Showing posts with label Science. Show all posts
Showing posts with label Science. Show all posts

Monday, January 19, 2026

سائنس میں خدا کے مفروضے کی واپسی | Return of the God Hypothesis

سٹیفن میئر کی یہ تحریر جدید سائنس اور خالق کے تصور کے درمیان تعلق کا ایک جامع جائزہ پیش کرتی ہے۔ مصنف اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کونیات طبیعیات اور حیاتیات کے حالیہ انکشافات ایک ذہین خالق کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

میئر ان تاریخی نظریات کو مسترد کرتے ہیں جو سائنس اور مذہب کو ایک دوسرے کا دشمن قرار دیتے ہیں۔ وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ کائنات کا آغاز اور اس کا نظم و ضبط محض اتفاق نہیں بلکہ ایک ذہین ڈیزائن ہے (intelligent design) کا نتیجہ ہے


Friday, October 30, 2015

سائنسی علوم شیطانی یا رحمانی؟ Science from God or devil

میرے حالیہ مضمون 
جس میں دنیا کے سب سے مشہور سائنسدان آئین اسٹائین کی اس مساوات کو زیربحث لایا گیا تھا جس نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب برپا کردیا تھا۔ اسے جب میں نے فیس بک پر پوسٹ کیا تو مجھے ای میل کے زریعے کچھ افسوسناک کمنٹس موصول ہوئے۔ ان میں سے محترمہ کا کہنا تھا کہ: قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرو جو دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے اور ان شیطانی علوم کو مارو گولی۔۔۔۔۔

مجھے اپنی جہالت پر افسوس ہوتا تھا اپنی اس کم علمی کو دورکرنے کی خاطر پڑھنے کو اور ہردم نیا سیکھنے کی کوشش
 میں لگا رھتا ہوں۔ مگر مجھے زیادہ افسوس اس پر ہوا کہ یہاں جہالت میں چند لوگ مجھ سے چار ھاتھ آگے بھی ہیں۔ سائنس کی محتاج اس انٹرنیٹ کو استعمال کرنا اور پھراسی کو شیاطانی علم قرار دینا۔ یقینا ایک کھلا تضاد ہی تو ہے۔ سائنس کیسے شیطانی علم ہوگیا یہ بات کوئی مجھے سمجھائے۔ دنیا اور کائینات کو خدا نے بنایا ہے اس کو چلانے کے لئے خدا نے قوانین بنائے ہیں۔ ساری کائینات ان قوانین کے تابع ہے۔ دن اور رات انہیں قوانین کے زیراثر بدلتے ہیں۔ گرمی اور سردی انھیں کا نتیجہ ہیں۔ بارشیں، سیلاب، زلزلے، طوفان سب انھیں قوانین کی وجہ سے وقوع پزیر ہوتے ہیں۔ جانداورں کی افزائش یا بےجان اشیاء کی بوسیدگی سب میں یہی اصول کارفرما ہیں۔ اقوام کے عروج و زوال بھی انھی قوانین کے تابع ہیں۔۔۔۔۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ کائینات خدا کی بنائ ہوئی ہے اور اس کے تمام قوانین بھی اسی کے دیئے ہوئے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص ان اصولوں کی دریافت میں جدوجہد کرتا ہے تو اس مجاہد کو سائنسدان کہتے ہیں۔ اور اس علم یا سائنس کو شیطانی نہیں رحمانی علم کہاجانا چاہیے

 اس خدائی علم کو شیطانی علم قرار دینا بہت بڑی ناانصافی ہے۔ اپنے اسی ظلم کی وجہ سے مسلمان ساری دنیا میں آج ذلیل و خوار ہے۔ سائنس خدا کی بنائی ہوئی اس کائینات کی سمجھ بوجھ کا علم ہے۔ اس کے علماء جو کہ  زیادہ تر غیرمسلم ہیں۔۔۔۔ وہ خدا کی خدائی کو سمجھ کر اور اس کے پوشیدہ رازوں کو جان کر اس علم کو انسانوں کی فلاح کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ موبائیل کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ کا انقلاب اسی سائینسی تحقیق اور مشقت کا نتیجہ ہے۔ بجلی اور اس سے چلنے والی تمام اشیاء اسی علم کی مرہون منت ہیں۔ آپ کی کاریں ، ٹرینیں اور ہوائی جہاز جنھوں نے آپ کو گدھوں کی سواری سے نجات دلائی ہے یہ بھی انھیں سائنسدانوں اور اسی علم کی مرہون منت ہے۔۔۔۔۔ قرآن کو سمجھو اس میں بھی خدا انسانوں کو دنیا اور کائینات کو سمجھنے کی بار بار دعوت دیتا ہے۔ نبی پاک نے فرمایا تھا علم حاصل کرو چاہے اس کے لئے تمھیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔۔۔۔۔ علم سے مراد تمام علوم ہیں۔۔۔۔ خدا کی نازل کی ہوئی کتاب بھی اور اس کی یہ کائینات کی بھی جس کے بہت سے راز ہم نے جانے اور اس کے بدلے میں خدا نے ہمیں اپنی رحمتوں سے مستفیز ہونے کے توفیق عطا کی۔۔۔۔۔ خدا کے ان علوم میں سے کسی سے بھی جو بھی قوم فائدہ اٹھائے گی خدا اس پر اپنی رحمتیں نچھاور کرے گا۔۔۔۔۔۔۔ اگر مسلمان نالائق ہیں تو کیا ہوا۔۔۔۔ اس کے جو بندے بھی اس کے بنائے ہوئے قوانین اور اصولوں کو سمجھ لیں گے وہ ان سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔۔۔۔۔ 


خدا کے لئے جہالت کی باتیں بند کردیں ۔۔۔۔ اسی بوسیدہ سوچ کی وجہ سے قوم پہلے ہی بہت خوار ہوچکی۔۔۔۔ اب واپس علم کی روشنی میں آئیں۔۔۔۔۔ ایک وقت تھا جب مسلمانوں کا عروج تھا اس دور میں مسلمان دوسری قوموں کو کائینات کا علم سکھایا کرتے تھے۔ ریاضی ہو یا کیمیا , فلکیات ہو یا فزکس سب میں ہمارے علماء دوسری قوموں کے معلم تھے ۔۔۔۔۔ اس وقت ان قوموں نے سمجھداری کا ثبوت دیا انھوں نے اسلام دشمنی میں یہ نہیں کہا کہ یہ مسلمانوں کا علم ہے اس کو حاصل نہ کرو۔۔۔ بلکہ انھوں نے علم کو ہم سے حاصل کیا اور پھر اسے آگے بڑھایا۔۔۔۔ اس دور میں علم قابل قدر تھا عمل میں تفریق نہ تھی۔ بعد کے زمانوں میں جب علم کی برکت سے ہم لوگ دنیاوی طور پر پرآسائش زندگی گزارنے کے قابل ہوئے تو راہ سے بھٹک گئے۔  مسلم حکمرانوں نے آمریت  کی بنیاد ڈالی اور خاندانی حکومتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ خاندانی بادشاہت میں کردار اور قابلیت نہیں بلکہ ولادت دیکھی جاتی ہے۔ اس لئے جب مسلم علاقے کمزور اور نالائق حکمرانوں کے قبضہ قدرت میں آگئے تو انھیں اور کچھ نہ سوجھا تو عمارتیں بنانے پرزور دے ڈالا۔۔۔۔۔ علماء سے وہ خائف رہنے لگے اور چاپلوسی کرنے والے درباروں میں جگہ بنانے لگے۔ یہیں سے علم دشمنی کی بنیاد پڑی۔ ہمارے حکمران جب بڑے بڑے قلعے اور جوبصورت باغات و مقبرے بنانے میں مصروف تھے اسی دور میں یورپ کے لوگ جنھوں نے ہم سے ہی دنیاوی علوم حاصل کئے وہ لوگ وہاں بڑی بڑی یونیورسیٹیز بنانے میں مگن تھے۔ اس طرح وہ خدا کی بنائی ہوئے کائینات کو سمجھنے میں  لگ گئے۔ انھوں نے کائینات کو تسخیر کرنے کا منصب سنبھال لیا ہے جو کہ بطور مسلم ہمارا کام تھا۔ اب تسخیر کائینات تو دور کی بات جو بھی نئی چیز ہمارے سامنے آتی ہے ہم اسے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔  ہمارے علماء جب کسی چیز کو سمجھ نہیں پاتے تو اس کے خلاف فتوہ دے دیتے ہیں۔ مزے کا بات یہ ہے کہ یہ لاوڈاسپیکر جس سے مولوی حضرات دن رات چمٹے رہتے ہیں جب یہ نیا نیا برصغیر میں وارد ہوا تو اس پر بھی علماء دین نے فتوہ جاری کیا۔  علماء نے فرمایا کہ اس میں سے جو آواز نکلتی ہے وہ دراصل شیطان کی آواز ہے لہذا جو کوئی اس مشین میں بولے گا اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی افادیت کا اندازہ ہوا تو اس کا استعمال عام ہوتا گیا۔ اور آج علماء حضرات کی کوئی محفل اس کے بغیر سج نہیں سکتی۔

آج ہم نے سائینس اور قرآن کے علوم میں تفرقہ ڈال دیا۔ قرآن کا علم حاصل کرنا تو ثواب مگر خدا کی بنائی دنیا کی سمجھ بوجھ حاصل کرنا فضول علم؟ اسی فضول علم کی بدولت دوسری اقوام ہم پر حکومت چلا رہی ہیں اور ہم دنیا کی ہر نعت کے لئے ان کے محتاج ہو کر رہ گئے ہیں۔ بس کردو اب یہ تفریق بند کردو۔ سائنسی علوم سے دشمنی ختم کرو۔ اسی میں ہماری بقا  ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے؟

Sunday, October 25, 2015

E=mc^2


ای برابر ہے ایم سی مربع کے





آئین سٹائین نے ۱۹۰۵ میں شائع ہونے والے سائینٹفک پیپرزمیں اپنی بین القوامی شہرت یافتہ مساوات متعارف کروائی۔ اس مساوات میں طاقت،جوہر اور روشنی کی رفتارکے باہم رشتے اور اس کے نتیجہ کو ریاضی بلکہ الجبرہ کی زبان میں بیان
 کیا گیاہے۔ یہ مساوات دنیا کی مشہور ترین مساوات میں سے ایک ہے۔ یہ ایک اسی مساوات ہے جس نے اس دنیا پر بہت حیرت انگیز اثرات چھوڑے ہیں۔  جن لوگوں کا سائنس سے کوئی واسطہ نہیں انھوں نے بھی اس کے بارے میں سن رکھا ہے۔ مگر بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اس مساوات کا دراصل مطلب کیا ہے؟
سادہ زبان میں بیان کریں تویہ مساوات طاقت اور جوہر کے درمیان باہمی رشتے کو پیش کرتی ہے۔ اور یہ کہ طاقت اور جوہر ایک دوسرے میں تبدیل کئے جاسکتے ہیں۔ اس سادہ مساوات نے ہمارا دنیا کو دیکھنے کا نظریہ ہی بدل دیاہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ اس کی وجہ سے بےشمار ٹیکنالوجیکل ترقی کا آغاز ہوا۔ ذیل کی سطور میں ہم الجبرہ کی اس مساوات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

مساوات کی تفہیم
مساوات کو سمجھنے سے پہلے ہمیں اس میں موجود تغیرپزیرقدروالے مختلف الفاظ کے معنی ڈھونڈنا ہوںگے۔  ہماری مساوات میں تین الفاظ ہیں جو اس عظیم مساوات میں استعمال ہوئے ہیں۔ ایک ہے ای۔ ای فار انرجی اور دوسرا ایم۔ ایم فار ماس اور تیسرا سی ، سی فار سپیڈ آف لائٹ۔

۔۱۔ روشنی کی رفتار 
روشنی کی رفتارایک مستقل قدر ہے۔ جو تبدیل نہیں ہوتی۔ اور یہ تقریبا ۳لاکھ کلو میٹرز فی سیکنڈ ہے۔ طاقت کی بنیادی 
خصوصیت کی وجہ سے اس کی گنتی کرتے ہوئے اس کو مربع میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ایک چیز اگر دوسری چیز سے دوگنا رفتار سے حرکت کرے تو اس میں طاقت دوسری چیز کی نسبت دو گنا نہیں بلکہ چار گنا ہوتی ہے۔ روشنی کی رفتار کو ایک مستقل قدر کے طور پر استعمال کیا گیا ہے کیونکہ اگر آپ کسی بھی چیز کو طاقت میں تبدیل کریں تو وہ روشنی کی رفتا سے حرکت کرے گی۔

۔۲۔ طاقت سے کیا مراد ہے؟
طاقت کی کئی قسمیں ہیں۔ جن میں حرارت کی توانائی، بجلی، کیمائی، ایٹمی اور دیگر کئی طرح کی توانائیاں شامل ہیں۔ 

۔ طاقت ایک نظام سےنکل کر دوسرے نظام میں منتقل ہوتی۔ طاقت اور جوہر کو کبھی ختم یا تباہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تو صرف مختلف شکلیں تبدیل کرتے ہیں۔ مثلا کوئلہ میں 

۔ پوٹینشل انرجی ہوتی ہے اس کوتھرمل انرجی یا حرارت کی توانائی میں منتقل کیا جاتا ہے جب اس کو جلاتے ہیں۔

۔ کسی چیز کی توانائی اس چیز کے ماس یا اس کے وزن ضرب اس چیز کی مربع رفتاریعنی روشنی کی رفتارکےبرابر ہوتی ہے۔

۔۳۔ ماس یا جوہر کا کیا مطلب ہے؟
عام طور پر کسی چیز کے وزن کو ماس یا جوہر تصور کیا جاتاہے۔ یہ سمجھنا بہت اہم ہے کہ کسی چیز کا ماس اور اس کا وزن دو مختلف چیزیں ہیں۔ وزن تو وہ کشش کی طاقت ہے جو ایک چیز محسوس کرتی ہے۔ جبکہ ماس کی مطلب ہے کہ کتنا زیادہ میٹر یا جوہر اس چیز میں موجود ہے۔ وزن تو کشش ثقل کے تبدیل ہونے سے بدل جائے گا مگر اس چیز کا جوہراس وقت تک تبدیل نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کو فزیکلی یا جسمانی طور پر تبدیل نہ کیا جائے۔ جوہر کوکلوگرامزمیں جبکہ وزن کو نیوٹن میں ناپا جاتاہے۔

انرجی اور جوہر کبھی بھی بنائے یا تباہ نہیں کئے جاسکتے یہ صرف اپنی شکل تبدیل کرتے ہیں۔ جوہر میں کتنی انرجی ہوتی ہے اس کی ایک جھلک ہم لوگ جاپان کے شہروں ہیرشیما اور ناگاساکی میں دیکھ چکے ہیں۔ ایک انسان کے اندر ایک ایٹم بم سے ۸۸ ہزار گنا سے بھی زیادہ انرجی موجود ہے مگر ہمارے پاس ابھی ایسی ٹیکنالوجی نہیں آئی جس کی مدد سے اس توانائی کے ذریعے کو استعمال کرسکیں۔ دراصل انسانی جسم کے عناصر بہت مستحکم ہیں جبکہ یورینیم کے عناصراتنے مستحکم نہیں اس وجہ سے یورینیم کے ماس کو انرجی میں تبدیل کرلیا جاتاہے۔ ایٹم بم اسی عنصر کی پیداوارہے۔

مساوات کے فوائد 
اس مساوات سے ہمیں پتہ چلا کہ جسے ہم ہمیشہ الگ الگ چیزیں سمجھتے تھے درحقیقت وہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ طاقت جوہر میں اور جوہر طاقت میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ مساوات یہ بھی واضع کرتی ہے کہ جوہر کے ایک بہت چھوٹے سے ٹکڑے میں بھی بہت بہت بڑی تعداد میں طاقت پوشیدہ ہوتی ہے۔  اسی مساوات کی وجہ سے ہم لوگ ریڈیائی قوت کو سمجھنے کے قابل ہوئے اور بہت سے مختلف ریڈیائی سکین بنالئے جن کی مدد سے انسانی جسم کے اندرونی تصویرحاصل ہوجاتی ہے جسکی وجہ سے جسم کے اندرونی حصوں میں بیماریوں کی موجودگی کا پتہ چلایاجاتاہے اور بروقت علاج ممکن ہوگیاہے۔ اس کے علاوہ ایٹمی توانائی انسان کو محفوظ اور بہترین متبادل مہیا کررہی ہے۔ اسی مساوات کی وجہ سے ہم نے مصنوعی سیارے خلاء میں بھیج سکے ہیں۔ جس کی مدد سے ٹیلی کیونیکیشن کے میدان میں انقلاب برپا ہوا ہے۔ یہ جو موبائل اور انٹرنیٹ ہرشخص کی پہنچ میں آیا ہے یہ اسی مساوات کی مرہون منت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ  ریڈیوکاربن کی مدد سے ہم تاریخی اشیاء کی صحیح عمر کا اندازہ لگانے کے قابل ہوگئے ہیں۔