Tuesday, October 17, 2017

Inventory Control Software for installment Corporations

Tuesday, October 10, 2017

پی ٹی آئی کا اگلے الیکشن کےلئے انتخابی بینر

عمران خان کے کارہائے نمایاں

میں نے سب سے پہلے آف شور کمپنی بنائی
آف شور اولاد کا امریکہ کی عدالت سے سرٹیفیکیٹ حاصل کیا جوئے سے قرض اتارنے کی سکیم کا عظیم خیال ایجاد کیا سیاست میں گالی کا کلچر کو رواج دیا سیاسی جلسوں میں ناچ گان اور ڈیٹنگ کا انتظام کیا دھرنوں کے ذریعے سے اقتدار میں آنے یا پھر کسی دوسرے کو لانے کی کوشش کی بغیرکوچوان کے احتساب کا ڈانگا کےپی کے میں چلادیا ایک انگلی کی خاطر کیا کیا نہ ناچ دیکھایا لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کے ہرروز نئے انداز سیکھائے ملین ٹری سونامی کا اعلان کیا۔۔۔۔ جس میں ملین ٹری بھی بہہ گئے اور عوام کے ملین روپے بھی تعلیم اور صحت کواہمیت دی اور انقلاب بپا کردیا۔ ڈینگی سے صوبے لوگ مررہے ہیں۔ پختون خواہ ویسے ہی خوامخاہ پریشان ہے ڈینگی تو سردی میں خودبخود ختم ہوجائے گا :) پاکستان میں پہلی بار ایک صوبائی حکومت کا وفاقی حکومت پرحملہ کی پارٹی کی خوبرو خواتین کو بلیک بیری سے فحش پیغامات بھیجے اس سب کے باوجود جماعتیوں کو بے شرم خاموشی پر مجبور رکھا یہ سب اور اس کے علاوہ اور بہت کچھ جو آہستہ آہستہ تمھارے سامنے آئے گا۔۔۔۔
میں نے آ کر اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا اسے کہتے ہیں تبدیلی اب اور بتائیں میں قوم کو راہ راست پر لانے کےلئے کیا کروں. مجھے وفاق میں آنے دیں میں آپ کے بچوں اور خاص طور پربچیوں کے لئے بہت کچھ کروں گا :) ایسی اور بھی تبدیلی چاہیے تو مجھے ووٹ دیں ؟

Sunday, July 10, 2016

عبدالستار ایدھی ۔ خدمت خلق کا دیوتا Abdul Sattar Edhi


 یہ کون ہے جسے لاوارثوں کا وارث، یتیموں کا والی اور بےسہاروں کا سہارا کہا جارہا ہے۔۔۔ کیا یہ کسی صدیوں پرانی مذہبی لیڈر کا ذکر ہورہاہے یا کسی دیوتا کی کہانی بیان کی جارہی ہے۔۔۔۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی دیومالائی کہانی کا کردارہے جو خدائی طاقتوں کا حامل ہے اور سپرمین جیسے کام کرتارہا ہے۔۔۔۔ ورنہ کوئی کپڑے کی پھیری لگانے والا مفت ڈسپنسری کھولتا ہے اور پھر۱۹۵۷ میں شروع ہونے والی چھوٹی سے ڈسپنسری دیکھتے ہی دیکھتے ایدھی فاونڈیشن بن جاتی ہے۔ جس کے ملک بھر میں آج ۳۳۵ ایدھی سینٹرز ہیں اور ملک کے بڑے شہروں میں ۱۷ ایدھی ہومز ہیں۔ چار ہوائی جہاز، ۱۸۰۰ ایمبولینسز، کینسر ہسپتال، ہوم فار ہوم لیس، ایدھی شیلٹرز اور ایدھی ویلج ، ایدھی چائلڈ ہوم ، بلقیس ایدھی میٹرنٹی ہوم، ایدھی فری لیبارٹری، ایدھی فری لنگر اور ایدھی ویٹنری ہسپتال کام کر رہے ہیں۔ سیلاب اور سمندری حادثات کے موقع پر رسیکیو کے لئے ۲۸ کشتیاں بھی موجود ہیں۔ ہزاروں لاوارث بچوں کی جنم پرچیوں پرولدیت کے خانے میں اپنا نام لکھوا چکاہے۔ ان پرورش سے تعلیم تک کی تمام ذمہ داریاں بھی خوب نبھائی ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس چلانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ کیا یہ کوئ عام آدمی ہے؟ 

یہ نہ تو کوئ فرشتہ ہے نہ ایسا خدائی خدمتگار جس کی مدد کو فرشتے اترتے ہوں۔۔۔ یہ ایک انسان ہے اور انسانیت کو اپنا مذہب کہتا ہے اور سب کو انسان بننے کی تلقین کرتا ہے۔۔۔۔ یہ کوئی اور نہیں  یہ عبدالستارایدھی ہے۔۔۔۔ 

اتنا بڑا کام کرنے والا یقینی طور پر بہت امیرآدمی ہونا چاہئے۔۔۔ اس کے پاس ذاتی جائیدادیں ہونی چائیں۔۔۔ اپنی عیش و عشرت کا بھرپور سامان ہونا چاہئے مگر جب ہم عبدالستار ایدھی کی ذاتی زندگی کا جائیزہ لیں تو معاملہ بلکل الٹا دکھائی دیتا ہے۔۔۔۔۔ آپ کے پاس کوئی بنگلہ ہے نہ کوئی ذاتی گاڑی ہے۔ جس گھر میں ڈسپنسری شروع کرنے کے وقت رھتے تھے اسی میں اب بھی رہتے تھے۔ اس گھر میں کوئی پرآسائیش سامان نہیں ہے۔۔۔۔۔ ایدھی صاحب نے دو کھدر کے جوڑوں میں زندگی گزاری اور آپ کے پاس آخری وقت میں جو جوتا زیر استعمال تھا وہ بیس سال پرانا تھا۔۔۔۔۔ سادگی کی باتیں ہم نے اپنی دینیات کی کتابوں میں تو پڑھی تھیں مگر کبھی عملی نمونہ نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ کوئ یٹوپیائی باتیں ہیں۔۔۔ کوئی بھی شخص اتنی دولت اپنے پاس ہونے کے باوجود کیسے پھٹےپرانے کپڑوں میں رھ سکتا ہے کیسے زمین پر سوسکتا ہے؟؟؟ مگر پھر ہمیں ایدھی صاحب نے عملی مظاہرہ کرکے ثابت کردیا کہ ایسا سب حقیقت میں ممکن ہے ۔۔۔۔ اس کے لئے نہ مذہبی رہنما ہونے کی ضرورت ہے نہ فقیر یا درویش ۔۔۔۔ بلکہ اس کے لئے ایک چیز کی ضرورت ہے اور وہ ہے انسانیت کا درد۔۔۔۔ جس کے دل میں یہ درد پیدا ہوگیا اور اس نے اپنی زندگی کو انسانوں کی خدمت کے لئے وقف کردیا  اور پھر اسے کوئی دنیا کی طاقت ایدھی بننے سے نہیں روک سکتی۔۔۔۔۔ 

دنیا میں بہت سے لوگ چیریٹی کا کام کرتے ہیں۔۔۔ وہ اپنے پیسے کو استعمال کرتے ہیں۔۔۔ اس پیسے کی بنیاد پر ادارے بناتے ہیں غریبوں کے لئے درد بھری تقریریں سنتے اور سناتے ہیں اور پھر واپس اپنے محلوں میں پرآسائش بھری زندگی کے مزے لوٹنے چلے جاتے ہیں۔ مگر ہمارے ایدھی صاحب ایسے نہ تھے۔۔۔ آپ نے جس دن گھر کے پاس ڈسپنسری شروع کی اسی دن سے اپنا ٹھکانہ اس ڈسپنسری میں منتقل کردیا۔ آپ نے رات کو اسی ڈسپنسری کے سامنے موجود سیمنٹ سے بنے بنچ پر سونا شروع کردیا کہ مبادا کوئی ضرورت مند  ڈسپنسری بند ہونے کی وجہ سے مایوس واپس نہ لوٹ جائے۔

بےسہارا عورتوں کے لئے شلٹر جہاں گھر جیسا ماحول دیا جاتاہے۔  لاوارث اور یتیم بچوں کےلئے ایدھی چائلڈ ہوم ہیں جہاں بچوں کی ضروریات کی تمام چیزیں انھیں مہیا کی جاتی ہیں۔  بے گھرلوگوں کے لئے ایدھی ہومز فار ہوم لیس۔۔۔۔ اس کے علاوہ ایدھی ویلیج ، ایدھی لنگر، ایدھی لیبارٹری، ایدھی ہسپتال اور بہت کچھ ۔۔۔ یہ سب تو انسانوں کے لئے ہے مگر ایدھی صاحب کا انسانیت کا جذبہ صرف انسانوں تک محدود نہیں بلکہ آپ نے بےسہارا جانوروں کےلئے بھی شیلٹر اور ہاسٹل بنائے۔۔۔ جہاں زخمی اور بیمار جانوروں کا علاج معالجہ کیا جاتاہے اور انہیں رہنے کو جگہ اور کھانے پینے کو مناسب خوراک دی جاتی ہے۔۔۔

ایدھی صاحب کا ایک بہت بڑا کارنامہ ایسے بچوں کا وارث بننا ہے جسے یہ معاشرہ ناجائز بچے کہہ کر دھتکار دیتا ہے۔ آپ نے اپنے سینٹرز کے باہر جھولے لگائے وہاں لکھوایا کہ : ’مارو نہیں، جھولے میں ڈال دو‘۔ ایدھی کہا کرتے تھے کہ پیدا ہونے والے بچے کو ناجائزمت کہو۔ ’جو بچہ پیدا ہوا وہ آپ کا جائز بچہ ہے، ٹھیک ہے، مولوی مجھے بےدین کہتے ہیں، کہنے دو۔‘۔ ایدھی صاحب اپنے پیغام میں کہا کرتے تھے: ’مارو نہیں، جھولے میں ڈال دو، میں کچھ نہیں کہوں گا۔ اپنے بچے کو کبھی بھی کوڑے میں مت پھینکو، قتل کرنا بند کرو، بچے کو ایدھی کے جھولے میں ڈال دو۔‘ ایدھی صاحب کے اس جرآت مندانہ اقدام سے ہزاروں زندگیاں بچ گئیں۔  آپ کو ایسی ہی خدمات کے بدلے میں مذہبی طبقہ لادین قرار دیتا تھا۔

ایدھی صاحب کا کہنا تھا کہ ”مذہبی طبقے نے اور سرمایہ دار نے۔۔۔ سب نے میرا بائیکاٹ کیا” ۔ آپ کا نہ صرف بائیکاٹ کیا گیا بلکہ آپ کو دھمکایا بھی گیا اور چند لوگوں نے اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کےلئے ایدھی صاحب کو استعمال کرنے کی کوشش بھی کی مگرایدھی چٹان کی طرح ڈٹ گئے اور صاف صاف بتا دیا کہ ان کا کوئی سیاسی ایجنڈہ نہیں اور نہ وہ کسی کی دھونس دھاندلی میں آکر کسی سیاسی گیم کا حصہ بنیں گے۔۔۔۔ آپ سے جب سوال کیا گیا کہ کون تھے جو آپ کو دھمکا کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے تو آپ نے بلا خوف و خطر بتایا کہ حمید گل اور عمران خان ان کے پاس آئے تھے انھیں اپنے گندے ارادوں میں شریک بنانے پر زوردیا اور کہا کہ اگر ساتھ نہ دو گے تو سب کچھ چھین لیں گے اور تمھیں نہیں چھوڑیں گے۔۔۔ ایدھی صاحب نے انکار کیا اور کہا کہ سب کچھ لے جاو اور مجھے چھوڑ دو میں دوبارہ بھیک مانگ کر سب اکٹھا کرلوں گا۔۔۔۔۔۔۔

ایدھی صاحب کی زندگی مشکلات کا سامنا کرتے اور انھیں پچھاڑتے گزری ہے۔ ہم آپ کی زندگی سے بہت سے سبق سیکھ سکتے ہیں۔ ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں 

بےلوث خدمت
ایدھی صاحب کسی پر کسی قسم کا فتوی نہیں لگاتے تھے۔ آپ کا مشن خدمت کرناتھا جو آپ بلاتفریق کرتے تھے۔ آپ کی سروسز جہاں بم دھماکوں میں ھلاک ہونے والوں کو غسل دیتی تھیں تو وہیں خودکش کے عضاء کو سیمٹ کر انھیں بھی آخری سفرپر روانہ کرتی تھیں۔ آپ کی فلاسفی کے مطابق ہر اس انسان کی خدمت کی جائے جسے اس کی ضرورت ہے۔

انسانیت مذہب سے بلند
ایدھی صاحب مذہب ، ذات، نسل یا عقیدے سے بلند ہو کر سوچتے تھے۔ آپ کی خدمات تمام انسانوں کےلئے تھیں۔ کسی نے آپ سے پوچھا کہ آپ عیسائیوں اور ہندووں کواپنی ایمبولینس سروس کیوں مہیا کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ میری ایمبولینس سروس آپ سے زیادہ مسلمان ہے۔

اعزازات کی اہمیت نہیں
خدمت خلق کا خالص جذبہ انھیں لوگوں میں موجزن ہوتا ہے جنھوں نے زندگی کی تلخیوں اور تکلیفوں کو بہت نزدیک سے دیکھا ہو۔۔۔ جس نے ان کڑوی حقیقتوں کا مزہ چکھا ہوتا ہے وہ دوسروں کی تکلیف کو اچھی طرح سمجھنے کے قابل ہوتا ہے اور تبھی زندگی کو بہتر بنانے میں دوسروں کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ ایدھی صاحب نے اپنی زندگی کو دوسروں کے لئے وقف کررکھا تھا۔ آپ نے دن رات ایک کرکے جو خدمت کی اس میں کہیں بھی کسی اعزاز یا مقام اور رتبے کا لالچ نہیں تھا۔ ایدھی تو اپنے سامنے ان کے کام کی تعریف کو بھی ناپسند فرماتے تھے۔ ایدھی صاحب جانتے تھے کہ اعزازات عارضی طور پر آپ کو مشہور تو کرسکتے ہیں مگرہمیشہ رہنے والا آپ کا کردار اور وہ ورثہ ہے جو آپ نے خدمت خلق کی صورت میں چھوڑا ہوتا ہے۔

مشن پر توجہ
ایدھی صاحب نے پانچ ہزار کے قلیل سرمائے سے اپنا کام شروع کیا جو اب ایک بین الاقوامی ادارہ بن چکا ہے۔ یہ سب آپ کی اپنے مشن کے ساتھ لگن اور محبت سے ہوسکا۔ آپ نے اپنی تمام توجہ اس مشن کی تکمیل پر لگادی۔ اور پھر واپس مڑکر نہیں دیکھا۔ آپ چلتے گئے اور کاروان بنتا گیا۔

تنقید کے بجائے عملی اقدام
تیئس سال کے ایدھی نے جب اپنے اردگرد دکھ تکلیف اور بےچارگی دیکھی توآپ نے گورنمنٹ پر تنقید اور لوگوں کی بےحسی کا رونا رونے کی جگہ عملی اقدام کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایدھی صاحب ہماری طرح نہیں تھے جو دوسروں پر تنقید کر کے اپنی ذمہ داری سے جان چھڑالیتے۔۔۔ آپ کو درد محسوس ہوا اور اس کا تدارک کرنے نکل پڑے۔۔۔۔ 

ڈرو مت ،لگے رہو
جب آپ مخلصانہ آرزو کرتےاور اس کے لئے عملی اقدامات بھی اٹھاتے ہیں تو پھر کہتے ہیں کہ ساری کائینات آپ کے ساتھ ہولیتی ہے۔ آپ ڈرے بغیر آگے بڑھتے رہیں تو راستے خود بخود سجھائی دے جاتے ہیں۔ مشکلات تو بہت آتی ہیں لیکن اگر آپ مستقل مزاج ہیں اور جوش و جزبہ سے بھرپور ہیں تو آپ منزل پر ضرور پہنچیں گے۔۔۔۔ یہی سب خصوصیات ایدھی صاحب میں موجود تھیں اسی لئے آپ تن تنہا اتنی بڑی تنظیم قائم کرپائے۔

Tuesday, June 14, 2016

زبان کا چسکا کینسر کا خطرہ ۔ باربی کیو سرطان کا باعث ہے BBQ food bad for you


صفائی کے ناقص انتظامات اور مضرصحت گوشت کی مارکیٹوں میں موجودگی کے واضع ثبوتوں کے باوجود ہمارے یہاں بازار کا کھانا کھانے کا رواج تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ہم لوگ چسکے کی خاطراپنی صحت سے دن رات کھیلتے اور پھر طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ بازار میں اچھے اچھے ہوٹلوں میں مضرصحت گوشت پکڑا گیا۔ مگر ہم پھر بھی کھانے سے بعض نہ آئے۔

فاسٹ فوڈ نے ہمیں جہاں کھانے کے نئے انداز دیئے وہیں اس طریقہ خوراک نے صحت پر کافی برے اثرات بھی چھوڑے ہیں۔  باربی کیو اور تیز آگ پر پکنے والا گوشت بہت نقصان دہ ہیں۔ امریکہ میں ہونے والی حالیہ تحقیق کے مطابق ایسے لوگ جو اکثربھنے ہوئے گوشت کھاتے ہیں(خاص طور پر کوئلے بر جلا کر) وہ دوسروں سے ساٹھ فیصد زیادہ کینسر کے خطرہ سے دوچار ہوسکتے ہیں۔

گوشت میں ایک عُضوی مادّہ ہوتا ہے جو عضویات کے کام کرنے کےلئے توانائی مہیا کرتا ہے۔ جب گوشت کو پکایا جاتا ہے تو ایک کیمیائی عمل کے تحت یہ عضوی مادہ ایک مرکب بناتا ہے  جسے ہیٹروسائیکلیک امائینوز یا ایچ سی اے کہتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یہ مرکب سرطان کی وجہ بن رہا ہے۔ گوشت کوپکانے کے عمل میں ایچ سی اے بنتا ہے لیکن باربی کیو زیادہ گرم ہوتا اور جتنا زیادہ گرم آگ پر گوشت کو پکایا جائے گا اتنا ہی زیادہ ایچ سی اے پیدا ہوگا۔ تیز آگ آپ کے کھانے کو خطرناک بنا دیتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر گوشت کو کوئلوں پر باربی کیو کیا جا رہا ہے تو یہ تو اور بھی زیادہ مضرصحت ہوجاتاہے۔ جب گوشت کو کوئلوں پر پکایا جاتا ہے تو چربی گرم کوئلوں پر گرتی ہے اس سے دھواں پیدا ہوتا ہے جو گوشت پر چپک جاتا ہے۔ اس دھوئیں میں بہت زیادہ مقدار میں پولی سائیکلک ارومیٹک ہائیڈروکاربن یا پی اے ایچ ہوتا ہے۔ یہ کیمیکل بھی کینسر کا باعث ہے۔ پی اے ایچ کو بڑی آنت اور بڑے غدود (پروسٹیٹ) کے سرطان کا باعث جانا جاتا ہے۔


یہ تو بہت خطرنات بات ہے۔ تو کیا اب گوشت کھانا ہی چھوڑدیا جائے؟ رکیں پریشان نہ ہوں گوشت اور باربی کیو چھوڑیں
 نہ مگر چند ایک احتیاتی تدابیراختیار کریں اور اپنی پسند کی خوراک استعمال کریں

۔۱۔ گوشت کو پکانے سے پہلے اچھی طرح مصالحہ بنا کر میرینیڈ کرلیں۔ اس سے نہ صرف ذائقہ اچھا ملے گا بلکہ ایچ سی اے مرکب بھی کم مقدار میں پیدا ہوگا۔
۔۲۔ گوشت کو تیس منٹ یا اس سے کم وقت کے لئے پکائیں۔ اگر زیادہ وقت تک پکایا گیا تو ایچ سی اے کی مقدار بڑھنا شروع ہوجائے گی۔
۔۳۔ بھوننے کےلئے بڑا گوشت یا پھر مچھلی کا استعمال کریں۔ مرغی کا گوشت دو سے سات گنا زیادہ ایچ سی اے بناتا ہے۔ بھنی ہوئے یا سادہ سبزیوں میں ایچ سی اے بلکل بھی نہیں ہوتا لہذا آپ ان سے بھرپور لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

کبھی کبھار پارٹیوں میں لطف اٹھائیں مگر عام طور پر گوشت سے اجتناب برتنے میں ہی عقلمندی ہے۔


(http://www.mirror.co.uk/lifestyle/health/your-bbq-could-give-you-3937181
http://tribune.com.pk/story/505367/the-problem-with-barbeque-and-char-grilled-meat
http://life.gaiam.com/article/side-effects-bbq-and-what-you-can-do-about-them)

Thursday, June 2, 2016

فوری انصاف کی عدالتیں اور دبنگ عوام

کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں عدالتیں جلدی انصاف مہیا کرنے سے قاصر رہی ہیں۔ اس بات کو میں نہیں کہتا بلکہ ہمارے ملک کے کئی اہل علم و دانش اس بات کو دوہرا چکے ہیں۔ مگر میری نظرعدالتوں کی ایک ایسی قسم پرپڑی ہے جو کہ فوری انصاف مہیا کرنے کی وجہ سے بہت مقبول ہے۔ عوام ان کی کاروائی براہ راست دیکھتے ہیں۔ یہ عدالتیں اس وقت تک نہیں اٹھتیں جب تک جج صاحب فیصلہ نہ سنادیں۔۔۔ میں بات کررہا ہوں اینکر عدالتوں کی۔۔۔ یہ عدالتیں ہر روز ٹی وی چینلز پر نشر ہوتی ہیں۔ اگر کوئی عدالتی کاروائی دیکھنے سے محروم رہ جائے تو عدالت نشر مقرر بھی ہوتی ہے۔ ان عدالتوں میں اینکر جج ہوتےہیں اور سیاستدان مجرم۔ اس میں مدعی بھی سیاستدان ہوتے ہیں اور مدعلیہ بھی۔ اور پھر اپنے مخالف پر بےدردی سے وار کیئے جاتے ہیں۔ اپنے خیالات کو دوسروں پر تھوپنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ اگر ایسا نہ کرپائیں تو مدمقابل کو ملعون قراد دے دیتے ہیں۔ سیاست دان واحد ایسا پیشہ ہے جس میں دوسرے سیاسی ساتھیوں کی عزت اچھال کر اپنی عزت کو بڑھایا جاتا ہے اور اس بات کا ثبوت بھی سیاسی علماء نے ہی فراہم کیا ہے۔ حال ہی میں ایک ٹی وی انٹرویو میں محترم احتزاز احسن نے فرمایا کہ پاناما لیکس کا معاملہ اٹھانے کا مقصد نواز شریف کی عزت خراب کرنا ہے ۔۔۔۔ ٹی وی چینلز کے پروگرامز دیکھیں تو لگتا ہے ملک کے جید علماء اکرام اور جج صاحبان تشریف فرما ہیں اور  بڑے ہی ضروری کیسز کی شنوائی  روزانہ کی بنیاد پر کی جارہی ہے۔ ہر روز ایک فیصلہ صادر فرمایا جاتاہے اور پھر اگلے دن دوبارہ اسی کیس کی شنوائی کسی دوسرے چینل کے کسی دوسرے محترم اینکر جج صاحب کے دربار میں ہورہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔

ایسا سب کچھ پچھلی کئی دہائیوں سے جاری ہے۔۔۔ پہلے جب چینلز نہیں تھے تو اخباریں اس قسم کے کیسز سے بھری ہوتی تھیں۔ اوریہ سب صرف اور صرف سیاسی حکومتوں کے ادوار میں ہی شروع ہوتا ہے۔ اور ایسا کیوں ہے اس راز کو بھی کئی بار افشاں کیا جاچکا ہے۔۔۔  سیاسی پارٹیوں اور ان کی قیادت کو لوگوں کی نظر میں گندہ کرنے کی یہ کوششیں بہت اچھی ہیں مگر اس بےوقوف عوام کا کیا کریں کہ یہ لوگ بھی جب موقع ملتا ہے پھر انھیں سیاست دانوں کو ووٹ دے ڈالتے ہیں۔۔۔ عوام کو بھی سوچنا چاہیے کہ بھئی ان سیاستدانوں کوبغیر کسی اصلی عدالت کے کرپٹ قرار دلوانا کوئی آسان اور سستا سودا نہیں ہوتا۔۔۔ اس پر بھی لاکھوں روپے خرچ ہوتےہیں۔۔۔۔ چینلز کے اداکار ججز کا اچھا خاصا معاوضہ ہوتا ہے جو عوام کے ٹیکسز میں سے ادا ہوتا ہے۔۔۔۔ ان اینکر ججز کے فیصلوں پر اعتبار نہ کرنے اور ان کرپٹ لوگوں کو ووٹنگ کرنے پر عوام پر توھین عدالت کا مقدمہ چلنا چائیے۔ عوام اپنے اس بےہودہ رویے کی سزا پہلے بھی بھگت چکے ہیں۔ انھیں کئے بار مارشل لاء کی قید بہ مشقت ہوچکی ہے اور اگر ابھی بھی عوام نے فوری انصاف کی اینکر عدالتوں کا احترام نہ کیا تو تحریک انصاف ہےنا اس کا فیصلہ کرنے کےلئے۔

چند دن پہلے کی بات بھول گئے جب دھرنے کے دو بڑے ججز نے فیصلہ سنادیا تھا اور بس تھرڈ ایمپائر کی انگلی کا انتظارتھا۔۔۔۔ ایک طرف عمران اور دوسری طرف قادری انگلی انگلی کررہے تھے۔۔۔۔ ہر طرف انگلی کا چرچہ تھا کہ ابھی اسمبلی آوٹ ہونے کو ہے۔۔۔۔۔ خیر ہوئی اور وہ انگلی نہ ہوئی۔۔۔۔۔ اس دھرنے کی سڑکی عدالتوں کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پہ چلنے والی اینکر عدالتیں معمول کے مطابق اپنا کام کرتی رہیں۔۔۔۔ وہاں تو ہر گھنٹے ایک فیصلہ سنایا جارہاتھا۔۔۔۔ اس اینکر عدالتوں نے عوام کے ذہنوں میں ھیجان برپا کررکھا تھا۔۔۔۔۔ قادری چند دنوں کی سڑکی عدالت لگانے کے بعد کھسیانی بلی کی طرح واپس ہولیا مگر عمران کو عقل تب تک نہ آئی جب تک دہشت گردوں نے ہمارے بچے خون میں نہ نہلادیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد مجبوری تھی۔۔۔۔ تحریک انصاف کی عدالت بھی اپنا بوریابستر سمیٹ کے گھر لوٹ گئی۔

اب ایک بار پھر اینکری عدالتیں زوروں پر ہیں۔۔۔ اب کی بار دھاندلی کی جگہ پانامہ نے لے لی ہے۔۔۔۔۔ کرپشن ایک ایسا طعنہ ہے جس کو سن کر ہر سیاستدان لگتا ہے کہ کچھ کانا ہے :) مگرعمران نے اب کی بار بھی نہایت ناپختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی ایسی باتیں کردیں کہ اب وہ خود ان باتوں کی زد میں آرہے ہیں۔۔۔۔۔ حضرت عمران نے فرمایا کہ آف شور کمپنیاں بناتے ہی چور ہیں۔۔۔ کیونکہ انھوں نے چوری کا پیسا چھپانا ہوتا ہے۔۔۔۔ اور پھر کچھ ہی دنوں بعد ان کی اپنی آف شور کمپنی نکل آئی۔۔۔ اتنا شور عمران نے کیوں کیا ۔۔۔۔ اس پر بھی حضرت صاحب نے خود فرمایا کہ یہ توپانامہ لیکس اللہ کی طرف سے ہیں۔۔۔۔ اس لئے یہ اچھا موقع ہے کہ اس پر خوب شور کریں کیوں کہ اس بار تو نواز شریف ضرور گرفت میں آجائے گا۔۔۔ میرے اس بھولے بادشاہ سے کوئی پوچھے کہ حضرت صاحب آپ جن کی گود میں بیٹھے ہیں۔ جن کے جہازوں پر سوار ہوتے ہیں۔۔۔ جنھوں نے آپ کو گھیر رکھا ہے۔۔۔ ان کی آف شور کا بھی بہت شور ہے۔۔۔۔ آپ کے اردگرد تو آف شور والے زیادہ ہیں اور آپ کی تو اپنی آف شور آگئی ہے تو کہیں یہ اللہ کی طرف سے آپ پر عذاب تو نہیں آنے والا ؟

اینکری عدالتوں کے ججز اگر میری بات سن رہے ہیں تو سن لیں کہ یہ کمبخت عوام کسی کی نہیں سنتے۔ ان کا اپنا سیاسی مزاج ہے ان کی سیاسی سمجھ بوجھ کو آپ کبھی بھی پہنچ نہیں سکوگے۔ یہ سب آپ کی سمجھ سے بالا ہے۔ یہ عوام جلسے جلوسوں کی رونق بڑھانے تو جماعت اسلامی اور قادری کی دعوت پر ان سے عقیدت کی وجہ سے  پہنچ جاتےہیں مگر جب ووٹ ڈالنے کی باری آتی ہے تو ان کا فیصلہ خالص سیاسی ہوتا ہے اس میں وہ کسی جزباتی یا مذہبی استحصال کا شکار نہیں ہوتے ۔۔۔۔ ووٹ ڈالنے کا یہ جب فیصلہ کرلیں تو پھر یہ اپنی بھی نہی سنتے تمھاری ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیسے سننیں گے۔۔۔۔ یہ بڑی دبنگ عوام ہے یہ پاکستانی ہیں

Sunday, November 29, 2015

Ashraf Fayadh - Saudi Artist facing death : میں ملحد نہیں ہوں

Photo Credit: news.yahoo.com/saudi-prison-artist-facing-death-says-hes-no-140656152.html

ایک فلسطینی آرٹسٹ اور شاعراشرف فیاض کو اسلام سے مرتد ہونے پر سعودی عرب میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

اشرف فیاض نے جیل کے اندر سے مکہ آن لائین کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ایک سعودی کالج کے طالبعلم کی شکایت پر اس کے خلاف مذہبی پولیس نے مقدمہ درج کیا جس میں اس پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ ملحد ہوگیا ہے اور الحاد کواپنی شاعری کی کتاب کے ذریعے سے پھیلا رہاہے۔ مذہبی پولیس نے اشرف کو چند گھنٹوں کے لئے حراست میں لیا اور پھر رہا کر دیا۔ فیاض نے بتایا کہ اس کی شاعری کے کتاب کوعلماء کی اعلی مجلس کوبھیجا گیا تاکہ وہ اس کے متن کا اندازہ لگا سکیں۔ اس پرعلماء کونسل نے فیصلہ دیا کہ اس کی کتاب میں ملحدانہ خیالات پائے گئے ہیں۔
اشرف کا کہنا ہے کہ میں لحد نہیں ہوں ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔

ایک سعودی کورٹ نے پہلے اسے آٹھ سو کوڑوں اور چار سال قید کی سزا سنائی۔ اشرف کا کہنا ہے کہ اسے وہ سزا موبائل فون میں سے ملنے والی تصویروں کی وجہ سے دی گئ۔ جو اس رات مذہبی پولیس کو حراست کے دوران ملا تھا۔ وہ تصویریں میری ایک ارٹسٹ ساتھی کی ہیں جو ایک نمائش کے دوران لی گئی تھیں۔ سعودی عرب میں مذہبی پولیس غیرشادی شدہ مردوں اور عورتوں کی علیحدگی کے معاملہ میں بہت سختی سے عمل کرواتی ہے۔

سعودی نیوز ویب سائیٹ کا کہنا ہے کہ چند روزپہلے کسی نے ٹوئیٹ کیا کہ فیاض کے خلاف فیصلہ ”اسلامک اسٹیٹ” جیسا ہے۔ یاد رہے کہ اسلامک اسٹیٹ ایک دہشتگرد گروپ ہے۔ جو اسلام کا بہت متشددانہ اور مخاصمانہ چہرہ لے کر دنیا کے سامنے آیا ہے۔ اس خبر پر سعودی وزارت انصاف نے اس شخص پربھی مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اشرف فیاض کو ایک ہی سنوائی کے بعد نچلی کورٹ نے موت کی سزا سنادی ہے۔ اشرف کا کہنا ہے کہ فیصلہ اس طالبعلم کی شہادت پر سنایا گیا جس نے میرے خلاف شکایت کی تھی۔ اور جس بات کا مجھ پر الزام لگایا گیا ہے وہ میری کتاب میں سرے سے ہے ہی نہیں۔ بلکہ الزام کی بنیاد میری چند ایک نظموں کی غلط تشریح ہے۔ اشرف فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کا مطلب ہے کہ اور اپیل کورٹ میں جائے گا اور پھر اس کا مقدمہ سپریم کورٹ تک پہنچے گا۔

ایک اشرف ہی کا معاملہ نہیں وہاں ایسی بہت سی خبریں ہیں جن کو ہمارے ہاں میڈیا میں جگہ نہیں ملتی۔  انڈیپنڈینٹ کی ۸ اکتوبر کی خبر کے مطابق ایک سعودی بیوی نے شوہر کی گھر کی نوکرانی سے ذبردستی بوس و کنار کی ویڈیو بنا کر آن لائن پوسٹ کی تو وہاں کے ایک ٹاپ وکیل کا کہنا ہے کہ عورت کو پانچ لاکھ سعودی ریال کے ساتھ ایک سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ ایک کویتی ایکٹر کو اس وقت ایک مال سے گرفتار کرلیا گیا جب وہ اپنی فین لڑکیوں کے ساتھ سیلفیاں اتروانے میں مصروف تھا۔ اس پرغیرعورتوں سے ملنے اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

مذہبی لوگوں کی شدت پسندی اور انسانی قدروں کی پامالی نے مجھے سوچنے پرمجبور کر دیا ہے کہ جو کوئی بھی شریعت کی بات کرتا ہے وہ اتنا عدم تحمل کا شکار کیوں ہوتا ہے؟ شاید مذہب کا استعمال صرف یہ رہ گیا ہے کہ اس لاٹھی سے انسانوں کو بھیڑوں کی طرح ھانکا جائے۔ ایک طرف تومذہب اعلی اخلاقیات کا درس دیتا ہے اور دوسری طرف مخالفانہ سوچ کے خلاف انتا غیرانسانی رویہ کیسے پیدا کردیتا ہے؟ اختلافی خیالات کے اظہار کو دبانے سے کسی کی سوچ بدلی نہیں جاسکتی۔ اگر ایک شخص ملحد ہوجاتاہے تو اسکا یہ علاج کہ اسے بیان کرنے سے روک دیا جائے، کیا یہ طریقہ درست ہے؟ ملحد کے لئے موت کی سزا اسے بولنے سے تو روک دے گی مگر کیا اس سے مسلمانوں میں منافقوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوتا ہوگا؟

کیا کسی شخص کے موبائل فون میں کسی غیرعورت کی تصویر کی سزا آٹھ سو کوڑے اور چار سال سزا اسلامی ہے؟ کیا ایک اسلامک اسٹیٹ میں ایسا ہوتاہے؟ کیا یہ اس نبی کا اسلام ہے جس کو ہم رحمت العالمین کے نام سے یاد کرتے ہیں؟