یہ
تحریر عمران خان کی سیاسی تحریک اور ان کے حامیوں، خاص طور پر
نوجوانوں کے سماجی اور نفسیاتی رویوں کا تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس
میں وضاحت کی گئی ہے کہ کس طرح سوشل آئیڈینٹی تھیوری اور کرشماتی
قیادت کے زیرِ اثر ایک ایسا ماحول پیدا ہوا جہاں مخالفین کی تضحیک اور
خود کو برتر سمجھنا معمول بن چکا ہے۔ مصنف کے مطابق یہ تحریک ایک سیاسی
فرقے کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں حامی اپنے لیڈر کی عقیدت میں اس قدر
مگن ہیں کہ وہ حقائق کے بجائے نفسیاتی تعصبات اور محرک
استدلال کا سہارا لیتے ہیں۔ جب لیڈر کے الزامات عدالتوں میں غلط ثابت
ہوتے ہیں، تو پیروکار اسے اپنی شکست تسلیم کرنے کے بجائے نظام کی خرابی اور
سازش کا شاخسانہ قرار دے کر اپنے یقین کو مزید پختہ کر لیتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ
متن اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل قبائلیت اور
شناخت کے تحفظ کی ضرورت نوجوانوں کو منطقی بحث کے بجائے جارحانہ دفاع پر مجبور
کرتی ہے۔
Monday, February 16, 2026
عمران خان سے اندھی عقیدت کی نفسیات
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment