Sunday, July 10, 2016

عبدالستار ایدھی ۔ خدمت خلق کا دیوتا Abdul Sattar Edhi


 یہ کون ہے جسے لاوارثوں کا وارث، یتیموں کا والی اور بےسہاروں کا سہارا کہا جارہا ہے۔۔۔ کیا یہ کسی صدیوں پرانی مذہبی لیڈر کا ذکر ہورہاہے یا کسی دیوتا کی کہانی بیان کی جارہی ہے۔۔۔۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی دیومالائی کہانی کا کردارہے جو خدائی طاقتوں کا حامل ہے اور سپرمین جیسے کام کرتارہا ہے۔۔۔۔ ورنہ کوئی کپڑے کی پھیری لگانے والا مفت ڈسپنسری کھولتا ہے اور پھر۱۹۵۷ میں شروع ہونے والی چھوٹی سے ڈسپنسری دیکھتے ہی دیکھتے ایدھی فاونڈیشن بن جاتی ہے۔ جس کے ملک بھر میں آج ۳۳۵ ایدھی سینٹرز ہیں اور ملک کے بڑے شہروں میں ۱۷ ایدھی ہومز ہیں۔ چار ہوائی جہاز، ۱۸۰۰ ایمبولینسز، کینسر ہسپتال، ہوم فار ہوم لیس، ایدھی شیلٹرز اور ایدھی ویلج ، ایدھی چائلڈ ہوم ، بلقیس ایدھی میٹرنٹی ہوم، ایدھی فری لیبارٹری، ایدھی فری لنگر اور ایدھی ویٹنری ہسپتال کام کر رہے ہیں۔ سیلاب اور سمندری حادثات کے موقع پر رسیکیو کے لئے ۲۸ کشتیاں بھی موجود ہیں۔ ہزاروں لاوارث بچوں کی جنم پرچیوں پرولدیت کے خانے میں اپنا نام لکھوا چکاہے۔ ان پرورش سے تعلیم تک کی تمام ذمہ داریاں بھی خوب نبھائی ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس چلانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ کیا یہ کوئ عام آدمی ہے؟ 

یہ نہ تو کوئ فرشتہ ہے نہ ایسا خدائی خدمتگار جس کی مدد کو فرشتے اترتے ہوں۔۔۔ یہ ایک انسان ہے اور انسانیت کو اپنا مذہب کہتا ہے اور سب کو انسان بننے کی تلقین کرتا ہے۔۔۔۔ یہ کوئی اور نہیں  یہ عبدالستارایدھی ہے۔۔۔۔ 

اتنا بڑا کام کرنے والا یقینی طور پر بہت امیرآدمی ہونا چاہئے۔۔۔ اس کے پاس ذاتی جائیدادیں ہونی چائیں۔۔۔ اپنی عیش و عشرت کا بھرپور سامان ہونا چاہئے مگر جب ہم عبدالستار ایدھی کی ذاتی زندگی کا جائیزہ لیں تو معاملہ بلکل الٹا دکھائی دیتا ہے۔۔۔۔۔ آپ کے پاس کوئی بنگلہ ہے نہ کوئی ذاتی گاڑی ہے۔ جس گھر میں ڈسپنسری شروع کرنے کے وقت رھتے تھے اسی میں اب بھی رہتے تھے۔ اس گھر میں کوئی پرآسائیش سامان نہیں ہے۔۔۔۔۔ ایدھی صاحب نے دو کھدر کے جوڑوں میں زندگی گزاری اور آپ کے پاس آخری وقت میں جو جوتا زیر استعمال تھا وہ بیس سال پرانا تھا۔۔۔۔۔ سادگی کی باتیں ہم نے اپنی دینیات کی کتابوں میں تو پڑھی تھیں مگر کبھی عملی نمونہ نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ کوئ یٹوپیائی باتیں ہیں۔۔۔ کوئی بھی شخص اتنی دولت اپنے پاس ہونے کے باوجود کیسے پھٹےپرانے کپڑوں میں رھ سکتا ہے کیسے زمین پر سوسکتا ہے؟؟؟ مگر پھر ہمیں ایدھی صاحب نے عملی مظاہرہ کرکے ثابت کردیا کہ ایسا سب حقیقت میں ممکن ہے ۔۔۔۔ اس کے لئے نہ مذہبی رہنما ہونے کی ضرورت ہے نہ فقیر یا درویش ۔۔۔۔ بلکہ اس کے لئے ایک چیز کی ضرورت ہے اور وہ ہے انسانیت کا درد۔۔۔۔ جس کے دل میں یہ درد پیدا ہوگیا اور اس نے اپنی زندگی کو انسانوں کی خدمت کے لئے وقف کردیا  اور پھر اسے کوئی دنیا کی طاقت ایدھی بننے سے نہیں روک سکتی۔۔۔۔۔ 

دنیا میں بہت سے لوگ چیریٹی کا کام کرتے ہیں۔۔۔ وہ اپنے پیسے کو استعمال کرتے ہیں۔۔۔ اس پیسے کی بنیاد پر ادارے بناتے ہیں غریبوں کے لئے درد بھری تقریریں سنتے اور سناتے ہیں اور پھر واپس اپنے محلوں میں پرآسائش بھری زندگی کے مزے لوٹنے چلے جاتے ہیں۔ مگر ہمارے ایدھی صاحب ایسے نہ تھے۔۔۔ آپ نے جس دن گھر کے پاس ڈسپنسری شروع کی اسی دن سے اپنا ٹھکانہ اس ڈسپنسری میں منتقل کردیا۔ آپ نے رات کو اسی ڈسپنسری کے سامنے موجود سیمنٹ سے بنے بنچ پر سونا شروع کردیا کہ مبادا کوئی ضرورت مند  ڈسپنسری بند ہونے کی وجہ سے مایوس واپس نہ لوٹ جائے۔

بےسہارا عورتوں کے لئے شلٹر جہاں گھر جیسا ماحول دیا جاتاہے۔  لاوارث اور یتیم بچوں کےلئے ایدھی چائلڈ ہوم ہیں جہاں بچوں کی ضروریات کی تمام چیزیں انھیں مہیا کی جاتی ہیں۔  بے گھرلوگوں کے لئے ایدھی ہومز فار ہوم لیس۔۔۔۔ اس کے علاوہ ایدھی ویلیج ، ایدھی لنگر، ایدھی لیبارٹری، ایدھی ہسپتال اور بہت کچھ ۔۔۔ یہ سب تو انسانوں کے لئے ہے مگر ایدھی صاحب کا انسانیت کا جذبہ صرف انسانوں تک محدود نہیں بلکہ آپ نے بےسہارا جانوروں کےلئے بھی شیلٹر اور ہاسٹل بنائے۔۔۔ جہاں زخمی اور بیمار جانوروں کا علاج معالجہ کیا جاتاہے اور انہیں رہنے کو جگہ اور کھانے پینے کو مناسب خوراک دی جاتی ہے۔۔۔

ایدھی صاحب کا ایک بہت بڑا کارنامہ ایسے بچوں کا وارث بننا ہے جسے یہ معاشرہ ناجائز بچے کہہ کر دھتکار دیتا ہے۔ آپ نے اپنے سینٹرز کے باہر جھولے لگائے وہاں لکھوایا کہ : ’مارو نہیں، جھولے میں ڈال دو‘۔ ایدھی کہا کرتے تھے کہ پیدا ہونے والے بچے کو ناجائزمت کہو۔ ’جو بچہ پیدا ہوا وہ آپ کا جائز بچہ ہے، ٹھیک ہے، مولوی مجھے بےدین کہتے ہیں، کہنے دو۔‘۔ ایدھی صاحب اپنے پیغام میں کہا کرتے تھے: ’مارو نہیں، جھولے میں ڈال دو، میں کچھ نہیں کہوں گا۔ اپنے بچے کو کبھی بھی کوڑے میں مت پھینکو، قتل کرنا بند کرو، بچے کو ایدھی کے جھولے میں ڈال دو۔‘ ایدھی صاحب کے اس جرآت مندانہ اقدام سے ہزاروں زندگیاں بچ گئیں۔  آپ کو ایسی ہی خدمات کے بدلے میں مذہبی طبقہ لادین قرار دیتا تھا۔

ایدھی صاحب کا کہنا تھا کہ ”مذہبی طبقے نے اور سرمایہ دار نے۔۔۔ سب نے میرا بائیکاٹ کیا” ۔ آپ کا نہ صرف بائیکاٹ کیا گیا بلکہ آپ کو دھمکایا بھی گیا اور چند لوگوں نے اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کےلئے ایدھی صاحب کو استعمال کرنے کی کوشش بھی کی مگرایدھی چٹان کی طرح ڈٹ گئے اور صاف صاف بتا دیا کہ ان کا کوئی سیاسی ایجنڈہ نہیں اور نہ وہ کسی کی دھونس دھاندلی میں آکر کسی سیاسی گیم کا حصہ بنیں گے۔۔۔۔ آپ سے جب سوال کیا گیا کہ کون تھے جو آپ کو دھمکا کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے تو آپ نے بلا خوف و خطر بتایا کہ حمید گل اور عمران خان ان کے پاس آئے تھے انھیں اپنے گندے ارادوں میں شریک بنانے پر زوردیا اور کہا کہ اگر ساتھ نہ دو گے تو سب کچھ چھین لیں گے اور تمھیں نہیں چھوڑیں گے۔۔۔ ایدھی صاحب نے انکار کیا اور کہا کہ سب کچھ لے جاو اور مجھے چھوڑ دو میں دوبارہ بھیک مانگ کر سب اکٹھا کرلوں گا۔۔۔۔۔۔۔

ایدھی صاحب کی زندگی مشکلات کا سامنا کرتے اور انھیں پچھاڑتے گزری ہے۔ ہم آپ کی زندگی سے بہت سے سبق سیکھ سکتے ہیں۔ ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں 

بےلوث خدمت
ایدھی صاحب کسی پر کسی قسم کا فتوی نہیں لگاتے تھے۔ آپ کا مشن خدمت کرناتھا جو آپ بلاتفریق کرتے تھے۔ آپ کی سروسز جہاں بم دھماکوں میں ھلاک ہونے والوں کو غسل دیتی تھیں تو وہیں خودکش کے عضاء کو سیمٹ کر انھیں بھی آخری سفرپر روانہ کرتی تھیں۔ آپ کی فلاسفی کے مطابق ہر اس انسان کی خدمت کی جائے جسے اس کی ضرورت ہے۔

انسانیت مذہب سے بلند
ایدھی صاحب مذہب ، ذات، نسل یا عقیدے سے بلند ہو کر سوچتے تھے۔ آپ کی خدمات تمام انسانوں کےلئے تھیں۔ کسی نے آپ سے پوچھا کہ آپ عیسائیوں اور ہندووں کواپنی ایمبولینس سروس کیوں مہیا کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ میری ایمبولینس سروس آپ سے زیادہ مسلمان ہے۔

اعزازات کی اہمیت نہیں
خدمت خلق کا خالص جذبہ انھیں لوگوں میں موجزن ہوتا ہے جنھوں نے زندگی کی تلخیوں اور تکلیفوں کو بہت نزدیک سے دیکھا ہو۔۔۔ جس نے ان کڑوی حقیقتوں کا مزہ چکھا ہوتا ہے وہ دوسروں کی تکلیف کو اچھی طرح سمجھنے کے قابل ہوتا ہے اور تبھی زندگی کو بہتر بنانے میں دوسروں کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ ایدھی صاحب نے اپنی زندگی کو دوسروں کے لئے وقف کررکھا تھا۔ آپ نے دن رات ایک کرکے جو خدمت کی اس میں کہیں بھی کسی اعزاز یا مقام اور رتبے کا لالچ نہیں تھا۔ ایدھی تو اپنے سامنے ان کے کام کی تعریف کو بھی ناپسند فرماتے تھے۔ ایدھی صاحب جانتے تھے کہ اعزازات عارضی طور پر آپ کو مشہور تو کرسکتے ہیں مگرہمیشہ رہنے والا آپ کا کردار اور وہ ورثہ ہے جو آپ نے خدمت خلق کی صورت میں چھوڑا ہوتا ہے۔

مشن پر توجہ
ایدھی صاحب نے پانچ ہزار کے قلیل سرمائے سے اپنا کام شروع کیا جو اب ایک بین الاقوامی ادارہ بن چکا ہے۔ یہ سب آپ کی اپنے مشن کے ساتھ لگن اور محبت سے ہوسکا۔ آپ نے اپنی تمام توجہ اس مشن کی تکمیل پر لگادی۔ اور پھر واپس مڑکر نہیں دیکھا۔ آپ چلتے گئے اور کاروان بنتا گیا۔

تنقید کے بجائے عملی اقدام
تیئس سال کے ایدھی نے جب اپنے اردگرد دکھ تکلیف اور بےچارگی دیکھی توآپ نے گورنمنٹ پر تنقید اور لوگوں کی بےحسی کا رونا رونے کی جگہ عملی اقدام کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایدھی صاحب ہماری طرح نہیں تھے جو دوسروں پر تنقید کر کے اپنی ذمہ داری سے جان چھڑالیتے۔۔۔ آپ کو درد محسوس ہوا اور اس کا تدارک کرنے نکل پڑے۔۔۔۔ 

ڈرو مت ،لگے رہو
جب آپ مخلصانہ آرزو کرتےاور اس کے لئے عملی اقدامات بھی اٹھاتے ہیں تو پھر کہتے ہیں کہ ساری کائینات آپ کے ساتھ ہولیتی ہے۔ آپ ڈرے بغیر آگے بڑھتے رہیں تو راستے خود بخود سجھائی دے جاتے ہیں۔ مشکلات تو بہت آتی ہیں لیکن اگر آپ مستقل مزاج ہیں اور جوش و جزبہ سے بھرپور ہیں تو آپ منزل پر ضرور پہنچیں گے۔۔۔۔ یہی سب خصوصیات ایدھی صاحب میں موجود تھیں اسی لئے آپ تن تنہا اتنی بڑی تنظیم قائم کرپائے۔

1 comment: