں بےگھر صوبہ پختونخواہ میں پناہ لئے ہوئے ہیں.صوبے کے وزیراعلی جناب پرویز خٹک صاحب تو پختونوں کو یہ سمجھانے میں مصروف ہیں کہ چلو سب مل کر وفاقی حکومت الٹانے نکلتے ہیں. آئی ڈی پیز تو ادھر ہی ہیں ان سے بعد میں نبٹ لیں گے.... ہم نہ تو فوج کے مورال کو بلند کرنے کے لئے اس کی ہمایت میں کچھ اجتماعی پیغام دے رہے ہیں نہ فوج اور حکومت کو اس بات کا کریڈٹ دینے کا حوصلہ پارہے ہیں کہ پہلی مرتبہ ملک میں ایسا وقت آیا ہے کہ ہم دھشت گردے کےخوف کے بخیر عید کرپائے. اس کے لئے داد و تحسین کے مستحق میرے وہ فوجی بھائی ہیں جنھوں نے یہ عید ان خونخوار درندوں سے لڑتے گزاری. پاک فوج زندہ باد... پاکستان پائندہ باد
آخر میں اب میں اپنے ان دوستوں سے درخواست گزار ہوں جو عمران یا قادری کے ماننے والے ہیں
.... دوستو! خدا کے لئے پارٹی اور ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر ملک اور قوم کی سوچ پیدا کریں. یاد رکھیں انقلابی لوگ صرف اور صرف تباہی اور بربادی ہی لاسکتے ہیں. انقلاب سے موجودہ نظام تباہ تو ہوسکتا ہے مگر اس کا لازمی نتیجہ یہ ہر گز نہیں ہوتا کہ اس کے بدلے کوئی بہتر نظام قائم ہوجائے گا.... بلکہ قوم کمزور ہوتی ہے اور پہلے سے بھی بدتر حالات ہوجاتے ہیں... یہ جو جمہوریت کے مخالف کہتے ہیں کہ اس سے تو صرف چہرے ہی بدلتے ہیں تو یہ بات لکھ کے رکھ لو کہ انقلاب کے بعد آمریت کا دیو قابض ہوجاتاہے اورچہروں کےبدلنے کا یہ سلسلہ بھی بند ہوجاتاہے. تبدیلی چہروں کے بدلنے سے ہی آئے گی. قومیں مسلسل صرف ایک ہی راستے پر چلتے رہنے سے ترقی کرتی ہیں. ہم گمراہ ہوئے یا ہمیں کیا گیا اور ایک گول چکر میں ہی پچاس سال تک سفر کرتے رہے ہیں. اب اگر جمہوریت کی سواری ہمیں میسر آہی گئی ہے تو اس کو اپنی منزل پر پہنچنے کے لئے چلتی رہنے دیں اور سازشی ٹولوں کے دست وبازو نہ بنیں.... ایک سال قوموں کی زندگی میں کیا حیثیت رکھتا ہے خاص طور پر ہماری قوم جس میں حقیقی لیڈرشپ کی قلت اور شعبدہ بازوں کی بہتات ہے. یہاں تو ہر جھوٹا شخص جو ہرروز نیا بیان دے اور دھوکے بازی میں مشہور ہو اس کو اپنا لیڈرمان لیا جاتا ہے... زرہ صبر سے کام لیں اور اپنے پیروں اور لیڈروں کو بھی اس کی تلقین کریں کہ اسی میں قوم کا مستقبل پوشیدہ ہے.... بےصبری سیاست سے کچھ حاصل نہ ہوگا.... جمہوریت اور اس میں حاصل شدہ حقوق کو وہ ماچس نہ بنائیں جو کسی بندر کے ہاتھ لگی تھی تو اس نے پورا جنگل ہی جلاڈالا تھا.
رات وزیراعظم کی تقریر کے بعد اور جوڈیشل کمیشن کے اعلان کے بعد انتخابی دھاندلی کے نام پر مارچوں اور دھرنوں کی کوئی گنجائش تو باقی نہیں بچی لیکن اگر کوئی یہ سمجھ بیٹھے کہ عمران یا قادری اب اپنے ارادوں سے بعض آجائیں گے تو اس سے زیادہ ناسمجھی کی اور کیا بات ہوگی. ایک سال پہلے حامد میر نے جس طرف اشارہ کیا تھا وہ سامنے دیوار پر لکھا نظر آرھا ہے. عوام ششدراور گنگ ہوچکی ہے کہ مشرف کے پٹھو کیسے کیسے بھیسوں میں ظاہر ہورہے ہیں. ایک طرف تو ہم لوگ پاکستان کے سب سے بڑے مسئلوں سے نبردآزما ہیں اور دوسری طرف سانپ گزر جانے کے ایک سال بعد رسی کو پیٹا جا رہا ہے... نہیں رسی کو نہیں بلکہ یہاں تو غریب عوام کو پیٹا جارھا ہے جس نے مشرف کے لاڈلوں کو جیتنے نہیں دیا. بےشرمی اور بےغیرتی کی انتہا ہے کہ ہماری بہادر فوج ہمارے وقت کے سب سے بڑے دشمن سے حالت جنگ میں ہے. لاکھوں کے تعداد میں بےگھر صوبہ پختونخواہ میں پناہ لئے ہوئے ہیں.صوبے کے وزیراعلی جناب پرویز خٹک صاحب تو پختونوں کو یہ سمجھانے میں مصروف ہیں کہ چلو سب مل کر وفاقی حکومت الٹانے نکلتے ہیں. آئی ڈی پیز تو ادھر ہی ہیں ان سے بعد میں نبٹ لیں گے.... ہم نہ تو فوج کے مورال کو بلند کرنے کے لئے اس کی ہمایت میں کچھ اجتماعی پیغام دے رہے ہیں نہ فوج اور حکومت کو اس بات کا کریڈٹ دینے کا حوصلہ پارہے ہیں کہ پہلی مرتبہ ملک میں ایسا وقت آیا ہے کہ ہم دھشت گردے کےخوف کے بخیر عید کرپائے. اس کے لئے داد و تحسین کے مستحق میرے وہ فوجی بھائی ہیں جنھوں نے یہ عید ان خونخوار درندوں سے لڑتے گزاری. پاک فوج زندہ باد... پاکستان پائندہ باد
آخر میں اب میں اپنے ان دوستوں سے درخواست گزار ہوں جو عمران یا قادری کے ماننے والے ہیں
.... دوستو! خدا کے لئے پارٹی اور ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر ملک اور قوم کی سوچ پیدا کریں. یاد رکھیں انقلابی لوگ صرف اور صرف تباہی اور بربادی ہی لاسکتے ہیں. انقلاب سے موجودہ نظام تباہ تو ہوسکتا ہے مگر اس کا لازمی نتیجہ یہ ہر گز نہیں ہوتا کہ اس کے بدلے کوئی بہتر نظام قائم ہوجائے گا.... بلکہ قوم کمزور ہوتی ہے اور پہلے سے بھی بدتر حالات ہوجاتے ہیں... یہ جو جمہوریت کے مخالف کہتے ہیں کہ اس سے تو صرف چہرے ہی بدلتے ہیں تو یہ بات لکھ کے رکھ لو کہ انقلاب کے بعد آمریت کا دیو قابض ہوجاتاہے اورچہروں کےبدلنے کا یہ سلسلہ بھی بند ہوجاتاہے. تبدیلی چہروں کے بدلنے سے ہی آئے گی. قومیں مسلسل صرف ایک ہی راستے پر چلتے رہنے سے ترقی کرتی ہیں. ہم گمراہ ہوئے یا ہمیں کیا گیا اور ایک گول چکر میں ہی پچاس سال تک سفر کرتے رہے ہیں. اب اگر جمہوریت کی سواری ہمیں میسر آہی گئی ہے تو اس کو اپنی منزل پر پہنچنے کے لئے چلتی رہنے دیں اور سازشی ٹولوں کے دست وبازو نہ بنیں.... ایک سال قوموں کی زندگی میں کیا حیثیت رکھتا ہے خاص طور پر ہماری قوم جس میں حقیقی لیڈرشپ کی قلت اور شعبدہ بازوں کی بہتات ہے. یہاں تو ہر جھوٹا شخص جو ہرروز نیا بیان دے اور دھوکے بازی میں مشہور ہو اس کو اپنا لیڈرمان لیا جاتا ہے... زرہ صبر سے کام لیں اور اپنے پیروں اور لیڈروں کو بھی اس کی تلقین کریں کہ اسی میں قوم کا مستقبل پوشیدہ ہے.... بےصبری سیاست سے کچھ حاصل نہ ہوگا.... جمہوریت اور اس میں حاصل شدہ حقوق کو وہ ماچس نہ بنائیں جو کسی بندر کے ہاتھ لگی تھی تو اس نے پورا جنگل ہی جلاڈالا تھا.
Friday, April 25, 2014
بدلے گا پاکستان : خواب یا حقیقت
2013
کے انتخابات نے جہاں بہت سے سیاسی جوکروں کو بےنقاب کیا وہیں بڑے بڑے سیاسی بھیڑیوں اور لومڑوں سے بھی نجات دلائی. ان انتخابات کے نتائج سے پاکستانیوں کے شعور کا بھی اظہار ہوا اور سب سے بڑہ کر مایوسیوں کے ماحول میں امید کی نئی کرنیں ذھنوں میں روشن ہوئیں.
ایک طرف تو طالبان کی دھشت گردیاں تو دوسری جانب کرپشن کی درندگیاں تھیں. مہنگائی کا ہنگامہ بھی تھا اور اندھیروں کا راج بھی. مایوسیوں کے اس دور میں عوام بھرپور انداز سے اپنے جمہوری حق کا استعمال کرنے نکلے اور انھوں نے کرپشن اور مصلحت کی سیاست کو مسترد کیا "این آر او" جیسے عظیم سرٹیفیکیس کو بھی عوام نے ردی کو ٹوکری میں ڈال دیا. ان انتخابات کا بغور جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ یہ عوامی فیصلہ کئی لحاظ سے تاریخی تھا. ان الیکشنز میں پہلی بار ہوا کہ عوام نے جزبات کے بجائے کارکردگی کو سراہا. اس کے ساتھ دوسرا پہلو بھی توجہ طلب ہے کہ عوام نے امید کے نئے چراغوں کو بھی بجھنے نہیں دیا. ایک طرف جہاں مسلم لیگ (ن)کو جمہوری اقدار کی پاسداری اور عوامی خدمت کے صلہ میں بھرپور حمایت ملی وہیں عوام نے تحریک انصاف کے انقلابی ایجنڈے کو بھی عملی جامہ پہنانے کا موقع دیا. میں خود بھی تبدیلی کے اس قبیلے کا ایک فرد ہوں جس نے ایک بار پھر اچھے مستقبل کی خاطر ان انتخابات میں اپنے حلقہ احباب میں متحرک ہو کر لوگوں کو ووٹ ڈالنے کیلئے تحریک چلاتا رہا. میں نے پنجاب میں خوابوں کو حقیقت میں تبدیل ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھاتھا اور مجھے امید تھی کہ اس بار اگر جمہوریت کو موقع ملا تو پاکستان ضرور بدلے گا
پاکستان مسلم لیگ کی حکومت کی تشکیل سے میری امیدیں روشن ہونے لگیں. ابتدائی دنوں میں حکومت کی تشکیل کے دوران میاں نواز شریف صاحب نے اپنے رویے سے بڑے لیڈر ہونے کا ثبوت دیا. انھوں نے حکومت سازی کے نمبرشماری کے مروجہ طریقہ سے ہٹ کر فراغدلی کا ثبوت دیا. آپ نے جہاں کسی کو تھوڑی بہت بھی اکثریت حاصل تھی اس کا احترام کیا اور اس کو حکومت بنانے کا نہ صرف موقع دیا بلکہ کئی لوگوں کے اکسانے کے باوجود آپ نے صوبہ پختونخواہ اور بلوچستان میں دیگر جماعتوں کو حکومت بنانے میں مدد فراہم کی.
میاں صاحب کے دانشمندانہ رویے کی وجہ سے جو مثبت ماحول بنا تھا وہ میرے جیسے محبان جمہوریت کے لئے اظمینان کا باعث تھا. حکومت کی تشکیل کے بعد یوں محسوس ہو رہاتھا کہ اب ہماری ترقی کا سفر شروع ہوچکا ہے. دہشتگردی , مہنگائی , لوڈشیڈنگ اور بےروزگاری جیسے عفریت اب جلد ہی واپس بوتل میں قید کردئیے جائیں گے. مسلم لیگ کی پہلے سال کی کارکردگی یقینا حوصلہ افزا رھی. اس دوران جن منصوبوں پر کام شروع ہوچکا ہے اور مذید جو منصوبے ابھی پائپ لائن میں ہیں ان کے ثمرات اگلے تین سے چار سالوں میں عوام تک منتقل ہونا شروع ہوجائیں گے. پہلی مرتبہ تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ وفاقی حکومت کے تعلقات نہایت خوشگوار ہیں. اور ترقی کے اس سفر میں سب جمہوری قوتیں متفق و متحد نظر آتی ہیں
سب کچھ صحیح چل رہا تھامگر اچانک معاملات نے پراسرار رخ اختیار کر لیا ہے. پہلے آرمی چیف کا آرمی کے وقار سے متعلق بیان چلا تو لگا جیسے کہیں کچھ ہوا ہے جو محترم آرمی چیف کو آرمی کے وقارسے متعلق بیان دینا پڑا.... پھر کچھ دنوں میں ہی وزراء کی نئی پرانی تقاریر کا ملغوبہ سوشل میڈیا پر داغ دیا گیا. اس کے بعد ان تقاریر کی وڈیوز کو ٹی وی پر لا کر عسکری اور جمہوری قوتوں میں فاصلے پیدا کرنے کی مزموم کوشش کی گئی. ابھی اس سب سے میاں نوازشریف بنرد آزما ہورہے تھے کہ اچانک حامد میر پر حملہ کا واقع سامنے آگیا. اور اس واقع کے اگلے ہی دن جیو سب کے نشانے پر آگیا. جیو ان چینلز میں صف اول میں ہے جو جمہوری اقدار کے لئے آواز بلند کرتے رہے ہیں اور اس پاداش میں کئے طرح کے نتائج بھی بھگت چکا ہے. ہوں لگتا ہے جیسے اس کا جمہوری حکومت کے کئی اقدامات پر سراہنا اور حکومت کے نظریات سے متفق ہونا اس کے لئے مہنگا پڑنے جا رہا ہے. مجھے لگتا ہے کہ یہ سب واقعات کی کسی لمبی سیریل کا آغاز ہے. ملک اور جمہوریت دشمنوں نے ایک بار پھر سے اپنے پنجے گاڑھنا شروع کر دیئے ہیں. اور مجھے 1999 کا وہ دن یاد آ رھا ہے جب میں نے میاں نوازشریف کی حکومت کے خاتمہ کی خبرسنی . اس دن کا دکھ میرے دل و دماغ میں ابھی تک تازہ ہے. اس دن مجھے لگا جیسے میری اپنی حکومت کو قبضہ گروپ نے چھین لیا ہے. اس دن میں ایک ویران سڑک پر آنسو بہاتا ہوا دور تک نکل گیا تھا. میرے ذہن میں صرف ایک ہی سوال گونج رہا تھا کہ آخر میرے ووٹ کی باربار تحقیر کیوں کی جاتی ہے. میں جتنا اس بارے میں سوچتا تھا اتنا ہی زیادہ میری آنکھوں کے سامنے کا منظر دھندلا ہوتا جاتا تھا.
امیدوں کا جو ایک آشیانہ ہم نے ووٹوں کی بنیاد پر کھڑا کیا ہے مجھے آج پھر اس کی مخدوش حالت کا احساس ہونے لگا ہے. ایک بار پھر میرے ذہن میں سوالات پیدا ہونے لگے ہیں کہ کیا میرے ووٹ کی دوبارہ تذلیل کی جائے گی. کیا میری اور میرے بچوں کی قسمت میں خوابوں کو چکناچور ہوتے دیکھنا ہے. اپنے اپنے اداروں کی توقیر کی تو ہر کوئی بات کرتا ہے مگر کیوں کوئی میرے ووٹ کی حرمت کا خیال نہیں کرتا. کیا مجھے ایک بار پھر ویران سڑک پر اپنا دکھ آنسوؤں کی نظر کرنا ہوگا.
Subscribe to:
Posts (Atom)
