Friday, February 7, 2025

The Intelligent Investor

 



World’s Best Book for Value Investing

While physicist Sir Isaac Newton is widely viewed as the leading authority on gravity and motion, economist Benjamin Graham, best known for his book “The Intelligent Investor,” is lauded as a top guru of finance and investment. Known as the father of value investing, “The Intelligent Investor: The Definitive Book on Value Investing” is considered one of the most important books on the topic. By evaluating companies with surgical precision, Graham excelled at making money in the stock market without taking big risks.

 

One of Graham’s key contributions was to point out the irrationality and groupthink that was often rampant in the stock market. Thus, according to Graham, investors should always aim to profit from the whims of the stock market, rather than participate in it. His principles of investing safely and successfully continue to influence investors today.

 

What Does "The Intelligent Investor" Teach You?

“The Intelligent Investor” is widely considered to be the definitive text on value investing. According to Graham, investors should analyze a company’s financial reports and its operations but ignore the market noise. The whims of investors—their greed and fear—are what creates this noise and fuels daily market sentiments.

Most importantly, investors should look for price-value discrepancies—when the market price of a stock is less than its intrinsic value. When these opportunities are identified, investors should make a purchase. Once the market price and the intrinsic value are aligned, investors should sell.

 

 

Friday, January 31, 2025

سرمایہ کاری کا تعارف


 

بچوں کیلئے سرمایہ کاری کا مختصر کورس

یہ کتابچہ میں نے بچوں میں فنانشل شعور بیدار کرنے کیلئے بنائی ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں کوئی ایسا ادارہ نہیں جہاں فنانشل تعلیم دی جارہی ہو۔ یہ کتابچہ بچوں اور بڑوں کو سرمایہ کاری کے بارے میں بنیادی تصور مہیا کرے گا۔ درج ذیل موضوعات کو اس کتابچے میں زیر بحث لایا گیا ہے۔

پیسہ کیا ہے؟

بجٹ کیا ہے؟

بچت کیسے کریں؟

سرمایہ کاری

سرمایہ کاری کیسے شروع کی جائے؟

سمارٹ انتخاب

کمپاؤنڈنگ یا مرکب اضافہ کیا ہے؟

 

پیسہ کیا ہے؟

پیسہ تبادلے کا ایک ذریعہ ہے جسے لوگ سامان اور خدمات خریدنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ مختلف شکلوں میں آتا ہے، جیسے سکے، کرنسی نوٹ، اور ڈیجیٹل کرنسی۔ پیسے کو ایک ایسے آلے کے طور پر تصور کریں جو ہمیں ان چیزوں کو حاصل کرنے میں مدد کرتا ہے جس کی ہمیں ضرورت یا خواہش ہوتی ہے۔ یہ ایک عالمگیر تجارتی ٹوکن کی طرح ہے جس پر ہر کوئی متفق ہے۔

پیسہ کیسے حاصل کرتے ہیں؟

پیسہ کسی بھی حکومت کے حکم پر جاری ہوتا ہے اور اسے حاصل کرنے کیلئے آپ کو اپنی خدمات یا اپنی بنائی ہوئی اشیاء کو بازار میں فروخت کرنا ہوتا ہے۔ آپ کی خدمات اور اشیاء کے بدلے میں دوسرا ضرورت مند آپ کو پیسہ ادا کرتا ہے۔ بچوں کو سمجھائیں کہ آپ کام کاج، بچوں کی دیکھ بھال، یا کوئی چھوٹا کاروبار چلا کر پیسہ کما سکتے ہیں۔ مختلف پیشوں کے بارے میں اور ان سے حاصل انکم کے بارے میں بھی بچوں کو سکھائیں۔

 

بجٹ کیا ہے؟

بجٹ پیسہ خرچ کرنے اور بچانے کے طریقے کے لیے ایک منصوبہ ہے۔ یہ یقینی بنانے میں مدد کرتا ہے کہ ہم اپنی کمائی سے زیادہ خرچ نہ کریں۔خرچ کرتے ہوئے ہمیں بچوں کو یہ سکھانا چاہئے کہ ہماری ضروریات کیا ہیں اور خواہشات کیا اور یہ کہ ہمیں کس حد تک خواہشات پر خرچ کرنا چاہئے اور کہاں پر رک جانا چاہئے۔

 

بچت کیسے کریں؟

ہمیں پیسہ کمانے اور خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ پیسہ بچانے کے طریقوں کو بھی سیکھنا ہوگا۔ بچت کیلئے ہم مختلف طریقے استعمال کرسکتے ہیں۔ بچوں کو بچت کی عادت ڈالنے کیلئے گھر میں جار یا گلا بنا سکتے ہیں۔ بچوں کو اپنی پسند کا کھلونا وغیرہ لینے کیلئے انھیں بچت کرنے اور اپنے پیسے سے خریدنے کی تربیت دیں۔

 

اہداف کے لیے بچت

بچت کا مطلب مستقبل کے استعمال کے لیے رقم کو الگ کرنا ہے۔ بچت کے اہداف مقرر کریں اس سے ہمیں حوصلہ افزائی ملے گی۔ اور اپنا ہدف پورا کرنے کیلئے باقاعدگی سے بچت کا سلسلہ شروع ہوگا۔

 

بچوں کو سمجھائیں کہ اگر آپ نیا کھلونا چاہتے ہیں، تو آپ ہر ہفتے اپنے الاؤنس کا تھوڑا سا بچا سکتے ہیں جب تک کہ آپ کے پاس کافی نہ ہوجائے اور اپنی پسند کا کھلونا لے سکیں۔ قلیل مدتی اہداف میں کھلونا وغیرہ لینا ہوسکتا ہے جبکہ طویل مدتی میں کالج کے اخراجات یا موٹربائیک کر خریداری ہوسکتے ہیں۔

 

دانشمندی سے خرچ

دانشمندی سے خرچ کرنے کا مطلب ہے کہ پیسے کے استعمال کے بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلے کرنا۔ قیمتوں کا موازنہ کرنا اور ضروریات بمقابلہ خواہشات پر غور کرنا ضروری ہے۔بچوں کو سمجھائیں کہ کوئی چیز خریدنے سے پہلے، پوچھیں کہ کیا یہ ایسی چیز ہے جس کی آپ کو واقعی ضرورت ہے یا صرف خریدنے کی چاہت ہے۔ خریدتے وقت بہترین ڈیل حاصل کرنے کے لیے سیلز، ڈسکاؤنٹ تلاش کریں اور قیمتوں کا موازنہ کریں۔

 

ضروریات بمقابلہ خواہشات کو سمجھنا

ضروریات زندگی کے لیے ضروری چیزیں ہیں (مثلاً خوراک، لباس، رہائش)۔خواہشات وہ چیزیں ہوتی ہیں جن کا ہونا اچھا ہوتا ہے لیکن ضروری نہیں ہوتا (مثلاً کھلونے، گیجٹ)۔ بچوں کو سمجھائیں ضروریات ایسی چیزیں ہیں جن کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے، جیسے خوراک اور پانی۔خواہشات اضافی چیزیں ہیں جو زندگی کو مزہ دیتی ہیں لیکن ضروری نہیں ہیں۔ پیسے خرچ کرتے ہوئے بچوں کیلئے ان دونوں میں فرق جاننا ضروری ہے۔

 

سرمایہ کاری

سرمایہ کاری کا مطلب ہے مستقبل میں مزید رقم واپس ملنے کی امید کے ساتھ کسی چیز میں پیسہ لگانا۔سرمایہ کاری کام کے بغیر بھی منافع کے ذریعے آپ کے پیسے یا اثاثہ جات کو بڑھا سکتی ہے۔

بچوں کو سمجھائیں کہ سرمایہ کاری درخت لگانے جیسا ہے۔ آپ زمین میں ایک چھوٹا سا بیج (پیسہ) ڈالتے ہیں، اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں، اور وقت کے ساتھ، یہ بڑھتا ہے اور آپ کو پھل (زیادہ پیسہ) دیتا ہے.

تفریحی اور دل چسپ انداز میں ان تصورات کو متعارف کروا کر، آپ اپنے بچوں کو مالی خواندگی کی مضبوط بنیاد بنانے میں مدد کریں گے۔ کیا ایسی کوئی مخصوص سرگرمیاں یا گیمز ہیں جن کے بارے میں آپ آئیڈیاز چاہیں گے تاکہ ان اسباق کو اپنے بچوں کے لیے مزید دل چسپ بنایا جا سکے۔

 

ہم کیوں سرمایہ کاری کریں؟

دولت میں اضافے کیلئے: جیسے درخت چھوٹے بیجوں سے اگتے ہیں، سرمایہ کاری آپ کے پیسے کو وقت کے ساتھ بڑھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ زندگی میں جتنا جلدی ہو سکے بچت اور سرمایہ کاری کو سیکھ لینا چاہئے۔ بچائے گئے پیسے کو مسلسل لمبے عرصے تک انویسٹ کرنے سے بہت بڑی دولت جمع کی جاسکتی ہے۔ انویسٹمنٹ آپ کو ایک جادوئی طاقت والے فارمولے سے دولت جمع کر کے دیتی ہے جسے ماہرین کمپائنڈنگ کہتے ہیں۔

 

اہداف تک پہنچنے کا طریقہ: سرمایہ کاری سے آپ کو بڑے اہداف کے لیے بچت کرنے میں مدد ملتی ہے، جیسے کہ نئی موٹر سائیکل خریدنا، کالج جانا، یا یہاں تک کہ جب آپ بڑے ہو جائیں تو گھر حاصل کرنا۔

 

افراط زر کا مقابلہ: اگر آپ اپنا پیسہ صرف گللک میں رکھتے ہیں، تو مستقبل میں وہی چیزیں خریدنا کافی نہیں ہوگا کیونکہ قیمتیں بڑھ جاتی ہیں (اسے افراط زر کہا جاتا ہے)۔ بینک یا جیب میں پڑے روپے کی قیمت مسلسل کم ہوتی رہتی ہے۔ سرمایہ کاری آپ کے پیسے کو ان قیمتوں میں اضافے کو برقرار رکھنے بلکہ آپ کے سرمائے کو افراط زر کی رفتار سے زیادہ تیز بڑھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

 

 

سرمایہ کاری کیسے شروع کی جائے؟

سرمایہ کاری کرنے کے بہت سے طریقے ہوتے ہیں۔ ان میں سے چند ایک ایسے طریقے جن کو ہر خاص و عام اپنا سکتا ہے انھیں یہاں درج کریں گے۔ ان میں اضافی فائدہ یہ بھی ہے کہ سرمایہ کاری کیلئے یہاں زیادہ بڑی رقم درکار نہیں۔ آپ چھوٹے سرمائے سے بھی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔

 

بچت اکاؤنٹس: یہ سب سے آسان قسم ہے۔ آپ اپنا پیسہ بینک میں ڈالتے ہیں، اور اس سے تھوڑا سا اضافی پیسہ ملتا ہے جسے سود یا منافع کہتے ہیں۔

 

اسٹاکس: کسی بڑی کمپنی کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کے مالک ہونے کا تصور کریں، جیسے آپ کے پسندیدہ کھلونوں کی دکان کا ایک چھوٹا سا حصہ۔ اگر اسٹور اچھا کام کرتا ہے، تو آپ کا ٹکڑا زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔ اور بڑھتی قیمت کے ساتھ ساتھ آپ دکان کے جمع شدہ منافع میں سے بھی حصہ دار قرار پاتے ہیں۔

 

بانڈز: یہ آپ کی رقم کسی کو قرض دینے کے مترادف ہے (جیسے حکومت یا کمپنی)، اور وہ آپ کو کچھ عرصے بعد اضافی رقم (منافع) کے ساتھ واپس کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ یہ اسٹاک سے زیادہ محفوظ سرمایہ کاری سمجھی جاتی ہے جبکہ اس میں سرمایہ بڑھنی کی شرح نصبتا کم رہ سکتی ہے۔

 

میوچل فنڈز: یہ اپنے پیسے کو دوسرے لوگوں کے پیسے کے ساتھ جمع کرنے اور بہت سی مختلف چیزوں میں ایک ساتھ سرمایہ کاری کرنے جیسا ہے۔ یہ ایک کمیونٹی گارڈن لگانے کی طرح ہے۔ میوچل فنڈ چلانے کیلئے الگ سے کمپنیاں رجسٹرڈ ہوتی ہیں۔ وہ آپ کے سرمائے کو مختلف اقسام کی سرمایہ کاری میں انویسٹ کرتے ہیں اور اس پر حاصل شدہ منافع کو آپ کے سرمائے میں شامل کرتے رہتے ہیں۔ لمبے عرصے کی سرمایہ کاری میں یہ بھی ایک محفوظ طریقہ ہے۔

 

سمارٹ انتخاب

 

بچوں کو تحقیق کا طریقہ سمجھائیں کہ جس طرح آپ مختلف پودوں کو لگانے سے پہلے ان کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں، اسی طرح مختلف سرمایہ کاری کے بارے میں جانیں۔ بڑوں سے مدد طلب کریں، کتابیں پڑھیں، یا یوٹیوب پر سرمایہ  کاری سے متعلق تعلیمی چینلز استعمال کریں۔ آج کے دور میں یوٹیوب بہترین تعلیمی درسگاہ بن چکی ہے۔ اس کا ذہانت کے ساتھ استعمال آپ کو علم کا خزانہ دے سکتا ہے۔

 

متنوع بنائیں: اپنی ساری رقم ایک جگہ نہ رکھیں۔ یہ اپنے باغ میں مختلف قسم کے بیج لگانے کی طرح ہے۔ اگر کوئی اچھی طرح سے نہیں بڑھتا ہے، تو اپنی سرمایہ کاری کے طریقے کو بدل سکتے ہیں۔ اوپر درج کئے گئے طریقوں میں سب سے آسان اور آسانی سے تبدیل کرنے کی صلاحیت اسٹاکس میں ہے۔ سرمایہ کاری سے پہلے مذید معلومات لیں اور اپنی سمجھ سے سرمائے کو کام پر لگائیں۔

 

صبر کرنا: وقت: سرمایہ کاری کو بڑھنے کے لیے وقت درکار ہے۔ جس طرح آپ کسی پودے کو راتوں رات اگانے میں جلدی نہیں کر سکتے، اسی طرح آپ کو اپنی سرمایہ کاری کے ساتھ صبر کرنے کی ضرورت ہے۔

 

مستقل مزاجی: اپنی سرمایہ کاری میں باقاعدگی سے اضافہ کرتے رہیں، چاہے وہ تھوڑی سی رقم ہی کیوں نہ ہو۔ اس طرح آہستہ آہستہ کمپاؤنڈنگ اپنا جادو دکھائے گی اور آپ کی دولت لمبے عرصے میں بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔

 

کمپاؤنڈنگ یا مرکب اضافہ کیا ہے؟

سرمایہ کاری اور کمپاؤنڈنگ کا چولی دامن کا ساتھ ہے اس لئے اس تصور کو بھی بیان کرنے جا رہا ہوں۔ لمبے عرصے کی سرمایہ کاری آپ کو کمپاؤنڈنگ کے فوائد مہیا کرتی ہے۔ کمپاؤنڈنگ ایک جادوئی برف کے گولے کی طرح ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑا اور بڑا ہوتا جاتا ہے۔ تصور کریں کہ آپ ایک چھوٹے سے برف کے گولے سے شروع کرتے ہیں، اور جیسے ہی آپ اسے برف میں لپیٹتے ہیں، یہ زیادہ برف اٹھاتا ہے اور بڑا ہوتا جاتا ہے۔ جتنا زیادہ آپ اسے رول کریں گے، یہ اتنا ہی بڑا ہو جائے گا، اور اتنی ہی تیزی سے بڑھے گا۔ یہی کچھ سرمایہ کاری میں پیسے کے ساتھ ہوتا ہے۔ جتنا لمبے عرصے تک آپ انویسٹ رہتے ہیں اتنا بڑا منافع کماتے ہیں۔

 

تحریر: سلیم اعوان

25 دسمبر 2024

Friday, October 11, 2024

ادویات کے بغیر صحتمند زندگی

شوگر، بلڈ پریشر، یورک ایسڈ جیسی بیماریوں سے نجات کا غذائی پروگرام


آج کے جدید دور میں زندگی کا تصور ادویات کے بغیر ناممکن ہوگیا ہے۔ یہ اب کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ ہمارا لائف اسٹائل اور ہماری کھانے کی عادات ہمیں بیمار کررہی ہیں۔ جیسے ہی ہم چالیس کو عبور کرتے ہیں تو ہمیں بہت سی بیماریاں گھیر لیتی ہیں۔ چالیس سال کی عمر کے بعد شوگر بلڈ پریشر جیسی بیماریاں ہوجاہیں تو ہمیں یہ بات بہت نارمل محسوس ہوتی ہے کیونکہ چالیس کے بعد بیمار ہونے کیلئے ڈاکٹر بھی ہمیں ذہنی طور پر تیار کرتے رہتے ہیں۔ چالیس کے بعد یہ نہ کھائیں وہ نہ کھائیں ایسا نہ کریں ویسا نہ کریں۔ آپ ڈاکٹر کی ہدایات کو فالو کریں یا نہ کریں ہم میں سے تیس سے چالیس فیصد لوگوں کو شوگر، بلڈ پریشر، دل کے امراض، جوڑوں کا درد، یورک ایسڈ، آنکھوں کے مسائل، گردوں کی بیماری جیسی موذی امراض لاحق ہونے لگتی ہیں اور پھر ادویات ہمارا نیا جیون ساتھی بن جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ہم بھی دوسروں کی طرح شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض بن گئے اور پھر ایک دوائی سے دوسری دوائی اور دوسری سے تیسری دوائی ہماری خوراک کا حصہ بنتی گئی۔ جیسے جیسے دوائیاں خوراک میں شامل ہوتی گئیں ویسے ویسے ہماری طبیعت مذید خراب ہوتی رہی۔ اور پھرایک دن ہمیں خوراک کی سائنس کے بارے میں معلوم ہوا۔ ہم نے جانا کہ ہماری بیماریاں ہماری اپنی پیدا کردہ ہیں اور یہ ادویات سے مذید بڑھ سکتی ہیں کم نہیں ہونگی۔ ادویات ہمیں وقتی آرام ضرور دیتی ہیں مگر پھر یہی ادویات لمبے عرصے میں بیماریوں کو بڑھانے کا باعث بنتی ہیں۔ اگر ہمیں واقعی بیماریوں سے نجات چاہئے تو پھر ہمیں اپنے کھانے پینے کے طریقوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔ اورپھر میں نے نیوٹریشن سائنس کو سمجھنے کا سفر شروع کیا۔ کچھ نئی کتابیں نیٹ سے نکالیں اور انھیں پڑھنا شروع کیا۔ تو سمجھ آئی کہ خوراک ہماری زندگی پر کتنا زیادہ اثرانداز ہوتی ہیں۔ آج ہم سب اصل خوراک کو بھول چکے ہیں جعلی خوراکیں کھا کھا کر جسم کو بیمار کرلیا ہے۔ کارب اور چینی سے بنی اشیاء ہماری خوراک کا حصہ بن چکی ہیں۔ ہمارے یہاں شراب منع ہے مگر چینی کے نشے میں ہم شراب کی طرح ہی مبتلاء ہیں۔ چائے میں چینی کم ہو تو ہم سے چائے پی نہیں جاتی۔ کھانے میں روٹی نہ ہو تو ہم اسے کھانا نہیں سمجھتے۔ میں نے اور میری بیوی نے فیصلہ کیا کہ ہم ادویات سے نجات پائیں گے۔ ہم نے کھانے کی عادات کو بدلا اور چند ہفتوں میں ہمیں ادویات کی ضرورت نہ رہی۔ بہرحال ہم نے شوگر اور بلڈ پریشر کے ٹیسٹ جاری رکھے جو وقت کے ساتھ بہتر ہوتے گئے۔ میرا بلڈ پریشر تب سے نارمل شو ہورہا ہے اور شوگر کی ادویات پہلے آدھی اور پھر چند ماہ کے بعد مکمل ختم کردیں۔ چھ ماہ سے مسلسل ہسپتال سے اپنا بلڈ پریشر چیک کروانے کے بعد اور ہر بار نارمل 80/120 ریڈنگ دیکھنے کے بعد سوچتا ہوں کہ کیا بیس سال ادویات بلاوجہ ہی استعمال کیں۔ کارب کی حقیقت پہلے سامنے آجاتی تو کبھی انسولین کی، شوگر اور بلڈ پریشر کی ادویات کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔


کارب کی حقیقت

نشاستہ دار غذا (کارب) کھاؤ اور خون میں شوگر کا لیول بلند ہوجائے گا۔ یہ حقیقت پہلے سال میں میڈیکل اسٹوڈنٹ جانتا ہے۔ ہر نرس اور ڈائیابیٹیس کی تعلیم دینے والا جانتا ہے۔ ہر وہ شوگر کا مریض جو کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد شوگر کا چیک اپ کرتا ہے جانتا ہے۔

کوئی بھی ایسی خوراک کھاؤ جس میں زیادہ مقدار میں کارب ہوتے ہیں تو شوگر بھی زیادہ آئے گی۔ جتنی زیادہ نشاستہ دار غذا اتنا ہی زیادہ شوگر لیول۔ ہر ڈاکٹر ہر سمجھدار مریض جانتا ہے کہ مکھن کھانے سے شوگر نہیں بڑھتی۔ گوشت اور دیگر چکنائی والی غذا کھانے سے شوگر نہیں بڑھتی۔


بیماریوں کا سونامی:

1980 سے شوگر، بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں میں اضافہ ہونا شروع ہوا۔۔ ایسا اس لئے ہے کہ تب سے ہم نے خوراک میں زیادہ جعلی خوراک کھانا شروع کردی۔ کمپنیوں کی بنائی ہوئی پیک کردہ جعلی غذا نے ہمیں بیمار کردیا۔

ہماری خوراک میں 80 فیصد کارب شامل ہوتے ہیں۔ کارب شوگر، بلڈ پریشر اور جسم میں سوزش کا باعث بنتے ہیں۔ آج کارب کھانا کم کردیں شوگر کی بیماری بھی کم ہوجائے گی۔ انسولین کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ادویات سے نجات مل جائے گی۔


مسیحائی تعلیم اور تحائف

ہمارے ڈاکٹر بیماریوں کا علاج ادویات سے کرنے کیلئے ٹرینڈ ہوتے ہیں۔ انھیں بیماریوں کی علامات اور ان کا ادویات سے علاج تجویز کرنے کی تربیت دی گئی ہوتی ہے۔ وہ جہاں ادویات کو فٹ نہیں پاتے وہاں پروسیجر تجویز کرتے ہیں۔ بیماریوں میں غذا کا کیا کردار ہے کون کون سی بیماریاں ہمیں خوراک کی وجہ سے لگ رہی ہیں۔ اور کس طرح خوراک کو تبدیل کریں اور بیماری کو کنٹرول کریں یہ سب ان کا شعبہ نہیں ہے۔ پھر ایک گھناؤنا سچ یہ بھی ہے کہ ادویات بنانے والی کمپنیاں ڈاکٹرز پر انسویسٹ کرتی ہیں انھیں پیسہ اور دیگر مراعات دیتی ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ ادویات بیچ سکیں۔ ڈاکٹر کا اور ادویات کمپنیوں کا بزنس آپ کی بیماری سے جڑا ہے۔

دوسری طرف ہم سب بھی اناج اور چینی کے نشے میں مبتلاء ہوچکے ہیں۔ ہمیں جب بتایا جاتا ہے کہ بطور شوگر کے مریض ہمیں اب چینی سے پرہیز کرنا ہے تبھی ہمارے اندر چینی کی خواہش زور پکڑ جاتی ہے۔ ہم چینی اور روٹی کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کرپاتے اور یہیں سے شروع ہوتا ہے ہماری صحت کی بربادی کا سفر جسے ہم گولیوں اور ٹیکوں کی مدد سے جلد از جلد منزل مقصود پر پہنچانے کا بندوبست کرتے ہیں۔


شوگر

کی بیماری ایک گولی سے شروع ہوتی ہے پھر کچھ عرصے بعد بی پی کی گولی شروع ہوجاتی ہے پھر کلیسٹرول کنٹرول کرنے والی گولی پھر یورک ایسڈ پھر۔۔۔۔۔۔۔ آپ مٹھی بھر گولیاں کھاتے جائیں۔۔۔۔ اور جھوٹی صحت کو قائم رکھیں۔۔۔ اگر ہمیں واقعی صحت مند ہونا ہے اور ادویات سے نجات پانا ہے تو پہلے بیمار سوچ کو بدلیں۔ کھانے کو نشہ نہ بنائیں۔ صحتمند خوراک کھائیں ورنہ خوراک آپ کو کھاجائے گی۔


صحت مند خوراک کا تصور:

امریکی کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر ولیم ڈیوس نے اپنی کتاب "ان ڈاکٹرڈ" میں لکھا ہے کہ سو سے زیادہ بیماریاں ایسی ہیں جنھیں ہم خوراک کی مدد سے بغیر ڈاکٹر کے ختم کر سکتے ہیں۔ ان میں بلڈ پریشر، ذیابیطس، ڈپریشن، الرجی، سانس کی بیماری، جسمانی کمزوری، جگر کی بیماری، جوڑوں کا درد، میگرین، سر درد اور موٹاپا شامل ہیں۔



جدید سائنس خوراک کی اہمیت پر زور دے رہی ہے۔ ہمارے حکماء بہت پہلے سے دیسی ادویات اور دیسی خوراک پر توجہ دیتے آرہے ہیں۔ اب جدید سائنس بھی اس حقیقت سے پردہ اٹھا رہی ہے کہ ہماری صحت پر ہماری خوراک کا اور ہمارے طرز حیات کا بہت زیادہ اثر ہوتا ہے۔ ہم جو کھاتے ہیں اسی سے ہماری صحت اور ہماری شخصیت ترتیب پاتی ہے۔ صحتمند خوراک ہمارے جسم اور دماغ کو صحتمند بناتی ہے۔ ہم زندگی میں زیادہ متحرک ہوجاتے ہیں اور ہمارا دماغ زیادہ بہتر سوچنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت پا لیتا ہے۔


کیٹو ڈائیٹ

کیٹو صحتمند غذا کا ایسا نظام ہے جس میں آپ کم سے کم کارب کھاتے ہیں جبکہ چکنائی اور پروٹین کی مقدار زیادہ لیتےہیں۔ اس خوراک میں شوگر لیول نہیں بڑھتا، بلڈ پریشر کنٹرول میں رہتا ہے، آپ کے جسم اور اندرونی اعضاء پر اکٹھی ہونے والی خطرناک چربی گلنے لگتی ہے اور آپ کا جسم صحتیاب ہونے لگتا ہے۔ چند دنوں اور ہفتوں میں ادویات کی ضرورت یا کم ہوجاتی ہے یا پھرمکمل طور پر ختم ہوجاتی ہے۔ اس نظام کے تحت آپ کو چکنائی کی مقدار کو 70-75 فیصد تک لے کر جانا ہوتا ہے پروٹین کی مقدار 15-20 فیصد ہونی چاہیے جبکہ کارب صرف 5-10 فیصد شامل کرنا ہوتا ہے۔ اس نظام کو اختیار کرنے کے دوسرے دن سے آپ کے جسم میں تبدیلی محسوس ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ایک ہفتے کے اندر اندر آپ کی ادویات کی ضرورت نصف سے بھی کم رہ جاتی ہے۔


خوراک

اس نظام کے تحت آپ کو مندرجہ ذیل چیزوں کو اپنی خوراک کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔

انڈے، گوشت، مکھن،۔ دیسی گھی یا ذیتون کا تیل یا کم از کم سرسوں کا تیل، سبزیاں اور سلاد، دہی، اچار وغیرہ ۔۔۔۔



پرہیز: اس نظام کے تحت جن اشیاء سے آپ کو ہمیشہ کیلئے توبہ کرنی ہے ان میں شامل ہیں آٹا، چاول، چینی، بیکری، مٹھائی، بازاری تمام قسم کے کھانے، کمپنیوں کے ہر طرح کے کھانے کے تیل اور گھی وغیرہ۔۔۔۔

کیٹو خوراک کو اپنانا نہ مشکل ہے نہ ہی اتنا مہنگا جتنا بظاہر نظر آتا ہے۔ جب ادویات سے پیسے بچائیں گے تو اپنی صحت پر لگانے سے یہ نظام مہنگا نہیں پڑے گا۔



التجاء

میری ڈاکٹروں، ماہرین طب اور غذائی ماہرین سے التجاء ہے کہ نیوٹریشن سائنس بہت جدید معلومات سے بھری پڑی ہے۔ ادویات سے ہٹ کر معلومات کے نئے ذخائر پر بھی توجہ دیں۔ اس طرح نہ صرف آپ کی پریکٹس بہتر ہوگی بلکہ خلق خدا کی بھلائی بھی شامل ہوگی۔ ڈاکٹر میڈیسن کے ماہر ہوتے ہیں۔ ان کی ساری تربیت کا محور یہ ہے کہ اس خاص مرض کا علاج اس خاص دوا میں ہے۔ اپنے مریضوں کو ادویات تجویز کرنے سے پہلے اس کی حالت کے مطابق خوراک کو لازمی تجویز کریں۔ شوگر کی بیماری خون میں بڑھی ہوئی بلڈ شوگر کا نام نہیں ہے اس بیماری کا تعلق بڑھی ہوئی انسولین اور جسم میں اس کی بڑھی ہوئی مدافعت سے بھی ہے۔ جسے ماہرین انسولین ریزیسٹنس یا آئی آر کہتے ہیں۔ آئی آر کا تعلق ہماری غذائی بداعمالیوں کا نتیجہ ہے۔ جسے خوراک کی تبدیلی سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ اگر ہم مریض کی آئی آر کو کنٹرول کر پائیں تو اس کی بےشمار بیماریاں خود بخود ختم ہونے لگتی ہیں۔ یہ بات میڈیسن کمپناں اور ان کے ریپ کبھی بریف نہیں کریں گے۔ ان کا کام ہے اپنی ادویات کیلئے نئی مارکیٹ ڈھونڈنا وہ آپ کو بیماروں کو ادویات کا مشورہ دیں گے یا پھر طاقت کی گولیوں کیلئے اکسائیں گے۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں عام طور پر ڈاکٹر حضرات بھی ایک بار کتابی علم حاصل کرلینے کے بعد نئی تحقیق پر کم ہی توجہ دیتے ہیں۔ آج میڈیکل سائنس بھی آئی ٹی فیلڈ کی طرح بہت متحرک ہوچکی ہے۔ اس فیلڈ میں بھی نت نئی دریافتوں نے ہمارے چند سال پہلے حاصل کردہ علم کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ طب کی دنیا میں غذا کی اہمیت پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ اب یہ بات ماہرین جان چکے ہیں کہ صرف میڈیسن کی مدد سے آپ مریض کو صحت یاب نہیں کررہے بلکہ اسے کسی دوسری بیماری کیلئے تیار کر رہے ہیں۔ میڈیسن سے زیادہ خوراک کو اہمیت دیں۔ علاج بالغذا کا علم بہت وسیع ہوچکا ہے میری ماہرین طب سے التماس ہے کہ وہ نئی تحقیق پر نظر رکھیں ، ادویات انجیکشن اور پروسیجرز کے علاوہ خوراک کو اپنی پریکٹس کا حصہ بنائیں۔۔۔۔


Saturday, September 28, 2024

تعصب کی غلامی

 


تعصب کیا ہے؟

تعصب دراصل ایک بہت متاثرکن احساس ہے۔

کوئی بھی غیر معقول رویہ جو غیر معمولی طور پر عقلی و دانش کے خلاف مزاحم ہو تعصب کہلاتا ہے۔ گورڈن آلپورٹ نے تعصب کی تعریف ایک "احساس کے طور پر کی جو کسی اصل تجربے یا حقائق پر مبنی نہیں ہوتا۔ کوئی شخص بھی ایک بار کسی تعصب کا شکار ہوگیا تو وہ مخالفانہ سوچ کو سوچے سمجھے بغیر رد کردیتا ہے۔ وہ تبدیلی کا مخالف ہوتا ہے۔

تعصب ایک کہانی سے شروع ہوتا ہے۔ جو بھی اس کہانی پر ایمان لے آتا ہے وہ اس گروپ کا ممبر بن جاتا ہے۔ کہانی میں ہمیشہ ایک ہیرو اور ایک یا ایک سے زیادہ ولن ہوتے ہیں۔ ہیرو تمام اچھائیوں کا مرکز جبکہ ولن تمام برائیوں کی جڑ ہوتا ہے۔ کہانی سنانے والا جتنا متاثرکن شخصیت کا مالک ہوگا وہ کہانی اتنا ہی زیادہ سننے والے پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ کہانی سنانے والا اسے مذہبی رنگ دیدے تو یہ مذہبی فرقہ بن جاتا ہے۔ کہانی سیاسی ہو تو سیاسی جماعت بنتی ہے۔ کہانی معاشرے اور قبیلے کی ہو تو قوم بن جاتی ہے۔

 تعصب میں ہوتے ہوئے ہم لگام سے بندھے جانور کی طرح ہوتے ہیں جسے مالک جب چاہے جدھر چاہے موڈ سکتا ہے۔ ہم اپنے لیڈر یا اپنے فرقے کی ہر بات کو سوچے سمجھے بغیر درست مان لیتے ہیں۔ ہمیں مخالف کی ہر بات غلط بلکہ گھٹیا نظر آتی ہے جبکہ اپنے فرقے کی گھٹیا بات بھی یا تو اچھی لگتی ہے یا پھر بری محسوس ہونے کے باوجود ہم اسے ان دیکھا کردیتے ہیں۔ تعصب کی انتہائی شکل دہشتگری پر منتج ہوسکتی ہے۔

 

تعصب ایک طاقت

تعصب ہماری طاقت بھی ہے کمزوری بھی۔ اس کی مدد سے ہم کسی خاص مقصد کے حصول میں خلوص دل سے اپنی تمام طاقت اور صلاحیت کو بروکار لے آتے ہیں۔ تعصب میں مبتلاء شخص اپنے نقطۃ نظر کو منوانے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ تعصب کی یہی طاقت ہماری کمزوری بھی بن جاتی ہے۔ ہمارا لیڈر یا ہمارا گروپ ہمیں جس طرح چاہیں استعمال کرلیتے ہیں۔ تعصب کے اس استعمال سے دنیا کی تاریخ بھری پڑی ہے۔ گروہی لڑائیاں ملکوں کی دشمنیاں فرقوں کے فسادات سب تعصب کی پیداوار ہیں۔

اگر تعصب بڑے پیمانے پر پھیلایا جائے تو یہ خطرناک ہو سکتا ہے ۔ میڈیا جیسے اخبارات، ٹی وی، ریڈیو میں، یا سوشل میڈیا پراگر کسی مخصوص گروہ کے بارے میں منفی باتیں بار بار دہرائی جاتی ہیں تو ہمیں محتاط ہوجانا چاہئے۔ اگر کوئی منفی خیالات کا مقابلہ نہیں کرتا تو زیادہ سے زیادہ لوگ اس تعصب پر یقین کرنے لگتے ہیں۔

منفی تعصبات جو معاشرے میں عام ہیں گروہوں کے درمیان تناؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔ یا اس کے نتیجے میں لوگوں کے گروہوں کے ساتھ امتیازی سلوک رکھنے کو جائز تصور کیا جانے لگتا ہے۔ بدتہذیبی اور گالم گلوچ کا دوسروں کیلئے استعمال ایک معمول بن جاتا ہے اور جہاں موقع ملے لوگ تشدد پر اتر آتے ہیں۔

 

نفرت کے خلاف جنگ

ایک مسلمہ بات یہ ہے کہ ہر کسی کے تعصبات ہوتے ہیں۔  سب سے پہلے تو ہمیں اپنے تعصب کو سمجھنا ہوگا۔ یہاں ہر کوئی کسی نہ کسی گروپ یا جماعت کا حصہ ہے۔ ہم سب تعصبات کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔ تعصب انتہا کو پہنچ کر خطرناک ہوجاتا ہے۔ اپنے تعصبات کو ساتھ رکھتےہوئے ہمیں یہ احتیاط کرنا ہے کہ ہم کہیں نفرت کے سوداگر نہ بن جائیں۔ چند ضروری باتیں جن پر عمل کرکے ہم تعصب کے منفی اثرات سے بچ سکتے ہیں۔

-  ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر کوئی ہمارے انداز فکر کو اپنا نہیں سکتا۔ لہذا اختلافی نقطہ نظر کو برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔ یہ ایک بات اگر آپ سمجھ لیں گے تو آپ نے بہت بڑا قدم پہلے ہی اٹھا لیا ہے۔

- دوسری اہم بات یہ ہے کہ آپ کا تعصب آپ کے رویے پر اثرانداز نہ ہو۔ تعصب کبھی بھی دوسروں کے خلاف امتیازی سلوک کی وجہ نہیں بننا چاہئے۔ اور یہ کہ آپ نفرت انگیز

تعصب کو پھیلانے کا باعث نہ بنیں۔

- تیسری اہم بات یہ ہے کہ اگر کوئی کسی کے خلاف پراپیگنڈہ کا حصہ بنتا ہے اپنے تعصب کو پھیلانے کیلئے دوسرے لوگوں یا گروہ کے بارے میں نفرت انگیز مواد پھیلاتا ہے تو آپ اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔ منفی پراپیگنڈا کے خلاف آواز اٹھانے کیلئے آپ کو تمام حقائق جاننے کی ضرورت نہیں ہے۔ عقل سلیم اور ہمدردی آپ کا سب سے اہم اثاثہ ہوگا۔ جہاں تک ممکن ہو کسی متعصب شخص کے دعوے کو حقیقت کے ساتھ رد کرنے کی کوشش کریں۔ اسے احساس دلائیں کہ وہ نفرت کے نیٹ ورک کا حصہ نہ بنے۔ نفرت پھیلانے سے آپ دوسروں کیلئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ جہاں تک ممکن ہو محبت کا پیغام پھیلائیں۔

 

گزارشات: سلیم اعوان
28ستمبر 2024

Thursday, April 18, 2024

بھوک وہاں بھی ہے







امریکی خاندان بھوکے کیوں ہیں؟

کم آمدنی والے گھرانے پہلے ہی اپنی آمدنی کا بڑا حصہ کھانے پر خرچ کرتے ہیں۔ امریکی اوسط 12.7 فیصد کے مقابلے میں ہر سال 10,000 ڈالر سے کم کمانے والے گھرانوں کے اخراجات میں خوراک کا حصہ 16.4 فیصد ہے۔ کم از کم اجرت پر کل وقتی کام کرنے والا شخص تقریباً 14,500 ڈالر سالانہ کماتا ہے۔

تقریباً 15 فیصد امریکی گھرانے - 40 ملین سے زیادہ امریکی، بشمول 12 ملین بچے - دسترخوان پر کھانے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ یہاں بھوک کا پیمانہ "غذائی عدم تحفظ" ہے - ایک جاری غیر یقینی صورتحال کہ اگلا کھانا کہاں سے آئے گا۔ 5 میں سے 1 سے زیادہ امریکی بچے بھوک کے خطرے میں ہیں (سیاہ فام اور لاطینی (a) بچوں میں 3 میں سے 1)۔

بہت سے لوگوں کے لیے حیرت کی بات ہے، زیادہ تر امریکی (51.4 فیصد) 65 سال کی عمر سے پہلے کسی وقت غربت میں زندگی گزاریں گے۔



پوشیدہ بھوک کیا ہے؟


امریکہ میں، غربت کا سامنا کرنے والے اکثر "چھپی ہوئی بھوک" کا سامنا کرتے ہیں، یعنی اگر انہیں کافی مقدار میں خوراک مل رہی ہے، تو خوراک کے معیار - وٹامنز اور معدنیات کی کمی ہے۔ پوشیدہ بھوک
جسمانی نشوونما کو روک سکتی ہے اور بعد کی عمر میں کمزور عقلی فعل، کمزور مدافعتی نظام اور دائمی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔" کا سامنا کرتے ہیں، یعنی اگر انہیں کافی مقدار میں خوراک مل رہی ہے، تو
خوراک کے معیار - وٹامنز اور معدنیات کی کمی ہے۔ پوشیدہ بھوک جسم انی نشوونما کو روک سکتی ہے اور بعد کی عمر میں کمزور عقلی فعل، کمزور مدافعتی نظام اور دائمی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔

Saturday, March 23, 2024

ہم اتنے بیمار کیوں ہیں؟

 انسانی جسم کمال کی مشین ہے۔ یہ ایک صدی تو آرام سے چل سکتی ہے بشرطیکہ ہم اس کی مناسب دیکھ بھال کرتے رہیں اور اس کو صاف ایندھن مہیا کریں۔

 

دیگر مشینوں کی طرح عام طور پر اس کو ریگولر ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انسانی جسم میں خدا نے ایک خودکارمرمت کا نظام رکھا ہے۔ یہ نظام 24 گھنٹے سرگرم عمل رہتا ہے۔ ہمارے جسم کو جہاں جس پرزے کو بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے یہ اسے بدل دیتا ہے اور اس کی جگہ نیا پرزہ کام کرنے لگتا ہے۔ اس پراسیس کو سیل ریپئر پیتھالوجی کہتے ہیں۔ ہمارا امیون سسٹم باہر سے حملہ آور فسادیوں کو قابو کرتا اور انھیں ختم کرتا رہتا ہے۔

 

جسم بیمار تب پڑتا ہے جب ہم اس نظام کو خراب کربیٹھتے ہیں۔  امیون سسٹم یا مدافعتی نظام کی خرابی میں سب سے اہم کردار ہمارے کھانے پینے کی عادات ہیں اس کے بعد ہمارے رہن سہن اور کام کاج کی ضروریات ہیں جو ہمیں بیمار کرتی ہیں۔

 

ہم کھانے پینے کو معمولی بات گردانتے ہیں۔ جب بھی جو بھی کھانے کو ملتا ہے ہم کھا جاتے ہیں۔ جو پینے کو ملے ہم پی لیتے ہیں۔ ہماری نظر میں کھانے پینے کا معیار ایک ہی ہے کہ چیز کھانے میں مزیدار ہو۔۔۔۔ پھر چاہے وہ ہمیں اندر سے بیمارکر رہی ہو تو اس کا ہمیں زرہ برابر بھی احساس نہیں ہوتا۔

 

آج ہم جو کھاتے اور پیتے ہیں اس میں سے 90فیصد اشیاء جنک فوڈ کی کیٹیگری میں آتی ہیں۔ ہماری خوراک جسم کے توازن کو بگاڑ رہی ہے۔ اسی وجہ سے آج بوڑھے تو بوڑھے جوان بھی بہت شدید بیمار ہیں۔ اور بیماریوں کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے۔

 

ہمارا ملک دنیا میں شوگر کے مریضوں کے تناسب سے سب سے اوپر جا پہنچا ہے۔ یہاں ہر100 میں 30 لوگ شوگر کا شکار ہوچکے ہیں۔ شوگر ایک بیماری نہیں یہ توجسم میں پیدا شدہ بہت سی امراض اور خرابیوں کی علامت ہے۔

 

خراب کھانے کی عادات کی وجہ سے انسولین رزیسٹنس پیدا ہوتی ہے، کئی سالوں تک انسولین اور گلوکوز کا آمیزہ ہمارے خون میں دوڑتا رہتا ہے جو بلآخر ہمارے جسم کو بیمار کردیتا ہے اور ہم جگر کی خرابی، پتے کی بیماری، دل کے امراض، جوڑوں کے امراض، معدے کے مسائل اور بےشماردیگر بیماریوں کا شکارہونے لگتے ہیں۔

 

اگر آپ ان 30 فیصد لوگوں میں شامل نہیں ہونا چاہتے جو تیزی سے بیمار ہورہے ہیں تو پھر آپ کو آج فیصلہ کرنا ہے۔ اچھی خوراک کو اپنائیں، جسم کو زیادہ سے زیادہ حرکت میں رکھیں اور مثبت رویہ اختیار کریں۔

 

تحریر: سلیم اعوان


Monday, March 18, 2024

ترقی کا سفر اور بونی قوم

 انسان کا ذہن بھی عجیب الخلقت شے ہے۔ آپ جس نظریہ کو اپناتے ہیں اس کیلئے دنیا جہاں کے دلائل اکٹھے کر لیتے ہیں۔ ذہن آپ کو ویسی ہی دنیا دکھاتا ہے جیسی آپ دیکھنا چاہتے ہیں۔ سوچ بدل جائے تو اردگرد کے حالات بھی بدلتے نظر آتے ہیں۔


پاکستان میں غلامانہ سوچ کی ترویج زیادہ کی جاتی ہے۔ ہمیں آج بھی یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ ہم آزاد قوم نہیں بلکہ غلام ابن غلام ہیں۔ ہم نے پاکستان بننے سے آج تک کچھ حاصل نہیں کیا۔ ہمارا نظام خراب ہے ہمارے سیاستدان کرپٹ ہیں۔ 


یہ سبق ایک خاص سوچ کا عکاس ہے جس میں سب برا ہی نظر آتا یے۔ ہر طرف اندھیرے اور ظلمت کا راج ہے۔ قوم کی کسمپرسی کا زمہ دار حکمرانوں کو قرار دیا جاتا ہے۔ مگر یہاں کوئی نہیں سوچتا کہ جو قومیں ترقی کر گئی ہیں ان کے پیچھے صدیوں کی لمبی تاریک راہیں ہیں جن سے گزر کر وہ قومیں آج درخشاں حال اور روشن مستقبل کی مالک بن گئی ہیں۔ ان کے اس سفر میں حکومتوں کی کتنا ہاتھ ہے اور عوام کی اجتماعی سوچ کا کتنا عمل دخل ہے یہ تحقیق طلب معاملہ ہے۔ مگر ایک بات پکی ہے کہ وہاں بھی ترقی کا سفر آسان مرحلہ نہیں تھا۔ حکومتیں وہاں ہماری آج کی حکومتوں سے بہتر تو بلکل بھی نہیں تھیں۔ وہاں بھی ایلیٹ کلاس ہی حکمران رہی اور وہ بھی اپنے مفادات میں فیصلے صادر فرماتے تھے۔ ان کی جنگیں عوام کے مفاد میں نہیں بلکہ اپنی حکمرانی قائم کرنے کیلئے ہوتی تھیں جن میں لاکھوں لوگ مروا دئیے جاتے تھے وہاں عورتوں کو چڑیل بنا کر جلا دیا جاتا تھا وہاں کالے رنگ والوں کو غلام بنا کر رکھا جاتا تھا۔۔۔ یہ سب حکومتوں کی سرپرستی میں ہوتا تھا۔


مگر وہاں ایک عوام میں علم کی شمع جلتی رہی وہاں تعلیم کو عوام میں پزیرائی حاصل رہی وہاں دانشور طبقہ بکاؤ مال نہیں بنا وہاں مرد پیدا ہوتے رہے جو حکومتوں سے بھیک مانگنے کی بجائے خود کچھ کر گزرنے کے خواب دیکھا کرتے تبھی تو وہاں سائنس پروان چڑھی۔ وہاں گلیلیو نے حکومت کا شکوہ نہیں کیا بلکہ حکومت کے غیض و غضب کا نشانہ بنے مگر علم کا رستہ نہیں چھوڑا ۔۔۔ وہاں فورڈ کو کسی حکمران کے سپانسر نہیں کیا بلکہ مسٹر فورڈ نے خود ایک خواب دیکھا ۔۔۔۔ اور لوگوں کی مخالفت کے باوجود سچ کردکھایا۔۔۔۔ 


ہمارے یہاں مرد پیدا نہیں ہوئے زیادہ تر ہیجڑے پیدا ہوئے جو کبھی نظام کا گلا کرتے ہیں کبھی سیاستدانوں کا ۔۔۔ وہ خود کچھ کرنے کے قابل نہیں تو کسی پر تو غصہ نکالنا ہے تو کیوں نہ سیاست دانوں پر گالی نکال کر کر لیں۔۔۔۔۔۔


اگر ٹھیک سے پیارے وطن کی تاریخ مرتب کی جائے اور اسے سمجھ کر پڑھا جائے تو نظر آئے گا کہ ہمارا آج وجود قائم رکھ پانا بھی ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔ ہم جس طرح کے حالات سے گزر کر آئے ہیں وہ غیر معمولی تھے ہمیں آج بھی دشمنوں نے گھیر رکھا ہے۔ ہمارے بارڈر پر طرف سے غیر محفوظ ہیں مگر آج بھی دنیا کی بہت سی قوموں سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔۔۔۔ 


ہم نے بہت سست روی سے ترقی کی ہے۔ ہم دنیا میں ایمرجنگ ایکانومی بن کر ابھر چکے ہیں۔ دنیا کی بیس بڑی معیشتوں میں ہمارا نام لکھا جانا مقدر بن چکا تھا مگر پھر ہم اپنے مخصوص حالات اور اندرونی کمزوریوں کی وجہ سے پیچھے کے سفر پر چل نکلے ۔۔۔۔ 


آج حالات خراب ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ ہم کل کی جنگ لڑنے کیلئے آج زندہ ہیں۔۔۔۔۔ 


ترقی اور خوشحالی کوئی کم قیمت شے نہیں جو معمولی لوگوں کو مل پائے یہ تو آگ میں کندن ہوجانے والی قوموں کا مقدر بنتی ہے۔  یہاں ترقی کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں جہدوجہد نہیں کرنا ہم نے نہیں بدلنا۔ ہم نے لائسنس نہیں بنوانے ہم نے ہلمٹ نہج۔ پہننا ہم نے دو نمبریاں نہیں چھوڑنا بلکہ یہ سب قائم رکھتے ہوئے حکومت قوم کو ترقی دلوائے۔۔۔


جس قوم میں بونے پیدا ہوتے ہیں وہاں بلندی کا معیار بھی نچلے درجے پر جا پہنچتا ہے۔۔۔۔

Saturday, December 9, 2023

What is Fundamental Analysis of a Stock



Fundamental analysis is a method of evaluating a stock's intrinsic value by examining various financial, economic, and qualitative factors that could affect its performance. This analysis is based on the idea that the market price of a stock may not always reflect its true or intrinsic value. Fundamental analysis aims to assess whether a stock is overvalued or undervalued by analyzing the company's financial health, operational efficiency, industry conditions, and other relevant factors. Here are key components of fundamental analysis:

1.         Financial Statements:

Income Statement: Examines the company's revenues, expenses, and profits over a specific period. Balance Sheet: Shows the company's assets, liabilities, and equity at a given point in time. Cash Flow Statement: Tracks the cash inflows and outflows, providing insights into a company's liquidity.

2.         Earnings Per Share (EPS):

EPS is calculated by dividing the company's net income by its number of outstanding shares. It gives an indication of the company's profitability on a per-share basis.

3.         Price-to-Earnings (P/E) Ratio:

The P/E ratio compares the current market price of a stock to its earnings per share. A high P/E ratio may indicate that investors expect high future growth, while a low P/E ratio may suggest undervaluation.

4.         Dividend Yield:

Dividend yield represents the annual dividend income as a percentage of the stock's current market price. Investors seeking income often look for stocks with a reasonable dividend yield.

5.         Book Value:

Book value is the difference between a company's assets and liabilities, divided by the number of outstanding shares. It provides an estimate of a company's intrinsic value.

6.         Debt-to-Equity Ratio:

This ratio indicates the proportion of a company's financing that comes from debt compared to equity. A high ratio may suggest higher financial risk.

7.         Return on Equity (ROE):

ROE measures a company's ability to generate profits from its shareholders' equity. A higher ROE is generally considered favorable.

8.         Growth Prospects:

Analyze a company's growth potential by looking at historical and projected earnings growth, new product launches, market share, and expansion plans.

9.         Industry and Market Conditions:

Consider the economic environment, industry trends, and competitive landscape. A company's performance is often influenced by broader economic factors and industry-specific conditions.

10.      Management and Corporate Governance:

Assess the quality and effectiveness of the company's management. Look at their track record, transparency, and adherence to corporate governance principles.

11.      Regulatory Environment:

Consider the impact of regulations on the company's operations and profitability.

12.      Macroeconomic Factors:

Evaluate broader economic indicators such as interest rates, inflation, and overall market conditions, as they can influence stock prices.

 

Fundamental analysis is often used by long-term investors who are interested in the underlying health and value of a company. It requires a comprehensive understanding of financial statements, economic trends, and industry dynamics. Investors may use fundamental analysis alongside other methods, such as technical analysis, to make well-informed investment decisions.