Wednesday, May 21, 2014

دشمنی کا قرض اور تحفظ

Cartoon adopted from : SFU

مودی کو اس کی مذہبی اشتعال انگیزی نے وزیراعظم بنا ہی دیا. ہمارے ہاں بھی عرصہ دراز سے مزہب کو سیاست میں استعمال کیا جارہا ہے مگر ہمارے مزہبی رہنما سیاست میں اس قدر کامیاب نہیں ہوسکے. اس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ ہمارے مزہبی سیاسی رہنما خودمختاری اور آزادی سے اپنے کردار اورکاکردگی سے ووٹر کا دل جیتنے سے قاصر رہے. ہمارے ہاں عسکری سہارے سے تومزہب متعارف کروایا گیا مگر جمہوری انداز سے اس پر زرہ برابر بھی کامیابی نہ ہو سکی. مذہب کو کامیابی سے سیاست میں استعمال جس انداز سے مودی نے کیا ہے حالیہ ادوار میں کوئی اور نہیں کر سکا. ہمیں اپنے مذہبی و سیاسی لیڈران سے گلا رہتا تھا کہ وہ سیاست میں مذہب کا استعمال غلط انداز سے کررہے ہیں. مگر مودی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ہمارے مذہبی سیاستدان بہت میانہ رو اور اخلاقیات کے پاسدار ہیں. انھوں نے بہت غلط کام کیے ہوں گے مگر کبھی مذہبی دہشتگردی کے ذریعے حکومت میں آنے کی کوشش نہیں کی. اقلیتوں پر کبھی حملے نہیں کروائے. اگر چند لوگ فرقہ پرستی میں ملوث ہیں تو وہ غیرمقبول خفیہ تنظیمیں ہیں. ان کا ہماری قومی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے.

ہندوؤں سے پرانا دشمنی کا رشتہ اور اوپر سے ہندوستان کا پاکستان سے ہمیشہ یہ گلا رھا کہ ہم کشمیر میں مداخلت کرتے ہیں. اس بنیاد پرانڈیا سے جنگوں کا سلسلہ بھی رہا. انڈیا ہر لحاظ سے  ہم سےسائز میں بڑا ہے لہذا شروع دن سے اس سے تحفظ کا خوف قدرتی تھا. ہم اس خوف میں مبتلاء ہوگئے کہ وہ ہمیں تسلیم نہیں کرتا تو ممکن ہےوہ ہم پرقبضہ کرنے کی کوشش کرے گا. ہمارے اس خوف کے پیچھے صدیوں پرانی تاریخ ہے جس میں ہم مسلمانوں نے ہندوؤں کے ملک پر قبضہ کیا اور صدیوں تک ان پرحکمران رہے پھر انگریز آگئے اور ہم بھی ہندوؤں کے ساتھ محکوم ہو گئے. جب انگریز جانے لگے تو ہمارے جاگیرداروں اور وڈیروں کو لگا کہ انگریزوں کے جانے کے بعد ہماری خیر نہیں. ہندو ہم سے صدیوں پرانی محکومی اور غلامی کا بدلہ لےگا. لہزا مسلمانوں کو الگ ملک کا مطالبہ کرنا چائیے. 

پاکستان بننے کے بعد عسکری اور سیاسی قیادتوں نے ہمیں یقین دلایا کہ ہم اگر جنگ کے لئے تیار نہ ہوسکے اور مضبوط فوج نہ بناسکے تو ہندوستان پاکستان پر چڑھ دوڑے گا. قیام پاکستان کے فورا بعد کشمیر اور دیگر محاظ کھولے گئے اور پھر عوام میں عسکری اور جہادی سوچ بھرنا شروع ہوئی. اسی سوچ کے زیر اثر ہم نے طے کیا کہ ملکی سلامتی کی خاطر ہم گھاس بھی کھالیں گے لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے. اور جب ہم آیٹم بم بنا لیں گے تو پھر دشمن ہمارے ملک کو میلی آنکھ سے دیکھ نہ سکے گا. ہم نے اپنے وسائل کا بہت بڑا حصہ یہ تحفظ حاصل کرنے میں لگا دیا. اب جب ہم اپنے خوابوں کے شہزادے کو حاصل کرچکے ہیں تو ہماری حالت پہلے سے بھی ابتر ہو چکی ہے... کیوں

تحفظ نام کی کوئی چیز ہم عوام کو تو حاصل نہیں ہے. البتہ سول اور ملٹری بیوروکریسی کو بہت سی مراعات و تحفظات حاصل ہوچکے ہیں. ان مراعات و تحفظات کو عوام کی حفاظت کے نام پر لیا جاتا ہے. عوام میں سے کوئی اگر غلطی سے بھی ان کی طرف انگلی اٹھائے گا تو اس کی انگلی بدن سمیت لقمہ تقدیر بن جائے گی.  ہم عوام کی تو قسمت میں ہی مرنا لکھا ہے تو کوئی کیا کرے. تمام سول اور ملٹری اشرافیہ کہنے کو تو عوام کی خدمت گار ہیں مگر درحقیقت یہ چند لوگ عوام کا خون چوس کر اپنے اور اپنی اولادوں کے لئے مراعات حاصل کرتے آئے ہیں. ان لوگوں کے تحفظ کے لئے سخت سیکیورٹی کے انتظامات ہوتے ہیں. لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے اپنی سیکیورٹی پر لگاتے ہیں مگرعام آدمی کیلئے کیا ہے عام آدمی کے لئے سڑکوں پر احتجاجی تحریکوں کے لئے خوار ہونا اور پھر کسی نئی امید کے پیچھے بھاگنا ہی رہ گیا ہے. 

ہم ہندوستان کی دشمنی کا قرض اتارتے اتارتے خود اپنے وجود کے دشمن بن چکے ہیں. جہالت کا عالم یہ ہے کہ کوئی بھی کسی قسم کی جھوٹی بات تقسیم کررہا ہو اسے ہم اپنا مسیحا سمجھنے لگتے ہیں. تحفظ کی لمبی جنگ نے شائد ہمیں  ذہنی مریض بنادیا ہے. اب ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں کیوں کہ اس میں ہم خود کفیل ہوچکے ہیں. تحفظ کی تلاش میں سرگرداں پچھلے 60 سال سے زیادہ عرصہ میں سیکیورٹی نہ حاصل کرپانا اور ملک کے اندر انتشار کی سی حالت نے مرض کو اور بھی بڑھا دیا ہے. اب تو ہمیں لگنے لگا ہے کہ ساری دنیا ہمارے خلاف اکٹھی ہوچکی ہے. وہ دن رات ہمارے خلاف سازشیں بناتے رہتے ہیں اور ان کی زندگیوں کا مقصد ہمیں ناکام بنانا ہے. مگر پھربھی ہمیں کیا فرق پڑتا ہے ہم تو سپرمین ٹائپ قوم ہیں. سب ملکر ہمارا کچھ نہیں بگاڑسکتے. ایک طرف ہمارا خود ساختہ دعوے ہیں اور دوسری طرف جب وار آن ٹیرر کے دوران دشمنوں نےہمارے جہاد کے بوجھ کو ہمارے اوپر ہی لاد دیا. مڈل ایسٹ ہو, افغانستان ہو یا پاکستان. وہ لوگ ڈیوائڈ اینڈ رول کے اصول پر کامیابیوں کا سفر جارے رکھے ہوئے ہیں. پاکستان کا تازہ منظر نامہ بھی دشمن کی نئی سازش ہی لگتا ہے. ایک بار پھر وہ ہمیں لڑانے اور گتھم گتھا کرنے کی تیاری کرتا نظر آتا ہے اور ہم سب اور ہمارے لیڈر ان کے اس ایجنڈا کو اپنا مقصد حیات بنا کر پیش کرنے میں پیش پیش ہیں. کبھی کبھی مجھے لگتا ہے جیسے ہم بندروں کے اس گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں جو ایک دوسروں کو اس لئے پیٹتے تھے کیوں کہ ان سے پہلے والے بھی ایسا ہی کررھےتھے. نہ پٹنے والے کو پتہ تھا کہ کیوں پٹ رھاہے اور نہ پیٹنے والے کو پتہ تھا کہ کیوں پیٹ
رہا ہے.

اب جبکہ سرحدوں کی ایک جانب مودی اور دوسری طرف عبداللہ عبداللہ برسراقتدار آنے کو ہیں تو ہمیں اپنے اندرونی تضادات کی جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے. اگر ہم ان پر قابو نہ پاسکے تو ہمارے ترقی کے سارے خواب ٹوٹنے کے خدشات نظر آتے ہیں. سرحدوں پر پریشر اور اندرونی خلفشار ہمیں بہت بہت کمزور کرسکتے ہیں.

No comments:

Post a Comment