Wednesday, February 4, 2026

فطرت اور مائیکروبائیوم کا پوشیدہ تعلق | The Secret Life of Your Microbiome



مائیکروبیوم، فطرت اور انسانی صحت کا تعلق

🦠

یہ کتاب انسانی صحت، مائکروبائوم اور حیاتیاتی تنوع کے گہرے تعلق کو بیان کرتی ہے۔ مصنفین کے مطابق جدید طرز زندگی اور فطرت سے دوری نے ڈیس بائیوسس اور بیماریوں کو جنم دیا ہے۔ حل کے طور پر غذائیت، مائیکروبس اور قدرتی ماحول سے دوبارہ جڑ کر مکمل صحت کے حصول پر زور دیا گیا ہے۔



آنتوں اور دماغ کا رشتہ | The Mind - Gut Connection

آنتوں اور دماغ کا رشتہ

یہ کتاب  مائیکروبائیوم اور دماغی صحت کے درمیان پیچیدہ تعلق کی وضاحت کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کیسے خوراک، اور بچپن کے تجربات ہماری صحت  اور فیصلوں پر اثر اندازہوتے ہیں۔ گٹ فیلنگ جسے ہم اندرونی احساس کہہ سکتے ہیں وہ ہمارے دوسرے دماغ یعنی ہمارے پیٹ میں موجود مائیکرومائیوم کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔۔۔ ہمارے بہت سے احساسات، ہمارا موڈ بھی اس کی وجہ سے تبدیل ہوتا ہے۔۔۔۔ یہ کتاب دماغ اور گٹ کے تعلق پر روشنی ڈالتی ہے۔


Tuesday, February 3, 2026

قیادت اور خود سازی کے رہنما اصول | THE GREATNESS GUIDE



عظمت پانے کے راہنما اصول

رابن شرما کی یہ کتاب کامیابی اور خوشحالی کے 101 اسباق پر مبنی ہے۔ یہ اعلیٰ مقصد، عجز و انکساری، اور خوف پر قابو پانے کی ترغیب دیتی ہے۔ مصنف کے نزدیک ذاتی مہارت، نیک نیتی اور نظم و ضبط ہی انسان کو عظیم بناتے ہیں۔

اس ویڈٰیو میں رابن شرما کی کتاب سے لئے گئے کامیابی اور خوشی پانے کے اصول بیان کیلئے گئے ہیں

آج ہی اپنی بہترین ورژن بننے کا انتخاب کریں۔


ٹائپ 2 ذیابیطس کا بغیر دوا خاتمہ ممکن | THE DIABETES CODE



ذیابیطس کا کوڈ: علاج اور بحالی کا راستہ 🩸

 

ٹائپ 2 ذیابیطس ایک قابل علاج بیماری ہے جو انسولین ریزسٹنس اور چینی کی زیادتی سے ہوتی ہے۔۔ یہ جسم کے ہر عضو کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق نشاستہ یعنی کارب کی مقدار کم کرکے بیماری کو قابو کیا جاسکتا ہے۔ صرف ادویات پر انحصار آپ کو اور بھی زیادہ بیمار کرسکتا ہے۔ وقفے وقفے سے روزہ رکھنا اور کھانے میں وقفہ کرنا بھی بیمار جسم کو صحتمند بنا دیتا ہے۔

 


Artificial Intelligence: Implications on human thinking | مصنوعی ذہانت ا...




مصنوعی ذہانت اور طبی تعلیم: تنقیدی سوچ کا تحفظ

 

تحقیق کے مطابق چیٹ جی پی ٹی                اعلیٰ تعلیم میں تنقیدی سوچ اور آزادانہ فیصلے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتا ہے۔ یہ طلبہ کو مختلف تناظر تک رسائی دیتا ہے، تاہم اس پر زیادہ انحصار تخلیقی مہارتوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اساتذہ کی رہنمائی اور معلومات کی تصدیق ذمہ دارانہ استعمال کے لیے ضروری ہے۔

 


 



Sunday, February 1, 2026

The Magic of Reality | حقیقت اشنائی کا سائنسی طریقہ


یہ کتاب سائنس اور ارتقاء کے ذریعے حقیقت کی وضاحت کرتی ہے۔
اس میں یہ بنیادی سوال اٹھایا گیا ہے کہ ہم کیسے حقیقت کو جان سکتے ہیں۔ اس کتاب میں ڈی این اے، ایٹمی ساخت اور قدرتی انتخاب جیسے تصورات کو کہانیوں اور تصویروں سے سلجھایا گیا ہے۔ مصنف نے توہم پرستی کے بجائے سائنسی حقائق کو ہی اصل سحر اور بصیرت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔


Saturday, January 31, 2026

ناکامی کے بعد شاندار واپسی کا ہنر | Emotional Intelligence RESILIENCE

ناکامی کے بعد شاندار واپسی


جذباتی ذہانت اور قوتِ برداشت کو کام کی جگہ پر کامیابی کا کلیدی عنصر قرار دیتے ہیں۔ بحالی کے لیے حقیقت پسندی، زندگی میں مقصد کی تلاش اور حالات کے مطابق ڈھلنا ضروری ہے۔ ذہنی سکون، مستقل مزاجی اور دوسروں سے فیڈ بیک لینا انفرادی و تنظیمی ترقی کے لیے اہم ہنر ہیں۔

 

 


مشینوں میں انسانی شعور ناممکن کیوں | The Emperor’s New Mind


 The Emperor’s New Mind: Concerning Computers, Minds and the Laws of Physics



راجر پینروز کی کتاب مصنوعی ذہانت، ریاضی اور طبیعیات کے تعلق پر مبنی ہے۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ انسانی ذہن محض ایک الگورتھم نہیں ہے۔ کوانٹم مکینکس اور گریوٹی کے قوانین شعور کی تفہیم میں کلیدی ہیں۔ یہ تحریر ٹورنگ مشین، تھرموڈینامکس اور دماغی ساخت کا جامع احاطہ کرتی ہے۔

 


Friday, January 30, 2026

سائنس بمقابلہ توہمات اور دماغی فریب | The Demon Haunted World Science


 

سائنس اندھیرے میں روشنی کا ذریعہ
کارل ساگن کی یہ تحریر سائنسی طریقہ کار، شک اور حیرت کے امتزاج پر زور دیتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ خرافات اور بیساکھیوں سے بچنے کے لیے سائنسی سوچ لازمی ہے۔ سائنسی شعور نہ صرف کائنات کو سمجھنے بلکہ جمہوریت اور آزادی کے تحفظ کے لیے بھی ایک مضبوط ڈھال ہے۔


Biocentrism vs Ecocentrism | مرکزیت اور ماحولیاتی مرکزیت

Biocentrism vs Ecocentrism

یہ تحریر حیاتیاتی مرکزیت اور ماحولیاتی مرکزیت کے درمیان فرق کی وضاحت کرتی ہے۔ جہاں پہلا نظریہ تمام انفرادی جانداروں کی موروثی قدر پر زور دیتا ہے، وہیں دوسرا نظریہ پورے ماحولیاتی نظام بشمول مٹی، ہوا اور پانی کو اہمیت دیتا ہے۔ یہ دونوں فلسفے اس بات پر متفق ہیں کہ فطرت محض انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کی اپنی ایک حیثیت ہے۔ بائیو سینٹرزم کا مرکز پودے اور جانور ہیں، جبکہ ایکو سینٹرزم پورے کرہ ارض کی صحت اور استحکام کو ترجیح دیتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہ متن انسانی بالادستی کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے قدرتی دنیا کے تحفظ کے لیے دو مختلف لیکن متعلقہ زاویہ ہائے نظر پیش کرتا ہے۔