Tuesday, February 3, 2026

قیادت اور خود سازی کے رہنما اصول | THE GREATNESS GUIDE



عظمت پانے کے راہنما اصول

رابن شرما کی یہ کتاب کامیابی اور خوشحالی کے 101 اسباق پر مبنی ہے۔ یہ اعلیٰ مقصد، عجز و انکساری، اور خوف پر قابو پانے کی ترغیب دیتی ہے۔ مصنف کے نزدیک ذاتی مہارت، نیک نیتی اور نظم و ضبط ہی انسان کو عظیم بناتے ہیں۔

اس ویڈٰیو میں رابن شرما کی کتاب سے لئے گئے کامیابی اور خوشی پانے کے اصول بیان کیلئے گئے ہیں

آج ہی اپنی بہترین ورژن بننے کا انتخاب کریں۔


ٹائپ 2 ذیابیطس کا بغیر دوا خاتمہ ممکن | THE DIABETES CODE



ذیابیطس کا کوڈ: علاج اور بحالی کا راستہ 🩸

 

ٹائپ 2 ذیابیطس ایک قابل علاج بیماری ہے جو انسولین ریزسٹنس اور چینی کی زیادتی سے ہوتی ہے۔۔ یہ جسم کے ہر عضو کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق نشاستہ یعنی کارب کی مقدار کم کرکے بیماری کو قابو کیا جاسکتا ہے۔ صرف ادویات پر انحصار آپ کو اور بھی زیادہ بیمار کرسکتا ہے۔ وقفے وقفے سے روزہ رکھنا اور کھانے میں وقفہ کرنا بھی بیمار جسم کو صحتمند بنا دیتا ہے۔

 


Artificial Intelligence: Implications on human thinking | مصنوعی ذہانت ا...




مصنوعی ذہانت اور طبی تعلیم: تنقیدی سوچ کا تحفظ

 

تحقیق کے مطابق چیٹ جی پی ٹی                اعلیٰ تعلیم میں تنقیدی سوچ اور آزادانہ فیصلے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتا ہے۔ یہ طلبہ کو مختلف تناظر تک رسائی دیتا ہے، تاہم اس پر زیادہ انحصار تخلیقی مہارتوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اساتذہ کی رہنمائی اور معلومات کی تصدیق ذمہ دارانہ استعمال کے لیے ضروری ہے۔

 


 



Sunday, February 1, 2026

The Magic of Reality | حقیقت اشنائی کا سائنسی طریقہ


یہ کتاب سائنس اور ارتقاء کے ذریعے حقیقت کی وضاحت کرتی ہے۔
اس میں یہ بنیادی سوال اٹھایا گیا ہے کہ ہم کیسے حقیقت کو جان سکتے ہیں۔ اس کتاب میں ڈی این اے، ایٹمی ساخت اور قدرتی انتخاب جیسے تصورات کو کہانیوں اور تصویروں سے سلجھایا گیا ہے۔ مصنف نے توہم پرستی کے بجائے سائنسی حقائق کو ہی اصل سحر اور بصیرت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔


Saturday, January 31, 2026

ناکامی کے بعد شاندار واپسی کا ہنر | Emotional Intelligence RESILIENCE

ناکامی کے بعد شاندار واپسی


جذباتی ذہانت اور قوتِ برداشت کو کام کی جگہ پر کامیابی کا کلیدی عنصر قرار دیتے ہیں۔ بحالی کے لیے حقیقت پسندی، زندگی میں مقصد کی تلاش اور حالات کے مطابق ڈھلنا ضروری ہے۔ ذہنی سکون، مستقل مزاجی اور دوسروں سے فیڈ بیک لینا انفرادی و تنظیمی ترقی کے لیے اہم ہنر ہیں۔

 

 


مشینوں میں انسانی شعور ناممکن کیوں | The Emperor’s New Mind


 The Emperor’s New Mind: Concerning Computers, Minds and the Laws of Physics



راجر پینروز کی کتاب مصنوعی ذہانت، ریاضی اور طبیعیات کے تعلق پر مبنی ہے۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ انسانی ذہن محض ایک الگورتھم نہیں ہے۔ کوانٹم مکینکس اور گریوٹی کے قوانین شعور کی تفہیم میں کلیدی ہیں۔ یہ تحریر ٹورنگ مشین، تھرموڈینامکس اور دماغی ساخت کا جامع احاطہ کرتی ہے۔

 


Friday, January 30, 2026

سائنس بمقابلہ توہمات اور دماغی فریب | The Demon Haunted World Science


 

سائنس اندھیرے میں روشنی کا ذریعہ
کارل ساگن کی یہ تحریر سائنسی طریقہ کار، شک اور حیرت کے امتزاج پر زور دیتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ خرافات اور بیساکھیوں سے بچنے کے لیے سائنسی سوچ لازمی ہے۔ سائنسی شعور نہ صرف کائنات کو سمجھنے بلکہ جمہوریت اور آزادی کے تحفظ کے لیے بھی ایک مضبوط ڈھال ہے۔


Biocentrism vs Ecocentrism | مرکزیت اور ماحولیاتی مرکزیت

Biocentrism vs Ecocentrism

یہ تحریر حیاتیاتی مرکزیت اور ماحولیاتی مرکزیت کے درمیان فرق کی وضاحت کرتی ہے۔ جہاں پہلا نظریہ تمام انفرادی جانداروں کی موروثی قدر پر زور دیتا ہے، وہیں دوسرا نظریہ پورے ماحولیاتی نظام بشمول مٹی، ہوا اور پانی کو اہمیت دیتا ہے۔ یہ دونوں فلسفے اس بات پر متفق ہیں کہ فطرت محض انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کی اپنی ایک حیثیت ہے۔ بائیو سینٹرزم کا مرکز پودے اور جانور ہیں، جبکہ ایکو سینٹرزم پورے کرہ ارض کی صحت اور استحکام کو ترجیح دیتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہ متن انسانی بالادستی کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے قدرتی دنیا کے تحفظ کے لیے دو مختلف لیکن متعلقہ زاویہ ہائے نظر پیش کرتا ہے۔

 

 


دنیا اکثریت نہیں، ضدی اقلیت چلاتی ہے | SKIN IN THE GAME


"Skin in the Game" 
یہ اقتباسات نسیم نکولس طالب کی کتاب سے ماخوذ ہیں، جو زندگی کے مختلف شعبوں میں توازن اور ذمہ داری کے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ مصنف کا مرکزی خیال یہ ہے کہ حقیقی عدل اور مہارت تبھی ممکن ہے جب فیصلہ ساز اپنے فیصلوں کے ممکنہ نقصانات کا بوجھ خود بھی اٹھائیں۔ وہ دانشورانہ خیالی دنیا اور عملی زندگی کے فرق کو نمایاں کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کس طرح خطرہ مول لینا انسان کو مشینوں اور محض نظریاتی ماہرین سے ممتاز کرتا ہے۔ متن میں تاریخی قوانین، مذہب، معاشیات اور اخلاقیات کے ذریعے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جو لوگ دوسروں پر خطرات مسلط کرتے ہیں مگر خود محفوظ رہتے ہیں، وہ نظام کی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ تحریر بقا، دیانت اور شجاعت کو ہی حقیقی عقل مندی کا پیمانہ قرار دیتی ہے۔

 

 


Thursday, January 29, 2026

دنیا بدلتی ہے مگر انسانی فطرت نہیں | Same as Ever